الرسالۃ العرشیہ
Appearance
| الرسالۃ العرشیہ | |
|---|---|
| (عربی وچ: الرسالة العرشية) | |
| مصنف | ابن تیمیہ |
| اصل زبان | عربی |
| ترمیم | |
الرسالۃ العرشیہ یہ رسالہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا ایک علمی جواب ہے جو عرش کے متعلق ایک سوال پر لکھا گیا۔ یہ رسالہ "مجموع الفتاوى" کے چھٹے حصے کے آخر میں شامل ہے اور بعد میں اسے علاحدہ طور پر بھی شائع کیا گیا۔[۱]
سببِ تالیف
[سودھو]ایک سائل نے سوال کیا:[۲]
| ” | "آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ عرش کیا گول (کروی) ہے یا نہیں؟ اور اگر وہ کروی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے پیچھے سے اُس پر محیط ہے اور اُس سے جدا ہے، تو بندہ جب دعا کرتا ہے اور عبادت بجا لاتا ہے تو صرف بلندی (اوپر کی سمت) ہی کی طرف کیوں رخ کرتا ہے، کسی اور جانب کی طرف کیوں نہیں؟ حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ ہر طرف سے محیط ہے تو پھر دعا کے وقت بلندی یا کسی اور سمت کا قصد کرنے میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ اس کے باوجود ہم اپنے دل میں ایک ایسا رجحان محسوس کرتے ہیں کہ ہم بلندی ہی کی طرف رخ کرتے ہیں، دائیں بائیں نہیں دیکھتے۔ پس ہمیں اس فطری رجحان کے بارے میں بتائیے، جو ہمیں اپنے دلوں میں محسوس ہوتا ہے اور جس پر ہمیں پیدا کیا گیا ہے۔
اور اس کا مفصل اور تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں جو ہر شبہے کو زائل کر دے اور حق کو واضح کر دے – اگر اللہ نے چاہا۔ اللہ آپ کو اور آپ کے علوم کو ہمیشہ نفع بخش بنائے، آمین۔" |
“ |
- شیخ الاسلام نے اس سوال کا جواب تین طویل مقامات (یعنی حصوں) میں دیا، جن میں انھوں نے عرش کی وضاحت کتاب و سنت کی روشنی میں کی۔ [۳]
حوالہ جات
[سودھو]- ↑ كلام ابن تيمية على العرش في الرسالة العرشية يدل على سعة علمه وفهمه موقع الدكتور سفر الحوالي Archived 14 أبريل 2020 at the وے بیک مشین
- ↑ مشكاة الإسلامية:الرسالة العرشية-شيخ الإسلام ابن تيمية Archived 05 مارس 2016 at the وے بیک مشین
- ↑ المعهد العربي للبحوث والدراسات:الرسالة العرشية Archived 26 يناير 2020 at the وے بیک مشین سانچہ:مردہ ربط