راجا رام دوم، ستارا

وکیپیڈیا توں
Jump to navigation Jump to search
راجا رام دوم، ستارا
معلومات شخصیت
جم تریخ جون 1726  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں date of birth (P569) ویکی ڈیٹا پر
جم تھاں کولہاپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں place of birth (P19) ویکی ڈیٹا پر
موت تریخ 11 دسمبر 1777  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں date of death (P570) ویکی ڈیٹا پر
راجا رام دوم، ستارا
معلومات شخصیت
جم تریخ جون 1726  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں date of birth (P569) ویکی ڈیٹا پر
جم تھاں کولہاپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں place of birth (P19) ویکی ڈیٹا پر
موت تریخ 11 دسمبر 1777  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں date of death (P570) ویکی ڈیٹا پر

راجا رام دوم بھوسلے مرہٹہ سلطنت کے چھٹے چھترپتی تھے۔[1] انہیں چھترپتی شاہو نے گود لیا تھا۔ دراصل تارابائی نے انہیں اپنا پوتا بنا کر شاہو مہاراج کی خدمت میں پیش کیا اور شاہو کی وفات کے بعد اقتدار حاصل کرنے کے لیے راجا رام کو استعمال کیا، بعد ازاں اپنے قول سے پھر گئیں اور کہا کہ وہ محض ایک دکھاوا تھا۔ گوکہ پیشوا بالاجی باجی راؤ نے انہیں چھترپتی برقرار رکھا لیکن درحقیقت پیشوا کے ہاتھ میں سارے اختیارات تھے جبکہ راجا رام دوم عملاً کٹھ پتلی تھے۔

سوانح حیات[لکھو]

سنہ 1740ء کی دہائی میں شاہو مہاراج کے دور حکومت میں تارابائی نے راجا رام دوم کو ان کی خدمت میں یہ کہہ کر پیش کیا کہ یہ ان کا اپنا پوتا ہے اور اس لحاظ سے یہ بچہ شیواجی کی اولاد میں سے ہے۔ تارا بائی نے مزید کہا کہ انہوں نے اس بچے کو پیدائش کے بعد خطرے کے خوف سے چھپا دیا تھا، یہ بچہ ایک راجپوت سپاہی کی بیوی کے ہاتھوں میں پلا بڑھا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد شاہو مہاراج نے انہیں اپنا بیٹا بنا لیا۔[2]

شاہو کی وفات کے بعد راجا رام دوم مرہٹہ سلطنت کے نئے چھترپتی بنے۔ جب پیشوا بالاجی باجی راؤ مغل سرحدوں پر تھے تو تارا بائی نے راجا رام کو اکسایا کہ پیشوا بالاجی کو ان کے منصب سے معزول کر دیں۔ جب راجا رام نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو تارا بائی نے انہیں 24 نومبر 1750ء کو ستارا میں قید کر دیا۔ بعد ازاں تارا بائی نے کہا کہ یہ ان کا پوتا نہیں ہے بلکہ گوندھالی ذات کا ایک فرد ہے۔

اسیری کے دوران میں راجا رام کی طبیعت بہت خراب رہنے لگی۔ کچھ عرصے بعد تارا بائی نے پیشوا کی برتری کو تسلیم کرتے ہوئے ان سے صلح کر لی۔ 14 ستمبر 1752ء کو جیجوری کے کھنڈوبا مندر میں دونوں نے باہمی صلح کا عہد لیا۔ اس موقع پر تارا بائی نے حلفیہ بیان دیا کہ راجا رام ان کے پوتے نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق گونڈھالی ذات سے ہے۔[3] تاہم پیشوا نے انہیں چھترپتی برقرار رکھا اور سیاہ سفید کے مالک عملاً پیشوا ہی رہے۔[2]

حوالہ جات[لکھو]

سانچہ:حوالہ جات

پیشرو
شاہو جی
مرہٹہ سلطنت کا چھترپتی
1749–1777
جانشین
شاہو دوم

زمرہ:ستارا کے مہاراجا زمرہ:مرہٹہ سلطنت کی شخصیات

  1. V.S. Kadam, 1993. Maratha Confederacy: A Study in its Origin and Development. Munshiram Manoharlal Publishers, New Delhi.
  2. 2.0 2.1 (2000) in Biswamoy Pati: Issues in Modern Indian History. Popular, 30. ISBN 9788171546589. 
  3. (1918) A History of the Maratha People Volume 3. اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس, 2–10.