Jump to content

حکم بن ابی العاص قرآن دی نظر وچ

آزاد انسائیکلوپیڈیا، وکیپیڈیا توں

ابن ابی حاتم روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے حکم بن ابی العاص کے بیٹے کو بندروں کی طرح دیکہا اللہ تعالی نے اس کے بارے میں فرمایا :

<ِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی اٴَرَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِی الْقُرْآنِ>[1]

جیسے آپ نے دیکہا ہے وہ ہم نے اس لئے دکہا یا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان فتنہ ہے اور قرآن میں وہ شجرہ ملعونہ ہے[2]

ابن ابی حاتم ،ابن مردویہ ، نسائی اور حاکم نے عبداللہ سے روایت صحیحہ بیان کی ہے کہ جب مروان خطبہ دے رہاتہا تو اس وقت میں مسجد میں موجو د تہا وہ کہنے لگا اللہ تعالی نے امیر المومنین ےعنی معاویہ کو ےزید کے متعلق ایک خوبصورت خواب دکہایا کہ وہ اپنے بعد اس (ملعون)کو خلیفہ بناجائے جس طرح ابو بکر نے حضرت عمر کو خلیفہ منتخب کیا۔

عبدالرحمن بن ابو بکر کہنے لگے:

اے چوڑی باچہوں والے یہ کیا بات ہے خدا کی قسم حضرت ابو بکر نے اپنی اولاد میں سے کسی کو خلیفہ منتخب نہ کیا اور اسی طرح اپنے خاندان میں بہی کسی کو خلیفہ نہ بنایا تہا ۔لہٰذا معاویہ کو بہی نہیں چاہےے تہا کہ وہ اپنے بیٹے کو خلافت کے لئے منتخب کرے جبکہ یہ سب کچہ اس نے اپنے بیٹے پرلطف و کرم کیا ہے۔

مروان نے کہاکیا اس طرح کہنے سے تو اپنے والدین کو برا بہلا نہیں کہہ رہا؟عبد الرحمن نے کہاکیا تو ابن لعین نہیں ہے کیا تیرے باپ پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت نہیںکی تہی؟

جب حضرت عائشہ نے یہ سنا تو مروان سے کہنے لگیں مراون تو عبدالرحمن کے ساتہ اس طرح کی باتیں کرتاہے یہ(مندرجہ ذیل )آیت عبدالرحمن کے بارے میں نازل نہیں ہوئی بلکہ تیرے باپ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اللہ نے فرمایا :

< وَلاَتُطِعْ کُلَّ حَلاَّفٍ مَہِینٍ ۔ ہَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِیمٍ>[3]

اور کسی ایسے شخص کی بات تسلیم نہ کرنا جو بڑا قسمیں کہانے والا، ذلیل خیال، عیب جو اور چغلخور ہو ۔[4]

جناب ابو ذرحضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ابی العاص کے بیٹوں نے تیس (۳۰)افراد کے ساتہ اللہ کے مال کو لوٹا اللہ کے بندوں کو غلام بنا کر ان کے ساتہ جانوروں جیسا سلوک کیا اور اللہ کا دین اختیار کر کے اس کو خراب کرنے کی کوشش کی۔

حلام بن جفال کہتا ہے کہ جب لوگوں نے ابوذر کی اس بات کو تسلیم نہ کیا توحضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے گواہی دی کہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا :

ما اظلت الخضراء ولا اقلت الخبراء علی ذی لہجہ اصدق من ابی ذر۔

نیل گوں آسمان کے سایہ میں اور زمین کے اوپر کوئی ایسا شخص نہیں جو حضرت ابوذر سے زیادہ سچا ہو (ےعنی ابوذر سب سے زیادہ سچے ہیں )

پہر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا میں یہ بہی گواہی دیتا ہوں کہ یہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے ۔

بہرحال آپ لوگ غور فرمائیں یہ حکم ابن ابی العاص کاواضح و روشن چہرہ ہے، اسے شہر سے نکالا گیا تہااور یہ خلیفہ ثالث کا چچا تہا۔

علامہ امینیۺ اپنی کتاب الغدیر میں ارشاد فرماتے ہیں:

ہمارے ذہن میں یہ سوالات ابہرتے ہیں کہ ہم خلیفہ سے پوچہیں کہ (جس لعین کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے نکال دیا تہا اس کے بارے میں آپ کو بہی تو معلوم تہا )اور قرآن مجےد کی آیت بہی اس کی مذمت میں نازل ہو ئی ہے اور اس طرح حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کا بہی علم ہے کہ حضور نے اس پر اور اسکی پوری نسل پر لعنت کی ہے( مگر جو اس کے صلب سے مومن پیدا ہو اور وہ بہت ہی کم ہیں)

اے خلیفہ وہ کونسی وجہ تہی جو آپ کو اسے مدینہ واپس بلانے پر مجبور کر رہی تہی جب کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اور اس کے بیٹوں کو مدینہ سے نکال دیا تہا کیونکہ ان میں اموی پلیدگی اور گند گی پائی جاتی تہی اور اب خلیفہ سوم اسے دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ خلیفہ سوم اس سے پہلے حضرت ابو بکر اور پہر حضرت عمر سے بہی واپس بلانے کی درخواستےں کر چکے تہے اور انہوں نے یہ جواب دے کر اس کی درخواستوں کوردّ کردیا تہا کہ یہ ہمارے لئے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد کو توڑنا جائز نہیں ہے۔

حلبی اپنی سیرت کی دوسری جلد کے ۸۵ ویں صفحہ پر لکہتے ہیں: جس کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے نکال دیا تہا اور اس پر حضور نے لعنت کی تہی اور وہ طائف کی طرف چلا گیا تہا اور وہاں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابو بکر کے زمانے تک رہاحضرت عثمان نے حضرت ابو بکر سے اسے مدینہ واپس لانے کی درخواست کی تو حضرت ابو بکر نے واپس لانے سے انکار کر دیا۔ 

حضرت عثمان سے کہاتیرے چچا کو واپس لاؤ ں؟تیرا چچا تو جہنم میں ہے میرے لئے بہت ہی مشکل ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کو بدل دوں( ایسا ممکن نہیں ) ۔جب حضرت ابو بکر وفات پا گئے اوراس کے بعد حضرت عمر خلیفہ بنے توحضرت عثمان نے وہی جملے حضرت عمر سے دہرائے۔

حضرت عمر نے جواب دیا:  عثمان تجہ پر بہت افسوس ہے کہ تو اس شخص کے متعلق درخواست پیش کر رہاہے جس پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت کی تہی اور اسے مدینہ سے نکال دیا تہا اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دشمن ہے۔لیکن جب حضرت عثمان خود مسند خلافت پر بیٹہے تو اس لعین کو مدینے واپس لے آئے، یہ بات مہاجرین اور انصار کے دلوں پر بہت سخت نا گوار گزری اور بزرگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لئے بہی یہ بات بہت گراں تہی اور انہوں نے اس کی مخالفت کی اوریہ بات ان کے نزدیک عثمان کے خلاف قیام کرنے کا بہت بڑا سبب تہا ۔

علامہ امینیۺ قدس سرہ کہتے ہیں کیاخلیفہ وقت کے لئے رسول کو نمونہ نہیں مانتے تہے؟ جب کہ خدا وند عالم حضرت کے متعلق ارشاد فرماتا ہے ۔:

< لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللهِ اٴُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ کَانَ یَرْجُو اللهَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللهَ کَثِیرًا >[5]

مسلمانوں تمہارے لئے تو رسول اللہ کی زندگی ایک بہترین  نمونہ ہے(لیکن یہ اس شخص کے لئے ہے )جو خدا اور روز آخرت کی امید رکہتا ہو اور کثرت سے خدا کی یاد کرتا ہو۔
یا یہ کہ خلیفہ سوم اپنی قوم اورساتہیوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ پسند کرتے تہے جب کہ قرآن حکیم بہی ان کے پاس موجود تہا اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

< قُلْ إِنْ کَانَ آبَاؤُکُمْ وَاٴَبْنَاؤُکُمْ وَإِخْوَانُکُمْ وَاٴَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیرَتُکُمْ وَاٴَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوہَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَہَا اٴَحَبَّ إِلَیْکُمْ مِنْ اللهِ وَرَسُولِہِ وَجِہَادٍ فِی سَبِیلِہِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَاٴْتِیَ اللهُ بِاٴَمْرِہِ وَاللهُ لاَیَہْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ>[6]

اے رسول کہہ دو کہ تمہارے باپ دادا نے اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بہائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے رشتہ دار نےز وہ مال جو تم نے کمایا اور وہ تجارت جس کے نقصان کا تمہیں اندےشہ ہے اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر (یہ سب چیزےں)تمہیں خدا اور اس کے رسول اور ان کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ عزےز ہیں تو تم انتظار کرو یہاں تک کہ خدا کا حکم (عذاب)آجائے اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا ۔ [7]

۱۱۔غلاموں پر بہروسہ

مملکت چلانے کے لئے غلام زادوںپر بہروسہ کیا گیااور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض مخلص اصحاب کو دشمنی کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا ان غلام زادوں میں چند مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔ معاویہ بن ابو سفیان

خلیفہ ثانی نے اسے شام کا گورنر بنایا اور اس نے شام میں ۲۲/سال تک حکومت کی۔[8]

خدا کی قسم ہماری سمجہ نہیں آتا کہ خلیفہ ثانی کی نظر میں اس کی کونسی سی فضیلت تہی جس کے پیش نظر اسے شام کی گونری کے لئے معین کیا گیاحا لانکہ یہ کافروں کے سردار اور بہت بڑے منافق ابو سفیان کا بیٹا تہا کیا دین اسلام میں اس کا کوئی کردار تہا؟ کیا جہاد میں اس کی کوئی فضیلت تہی؟ کیا اسلام کی تروےج کا اس نے کوئی بوجہ اٹہایا تہا؟

(ےقینا نہیں)تو پہر سب سے پہلے اسلام لانے والوں جہاد میں بڑہ چڑہ کر حصہ لینے والوں اور تقوی میں بلند مقام حاصل کرنے والے لوگوں کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟!!  ہمیں نہیں معلوم کہ اللہ کی بارگاہ میں اس کا کیا جواب دیں گے جب کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ان کی نظروں کے سامنے تہا :

من اِستعمل عاملاً من المسلمین وہو ےعلم اٴنَّ فےہم اٴولیٰ بذلک منہ واٴعلم بکتاب اللہ و سنةِ نبیہ فقد خانَ اللہُ ورسولَہ وجمےع المسلمینَ۔

اگر کوئی شخص یہ جانتے ہوئے کسی بد کردار شخص کو حکومت کے کسی عہدے پر نصب کر ے جب کہ اس سے بہتر افراد مسلمانوں موجود ہوں جو اللہ کی کتاب اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زیادہ جانتے ہوں تو اس نے اللہ ، اس کے رسول(ص) اور تمام مسلمانوں کے ساتہ خیانت کی ہے۔[9]

ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں معاویہ کے بارے میں کہتے ہیں۔ ہمارے بزرگوں کی رائے کے مطابق معاویہ اپنے دین میں مطعون ہے اور علماء اس کو زندےق سمجہتے ہیں۔اس طرح وہ مزید کہتے ہیں ہمارے بزرگ اپنی علم کلام کی کتابوں میں بیان کرتے ہیں یہ ملحد تہا ، حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جہگڑتا تہا اس میں جبر اور ارجاء کا عقیدہ پایا جاتا تہا اس کا کوئی اور جرم نہ بہی ہوتا تو بہی اس کے مفسد ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ اس نے امام علیہ السلام سے جنگ کی تہی۔[10]

۲۔ولید بن عقبہ بن ابی معےط

یہ ماں کی طرف سے خلیفہ ثالث کا بہائی تہا اس کا باپ عقبہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سخت ترین دشمن تہا اور حضور کو اذیت پہنچانے میں کوئی موقع ہاتہ سے نہ جانے دیتا تہا ۔

حضرت عائشہ روایت بیان کرتی ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ابو لہب اور عقبہ بن معےط جیسے گندے اور شرےر لوگوں کاہمسایہ تہا یہ دونوں کوڑاوغیرہ اٹہا کر میرے دروازے پر پہنک جایا کرتے تہے۔[11]

اس ملعون کے متعلق مشہورواقعہ ہے کہ اس نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتہ جسارت کی اور آپکے (مقدس اور پاک )چہرے پر لعاب دہن پہینکا۔
اس ملعون کے بارے میں خدا وند عالم نے اس طرح ارشاد فرمایا :

< وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَی یَدَیْہِ یَقُولُ یَالَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِیلًا۔ یَاوَیْلَتِی لَیْتَنِی لَمْ اٴَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیلًا ۔ لَقَدْ اٴَضَلَّنِی عَنْ الذِّکْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَ نِی وَکَانَ الشَّیْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولاً >[12]

اور جس دن ظالم اپنے ہاتہوں کو اپنے دانتوں سے کاٹے گا اور کہے گا کہ کاش میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمرا ہ ہوتا ہائے افسوس میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا باتحقےق میں تو ذکر کے آجانے کے بعد گمراہ ہوگیا اور شےطان انسان کو بہت ذلیل و رسوا کرتا ہے[13]

یہ تو ولید کے باپ کے متعلق تہا اور جہاں تک خود ولید کا تعلق ہے تو یہ وحی مبین کی زبان میں فاسق زانی ،فاجراورشرابی و کبابی ہے اور اس نے دین کو تباہ و برباد کیا ہے اور بڑے بڑے اصحاب کو اس نے کوڑے مارے اس نے صبح کی نماز میں چار رکعتےں پڑہیں اور شراب کے نشے میں چور ہو کر یہ شعر کہنے لگا :

         علق القلب الربابا               بعد ما شابت و شابا

میں جب سے جوانی کا مالک بنا ہوں اس وقت سے میرا دل سرداری کے لئے مچل رہاہے پہر نشے میں کہنے لگا میںاس سے بہی زیادہ رکعتےں پڑہوں گا۔

یہ سن کر ابن مسعود نے جوتے سے اس کی پٹائی کی اور تمام نمازیوں نے ہر طرف سے اس پر پتہر بر سائے تویہ بہاگ کر اپنے گہر میں گہس گیا ۔[14]

قارئین کرام! ہم یہ کہتے ہیں کہ اس جیسے گمراہ شخص کی طرف ان کی نظریں کیوں لگی ہوئی تہیں جب کہ خدا وند متعال نے قرآن مجےد میں اس ملعون کا اس طرح تعارف کروایاہے ۔

<اِنْ جَا ءَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَباٴٍ فَتَبینواْ ۔>

اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لائے تو اس میں اچہی طرح چہان بین کر لیا کرو۔

کیااس (ملعون)جیسا فاسق انسان کیو نکر اللہ کے حدود ،اس کے احکام، مسلمانوں کے اموال اور عزتوں کا نگہبان ہو سکتا ہے ؟!

اٴنّا للّٰہ و اِناّ اِلیہ راجعون۔

۳۔عبداللہ بن ابی سرح

یہ خلیفہ ثالث کا رضائی بہائی تہا اس کو مصر کا گورنر بنایا گیا اس نے فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کیا تہا اور مسلمانوں کے ساتہ ہجرت بہی کی تہی لیکن بعد میں مرتد اور مشرک ہو گیا تہا۔ اور قریش مکہ کے ساتہ جا ملا تہا،اور ان سے کہنے لگا : میں نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی کاری ضرب لگائی ہے جیسی میں چاہتا تہا۔ جب مکہ فتح ہو گیا تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا کہ اس( ملعون)کا خون مباح ہے اگرچہ یہ خانہ کعبہ کے غلاف میں ہی کیوں نہ چہپا ہو۔

یہ حضرت عثمان کے پاس چلا گیا اور حضرت عثمان نے اس کو چہپا دیا یہاں تک کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہل مکہ سے اطمینان حاصل ہو گیا تو حضرت عثمان نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے لئے امان مانگی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافی دےر تک خاموش رہے۔ پہر فرمایا ہاں اسے امان ہے۔جب حضرت عثمان چلے گئے تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ارد گرد بیٹہنے والے صحابیوں سے ارشاد فرمایا: میں اتنی دےر صرف اس لئے خاموش رہاتہا تاکہ تم میں سے کوئی شخص اس کی گردن اڑا دے۔[15]

قرآن مجےد نے سورہ انعام میں اس کے کفر کا اس طرح اعلان فرمایاگیا ہے:

< وَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَرَی عَلَی اللَّہِ کَذِبًا اٴَوْ قَالَ اٴُوحِیَ إِلَیَّ وَلَمْ یُوحَ إِلَیْہِ شَیْءٌ وَمَنْ قَالَ سَاٴُنزِلُ مِثْلَ مَا اٴَنزَلَ اللَّہُ ۔>[16]

اس سے بڑہ کر کون ظالم ہو گا جو خدا پر جہوٹ اور افتراء پر دازی کرے اورکہے کہ ہمارے پاس وحی آئی ہے حا لانکہ اس کے پاس کو ئی وحی وغیرہ نہیں آئی یا وہ یہ دعوی کرے کہ جیسا خدا وند عالم نے قرآن نازل کیا ہے میںبہی ایسا قرآن عنقریب نازل کئے دیتا ہوں۔

تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ عبداللہ بن ابی سرح کے الفاظ ہیں کہ میں بہی عنقریب ایسا ہی قرآن نازل کرونگا جس طرح اللہ تعالی نے نازل کیا ہے۔[17]

اے اہل دین اور اہل انصاف کیا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمال معین کرنے کا یہی معیار اور شرائط بیان فرمائے تہے جن کا ہم معاویہ کے متعلق کی گئی بحث میں ذکر کر چکے ہیں کیا یہ کہلی ہوئی جاہلیت نہیں ہے ؟

کیا یہ حکم خدا اور رسول سے انحراف نہیں ہے ؟یقینا یہ تو الٹے پاؤ ں جاہلیت کی طرف پلٹنا اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام سے انحراف کرنا ہے ۔!!!


[1] سورہ اسراء آیت:۶۰۔

[2] علامہ امینی ۺکی الغدیر ج ۸ ص۲۳۹۔

[3] سورہ قلم :۱۰۔۱۱۔

[4] سیرت حلبیہ ج۱ ص۳۳۷، تفسیر شو کافی ج ۵ص۲۶۳،درمنثور ،سیوطی ص۴۱ ۔اور ص۲۵۱۔

[5] سورہ احزاب:۲۱

[6] سورہ توبہ :۲۴

[7] کتاب الغدیر ج ۸ ص۲۵۴ ،۲۵۵۔

[8] شرح نہج البلاغہ ج ۱ ص۳۳۸۔

[9] مجمع الزوائد ج ۵ ص۲۱۱، سنن بیہقی ج ۲۰ ص۱۱۸۔

[10] شرح نہج البلاغہ ج ۱ ص۳۴۰ ۔

[11] طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۱۸۶ ۔

[12] سورہ فرقان :۲۷ تا ۲۹ ۔

[13] سیرت ابن ہشام ج۱ ص۳۸۵ ۔

[14] الغدیر علامہ امینی ج۸ ص۲۷۴۔

[15] بلازری کی انساب ا لاشراف ج ۵ ص ۴۹۔

[16] سورہ انعام:۹۳

[17] تفسیر قرطبی ج ۷ص۴۰ زمخشری کی تفسیر کشاف ج ۱ ص۴۶۱ وغیرہ ۔