دار العلوم ندوۃ العلماء

وکیپیڈیا توں
Jump to navigation Jump to search
دار العلوم ندوۃ العلماء

معلومات
تاسيس 1315ھ مطابق 1894ء
الإنتماءات اسلام
قسم اسلامی یونیورسٹی
جغرافیائی وقوع
إحداثيات
شہر لکھنؤ
دیس بھارت بھارت دا جھنڈا
ہور جانکاری
طالب علم 7000+(سنة ؟؟)
ویب سائٹ www.nadwatululama.org

www.nadwa.in

دار العلوم ندوۃ العلماء is located in Earth
دار العلوم ندوۃ العلماء
دار العلوم ندوۃ العلماء (Earth)

ندوۃ العلماء 1894ء وچ قائم ہويا۔ کہیا جاندا اے کہ مولوی عبد الغفور صاحب اس خیال دے محرک سن، لیکن بعد وچ محمد علی نے اسنو‏ں عملی جامہ پہنایا۔ موج کوثر دے مصنف محمد اکرم (شیخ) دے مطابق مولا‏نا شبلی تے مولوی عبد الحق دہلوی نے اس ادارے دے قواعد مرتب کیتے، علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ اس اولین فضلاء وچو‏ں ني‏‏‏‏ں۔

اغراض و مقاصد[لکھو]

  1. علمائے اسلام دے باہمی اختلافات نو‏‏ں ختم کرنا۔
  2. مسلماناں دے لئی موزاں نصاب تعلیم فراہ‏م کرنا۔

جتھ‏ے تک ندوة العلماء دے اغراض و مقاصد دا تعلق سی ایہ مسلماناں دے بہترین مفاد وچ سی اس لئی پوری قوم وچ اس د‏ی پزیرائی ہوئی۔ ایتھ‏ے تک کہ سرسید احمد خان تے محسن الملک نے وی انہاں نو‏‏ں پسندیدگی د‏‏ی نگاہ تو‏ں دیکھیا۔ حقیقت وچ شبلی نعمانی ندوۃ العلماء دے روح رواں سن ۔ جدو‏ں اس ادارے نو‏‏ں برے دن دیکھنا پئے تاں شبلی نعمانی 1904ء وچ اپنی ملازمت نو‏‏ں خیرباد کہہ ک‏ے لکھنؤ آئے تے ندوۃ العلماء وچ نويں روح پھونک دی۔ ایہ آپ ہی د‏‏ی انتھک کوششاں دا نتیجہ سی کہ ندوہ دا شمار امت مسلمہ دے قابل فخر ادارےآں وچ ہونے لگیا۔

ترانہ ندوہ[لکھو]

ترانہ دار العلوم ندوۃ العلماء

ہم نازش ملک و ملت ہیں ہم سے ہے درخشاں صبح وطن ہم تابش دیں ہم نور یقیں ہم حسن عمل ہم خلق حسن

ہم مست نگاہ ساقی ہیں ہم بادہ کش صہبائے حرم ہم نغمۂ اہل قلب و زباں ہم ذہن رسائے اہل قلم ہم عزم جواں ہر لمحہ دواں رکھتے ہیں ہمیشہ آگے قدم ہم آب گہر ہم نور سحر ہم باد بہاری ابر کرم

ہم نازش ملک و ملت ہیں ہم سے ہے درخشاں صبح وطن ہم تابش دیں ہم نور یقیں ہم حسن عمل ہم خلق حسن

جس بزم کے ہیں ہم تخت نشیں وہ بزم ہے بزم عرفانی اس بزم کی ہے ہر صبح حسیں ہر شام ہے اس کی نورانی یہ بزم ہے ہم شاہینوں کی فطرت میں ہے جن کی سلطانی یہ قلب ونظر کی دنیا ہے ہر نقش ہے اس کا لا فانی

ہم نازش ملک و ملت ہیں ہم سے ہے درخشاں صبح وطن ہم تابش دیں ہم نور یقیں ہم حسن عمل ہم خلق حسن

گنجینۂ فضل رحمانی وہ جس نے بلند اسلام کیا دانش کدۂ شبلی جس نے پھر ذوق سخن کو عام کیا وہ بزم سلیمانی جس نے تحقیق نظر کا کام کیا انفاس علی نے روشن پھر ندوے کا جہاں میں نام کیا

ہم نازش ملک و ملت ہیں ہم سے ہے درخشاں صبح وطن ہم تابش دیں ہم نور یقیں ہم حسن عمل ہم خلق حسن

وہ شمع یہاں پر جلتی ہے جس شمع سے دنیا روشن ہے وہ پھول یہاں پر کھلتا ہے جس پھول سے گلشن گلشن ہے یہ اہل وفا کا مرکز ہے یہ اہل صفا کا مخزن ہے شہباز یہاں پر پلتے ہیں یہ لعل و گہر کا معدن ہے

ہم نازش ملک و ملت ہیں ہم سے ہے درخشاں صبح وطن ہم تابش دیں ہم نور یقیں ہم حسن عمل ہم خلق حسن

یہ اہل جنوں کی بستی ہے یہ اہل خرد کا گہوارہ ہر چیز یہاں کی شہپارہ ہر فرد یہاں کا سیارہ یاں نور کی بارش ہوتی ہے یاں علم کا بہتا ہے دھارا ہر قطرہ یہاں کا موتی ہے ہر ذرہ یہاں کا مہ پارہ

ہم نازش ملک و ملت ہیں ہم سے ہے درخشاں صبح وطن ہم تابش دیں ہم نور یقیں ہم حسن عمل ہم خلق حسن

جو ساز یہاں پر چھڑتا ہے کہتے ہیں حرم کا ساز ہے وہ سینوں میں ہے جو بھی راز یہاں دراصل حجازی راز ہے وہ جو گونجتی ہے آواز یہاں جادو سے بھری آواز ہے وہ جو دل نہ کھنچے اس کی جانب بے سوز ہے وہ بے ساز وہ

ہم نازش ملک و ملت ہیں ہم سے ہے درخشاں صبح وطن ہم تابش دیں ہم نور یقیں ہم حسن عمل ہم خلق حسن

اس بزم کے ہم نے جام پئے اس بزم کے ہم مے خوار بنے اس بزم میں ہم بیدار ہوئے اس بزم میں ہم ہشیار بنے اس بزم میں ہم غیور بنے بے باک بنے خوددار بنے اسلام کے حق میں ڈھال بنے باطل کے لیے تلوار بنے

ہم نازش ملک و ملت ہیں ہم سے ہے درخشاں صبح وطن ہم تابش دیں ہم نور یقیں ہم حسن عمل ہم خلق حسن

اس بزم کی برکت سے بخشا فطرت نے پر پرواز ہمیں چلتے ہیں ہوا کے دوش پہ ہم کہتا ہے ہر اک شہباز ہمیں خود بڑھ کے بناتی ہے فطرت ہمراز ہمیں دم ساز ہمیں اللہ نے اپنے فضل و کرم سے بخشا یہ اعزاز ہمیں

ہم نازش ملک و ملت ہیں ہم سے ہے درخشاں صبح وطن ہم تابش دیں ہم نور یقیں ہم حسن عمل ہم خلق حسن

از: مولانا محمد ثانی حسنی

مؤسسین ندوہ[لکھو]

وغیرہم

نظمائے ندوة العلماء[لکھو]

1۔مولانا سید محمد علی مونگیری (1262ھ-1364ھ)

2۔مولانا مسیح الزماں شاہجہاں پوری (1256ھ-1331ھ)

3۔مولانا خلیل الرحمان سہارنپوری (م1354ھ)

4۔مولانا سید عبدالحی حسنی (1286ھ-1341ھ)

5۔مولانا سید علی حسن خان (1283ھ-1355ھ)

6۔مولانا ڈاکٹر سید عبد العلی حسنی ندوی (1311ھ-1381ھ)

7۔مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی (1333ھ-1420ھ)

8۔مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی (پیدائش 1929ء)

معتمد تعلیمات دار العلوم ندوة العلماء[لکھو]

  1. علامہ شبلی نعمانی (1857ء-1914ء)
  2. علامہ سید سلیمان ندوی (1884ء-1952ء)
  3. مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی (1913ء-1999ء)
  4. مولانا عبد السلام قدوائی ندوی (1907ء-1979ء)
  5. مولانا ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی (1925ء-2006ء)
  6. مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی (پیدائش 1931ء- وفات 16جنوری 2019)
  7. مولانا ڈاکٹر تقی الدین ندوی مظاہری (پیدائش 1934ء)

ارباب اہتمام دار العلوم ندوة العلماء[لکھو]

1۔مولانا حفیظ اللہ بندولی

2۔مولانا مفتی عبد اللہ ٹونکی

3۔مولانا سید امیر علی ملیح آبادی

4۔مولانا شیر علی حیدرآبادی

5۔مولانا حیدر حسن خان

6۔مولانا عمران خان ندوی ازہری

7۔مولانا محمد ناظم ندوی

8۔مولانا محمد اسحاق سندیلوی ندوی

9۔مولانا محمد محب اللہ لاری ندوی

10۔مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی

11۔مولانا ڈاکٹر سعیدالرحمان اعظمی ندوی

قابل ذکر شخصیات[لکھو]

  • مولانا سید سلیمان ندوی
  • مولانا عبد الباری ندوی
  • مولانا عبد السلام ندوی
  • مولانا محمد ناظم ندوی
  • مولانا شاہ معین الدین ندوی
  • مولانا قاضی معین اللہ ندوی (سابق نائب ناظم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)
  • مولانا عبد السلام قدوائی ندوی
  • مولانا اویس بلگرامی ندوی
  • مولانا سید ابو الحسن علی ندوی
  • مولانا ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی
  • مولانا سید رابع حسنی ندوی
  • مولانا سید سلمان الحسینی ندوی
  • مولانا ڈاکٹر اکرم جونپوری ندوی
  • مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی
  • مولانا سید واضح رشید حسنی ندوی
  • مولانا سید حمزہ حسنی ندوی
  • مولانا ڈاکٹر تقی الدین ندوی مظاہری ندوی
  • مولانا ڈاکٹر سید سلمان ندوی ابن علامہ سید سلیمان ندوی (پروفیسر ڈین یونیورسٹی افریقہ)

ندوی شخصیات[لکھو]

موجودہ مدرسین ندوہ[لکھو]

  • مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی
  • مولانا محمد برہان الدین قاسمی سنبھلی
  • مولانا نذرالحفیظ ندوی ازہری
  • مولانا سید سلمان حسینی ندوی
  • مولانا خالد ندوی غازیپوری
  • مولانا محمد زکریا سنبھلی
  • مولانا نیاز احمد ندوی
  • مفتی عتیق احمد بستوی
  • مولانا علاؤ الدین ندوی
  • مولانا ڈاکٹر نذیر ندوی
  • مولانا عبد العزیز ندوی بھٹکلی
  • مولانا قاری ریاض احمد مظاہری
  • مفتی زید مظاہری ندوی
  • مولانا سلیم اللہ ندوی
  • مولانا عظیم خان ندوی
  • مولانا حسیب اللہ ندوی
  • مولانا رشید احمد ندوی
  • مولانا حفظ الرحمان قاسمی
  • مولانا محمد قیصر حسین ندوی مدنی
  • مولانا محمد فخر الدین طیب ندوی
  • مولانا اقبال احمد غازیپوری ندوی
  • مولانا مشہود السلام ندوی
  • مولانا محمد مستقیم ندوی
  • مفتی ظفر عالم ندوی
  • مولانا شمیم احمد ندوی
  • مولانا محبوب عالم ندوی
  • مولانا عبد السلام ندوی بھٹکلی
  • مولانا فیصل احمد ندوی بھٹکلی
  • مولانا عبد الرشید ندوی
  • مولانا انیس احمد ندوی
  • مولانا خالد گونڈوی ندوی
  • مولانا قاری عبد اللہ ندوی
  • مولانا محمد وثیق ندوی
  • مولانا منور سلطان ندوی
  • مولانا سلمان نسیم ندوی
  • مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی
  • مولانا ماسٹر عبید الرحمان ندوی
  • مولانا جاوید اختر ندوی
  • مفتی نصر اللہ ندوی

وغیرہ بوہت سارے استاداں کرام نيں

ہور ویکھو[لکھو]

حوالے[لکھو]

باہرلے جوڑ[لکھو]

سانچہ:تحریک ندوہ سانچہ:ندوی فضلا زمرہ:ہندوستان میں 1894ء کی تاسیسات