حکم نوبہاردولتانہ
حکیم مہر نو بہار خان دولتانہ صاحب ملک پاکستان کے ادبی افق کا ایک روشن ستارہ ہیں اور درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہیں، ان کا اصل نام مہر نو بہار خان دولتانہ ہے جبکہ ادبی نام نوبہار دولتانہ ہے انہوں نے 15 مئی 1969ء کو مہر محمد رمضان دولتانہ کے گھر تحصیل کبیروالا کے نواحی موضع کوٹلہ سید کبیرنذدپل رانگو ڈاکخانہ حاجی پور میں آنکھ کھولی ابتدائی تعلیم مقامی سکول سے حاصل کی اور پھر ایم اے سرائیکی ایم اے ایجوکیشن، بی ایڈ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں 20مارچ 1993ء کوبطور پرائمری سکول ٹیچر ملازمت اختیار کر لی اور اب26اپریل 2022ء سے گورنمنٹ مڈل سکول بلوچاں تحصیل کبیروالہ میں بطور ایلیمنٹری سکول ٹیچر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں شاعری میں معروف بزرگ استاد الشعراء حضرت نور احمد غازی رحمتہ اللہ علیہ حضرت بیدل حیدری رحمتہ اللہ علیہ اور محترم ریاض حسین ارم صاحب کو اپنا استاد مانتے ہیں ان تینوں شخصیات نے ان کے سر پر دست شفقت رکھا اور انہیں فن شاعری اور علم عروض سے روشناس کرایا یہی وجہ ہے کہ آج مہرنو بہار خان دولتانہ صاحب پر شہرت کی دیوی مہربان ہے اور ان کا کلام ہر زبان زد عام ہے ان کی تخلیقات میں 1 "عکسِ نو بہار" (شعری مجموعہ کلام) اور 2"باران رحمت (حصہ اول) " (نعتیہ مجموعہ کلام)، 3" باران رحمت (حصہ دوئم)" (نعتہ مجموعہ کلام) اور4 " نہ وچھڑے یار کسے دا"5,ذکرنوبہار ،شخصیت وفن شامل ہیں اور متعدد شعری کتب زیر طبع ہیں - انہیں اردو، پنجابی اور سرائیکی زبان میں سخنوری کا ملکہ حاصل ہے، تاہم سندھی زبان پر بھی انہیں مکمل عبور حاصل ہے - حمد و نعت، سلام و مناقب، نظم و غزل، ترانہ و دوہڑہ، اور ہائیکو اور گیت پر بھر پور طبع آزمائی کر چکے ہیں مہر نو بہار خان دولتانہ صاحب ایک صاحب اسلوب شاعر ہیں، ان کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے موضوع کشید کرتے ہیں وہ اپنے خیالات و احساسات کو لفظوں کا پیرہن دے کر اشعار کی صورت قلم کے سپرد کر دیتے ہیں، ان کا جداگانہ انداز بیاں ہی ان کی پہچان ہے
انہیں ملنے والے اعزازات میں " ساغر صدیقی رائٹرز کونسل انٹرنیشنل" ایوارڈ برائے (2008ء)، " قتال پوری ادبی سنگت" خانیوال نعتیہ ایوارڈ برائے (2018ء) اور ادبی تنظیم "بزمِ شمسی" پاکستان (رجسٹرڈ) ایوارڈ برائے (2021ء) شامل ہیں، جبکہ "آداب عرض" ملن مشاعرہ ملتان برائے سال (2004ء)، "بے نظیر" سرائیکی مشاعرہ برائے سال (2008ء)،" پاکستان ادب ورثہ" کل پاکستان مشاعرہ برائے سال (2017ء) اور روزنامہ "خبریں" ملتان کے زیراہتمام 2018ء میں اٹھارویں سالانہ سرائیکی مشاعرے سمیت "پریس کلب جمال پور" کی جانب سے سن 2021ء سنداعزاز امروہہ فاونڈیشن انڈیا 17جولائی2021ء میں تعریفی اسناد بھی حاصل کر چکے ہیں ریڈیوپاکستان ملتان وسیب ٹی وی ملتان مکس نیوزملتان اورکئی ٹی وی چینلز پر پروگرام کرنے کاشرف حاصل ہے نوبہاردولتانہ صاحب کی شاعری کےحوالے سےپاکستان کی تین مختلف یونیورسٹیز 1 NCBA&E MULTAN 2 ,BZU MULTAN 3 AIOU ISLAM ABAD میں جزوی طورپرایم فل کی سطح کا کام کیاگیا ہےجبکہ چوتھا ISP ملتان کیمپس میں بعنوان ،نوبہاردولتانہ کی مذہبی شاعری کا تنقیدی وتحقیقی مطالعہ ،ایم فل اردو کا مقالہ مکمل کیا گیاہےاب پانچواں NCBA&E ملتان کیمپس میں بعنوان، "نوبہاردولتانہ کی شاعری کاتجزیاتی مطالعہ"ایم فل اسکالرثناءشرافت علی ایم فل اردو کے مقالے پرریسرچ مکمل کررہی ہیں
مہرنو بہار خان دولتانہ صاحب ایک عرصہ سے علم و ادب کی خدمت کر رہے ہیں، وہ ایک شاعرادیب کالم نگار نقاد محقق ماہر تعلیم جزوقتی ٹیوٹرعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد اور مستند شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر نباض اور طبیب بھی ہیں انہوں نے طب میں فاضل الطب والجراحت میں ڈپلومہ بھی حاصل کر رکھا ہےنیشنل کونسل فارطب اسلام آباد اورپنجاب ہیلتھ کیئرکمشن لاہور سے رجسٹرڈطبیب ہیں اور1992ء سے باقاعدہ مبشر جنیددواخانہ کورائی بلوچ میں طبی پریکٹس بھی کررہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ نبض شناسی کا ہنر بھی بخوبی جانتے ہیں، بلاشبہ انہیں پیشہء پیغمبری سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مسیحا ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے - ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو ہیں، وہ انتہائی شریف النفس، رحمدل، شفیق، وفادار، مخلص، محنتی، امن پسند، مہمان نواز، ہمدرد، سادگی پسند اور درویش صفت انسان ہیں - دھیمے لہجے میں شعر کہتے ہیں اور عاجزی و انکساری ان کی ذات کا خاصہ ہے - برصغیر کے عظیم دولتانہ خاندان کا چشم و چراغ ہونے کی وجہ سے اپنی خاندانی روایات کے پاسدار نظر آتے ہیں -
وطن عزیز کے طول و عرض اورانٹرنیشنل لیول پر منعقد ہونے والے مشاعروں سمیت تمام ادبی تقریبات و سیمینارز میں شرکت کر کے اپنے علاقہ کی نمائندگی کرتے رہتے ہیں مدینۃ الاولیاء ملتان اور اس کے مضافات میں منعقدہ مشاعروں میں اکثر ان سے ملاقات ہوتی رہتی ہے، ان کا مزاج شاعرانہ اور گفتگو ادبی ہے - وہ مقدار پر نہیں بلکہ معیار پر توجہ دیتے ہیں - دولتانہ صاحب اپنے اشعار میں سلیس اردو کا استعمال کرتے ہیں جسے عام فہم انسان بھی آسانی کے ساتھ سمجھ لیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اشعار کو قاری کے دل و دماغ میں اتارنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں -