Jump to content

الرسالۃ العرشیہ

آزاد انسائیکلوپیڈیا، وکیپیڈیا توں
الرسالۃ العرشیہ
(عربی وچ: الرسالة العرشية ویکی ڈیٹا اُتے (P1476) د‏‏ی خاصیت وچ تبدیلی کرن
مصنف ابن تیمیہ   ویکی ڈیٹا اُتے (P50) د‏‏ی خاصیت وچ تبدیلی کرن
اصل زبان عربی   ویکی ڈیٹا اُتے (P407) د‏‏ی خاصیت وچ تبدیلی کرن

الرسالۃ العرشیہ یہ رسالہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا ایک علمی جواب ہے جو عرش کے متعلق ایک سوال پر لکھا گیا۔ یہ رسالہ "مجموع الفتاوى" کے چھٹے حصے کے آخر میں شامل ہے اور بعد میں اسے علاحدہ طور پر بھی شائع کیا گیا۔[۱]

سببِ تالیف

[سودھو]

ایک سائل نے سوال کیا:[۲]

"آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ عرش کیا گول (کروی) ہے یا نہیں؟ اور اگر وہ کروی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے پیچھے سے اُس پر محیط ہے اور اُس سے جدا ہے، تو بندہ جب دعا کرتا ہے اور عبادت بجا لاتا ہے تو صرف بلندی (اوپر کی سمت) ہی کی طرف کیوں رخ کرتا ہے، کسی اور جانب کی طرف کیوں نہیں؟ حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ ہر طرف سے محیط ہے تو پھر دعا کے وقت بلندی یا کسی اور سمت کا قصد کرنے میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ اس کے باوجود ہم اپنے دل میں ایک ایسا رجحان محسوس کرتے ہیں کہ ہم بلندی ہی کی طرف رخ کرتے ہیں، دائیں بائیں نہیں دیکھتے۔ پس ہمیں اس فطری رجحان کے بارے میں بتائیے، جو ہمیں اپنے دلوں میں محسوس ہوتا ہے اور جس پر ہمیں پیدا کیا گیا ہے۔

اور اس کا مفصل اور تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں جو ہر شبہے کو زائل کر دے اور حق کو واضح کر دے – اگر اللہ نے چاہا۔ اللہ آپ کو اور آپ کے علوم کو ہمیشہ نفع بخش بنائے، آمین۔"

شیخ الاسلام نے اس سوال کا جواب تین طویل مقامات (یعنی حصوں) میں دیا، جن میں انھوں نے عرش کی وضاحت کتاب و سنت کی روشنی میں کی۔ [۳]

حوالہ جات

[سودھو]

بیرونی روابط

[سودھو]


زمرہ:ابن تیمیہ کی تصانیف