سلطنت عباسہ دے شعبے
پہلا باب:خلافت عباسیہ
ابوالعباس عبداللہ سفاح: ابوالعباس عبداللہ سفاح بن محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم سنہ ۱۰۴ھ میں بمقام حمیمہ علاقہ بلقاء میں پیدا ہوا۔ وہیں پرورش پائی۔ اپنے بھائی ابراہیم امام کا جانشین ہوا۔ اپنے بھائی منصور سے عمر میں چھوٹا تھا۔ ابن جریر طبری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ جس روز سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ تمہاری اولاد میں خلافت آئے گی، اسی وقت سے اولاد عباس خلافت کی امیدوار چلی آتی تھی۔[1]عبداللہ سفاح خون ریزی، سخاوت، حاضر جوابی، تیز فہمی میں ممتاز تھا۔ سفاح کے عمال بھی خون ریزی میں مشاق تھے۔ سفاح نے اپنے چچا داؤد کو پہلے کوفہ کی حکومت پر مامور کیا، پھر اس کو حجاز، یمن اور یمامہ کی امارت پر مامور کیا اور کوفہ پر اپنے بھتیجے عیسیٰ بن موسیٰ بن محمد کو مقرر کیا۔ جب سنہ ۱۳۳ھ میں داؤد کا انتقال ہو گیا تو سفاح نے اپنے ماموں یزید بن عبیداللہ بن عبدالمدان حارثی کو حجاز و یمامہ کی اور محمد بن یزید بن عبداللہ بن عبدالمدان کو یمن کی گورنری پر مامور کیا۔ سنہ ۱۳۲ھ میں سفیان بن عیینہ بلبی کو بصرہ کا عامل بنایا گیا تھا۔ سنہ ۱۳۳ھ میں اس کو معزول کر کے اس کی جگہ اپنے چچا سلیمان بن علی کو سند حکومت عطا کی اور بحرین و عمان بھی اسی کی حکومت میں شامل کر دیے۔ سنہ ۱۳۲ھ میں سفاح کا چچا اسماعیل بن علی اہواز کا، دوسرا چچا عبداللہ بن علی شام کا، ابو عون عبدالملک بن یزید مصر کا، ابو مسلم خراسانی خراسان اور جبال کا گورنر اور خالد بن برمک دیوان الخراج یعنی محکمہ مال گزاری کا افسر تھا۔ سنہ ۱۳۳ھ میں ابو مسلم نے اپنی طرف سے محمد بن اشعث کو فارس کا گورنر مقرر کر کے روانہ کیا۔ اسی زمانہ میں سفاح نے اپنے چچا عیسیٰ بن علی کو فارس کی سند گورنری دے کر بھیجا۔
محمد بن اشعث پہلے پہنچ چکا تھا۔ جب عیسیٰ بن علی پہنچا تو محمد بن اشعث نے اول اس کو فارس کی حکومت سپرد کرنے سے انکار کیا، پھر یہ اقرار لے کر کہ کبھی منبر پر خطبہ نہ دے گا اور جہاد کے سوا کبھی تلوار نہ اٹھائے گا، اس کو فارس کی حکومت سپرد کر دی مگر حقیقتاً خود ہی حاکم رہا۔ جب محمد بن اشعث فوت ہو گیا تو سفاح نے اپنے چچا اسماعیل بن علی کو فارس کی حکومت پر بھیجا اور محمد بن صول کو موصل کی حکومت پر بھیجا۔ اہل موصل نے محمد بن صول کو نکال دیا۔ یہ لوگ بنو عباس سے منحرف تھے۔ سفاح نے ناراض ہو کر اپنے بھائی یحییٰ بن محمد بن علی کو بارہ ہزار کی جمعیت کے ساتھ روانہ کیا۔ یحییٰ بن محمد نے موصل پہنچ کر قصر امارت میں قیام کیا اور اہل موصل کے بارہ سربرآوردہ آدمیوں کو دھوکے سے بلا کر قتل کر دیا۔ اہل موصل میں اس سے سخت اشتعال پیدا ہوا اور وہ جنگ کرنے پر تیار ہو گئے۔ یحییٰ نے یہ حالت دیکھ کر منادی کرا دی کہ جو شخص جامع مسجد میں چلا آئے گا، اس کو امان دی جائے گی۔ یہ سن کر لوگ جامع مسجد کی طرف دوڑ پڑے۔
جامع مسجد کے دروازوں پر یحییٰ نے اپنے آدمیوں کو کھڑا کر رکھا تھا، جو جامع مسجد کے اندر جاتا تھا، قتل کر دیا جاتا تھا۔ اس طرح گیارہ ہزار آدمی قتل کیے گئے، پھر شہر میں قتل عام کیا گیا۔ رات ہوئی تو یحییٰ کے کان میں ان عورتوں کے رونے کی آواز آئی جن کے شوہر، باپ، بھائی اور بیٹے ظلماً قتل کر دیے گئے تھے۔ صبح ہوتے ہی یحییٰ نے حکم دیا کہ عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کر دیا جائے۔ تین روز تک فوج کو اہل شہر کا خون مباح کر دیا گیا۔ اس حکم کو سنتے ہی شہر میں بڑی شدت سے قتل عام جاری ہو گیا۔ یحییٰ کے لشکر میں چار ہزار زنگی بھی تھے۔ زنگیوں نے عورتوں کی عصمت دری میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ ہزارہا عورتوں کو پکڑ پکڑ کر لے گئے۔ چوتھے روز یحییٰ گھوڑے پر سوار ہو کر شہر کی سیر کے لیے نکلا تو ایک عورت نے ہمت کر کے یحییٰ کے گھوڑے کی باگ پکڑ لی اور کہا کہ کیا تم بنو ہاشم نہیں ہو؟ کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے لڑکے نہیں ہو؟ کیا تم کو یہ خبر نہیں کہ مومنات و مسلمات سے زنگیوں نے جبراً نکاح کر لیا ہے؟ یحییٰ نے اس کا کچھ جواب نہ دیا اور چلا گیا۔ اگلے دن زنگیوں کو تنخواہ تقسیم کرنے کے بہانے سے بلایا۔ جب تمام زنگی جمع ہو گئے تو سب کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ سفاح کو جب ان حالات کی اطلاع ہوئی تو اس نے اسماعیل بن علی کو موصل بھیج دیا اور یحییٰ کو فارس کی حکومت پر تبدیل کر دیا۔ ۱۳۳ھ میں قیصر روم نے لمطیہ اور قالیقلا مسلمانوں سے بہ زور شمشیر فتح کر لیے۔ اسی سنہ میں یزید بن عبیداللہ بن عبدالمدان نے مدینہ سے ابراہین بن حبان سلمی کو یمامہ کی طرف فوج دے کر روانہ کیا۔ وہاں مثنیٰ بن زید بن عمر بن ہبیرہ اپنے باپ کے زمانے سے حاکم تھے۔ اس نے ابراہیم کا مقابلہ کیا اور مارا گیا۔ اسی سال بخارا میں شریک بن شیخ مہری نے ابومسلم کے خلاف خروج کیا اور تیس ہزار سے زیادہ لوگ جمع کر لیے۔ ابومسلم نے زیاد بن صالح خزاعی کو شریک کے مقابلہ پر روانہ کیا۔ شریک نے مقابلہ کیا اور مارا گیا۔ ابومسلم نے ذوالحجہ سنہ ۱۳۳ھ میں ابوداؤد خالد بن ابراہیم کو بلاد ختل پر چڑھائی کرنے کے لیے روانہ کیا۔ حبش میں شبل بادشاہ ختل کو شکست ہوئی، وہ بھاگ کر فرغانہ ہوتا ہوا ملک چین چلا گیا۔ اسی زمانہ میں اخثید، فرغانہ اور شاش کے بادشاہوں کے خلاف ایک لاکھ فوج بھیج دی۔ ابو مسلم نے زیاد بن صالح کو اس طرف روانہ کیا۔ چینی فوج سے زیاد بن صالح کا مقابلہ نہر طراز پر ہو گیا۔ پچاس ہزار چینی قتل ہوئے اور بیس ہزار مسلمانوں نے گرفتار کر لیے۔ سنہ ۱۳۴ھ میں بسام بن ابراہیم نے جو خراسان کا ایک نامور سپہ سالار تھا، عَلم بغاوت بلند کیا اور مدائن پر قابض ہو گیا۔ سفاح نے خازم بن خزیمہ کو بسام کے مقابلہ پر روانہ کیا۔ خازم نے بسام کو شکست فاش دی اور میدان جنگ سے بھگا دیا۔ اس کے بعد سفاح نے خازم کو عمان کی طرف خارجیوں سے لڑنے کے لیے روانہ کیا۔ وہاں اس نے خارجیوں کو شکست دے کر ان کے سردار کو قتل کر دیا۔ اسی سال ابوداؤد خالد بن ابراہیم نے اہل کش پر فوج کشی کی اور کش کے بادشاہ کو جو ذمی تھا، قتل کر ڈالا اور اس کے سر کو ابومسلم کے پاس سمرقند میں بھیج دیا اور مقتول بادشاہ کے بھائی طازان کو تخت نشین کر کے بلخ لوٹ آیا۔ ابومسلم نے اسی زمانہ میں اہل صغد اور اہل بخارا کا قتل عام کیا اور بخارا و سمرقند کا حاکم زیاد بن صالح کو بنا کر اور شہر سمرقند کی شہر پناہ بنانے کا حکم دے کر مروکو واپس آیا۔ ان واقعات کے بعد سفاح کے پاس خبر پہنچی کہ منصور بن جمہور نے سندھ میں بغاوت و عہد شکنی اختیار کی ہے (یہ منصور بن جمہور وہی ہے جو دو مہینے یزید الناقص کے عہد میں گورنر عراق و خراسان بھی رہ چکا تھا اور عبداللہ بن معاویہ بن عبداللہ بن جعفر کے ساتھیوں میں سے تھا۔ جب عبداللہ بن معاویہ کو اصطخر کے قریب داؤد بن یزید بن عمر بن ہبیرہ اور معن بن زائدہ کے مقابلہ میں شکست فاش حاصل ہوئی تو منصور بن جمہور سندھ کی طرف بھاگ کر چلا آیا تھا اور عبداللہ بن معاویہ ہرات پہنچ کر مالک بن ہیثم خزاعی والی ہرات کے ہاتھ سے ابومسلم کے حکم کے موافق قتل ہوئے تھے) سفاح نے اپنے افسر پولیس موسیٰ بن کعب کو سندھ کی طرف روانہ کیا اور اس کی جگہ مسیب بن زہیر کو مقرر کیا۔ موسیٰ اور منصور سے سرحد ہند پر مقابلہ ہوا۔ منصور کے ہمراہ بارہ ہزار فوج تھی مگر موسیٰ سے شکست کھا کر بھاگا اور ریگستان میں شدت تشنگی سے مر گیا۔ منصور کے گورنر نے جو سندھ میں تھا، یہ سن کر مع اہل و عیال اور اموال بلاد خرز کی طرف کوچ کیا۔ اسی سال یعنی ذوالحجہ سنہ ۱۳۴ھ میں سفاح مقام انبار میں آیا اور اسی مقام کو دارالخلافہ بنایا۔
سنہ ۱۳۵ھ میں زیاد بن صالح نے جو ابو مسلم کی طرف سے سمرقند و بخارا کا عامل تھا، بغاوت اختیار کی۔ ابومسلم یہ سن کر مرو سے روانہ ہوا اور ابوداؤد خالد بن ابراہیم نے زیاد کی بغاوت کا حال سن کر نصر بن راشد کو ترمذ کی طرف بھیج دیا کہ ترمذ کو زیاد سے دست برد سے بچائے۔ نصر بن راشد ترمذ پہنچا ہی تھا کہ چند لوگوں نے طالقان سے نکل کر اس کو مار ڈالا۔ ابوداؤد نے یہ سن کر عیسیٰ بن ہامان کو قاتلین نصر کے تعاقب پر مامور کیا۔ عیسیٰ نے قاتلین نصر کو قتل کیا۔ اسی اثناء میں ابو مسلم مقام آمد میں پہنچ گیا۔ اس کے ساتھ سباع بن نعمان ازدی بھی تھا۔ سفاح نے زیاد بن صالح اور سباع بن نعمان ازدی کو یہ سمجھا کر ابومسلم کے پاس روانہ کیا تھا کہ اگر موقع ملے تو ابومسلم کو قتل کر دینا۔ مقام آمد میں پہنچ کر ابومسلم کو کسی ذریعے سے یہ خبر معلوم ہوئی۔ اس نے فوراً سباع کو آمد میں قید کر دیا اور وہاں کے عامل کو یہ حکم دے گیا کہ سباع کو قتل کر دینا۔ آمد سے ابو مسلم بخارا کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں اس کو زیاد بن صالح کے چند سپہ سالار ملے جو اس سے منحرف ہو کر ابومسلم کی طرف آ رہے تھے۔ زیاد، ابو مسلم کے بخارا پہنچنے پر ایک دہقان کے گھر میں جا چھپا۔ دہقان نے اس کو قتل کر ڈالا اور ابو مسلم کی خدمت میں لا کر پیش کر دیا۔ ابو مسلم نے قتل زیاد کی خبر ابوداؤد کو لکھ بھیجی۔ ابوداؤد مہم طالقان میں مصروف تھا، فارغ ہو کر کش واپس آیا اور عیسیٰ بن ہامان کو بسام کی طرف روانہ کیا مگر اس کو کچھ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ اسی زمانہ میں عیسیٰ بن ہامان نے چند خطوط ابو مسلم کے ہمراہیوں کے پاس بھیجے تھے، ان خطوط میں ابوداؤد کی برائیاں لکھی تھیں ۔ ابو مسلم نے ان خطوط کو لے کر ابوداؤد کے پاس بھیج دیا۔ ابوداؤد نے عیسیٰ کو پٹوا کر قید کر دیا۔ چند روز کے بعد جب اس کو رہا کیا تو لشکر اس پر ٹوٹ پڑے اور عیسیٰ کو مار ڈالا۔ اس مہم سے فارغ ہو کر ابو مسلم مرو کی طرف واپس آگیا۔ ۱۳۶ھ میں عبداللہ بن علی سفاح کی خدمت میں آیا۔ سفاح نے اس کو لشکر شام اور لشکر عراق کے ساتھ رومیوں کی طرف روانہ کیا۔ سفاح کا بھائی ابوجعفر منصور جزیرہ کا عامل تھا۔ اس نے اس سال سفاح کے اشارے سے حج کا ارادہ کیا اور سفاح سے اجازت طلب کی۔ سفاح نے لکھا کہ تم میرے پاس چلے آؤ، میں تم کو امیر حج بنا کر بھیجوں گا۔ چنانچہ منصور انبار چلا آیا اور حران کی حکومت پر مقاتل بن حکیم مامور کیا گیا۔ بات یہ تھی کہ اسی سال ابو مسلم نے بھی سفاح سے حج کی اجازت طلب کی تھی۔ لہٰذا سفاح نے خود ہی اپنے بھائی منصور کو مخفی طور پر اطلاع دی کہ تم فوراً حج کے لیے تیار ہو جاؤ اور درخواست بھیج دو۔ اس موقع پر یہ ظاہر کر دینا ضروری ہے کہ ابو مسلم خراسانی نے دعوت عباسیہ کو کامیاب بنانے میں سب سے بڑا کام کیا تھا، جیسا کہ گزشتہ واقعات سے ظاہر ہے۔ اب سفاح کے خلیفہ ہو جانے اور حکومت عباسیہ کے
استقلال کے بعد وہ خراسان کا گورنر بنا دیا گیا اور سفاح نے اس کے نام باقاعدہ سند حکومت بھی بھیج دی مگر ابو مسلم نے خود حاضر دربار خلافت ہو کر بیعت نہیں کی تھی۔ وہ شروع میں پہلی مرتبہ جب امام ابراہیم کی طرف سے خراسان بھیجا گیا تھا، اسی وقت سے اب تک مسلسل خراسان میں موجود تھا۔ اسی نے خراسان پر قبضہ کیا۔ اسی نے اپنی حکومت قائم کی اور وہی ہر طرح خراسان پر مستولی تھا۔ جب ایک ایک کر کے تمام دشمنوں کا کام تمام ہو گیا تو عبداللہ سفاح کو خیال آیا کہ ابو مسلم کی منشاء کے خلاف نہ اس کو کسی صوبہ کی حکومت پر تبدیل کر سکتا تھا نہ اس کے زور قوت کو گھٹا سکتا تھا۔ ابو مسلم اپنے آپ کو خلافت عباسیہ کا بانی سمجھتا اور اپنے آپ کو خلیفہ سفاح کا سرپرست جانتا تھا۔ وہ خلیفہ سفاح کو مشورے دیتا اور سفاح اس کے مشوروں پر اکثر عمل کرتا لیکن خراسان کے معاملات میں وہ سفاح سے اجازت یا مشورہ لینا ضروری نہ سمجھتا تھا۔ عثمان بن کثیر عباسیوں کے نقباء میں ایک نامور اور سب سے پرانا نقیب تھا، اس کو ابومسلم نے ذاتی کاوش کی بنا پر قتل کر دیا اور سفاح اس کے متعلق ابومسلم سے کوئی جواب طلب نہ کر سکا اور سفاح، اس کے چچا، اس کے بھائی بھی اپنے حوصلے بلند رکھنے اور ابومسلم کی اس خود سرانہ حکمرانی کو برداشت نہ کر سکتے تھے۔ سفاح نے جب اپنے بھائی ابو جعفر منصور کو خراسان کی طرف بیعت لینے کے لیے بھیجا اور اسی کے ہاتھ ابو مسلم کے نام سند گورنری بھیجی تو ابو مسلم کا برتاؤ ابوجعفر منصور کے ساتھ مؤدبانہ نہ تھا، بلکہ اس کی ہر ایک حرکت سے ابوجعفر نے خود سری اور مطلق العنانی محسوس کی تھی۔ چنانچہ ابومسلم اور ابوجعفر کے درمیان دلوں میں ایک کشیدگی پیدا ہو چکی تھی۔ ابوجعفر نے جب یہ تمام حالات سفاح کو سنائے تو وہ اور بھی زیادہ اس فکر میں پڑ گیا کہ ابو مسلم کے اقتدار و اثر اور اختیار و تسلط کو کس طرح کم کرے۔ چنانچہ اس نے یہی مناسب سمجھا کہ ابو مسلم کا کام تمام کر دیا جائے۔ اسی لیے زیاد بن صالح اور سباع بن نعمان ازدی سے سفاح نے اس کام کی سفارش کی جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ غرض حالت یہ تھی کہ سفاح اور ابو مسلم کے دل صاف نہ رہے تھے۔ ابو مسلم چونکہ اقتدار پسند اور اولوالعزم شخص تھا۔ اس کو جب خلیفہ سفاح کی طرف سے شبہ پیدا ہوا تو اس نے صرف خراسان ہی پر اپنے اثر و اقتدار کو کافی نہ سمجھ کر حجاز و عراق میں بھی اپنا اثر قائم کرنے کی کوشش ضروری سمجھی تاکہ اگر ضرورت پڑے تو وہ عباسیوں کو کچل سکے۔ ایک ایسے شخص کا جو دعوت عباسیہ کو کامیاب بنا چکا تھا، حجاز و عراق اور تمام اسلامی ممالک میں اپنی مقبولیت بڑھانے کے کام پر مخفی طریقہ سے آمادہ ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہ تھی، لیکن اس کو یہ بات یاد نہ رہی کہ اس کے مقابلہ پر وہ خاندان ہے جس میں محمد بن علی اور ابراہیم بن محمد جیسے شخص یعنی بانی تحریک عباسیہ پیدا ہو سکتے ہیں اور خلافت بنو امیہ کی بربادی سے فارغ ہو کر ابھی اس پر قابض ہوئے ہیں ۔ ابو مسلم نے اگرچہ سب سے زیادہ کام کیا تھا لیکن وہ اس کام میں عباسیوں کا شاگرد اور عباسیوں ہی کا تربیت کردہ تھا۔ غرض ابو مسلم نے سفاح سے حج کی اجازت طلب کی۔ سفاح نے اس کو اجازت دی اور لکھا کہ اپنے ہمراہ پانچ سو آدمیوں سے زیادہ نہ لاؤ۔ ابو مسلم نے لکھا کہ لوگوں کو مجھ سے عداوت ہے، اتنے تھوڑے آدمیوں کے ساتھ سفر کرنے میں مجھ کو اپنی جان کا خطرہ ہے۔ سفاح نے لکھا کہ زیادہ سے زیادہ ایک ہزار آدمی کافی ہیں ۔ زیادہ آدمیوں کا ساتھ ہونا اس لیے باعث تکلیف ہو گا کہ سفر مکہ میں سامان رسد کی فراہمی دشوار ہے۔ ابو مسلم آٹھ ہزار فوج کے ساتھ مرو سے روانہ ہوا اور جب خراسان کی حد پر پہنچا تو سات ہزار فوج کو سرحدی مقامات پر چھوڑ کر ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ دارالخلافہ انبار کی طرف بڑھا۔ سفاح نے اپنے بڑے بڑے نامی سپہ سالاروں کو استقبال کے لیے بھیجا اور جب دربار میں حاضر ہوا تو اس کی بے حد تعظیم و تکریم کی اور کہا کہ اگر اس سال میرے بھائی ابوجعفر منصور کا ارادہ حج نہ ہوتا تو میں تم ہی کو امیر حج مقرر کرتا۔ اس طرح ابو مسلم کی امیر حج ہونے کی خواہش پوری ہونے سے رہ گئی۔ غرض دارالخلافہ انبار سے ابوجعفر منصور اور ابو مسلم دونوں ساتھ ساتھ حج کے لیے روانہ ہوئے۔ ابو مسلم خراسان سے ایک بڑا خزانہ ہمراہ لے کر آیا تھا۔ منصور کی معیت اس کو پسند نہ تھی کیونکہ وہ آزادانہ بہت سے کام جو کرنا چاہتا تھا، نہیں کر سکا۔ تاہم اس نے مکہ کے راستے میں ہر منزل پر کنوئیں کھدوائے، سرائیں بنوانے اور مسافروں کے لیے سہولتیں بہم پہنچانے کے کام شروع کرا دیے۔ کپڑے تقسیم کیے، لنگر خانے جاری کیے، لوگوں کو بے دریغ انعامات دیے اور اپنی سخاوت و بخشش کے ایسے نمونے دکھائے کہ لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہو گئے۔ مکہ مکرمہ میں بھی اس نے یہی کام وسیع پیمانے پر کیے، جہاں ہر طرف کے لوگ موجود تھے۔ ایام حج کے گزرنے پر ابوجعفر منصور نے ابھی روانگی کا قصد نہ کیا تھا کہ ابو مسلم مکہ سے روانہ ہو گیا۔ مکہ سے دو منزل اس طرف آگیا تھا کہ دارالخلافہ انبار کا قاصد اس کو ملا جو سفاح کے مرنے کی خبر اور ابوجعفر منصور کے خلیفہ ہونے کی خوشخبری لے کر منصور کے پاس جا رہا تھا۔ ابو مسلم نے اس قاصد کو دو روز تک ٹھہرائے رکھا اور پھر منصور کے پاس روانہ کر دیا۔ منصور کو ابو مسلم کے پہلے ہی روانہ ہونے کا ملال تھا۔ اب اس بات کا ملال اور ہوا کہ ابو مسلم نے اس خبر کے سننے پر منصورکو خلافت کی مبارکباد نہیں بھیجی۔ بیعت کے لیے بھی نہیں ٹھہرا حالانکہ سب سے پہلے اسی کو بیعت کرنی چاہیے تھی اور کم از کم منصور کے آنے تک اسی مقام پر قیام کرنا نہایت ضروری تھا کہ دونوں ساتھ ساتھ سفر کرتے۔ ابو جعفر منصور یہ خبر سنتے ہی فوراً مکہ سے روانہ ہو گیا لیکن ابو مسلم اس سے آگے سفر کرتا ہوا انبار پہنچا۔ اس کے بعد منصور داخل دارالخلافہ ہوا۔ ابو مسلم اور ابو جعفر کو روانہ کرنے کے بعد ابوالعباس عبداللہ سفاح چار برس آٹھ مہینے خلافت کر کے بہ تاریخ ۱۳ ذی الحجہ سنہ ۱۳۶ھ کو فوت ہوا۔ اسی کے چچا عیسیٰ نے نماز جنازہ پڑھائی، انبار میں دفن ہوا۔ اس نے مرنے سے پہلے اپنے بھائی ابوجعفر منصور اور اس کے بعد عیسیٰ بن موسیٰ کی ولی عہدی کا عہد نامہ لکھ کر ایک کپڑے میں لپیٹ کر اور اپنے اہل بیعت کی مہریں لگا کر عیسیٰ کے سپرد کر دیا تھا۔ چونکہ منصور موجود نہ تھا، اس لیے عیسیٰ بن موسیٰ نے منصور کی خلافت کے لیے لوگوں سے نیابتاً بیعت لی اور اس واقعہ کی اطلاع کے لیے مکہ کی طرف قاصد روانہ کیا۔ عبداللہ سفاح نے مال و دولت سے اپنی خلافت کے قیام و استحکام میں اسی طرح کام لیا جس طرح بانیٔ خلافت بنو امیہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کام لیا تھا۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی سخاوت کے ذریعہ سے اپنے مخالفوں یعنی علویوں کا منہ بند کر دیا تھا اور ان کو اپنا ہمدرد بنا لینے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اسی طرح بانی خلافت عباسیہ سفاح کے مقابلہ پر بھی علوی ہی دعوے دار خلافت تھے۔ انہوں نے عباسیوں کے ساتھ مل کر بنو امیہ کو برباد کیا تھا اور اب عباسی خاندان میں خلافت کے چلے جانے سے وہ بالکل اسی طرح ناخوش تھے جیسے کہ خاندان بنو امیہ میں خلافت کے چلے جانے سے ناراض تھے۔ عبداللہ سفاح نے بھی علویوں کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرح بے دریغ مال و دولت دے کر خاموش کر دیا۔ جب سفاح کوفہ میں خلیفہ بنایا گیا تو عبداللہ بن حسن مثنیٰ بن علی اور دوسرے علوی لوگ کوفہ میں آئے اور کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ خلافت جو ہمارا حق تھا، اس پر تم نے قبضہ کیا۔ یہ عبداللہ بن حسن مثنیٰ ہیں جن کے لڑکے محمد کو بماہ ذی الحجہ سنہ ۱۳۱ھ مکہ میں مجلس کے اندر عباسیوں اور علویوں نے خلافت کے لیے منتخب کیا تھا اور تمام حاضرین مجلس کے ساتھ ابو جعفر منصور نے بھی محمد کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ سفاح نے عبداللہ بن حسن مثنیٰ کی خدمت میں دس لاکھ درہم پیش کر دیے حالانکہ یہ رقم سفاح کے پاس اس وقت موجود نہ تھی، ابن مقرن سے قرض لے کر دی۔ اسی طرح ہر ایک علوی کو انعام و اکرام سے مالا مال کر کے رخصت کیا۔ عبداللہ بن حسن ابھی سفاح کے پاس سے رخصت نہ ہوئے تھے کہ مروان بن محمد کے قتل ہونے کی خبر اور بہت سے قیمتی جواہرات و زیورات جو مال غنیمت میں آئے تھے، لے کر قاصد پہنچا۔ سفاح نے وہ تمام قیمتی جواہرات و زیورات بھی عبداللہ بن حسنی مثنیٰ کو دے دیے اور اسی ہزار دینار دے کر وہ زیورات ایک تاجر سے عبداللہ بن حسن نے خرید لیے۔ غرضیکہ عبداللہ سفاح سے اس کام میں ذرا بھی کوتاہی ہوتی تو یقینا علوی فوراً علانیہ مخالفت پر آمادہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوتے اور اس وقت ممکن تھا کہ بہت سے نقباء بھی جو کافی اثر رکھتے تھے، ان کا ساتھ دیتے اور عباسیوں کے لیے اپنی خلافت کو قائم رکھنابے حد دشوار ہو جاتا۔ لہٰذا عبداللہ سفاح کے کاموں میں سب سے بڑا کارنامہ یہی سمجھنا چاہیے کہ اس نے تمام علویوں کو مال و دولت دے کر خاموش رکھا اور کسی کو مقابلہ پر کھڑا نہ ہونے دیا۔ عبداللہ سفاح کی وفات کے بعد ہی علوی خروج پر آمادہ ہو گئے مگر اب خلافت عباسیہ مستحکم ہو چکی تھی۔ ابوجعفر منصور:
ابوجعفر عبداللہ منصور بن محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب کی ماں سلامہ بربریہ لونڈی تھی۔ ابو جعفر منصور ۹۵ھ میں اپنے دادا کی حیات میں پیدا ہوا، بعض روایتوں کے بموجب وہ ۱۰۱ھ میں پیدا ہوا تھا۔ یہ ہیبت و شجاعت و جبروت اور عقل و رائے میں خصوصی امتیاز رکھتا تھا، لہو و لعب کے پاس نہ پھٹکتا تھا، ادب و فقہ کا عالمِ کامل تھا، اس نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو عہدۂ قضا کے انکار کرنے کے جرم میں قید کر دیا تھا، انہوں نے قید خانہ ہی میں انتقال کیا، بعض کا قول ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے منصور پر خروج کرنے کا فتویٰ دیا تھا، اس لیے ان کو زہر دلوایا گیا، منصور نہایت فصیح و بلیغ اور خوش تقریر شخص تھا، حرص و بخل سے اس کو متہم کیا جاتا ہے۔
عبدالرحمن بن معاویہ بن ہشام بن عبدالملک اموی نے ۱۳۸ھ یعنی منصور کے عہد خلافت میں اندلس کے اندر اپنی حکومت اور خلافت قائم کر لی تھی، وہ بھی ایک بربریہ کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا، اس لیے لوگ کہتے تھے کہ اسلام کی حکو مت بربریوں میں تقسیم ہو گئی، ابن عساکر نے لکھا ہے کہ جب منصور طلب علم میں ادھر ادھر پھرا کرتا تھا ایک روز کسی منزل پر اترا تو چوکیدار نے اس سے دو درہم محصول کے مانگے اور کہا کہ جب تک محصول ادا نہ کرو گے اس منزل پر نہ ٹھہر سکو گے، منصور نے کہا کہ میں بنو ہاشم میں سے ہوں مجھے معاف کر دو، مگر وہ نہ مانا، پھر منصور نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹوں میں سے ہوں ، وہ پھر بھی نہ مانا، منصور نے کہا کہ میں قرآن شریف جانتا ہوں مجھے معاف کر دے، اس نے پھر بھی نہ مانا، منصور نے کہا کہ عالم فقیہ اور ماہر فرائض ہوں ، وہ پھر بھی نہ مانا، آخر منصور کو دو درہم دینے ہی پڑے، اسی روز سے منصور نے ارادہ کر لیا تھا کہ مال و دولت جمع کرنا چاہیے۔ منصور نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے مہدی کو نصیحت کی کہ بادشاہ بغیر رعایا کی اطاعت کے قائم نہیں رہ سکتا، اور رعایا بغیر عدل کے اطاعت نہیں کر سکتی، سب سے بہتر آدمی وہ ہے جو باوجود قدرت کے عفو کرے، اور سب سے بیوقوف وہ ہے جو ظلم کرے، کسی معاملہ میں بلا غوروفکر حکم نہیں دینا چاہئے کیونکہ فکروتامل ایک آئینہ ہے جس میں انسان اپنا حسن و قبح دیکھ لیتا ہے، دیکھو ہمیشہ نعمت کا شکر کرنا، مقدرت میں عفو کرنا، تالیف قلوب کے ساتھ اطاعت کی امید رکھنا،فتحیابی کے بعد تواضع اور رحمت اختیار کرنا۔ خروج عبداللہ بن علی: منصور کے چچا عبداللہ بن علی کو عبداللہ سفاح نے خراسانی و شامی لشکر کے ساتھ اپنی موت سے پہلے صائفہ کی طرف روانہ کر دیا تھا، محرم سنہ ۱۳۷ھ میں منصور انبار میں پہنچ کر تخت نشین خلافت ہوا تھا۔ عیسیٰ بن موسیٰ نے سفاح کی وفات کی عبداللہ بن علی کو بھی اطلاع دی تھی، اور لکھا تھا کہ سفاح نے اپنے بعد منصور کی خلافت کے لیے وصیت کی ہے، عبداللہ بن علی نے لوگوں کو جمع کر کے کہا کہ عبداللہ سفاح نے جب مہم حران کے لیے فوج روانہ کرنی چاہی تھی تو کسی کو اس طرف جانے کی ہمت نہ ہوئی تو سفاح نے کہا کہ جو شخص اس مہم پر جائے گا وہ میرے بعد خلیفہ ہو گا، چنانچہ اس مہم پر میں روانہ ہوا اور میں نے ہی مروان بن محمد اور دوسرے اموی سرداروں کو شکست دے کر اس مہم میں کامیابی حاصل کی، سب نے اس کی تصدیق کی اور عبداللہ بن علی کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ عبداللہ بن علی نے مقام دلوک سے مراجعت کر کے مقام حران میں مقاتل بن حکیم کا محاصرہ کر لیا، چالیس روز تک محاصرہ کیے رہا، اثناء محاصرہ میں اہل خراسان سے مشتبہ ہو کر ان میں سے بہت سے آدمیوں کو قتل کر دیا اور حمید بن قحطبہ کو والیٔ حلب مقرر کر کے ایک خط دے کر روانہ کیا، جوزفر بن عاصم گورنر حلب کے نام تھا،اس خط میں لکھا تھا کہ حمید کو پہنچتے ہی قتل کر ڈالنا، حمید نے راستے میں خط کھول کر پڑھ لیا، اور بجائے حلب کے عراق کی طرف چل دیا۔ ادھر منصور جب انبار میں پہنچا ہے تو ابومسلم بھی وہاں پہلے پہنچ چکا تھا، ابومسلم نے منصور کے ہاتھ پر بیعت کی اور منصور نے اس کے ساتھ عزت افزائی اور دلجمعی کا برتاؤ کیا، اسی اثناء میں خبر پہنچی کہ عبداللہ بن علی باغی ہو گیا ہے، منصور نے ابومسلم سے کہا کہ مجھ کو عبداللہ بن علی کی طرف سے بہت خطرہ ہے، ابومسلم تو ایسے واقعات کا خواہش مند ہی تھا فوراً آمادہ ہو گیا کہ اس طرح منصور کو بھی براہ راست احسان مند بنایا جا سکے گا، چنانچہ ابومسلم کو عبداللہ بن علی کی سرکوبی پر مامور کیا گیا۔ ابن قحطبہ جو عبداللہ بن علی سے ناراض عراق کی جانب آرہا تھا وہ ابومسلم سے آملا، عبداللہ بن علی نے مقاتل بن حکیم کو امان دے دی اور مقاتل نے حران عبداللہ بن علی کے سپرد کر دیا، عبداللہ بن علی نے مقاتل کو مع ایک خط کے عثمان بن عبدالاعلیٰ حاکم رقہ کے پاس بھیجا، عثمان نے مقاتل کو پہنچتے ہی قتل کر دیا اور اس کے دونوں لڑکوں کو گرفتار کر لیا۔ منصور نے ابومسلم کو روانہ کرنے کے بعد محمد بن صول کو آذربائیجان سے طلب کر کے عبداللہ بن علی کے پاس دھوکا دینے کی غرض سے روانہ کیا، محمد بن صول نے عبداللہ بن علی کے پاس پہنچ کر یہ کہا کہ میں نے سفاح سے سنا ہے وہ کہتے تھے کہ میرے بعد میرا جانشین میرا چچا عبداللہ ہو گا، عبداللہ بن علی بولا تو جھوٹا ہے میں تیرے فریب کو خوب سمجھ گیا ہوں ، یہ کہہ کر اس کی گردن اڑا دی، اس کے بعد عبداللہ بن علی نے حران سے روانہ ہو کر نصیبین میں آکر قیام کیا اور خندق کھود کر مورچے قائم کیے۔ منصور نے ابومسلم کو روانہ کرنے سے پہلے حسن بن قحطبہ والیٔ آرمینیا کو بھی لکھ دیا تھا کہ آکر ابومسلم کی شرکت اختیار کرے، چنانچہ حسن بن قحطبہ بھی موصل کے مقام پر ابومسلم سے آملا تھا۔ ابومسلم مع اپنے لشکر کے جب نصیبین کے قریب پہنچا تو نصیبین کا رخ چھوڑ کر شام کے راستے پر پڑاو ڈالا اور یہ مشہور کیا کہ مجھ کو عبداللہ بن علی سے کوئی واسطہ نہیں ، میں تو شام کی گورنری پر مامور کیا گیا ہوں اور شام کو جا رہا ہوں ، عبداللہ بن علی کے ہمراہ جو شامی لوگ تھے وہ یہ سن کر گھبرائے اور انہوں نے عبداللہ بن علی سے کہا کہ ہمارے اہل و عیال ابومسلم کے پنجۂ ظلم میں گرفتار ہو جائیں گے، بہتر یہ ہے کہ ہم اس کو شام کی طرف جانے سے روکیں ، عبداللہ بن علی نے ہر چند سمجھایا کہ وہ ہمارے ہی مقابلہ کو آیا ہے شام میں نہ جائے گا لیکن کوئی نہ مانا، آخر عبداللہ بن علی نے اس مقام سے کوچ کیا، جب عبداللہ بن علی اپنے مقام کو چھوڑ کر شام کی طرف روانہ ہوا تو ابومسلم فوراً عبداللہ بن علی کی بہترین لشکر گاہ میں آکر مقیم ہو گیا اور عبداللہ بن علی کو لوٹ کر اس مقام پر قیام کرنا پڑا، جس میں پہلے ابومسلم مقیم تھا، اس طرح ابومسلم نے بہترین لشکرگاہ حاصل کر لی۔ اب دونوں لشکروں میں لڑائی کا سلسلہ جاری ہوا، کئی مہینے تک لڑائی ہوتی رہی۔ آخر ۷ جمادی الثانی یوم چہار شنبہ ۱۳۷ھ کو عبداللہ بن علی نے شکست کھائی اور ابومسلم نے فتح پاکر فتح کا بشارت نامہ منصور کے پاس بھیجا، عبداللہ بن علی نے اس میدان سے فرار ہو کر اپنے بھائی سلیمان بن علی کے پاس جاکر بصرہ میں پناہ لی اور ایک مدت تک وہاں چھپا رہا۔ قتل ابومسلم: جب عبداللہ بن علی کو شکست ہوئی اور ابومسلم نے اس کی لشکرگاہ کو لوٹ لیا اور مال غنیمت خوب ہاتھ آیا تو منصور نے اس فتح کا حال سن کر اپنے خادم ابوخصیب کو مال غنیمت کی فہرست تیار کرنے کے لیے روانہ کیا، ابو مسلم کواس بات سے سخت غصہ آیا کہ منصور نے میرا اعتبار نہ کیا اور اپنا آدمی فہرست مرتب کرنے کے لیے بھیجا، ابومسلم کی اس ناراضی و ناخوشی کی اطلاع جب منصور کو پہنچی تو اس کو یہ فکر ہوئی کہ کہیں ابومسلم ناراض ہو کر خراسان کو نہ چلا جائے چنانچہ اس نے مصر و شام کی سند گورنری لکھ کر ابومسلم کے پاس بھیج دی۔ ابومسلم کو اس سے اور بھی زیادہ رنج ہوا کہ منصور مجھ کو خراسان سے جدا کر کے بے دست و پا کرنا چاہتا ہے چنانچہ ابومسلم جزیرہ سے نکل کر خراسان کی طرف روانہ ہوگیا، یہ سن کر منصور انبار سے مدائن کی طرف روانہ ہوا اور ابومسلم کو اپنے پاس حاضر ہونے کے لیے بلایا، ابو مسلم نے آنے سے انکار کر کے لکھ بھیجا کہ’’میں دور ہی سے آپ کی اطاعت کروں گا، آپ کے تمام دشمنوں کو میں نے مغلوب کر دیا ہے، اب جب کہ آپ کے خطرات دور ہو گئے ہیں تو آپ کو اب میری ضرورت بھی باقی نہیں رہی، اگر آپ مجھ کو میرے حال پر چھوڑ دیں گے تو میں آپ کی اطاعت سے باہر نہ ہوں گا اوراپنی بیعت پر قائم رہوں گا، لیکن اگر آپ میرے درپے رہے تو میں آپ کی خلع کا خلافت کا اعلان کر کے آپ کی مخالفت پر آمادہ ہو جاؤں گا۔ اس خط کو پڑھ کر منصور نے نہایت نرمی اور محبت کے لہجہ میں ایک خط لکھا کہ’’ہم کو تمہاری وفاداری اور اطاعت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے، تم بڑے کار گزار اور مستحق انعام ہو، شیطان نے تمہارے دل میں وسوسے ڈال دیے ہیں ، تم ان وسوسوں سے اپنے آپ کو بچاؤ اور ہمارے پاس چلے آؤ۔‘‘ یہ خط منصور نے اپنے آزاد کردہ غلام ابوحمید کے ہاتھ روانہ کیا اور ان کو تاکید کی کہ منت و سماجت سے جس طرح ممکن ہو ابومسلم کو میرے پاس آنے کی ترغیب دینا، اور اگر وہ کسی طرح نہ مانے تو پھر میرے غصہ سے اس کو ڈرانا، یہ خط جب ابومسلم کے پاس پہنچا تو اس نے مالک بن ہیثم سے مشورہ کیا تو اس نے کہا کہ تم ہرگز منصور کے پاس نہ جاؤ وہ تم کو قتل کر دے گا، لیکن ابوداؤد خالد بن ابراہیم کو خراسان کی گورنری کا لالچ دے کر منصور نے بذریعہ خط پہلے ہی اس بات پر آمادہ کر لیا تھا کہ ابومسلم کو جس طرح ممکن ہو میرے پاس آنے پر آمادہ کر دو، ابوداؤد کے مشورے سے ابومسلم منصور کے پاس جانے پر آمادہ ہو گیا، مگر اس نے پھر بھی اس احتیاط کو ضروری سمجھا کہ اپنے وزیر ابواسحق خالد بن عثمان کو اول منصور کے پاس بھیج کر وہاں کے حالات سے زیادہ واقفیت حاصل کرے۔ ابواسحاق پر ابومسلم کو بہت اعتماد تھا، چنانچہ اول ابواسحاق کو روانہ کیا گیا، ابواسحاق جب دربار خلافت کے پاس پہنچا تو تمام سرداران بنوہاشم اور اراکین دولت استقبال کو آئے۔ منصور نے حد سے زیادہ تکریم و محبت کا برتاو کیا اور اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے اسحاق کو اپنی جانب مائل کر کے کہا کہ تم ابومسلم کو خراسان جانے سے روک کر اول میرے پاس آنے پر آمادہ کر دو تو میں تم کو خراسان کی حکومت اس کام کے صلہ میں دے دوں گا، ابواسحاق یہ سن کر آمادہ ہو گیا اور رخصت ہو کر ابومسلم کے پاس آیا اور اس کو منصور کے پاس جانے پر آمادہ کر لیا۔ چنانچہ ابومسلم اپنے لشکر کو حلوان میں مالک بن ہیثم کی افسری میں چھوڑ کر تین ہزار فوج کے ساتھ مدائن کی طرف روانہ ہوا، جب ابومسلم مدائن کے قریب پہنچا تو ابومسلم کے پاس منصور کے اشارے کے موافق ایک شخص پہنچا اور ملاقات کرنے کے بعد ابومسلم سے کہا کہ آپ منصور سے میری سفارش کر دیں کہ وہ مجھ کو کسکر کی حکومت دے دے، نیز یہ کہ وزیرالسلطنت ابوایوب سے منصور آج کل سخت ناراض ہے آپ ابوایوب کی بھی سفارش کر دیں ، ابومسلم یہ سن کر خوش ہو گیا اور اس کے دل سے رہے سہے خطرات سب دور ہو گئے۔ ابو مسلم دربار میں عزت و احترام کے ساتھ داخل ہوا اور عزت کے ساتھ رخصت ہو کر قیام گاہ پر آرام کرنے گیا، دوسرے روز جب دربار میں آیا تو منصور نے پہلے سے عثمان بن نہیک، شبیب بن رواح ، ابوحنیفہ اور حرب بن قیس وغیرہ چند شخصوں کو پس پردہ چھپا کر بٹھا دیا اور حکم دے دیا تھا کہ جب میں اپنے ہاتھ پر ہاتھ ماروں تو تم نکل کر فوراً ابومسلم کو قتل کر ڈالنا، چنانچہ ابومسلم دربار میں حاضر ہوا، خلیفہ منصور نے باتوں میں اس سے ان دو تلواروں کا حال دریافت کیا جو ابومسلم کو عبداللہ بن علی سے ملی تھیں ، ابومسلم اس وقت انہی تلواروں میں سے ایک کو اپنی کمر سے لگائے ہوئے تھا، اس نے کہا کہ ایک تو یہ موجود ہے، منصور نے کہا ذرا میں بھی دیکھوں ، ابومسلم نے فوراً خلیفہ منصور کے ہاتھ میں تلوار دیدی، وہ تھوڑی دیر تک اس کو دیکھتا رہا پھر اس کو اپنے زانوں کے نیچے رکھ کر ابومسلم سے اس کی حرکات کی شکایت کرنے لگا، پھر سلیمان بن کثیر کے قتل کا ذکر کیا اور کہا کہ تو نے اس کو کیوں قتل کیا حالانکہ وہ اس وقت سے ہمارا خیر خواہ تھا جب کہ تو اس کام میں شریک بھی نہ ہوا تھا۔ ابو مسلم اول خوشامدانہ اور عاجزانہ لہجہ میں معذرت کرتا رہا لیکن دم بدم منصور کے طیش و غضب کو ترقی کرتے ہوئے دیکھ کر جب اس کو یقین ہو گیا کہ آج میری خیر نہیں ہے تو اس نے جرأت سے جواب دیا کہ جو آپ کا جی چاہے کیجئے، میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا، منصور نے ابومسلم کو گالیاں دیں اور ہاتھ پر ہاتھ مارا، تالی کے بجتے ہی عثمان بن نہیک وغیرہ نے نکل کر ابومسلم پر وار کیے اور اس کا کام تمام کر دیا۔ یہ واقعہ ۲۵ شعبان ۱۳۷ھ کا ہے۔ ابو مسلم کے مارے جانے کے بعد وزیرالسلطنت نے باہر آکر ابومسلم کے ہمراہیوں کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ … امیر اس وقت امیرالمومنین کی خدمت میں رہیں گے، تم لوگ واپس چلے جاؤ، اس کے بعد عیسیٰ بن موسیٰ نے دربار خلافت میں حاضر ہو کر ابومسلم کو دریافت کیا، جب اس کے قتل کا حال معلوم ہوا تو اس کی زبان سے انا للّٰہ وانا الیہ راجعون نکل گیا، یہ بات منصور کو ناگوار گزری اور اس نے کہا کہ ابومسلم سے زیادہ کوئی تمہارا دشمن نہ تھا، پھر منصور نے جعفر بن حنظلہ کو بلوایا اور ابومسلم کے قتل کی نسبت مشورہ کیا، جعفر نے اس کے قتل کی رائے دی، منصور نے کہا، اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیر دے، اس کے بعد ابومسلم کی لاش کی طرف اشارہ کیا، جعفر نے ابومسلم کی لاش دیکھتے ہی کہا کہ ’’امیرالمومنین آج سے آپ کی خلافت شمار کی جائے گی، منصور مسکرا کر خاموش ہو گیا۔ ابونصر مالک بن ہیثم جس کو ابومسلم اپنا لشکر اور مال سپرد کر آیا تھا، حلوان سے بقصد خراسان ہمدان کی طرف روانہ ہو گیا پھر منصور کی خدمت میں واپس چلا آیا، منصور نے اس کو ملامت کی کہ تو نے ابومسلم کو میرے پاس آنے کے خلاف مشورہ دیا اس نے کہا کہ جب تک ابو مسلم کے پاس تھا اس کو نیک مشورہ دیا تھا اب آپ کے پاس آگیا ہوں تو آپ کی بہتری کے لیے کوشاں رہوں گا، منصور نے اس کو موصل کی حکومت پر بھیج دیا۔ خروج سنباد: ابومسلم کے قتل سے فارغ ہو کر بظاہر منصور کو اطمینان حاصل ہو چکا تھا لیکن اس کے بعد بھی منصور کے لیے مشکلات کا سلسلہ برابر جاری رہا، ابو مسلم کے ہمراہیوں میں ایک مجوسی فیروز نامی جو سنباد کے نام سے مشہور تھا وہ مسلمان ہو کر ابومسلم کی فوج میں شامل تھا، ابومسلم کے قتل کے بعد اس نے ابومسلم کے خون کا معاوضہ طلب کرنے کے لیے خروج کیا اور کوہستان کے لوگوں نے اس کا ساتھ دیا۔ سنباد نے نیشاپور اور رے پر قبضہ کر کے اس تمام مال و اسباب کو جو ابومسلم حج کے لیے روانہ ہوتے وقت رے اور نیشاپور میں چھوڑ گیا تھا، قبضہ کیا، سنباد نے لوگوں کے مال و اسباب کو لوٹا اور ان کو گرفتار کر کے باندی غلام بنایا اور مرتد ہو کر اعلان کیا کہ میں خانہ کعبہ کو منہدم کرنے جاتا ہوں ، نومسلم ایرانیوں کے لیے اس قدر تحریک کافی تھی، ان میں جو لوگ مذہب اسلام سے واقف نہ ہوئے تھے وہ یہ دیکھ کر کہ ہماری ہی قوم و ملک کا ایک شخص سلطنت اسلامی کے خلاف اٹھا ہے اس کے شریک ہو گئے۔ منصور نے جب اس فتنہ کا حال سنا تو اس نے سنباد کی سرکوبی کے لیے جمہور بن مرار عجلی کو مامور کیا، ہمدان ورے کے درمیان لڑائی ہوئی، جمہور نے سنباد کو شکست دی، قریباً سات ہزار آدمی سنباد کے ہمراہیوں میں سے مارے گئے، سنباد نے فرار ہو کر طبرستان میں پناہ لی، وہاں عامل طبرستان کے ایک خادم نے سنباد کو قتل کر دیا، منصور نے یہ خبر سن کر عامل طبرستان کو لکھا کہ سنباد کا مال و اسباب ہمارے پاس بھیج دو، اس نے مال و اسباب سے انکار کر دیا، منصور نے عامل طبرستان کی گوشمالی کے لیے فوج بھیجی، عامل طبرستان دیلم کی طرف بھاگ گیا۔ ادھر جمہور نے جب سنباد کو شکست دی تھی تو اس کے بہت سے مال و اسباب اور قریباً اس تمام خزانہ پر اس کا قبضہ ہو گیا تھا، ابومسلم کا خزانہ بھی اس کے قبضہ میں آگیا تھا، اس خزانے اور مال و اسباب کو جمہور نے منصور کے پاس نہ بھیجا اور رے میں جاکر قلعہ بندی کر کے منصور کی خلع خلافت اور بغاوت کا اعلان کر دیا۔ منصور نے جمہور کے مقابلہ پر محمد بن اشعث کو فوج دے کر روانہ کیا، جمہور یہ سن کر رے سے اصفہان کی طرف چلا گیا، جمہور اصفہان پر محمد بن اشعث رے پر قابض ہو گیا اس کے بعد محمد نے اصفہان پر چڑھائی کی، جمہور نے مقابلہ کیا، سخت لڑائی کے بعد جمہور شکست کھا کر آذربائیجان کی طرف بھاگا، وہاں جمہور کے ہمراہیوں میں سے کسی نے اس کو قتل کر کے اس کا سر منصور کے پاس بھیج دیا، یہ ۱۳۸ھ کا واقعہ ہے۔ ۱۳۹ ھ میں منصور نے اپنے چچا سلیمان کو حکومت بصرہ سے معزول کر کے اپنے پاس بلایا اور لکھا کہ عبداللہ بن علی کو جو ابومسلم سے شکست کھا کر بصرہ میں اپنے بھائی سلیمان کے پاس چلا آیا تھا، امان دے کر اپنے ہمراہ میرے پاس لیتے آو، جب عبداللہ بن علی کو سلیمان نے دربار میں حاضر کیا تو منصور نے اس کو قید کر دیا۔ (بعد میں قتل کرادیا تھا)
فوقہ راوندیہ:
فرقہ راوندیہ کو شیعوں میں شمار کیا جاتا ہے، یہ در حقیقت ایران و خراسان کے جاہل لوگوں کا ایک گروہ تھا جو علاقہ راوند میں رہتا اور ان لوگوں میں سے نکلا تھا جن کو ابومسلم خراسانی نے اپنے ساتھ شامل کیا تھا، ابومسلم نے جو جماعت تیار کی تھی اس کو مذہب سے کوئی تعلق نہ تھا بلکہ جس طرح ممکن ہوتا تھا ان کو سیاسی اغراض کے لیے آمادہ و مستعد کرنے کی کوشش کی جاتی تھی، یہ گروہ جس کو راوندیہ کہا جاتا ہے ، تناسخ اور حلول کا قائل تھا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ خدائے تعالیٰ نے منصور میں حلول کیا ہے، چنانچہ یہ لوگ خلیفہ منصور کو اللہ تعالیٰ سمجھ کر اس کی زیارت کرتے تھے اور منصور کے درشن کرنے کو عبادت جانتے تھے، ان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ آدم علیہ السلام کی روح نے عثمان بن نہیک میں اور جبرائیل نے ہیثم بن معاویہ میں حلول کیا ہے، یہ لوگ دارالخلافہ میں آکر اپنے اعمال و عقائد ناشدنی کا اعلان کرنے لگے، سو منصور نے ان میں سے دو سو آدمیوں کو پکڑ کر قید کر دیا، ان کی پانچ چھ سو تعداد اور موجود تھی، ان کو اپنے ہم عقیدہ لوگوں کی اس گرفتاری سے اشتعال پیدا ہوا اور قیدخانہ پر حملہ کر کے اپنے بھائیوں کو قید سے چھڑا لیا، اور پھر منصور کے محل کا محاصرہ کر لیا، تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ منصور کو اللہ کہتے تھے اور پھر اس اللہ کی مرضی کے خلاف آمادہ جنگ تھے۔ اس موقع پر یہ بات قابل تذکرہ ہے کہ یزید بن ہبیرہ کے ساتھیوں میں معن بن زائدہ بھی تھا، اور جب ابن ہبیرہ کی لڑائیاں عباسیوں سے ہوئی ہیں تو معن بن زائدہ ابن ہبیرہ کے نامور سرداروں میں سے ایک تھا، معن بن زائدہ ابن ہبیرہ کے بعد دارالخلافہ ہاشمیہ میں آکر روپوش تھا اور منصور اس کی تلاش و جستجو میں تھا کہ معن بن زائدہ کو گرفتار کراکر قتل کرے، ان بدمذہب راوندیوں نے جب منصور کے محل کا محاصرہ کیا تو منصور پیادہ پا اپنے محل سے نکل آیا اور بلوائیوں کو مارنے اور ہٹانے لگا، منصور کے ساتھ بہت تھوڑے آدمی تھے اور حقیقت یہ تھی کہ اس وقت دارالخلافہ میں کوئی جمعیت اور طاقت ایسی موجود نہ تھی کہ ان بلوائیوں کی طاقت کا مقابلہ کرسکتی، منصور کے لیے یہ وقت نہایت ہی نازک تھا اور قریب تھا کہ دارالخلافہ اور اس کے ساتھ ہی خلافت اور منصور اپنی جان سے جائیں اور راوندیوں کا قبضہ ہو جائے، اس خطرناک حالت سے فائدہ اٹھانے میں معن بن زائدہ نے کوتاہی نہیں کی، وہ فوراً منصور کے پاس پہنچ گیا اور جاتے ہی بلوائیوں کو مارنے اور ہٹانے میں مصروف ہو گیا، اتنے میں اور لوگ بھی آکر منصور کے گرد جمع ہونے لگے لیکن معن بن زائدہ کے حملے بہت ہی زبردست اور کارگر ثابت ہو رہے تھے اور منصور اپنی آنکھ سے اس اجنبی شخص کی حیرت انگیز بہادری کو دیکھ رہا تھا، آخر معن بن زائدہ نے اس لڑائی میں سپہ سالاری کے فرائض خود بخود ادا کرنے شروع کر دیے اور نتیجہ یہ ہوا کہ سخت و شدید زور آزمائی کے بعد ان بلوائیوں کو شکست ہوئی، شہر کے آدمی بھی سب اٹھ کھڑے ہوئے اور تمام بلوائیوں کو قتل کر کے رکھ دیا۔ اس ہنگامے کے بعد منصور نے دریافت کیا کہ یہ کون شخص ہے جس نے اپنی پامردی و بہادری کے ذریعہ اس فتنہ کو فرو کرنے میں سب سے زیادہ کام کیا ہے، تب اس کو معلوم ہوا کہ یہ معن بن زائدہ ہے، منصور نے اس کو امان دے دی اور اس کے سابق جرموں کو معاف کر کے اس کی عزت و مرتبہ کو بڑھا دیا۔ ابوداؤد خالد بن ابراہیم ذہلی بلخ کا عامل اور آج کل خراسان کا گورنر تھا، اسی عرصہ یعنی ۱۴۰ھ میں اس کے لشکر میں بغاوت پھوٹی اور اہل لشکر نے مکان کامحاصرہ کر لیا، ابو داؤد مکان کی چھت پران باغیوں کے دیکھنے کے لیے چڑھا، اتفاق سے پاؤں پھسل کر گر پڑا اور اسی دن مر گیا، اس کے بعد اس کے سپہ سالار حصام نے اس بغاوت کو فرو کیا اور خراسان کی حکومت اپنے ہاتھ میں لے کر منصور کو اطلاع دی، منصور نے عبدالجبار بن عبدالرحمن کو گورنر خراسان بنا کر بھیجا۔ عبدالجبار کی بغاوت اور قتل: عبدالجبار نے خراسان کی حکومت اپنے ہاتھ میں لیتے ہی ابوداؤد کے عاملوں کو معزول و بے عزت اور قتل کرنا شروع کیا اور بڑے بڑے سرداروں کو ذرا ذرا سے شبہ میں قتل کر کے تمام ملک میں ہلچل مچا دی، یہ خبر منصور کے پاس پہنچی کہ عبدالجبار عباسیوں کے خیر خواہوں کو قتل کیے ڈالتا ہے، منصور متامل تھا کہ عبدالجبار کو خراسان سے کس طرح بآسانی جدا کرے، کیونکہ اس کو اندیشہ تھا کہ کہیں وہ اعلانیہ باغی نہ ہو جائے ، آخر منصور نے عبدالجبار کو لکھا کہ لشکر خراسان کا ایک بڑا حصہ جہاد روم پر روانہ کر دو، مدعا یہ تھا کہ جب لشکر خراسان کا بڑا حصہ خراسان سے جدا ہو جائے گا تو پھر عبدالجبار کا معزول کرنا اور کسی دوسرے گورنر کا وہاں بھیج دینا آسان ہو گا۔ عبدالجبار نے جواباً لکھا کہ ترکوں نے فوج کشی شروع کر دی ہے اگر آپ لشکر خراسان کو دوسری طرف منتقل کر دیں گے تو مجھ کو خراسان کے نکل جانے کا اندیشہ ہے۔ یہ جواب دیکھ کر منصور نے عبدالجبار کو لکھا کہ خراسان کا ملک مجھ کو سب سے زیادہ عزیز ہے اور اس کو محفوظ رکھنا نہایت ضروری سمجھتا ہوں ، اگر ترکوں نے فوج کشی شروع کر دی ہے تو میں خراسان کی حفاظت کے لیے ایک لشکر عظیم روانہ کرتا ہوں ، تم کوئی فکر نہ کرو۔ اس تحریر کو پڑھ کر عبدالجبار نے فوراً منصور کو لکھا کہ خراسان کے ملک کی آمدنی اس قدر بارعظیم کی متحمل نہ ہو سکے گی، آپ کوئی بڑا لشکر نہ بھیجئے۔ یہ جواب دیکھ کر منصور کو یقین ہو گیا کہ عبدالجبار بغاوت پر آمادہ ہے، چنانچہ اس نے فوراً بلا توقف اپنے بیٹے مہدی کو ایک زبردست فوج دے کر روانہ کیا، مہدی نے رے میں پہنچ کر قیام کیا اور خازم بن خزیمہ کو عبدالجبار سے لڑنے کے لیے آگے بڑھنے کا حکم دیا، دونوں میں لڑائی اور سخت معرکہ آرائی ہوئی، آخر عبدالجبار شکست کھا کر بھاگا اور محشر بن مزاحم نے اس کو گرفتار کر کے خازم بن خزیمہ کی خدمت میں پیش کیا، خازم بن خزیمہ نے اس کو بالوں کا ایک جبہ پہنا کر دم کی طرف منہ کر کے اونٹ پر سوار کیا اور تشہیر کراکر مع اس کے گرفتار شدہ ہمراہیوں کے منصور کے پاس بھیج دیا، منصور نے ان لوگوں کو قید کر دیا اور ۱۴۲ھ میں عبدالجبار کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر قتل کرنے کا حکم دیا، عبدالجبار پر فتح پانے کے بعد مہدی نے خراسان کی حکومت اپنے ہاتھ میں لی اور ۱۴۹ھ تک وہ خراسان کا گورنر رہا۔ عیینہ بن موسیٰ بن کعب: موسیٰ بن کعب سندھ کا عامل تھا، اس کے بعد اس کا بیٹا عیینہ سندھ کا عامل مقرر کیا گیا تھا، اس نے سندھ میں منصور کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، منصور کو یہ حال معلوم ہوا تو وہ دارالخلافہ سے بصرہ میں آیا اور بصرہ سے عمر بن حفص بن ابی صفوہ عتکی کو سندھ و ہند کی سند گورنری عطا کر کے جنگ عیینہ پر مامور کیا، عمر بن حفص نے سندھ پہنچ کر عینیہ کے ساتھ جنگ شروع کی اور بالآخر سندھ پر قبضہ حاصل کر لیا، یہ واقعہ ۱۴۲ھ کا ہے۔ اسی عرصہ میں والی طبرستان نے بغاوت اختیار کی، طبرستان کی طرف خازم بن خزیمہ اور روح بن حاتم بھیجے گئے، جنہوں نے طبرستان پر قبضہ حاصل کیا اور عامل طبرستان جو ایک ایرانی النسل نومسلم تھا خودکشی کر کے مر گیا۔
علویوں کی قید و گرفتاری:
اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ مکہ میں بنو امیہ کی حکومت کے آخر ایام میں ایک مجلس منعقد ہوئی تھی، اس میں خلیفہ کے تعین اور انتخاب کا مسئلہ پیش ہوا تو منصور نے جو اس مجلس میں موجود تھا، محمد بن عبداللہ بن حسن مثنیٰ بن حسن بن علی کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا تھا، سب نے اس رائے سے اتفاق کر کے محمد بن عبداللہ کے ہاتھ بیعت کی تھی، اس بیعت میں منصور بھی شریک تھا، یعنی منصور محمد بن عبداللہ حسنی کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کر چکا تھا، سفاح نے اپنے عہد خلافت میں علویوں کو خاموش رکھا اور انعام و اکرام اور بذل مال سے ان کو خوش رکھ کر مخالفت اور خروج پر آمادہ نہ ہونے دیا۔ منصور جب خلیفہ ہوا تو اس نے سفاح کے زمانے کی سخاوت کو باقی نہ رکھا اور سب سے زیادہ محمد بن عبداللہ کی فکر میں رہنے لگا، محمد بن عبداللہ کے باپ عبداللہ بن حسن کا بھی ذکر اوپر آچکا ہے کہ وہ سفاح کے پاس آئے تھے اور سفاح نے ان کو بہت سا مال و زر دے کر خوش و خرم واپس کیا تھا، جب منصور خلیفہ ہوا تو عبداللہ بن حسن نے اپنے بیٹے محمد اور ابراہیم کو اس خیال سے روپوش کر دیا کہ کہیں منصور ان کو قتل نہ کرا دے، ان میں محمد بن عبداللہ کو جن کے ہاتھ پر منصور نے بیعت کی تھی محمد مہدی کے نام سے پکارا جاتا ہے، لہٰذا آئندہ ان کا نام محمد مہدی ہی لکھا جائے گا۔ ۱۳۶ھ میں جب منصور حج کرنے گیا تھا اور وہاں سفاح کے مرنے کی خبر سنی تھی تو سب سے پہلے اس نے محمد مہدی کو دریافت کیا، اس وقت وہ وہاں موجود نہ تھے، مگر لوگوں کو شبہ پیدا ہو گیا اس لیے وہ روپوش ہو گئے، ان کے ساتھ ان کے بھائی ابراہیم بھی روپوش رہے، منصور خلیفہ ہونے کے بعد برابر لوگوں سے محمد مہدی کا حال دریافت کرتا رہتا تھا اس تفحص و تجسس میں اس نے اس قدر مبالغہ کیا کہ ہر شخص کو یہ حال معلوم ہو گیا کہ منصور کو محمد مہدی کی بڑی تلاش ہے۔ عبداللہ بن حسن مثنیٰ کو جب منصور کی طرف سے مجبور کیا گیا کہ اپنے بیٹے کو حاضر کرو تو انہوں نے منصور کے چچا سلیمان بن علی سے مشورہ کیا، سلیمان نے کہا کہ اگر منصور درگزر کرنے کا عادی ہوتا تو اپنے چچا سے درگزر کرتا، یعنی عبداللہ بن علی پر سختی و تشدد روا نہ رکھتا، عبداللہ بن حسن یہ سن کر اپنے بیٹوں کے روپوش رکھنے میں اور بھی زیادہ مبالغہ کرنے لگے، آخر منصور نے حجاز کے چپے چپے میں اپنے جاسوس پھیلا دیے اور جعلی خطوط لکھ کر عبداللہ بن حسن کے پاس بھجوائے کہ کسی طرح مہدی کا پتہ چل جائے۔ محمد مہدی اور ان کے بھائی ابراہیم دونوں حجاز میں چھپتے پھرے، پھر منصور صرف انہیں کے تجسس و تلاش میں خود حج کے بہانے مکہ میں پہنچا، یہ دونوں بھائی حجاز سے بصرہ میں آکر بنوراہب اور بنومرہ میں مقیم ہوئے، منصور کو اس کا پتہ لگا تو وہ سیدھا بصرہ میں آیا لیکن اس کے آنے سے پیشتر محمد مہدی اور ابراہیم بصرہ چھوڑ چکے تھے، بصرہ سے یہ دونوں عدن چلے گئے، منصور بصرہ سے دارالخلافہ کو روانہ ہو گیا، جب عدن میں بھی ان دونوں بھائیوں کو اطمینان نہ ہوا تو سندھ چلے گئے، چند روز سندھ میں رہ کر کوفہ میں آکر روپوش رہے، پھر کوفہ سے مدینہ منورہ چلے آئے۔ ۱۴۰ھ میں منصور پھر حج کو آیا، یہ دونوں بھائی بھی حج کے لیے مکہ آئے، ابراہیم نے قصد کیا کہ منصور کی زندگی کا خاتمہ کر دیں مگر ان کے بھائی محمد مہدی نے منع کر دیا، منصور کو اس مرتبہ بھی ان کا کوئی پتہ نہ چلا، اس نے ان کے باپ عبداللہ بن حسن مثنیٰ کو بلا کو دونوں بیٹوں کے حاضر کرنے کے لیے مجبور کیا، جب انہوں نے لاعلمی بیان کی تو منصور نے ان کو قید کرنا چاہا مگر زیاد عامل مدینہ نے ان کی ضمانت دی، تب وہ چھوٹے، چونکہ زیاد عامل مدینہ نے عبداللہ بن حسن کی ضمانت دی تھی اس لیے منصور اس سے بھی بدگمان ہو گیا اور دارالخلافہ میں واپس آکر محمد بن خالد بن عبداللہ قسری کو مدینہ کا عامل بنا کر بھیجا اور زیاد کو مع اس کے دوستوں کے گرفتار کراکر بلوایا اور قید کر دیا۔ محمد بن خالد نے مدینہ کا عامل ہو کر محمد مہدی کی تلاش و جستجو میں بڑی کوشش کی اور بیت المال کا تمام روپیہ اسی کوشش میں صرف کر دیا، منصور نے محمد بن خالد کے اسراف اور ناکامی پر اس کو بھی معزول کیا اور رباح بن عثمان بن حیان مزنی کو مدینہ کا عامل بنایا، رباح نے مدینہ میں پہنچ کر عبداللہ بن حسن کو بہت تنگ کیا اور تمام مدینہ میں ہلچل مچادی اور مندرجہ ذیل علویوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا: ۱۔ عبداللہ بن حسن مثنیٰ بن حسن بن علی رضی اللہ عنہما (محمد مہدی کے باپ) ۲۔ ابراہیم بن حسن مثنیٰ بن حسن بن علی رضی اللہ عنہما (محمد مہدی کے چچا) ۳۔ جعفر بن حسن مثنیٰ بن حسن بن علی رضی اللہ عنہما (محمد مہدی کے چچا) ۴۔ سلیمان بن داؤد بن حسن مثنیٰ بن حسن بن علی رضی اللہ عنہما (محمد مہدی کے چچا) ۵۔ عبداللہ بن داؤد بن حسن بن حسن بن مثنیٰ بن علی رضی اللہ عنہما (محمد مہدی کے چچازاد بھائی) ۶۔ محمد بن ابراہیم بن حسن بن علی رضی اللہ عنہما (محمد مہدی کے چچازاد بھائی) ۷۔ اسماعیل بن ابراہیم بن حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہما (محمد مہدی کے چچازاد بھائی) ۸۔ اسحاق بن ابراہیم بن حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہما (محمد مہدی کے چچازاد بھائی) ۹۔ عباس بن حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہما (محمد مہدی کے چچا) ۱۰۔ موسیٰ بن عبداللہ بن حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہما (محمد مہدی کے حقیقی بھائی) ۱۱۔ علی بن حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہما (محمد مہدی کے چچا) ان لوگوں کو گرفتار کر کے منصور کو اطلاع دی گئی تو اس نے لکھا کہ ان لوگوں کے ساتھ محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما کو بھی گرفتار کر لو کیونکہ عبداللہ بن حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی ماں ایک ہی ہے، یعنی یہ دونوں فاطمہ بنت حسین رضی اللہ عنہما کے بیٹے ہیں ، چنانچہ رباح نے اس حکم کی بھی تعمیل کی اور محمد بن عبداللہ بن عمرو کو قید کر لیا۔ انہی ایام میں گورنر مصر نے علی بن محمد بن عبداللہ بن حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہما (محمد مہدی کے بیٹے) کو گرفتار کر کے منصور کے پاس بھیجا، منصور نے ان کو قید کر دیا یہ اپنے باپ کی طرف سے مصر میں دعوت و تبلیغ کے لیے بھیجے گئے تھے۔
تعمیر بغداد اور تدوین علوم:
سفاح نے انبار کو اپنا دارالسلطنت بنایا تھا اور چند روز کے بعد انبار کے متصل اس نے اپنا ایک محل اور اراکین سلطنت کے مکانات بنوائے، یہ ایک چھوٹی سی بستی الگ قائم ہو گئی تھی، اس کا نام ہاشمیہ رکھا گیا تھا، منصور ہاشمیہ ہی میں تھا کہ خراسانیوں کا ہنگامہ ہوا، ۱۴۰ھ یا ۱۴۱ھ میں منصور نے اپنا ایک جدا دارالخلافہ بنانا چاہا اور شہر بغداد کی بنیاد رکھی گئی، بغداد کی تعمیر کا کام قریباً نو دس تک جاری رہا، اور ۱۴۹ھ میں اس کی تعمیر مکمل ہو گئی، اس روز سے بنوعباس کا دارالخلافہ بغداد رہا۔ اسی عرصہ میں علمائے اسلام نے علوم دینی کی تاسیس و تدوین کا کام شروع کیا، ابن جریج رحمہ اللہ نے مکہ میں ، مالک رحمہ اللہ نے شام میں ، ابن ابی عرویہ رحمہ اللہ اور حماد بن سلمہ رحمہ اللہ نے بصرہ میں ، معمر رحمہ اللہ نے یمن میں ، سفیان ثوری رحمہ اللہ نے کوفہ میں احادیث کی کتابیں لکھنے کا کام کیا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ نے مغازی پر، ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فقہ پر کتابیں لکھیں ، اس سے پہلے احادیث و مغازی کا انحصار زبانی روایات پر تھا، تصانیف و تالیف کا یہ سلسلہ شروع ہو کر دم بدم ترقی کرتا رہا اور اس کے بعد بغداد و قرطبہ کے درباروں نے مصنّفین کی خوب ہمت افزائیاں کیں ۔ احادیث کی کتابیں لکھنے اور قوت حافظہ کا بوجھ کتابت و قرطاس پر ڈالنے کا یہی زمانہ سب سے
زیادہ موزوں اور ضروری بھی تھا جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ۔ قتل سادات: رباح نے جن بزرگوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا تھا ۱۴۴ھ کے آخر ایام تک مدینہ میں قید رہے، منصور برابر محمد مہدی اور ان کے بھائی ابراہیم کے تجسس و تلاش میں مصروف رہا، اس عرصہ میں یہ دونوں بھائی حجاز کے قبائل اور غیر معروف مقامات میں روپوش رہے اور جلدجلد اپنی جائے قیام کو تبدیل کرتے رہے، غرض سیّدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں کوئی شخص ایسا نہ تھا جو قید نہ ہو گیا ہو یا اپنی جان بچانے کے لیے چھپا چھپا نہ پھرتا ہو۔ ۱۴۴ھ کے ماہ ذی الحجہ میں منصور حج کرنے گیا اور محمد بن عمران بن ابراہیم بن طلحہ اور مالک بن انس کو یہ پیغام دے کر اولاد حسن رضی اللہ عنہ کے پاس قید خانہ میں بھیجا کہ محمد و ابراہیم دونوں بھائیوں کو ہمارے سپرد کر دو، ان دونوں کے باپ عبداللہ بن حسن، مثنیٰ بن حسن نے ان دونوں کے حال سے اپنی لاعلمی بیان کر کے خود منصور کے پاس حاضر ہونے کی اجازت چاہی، منصورنے کہا کہ جب تک اپنے دونوں بیٹوں کو حاضر نہ کرے میں عبداللہ بن حسن سے ملنا نہیں چاہتا، جب منصور حج سے واپس ہو کر عراق کی جانب آنے لگا تو رباح کو حکم دیا کہ ان قیدیوں کو ہمارے پاس عراق بھیج دو، رباح نے ان سب قیدیوں کو قیدخانہ سے نکال کر طوق، ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا کو بغیر کجاوہ کے اونٹوں پر سوار کرایا اور محافظ دستہ کے ساتھ عراق کی جانب روانہ کر دیا۔ راستے میں محمد و ابراہیم دونوں بھائی بدوں کے لباس میں اپنے باپ عبداللہ سے آکر ملے اور خروج کی اجازت چاہی مگر عبداللہ بن حسن نے ان کو صبر کرنے اور عجلت سے کام نہ لینے کی ہدایت و نصیحت کی۔ یہ قیدی جب منصور کے پاس پہنچے تو منصور نے محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنے سامنے بلا کر گالیاں دیں اور ڈیڑھ سو کوڑے لگوائے، محمد بن عبداللہ بن عمرو کا منصور اس لیے دشمن تھا کہ اہل شام ان کے ہوا خواہ تھے اور ملک شام میں ان کا بہت اثر تھا۔
ان قیدیوں کے عراق میں منتقل ہو جانے کے بعد محمد مہدی نے اپنے بھائی ابراہیم کو عراق و خراسان کی طرف روانہ کر دیا کہ تم وہاں جا کر لوگوں کو دعوت دو اور عباسیوں کی مخالفت پر آمادہ کرو، منصور کو اس بات کا یقین تھا کہ محمد مہدی حجاز میں موجود ہیں ، اس نے ان کو دھوکا دینے اور ان کا پتہ لگانے کی غرض سے جو تدابیر اختیار کیں ان میں ایک یہ تھی کہ وہ مسلسل مختلف شہروں کے لوگوں کی طرف سے محمد مہدی کے نام خطوط لکھوا لکھوا کر ایسے لوگوں کے پاس بھجواتا رہتا تھا جن کی نسبت اس کو شبہ تھا کہ یہ محمد مہدی کے ہمدرد اوران کے حال سے باخبر ہیں ، ان خطوط میں لوگوں کی طرف سے اظہار عقیدت اور منصور کی برائیاں درج ہوتی تھیں اور خروج کے لیے ترغیب دی جاتی تھی، مدعا منصور کا یہ تھا کہ اس طرح ممکن ہے کہ محمد مہدی تک بھی کوئی جاسوس پہنچ جائے اور وہ گرفتار ہو سکیں ،یہ مدعا تو حاصل نہ ہوا، لیکن یہ ضرور ہوا کہ محمد مہدی کو ایسے خطوط کی اطلاع اپنے دوستوں کے ذریعہ پہنچتی رہی اور ان کو اپنے ہوا خواہوں اور فدائیوں کا اندازہ کرنے میں کسی قدر غلط فہمی ہو گئی، یعنی انہوں نے اپنی جماعت کا اندازہ حقیقت سے زیادہ کر لیا۔
ادھر ان کے بھائی ابراہیم نے بصرہ، کرمان، اصفہان، خراسان، موصل اور شام وغیرہ کا سفر کرکے جابجا اپنے داعی اور ہمدرد پیدا کر لیے اور منصور کے دارالخلافہ میں آکر ایک مرتبہ منصور کے دستر خوان پر کھانا کھا گئے اور منصور کو علم نہ ہوا، دوسری مرتبہ جب کہ منصور بغداد کی تعمیر کے معائنہ کو آیا تھا وہ منصور کے آدمیوں میں ملے جلے اس کے ساتھ موجود تھے، منصور کو جاسوسوں نے اطلاع دی کہ ابراہیم یہاں موجود ہیں مگر اس مرتبہ بھی منصور ان کو گرفتار نہ کرا سکا۔
اسی طرح محمد مہدی بھی حجاز میں رباح کی سخت ترین کوشش و تلاش کے باوجود اس کے ہاتھ نہ آئے، آخر ۱۴۵ھ میں ابوعون عامل خراسان نے منصور کے پاس ایک تحریر بھیجی کہ خراسان میں مخفی سازش بڑی تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے، اور تمام اہل خراسان محمد مہدی کے خروج کا انتظار کر رہے ہیں ، منصور نے اس تحریر کو پڑھتے ہی محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان کو قید خانے سے بلا کر جلاد کے سپرد کیا اور ان کا سر اتروا کر خرسان بھیج دیا، اس سر کے ساتھ چند آدمی ایسے بھیجے گئے، جنہوں نے جا کر قسم کھا کر شہادت دی کہ یہ سر محمد بن عبداللہ کا ہے اور ان کی دادی کا نام فاطمہ بنت رسول اللہ تھا۔ اس طرح اہل خراسان کو دھوکہ دیا گیا کہ محمد مہدی قتل ہو گئے اور یہ انہی کا سر ہے۔
پھر منصور نے محمد بن ابراہیم بن حسن رضی اللہ عنہ کو زندہ ایک ستون میں چنوا دیا، اس کے بعد عبداللہ بن حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور علی بن حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو قتل کیا گیا، پھر ابراہیم بن حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور عباس بن حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہما وغیرہ کو سخت اذیتوں کے ساتھ قتل کیا گیا۔ منصور کی یہ سنگدلی اور قساوت قلبی نہایت حیرت انگیز ہے۔ بنوامیہ علویوں کے مخالف اور دشمن تھے اور عباسی تو اب تک علویوں کے ساتھ شیروشکر چلے آتے تھے۔ بنوامیہ کی علویوں سے کوئی قریبی رشتہ داری نہ تھی لیکن عباسیوں اور علویوں کا تو بہت ہی قریبی رشتہ تھا، علویوں نے بنو امیہ کی سخت مخالفت کی تھی اور بارہا بنوامیہ کے خلاف تیروتلوار کا استعمال کر چکے تھے لیکن بنوعباس کے خلاف ابھی تک انہوں نے کوئی جنگی مظاہرہ بھی نہیں کیا تھا، ان تمام باتوں کو ذہن میں رکھو اور سوچو کہ بنو امیہ نے کسی علوی کو اس طرح محض شبہ میں گرفتار کر کے قتل نہیں کیا بلکہ ان کے ہاتھ سے وہی علوی قتل ہوئے جو میدان جنگ میں لڑتے ہوئے مارے گئے، مگر منصور نے بالکل بے گناہ اولاد حسن رضی اللہ عنہ کے کتنے افراد کس قساوت قلبی اور بے دردی کے ساتھ قتل کیے ہیں ، منصور کا یہ قتل سادات جرم و گناہ کے اعتبار سے یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے قتل حسین سے بہت بڑھ چڑھ کر نظر آتا ہے، شاید اسی کا نام دنیا ہے جس کی ہوس میں انسان اندھا ہو کر ہر ایک ناشدنی کام کر گزرتا ہے۔
محمد مہدی نفس ذکیہ کا خروج:
جب منصور نے عبداللہ بن حسن اور دوسرے افراد آل حسن رضی اللہ عنہ کو قتل کرادیا تو محمد مہدی نے اس خبر کو سن کر زیادہ انتظار کرنا مناسب نہ سمجھا، ان کو یہ بھی یقین تھا کہ لوگ ہمارا ساتھ دینے اور منصور کی خلع خلافت کرنے کے لیے ہر جگہ تیار ہیں ، چنانچہ انہوں نے اپنے مدینہ کے دوستوں سے خروج کا مشورہ کیا، اتفاقاً عامل مدینہ رباح کو جاسوسوں کے ذریعہ اس کی اطلاع ہو گئی کہ آج محمد مہدی خروج کرنے والے ہیں ، اس نے جعفر بن محمد بن حسین رضی اللہ عنہما اور حسین بن علی بن حسین اور چند قریشیوں کو بلا کر کہا کہ اگر محمد مہدی نے خروج کیا تو میں تم کو قتل کر دوں گا، ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ تکبیر کی آواز آئی اور معلوم ہوا کہ محمد مہدی رحمہ اللہ نے خروج کیا ہے، ابتدائً ان کے ساتھ صرف ڈیڑھ سو آدمی تھے، انہوں نے سب سے پہلے قید خانہ کی طرف جا کر محمد بن خالد بن عبداللہ قسری اور اس کے بھتیجے نذیر بن یزید بن خالد اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ تھے آزاد کیا، پھر دارالامارہ کی طرف آکر رباح اور اس کے بھائی عباس اور ابن مسلم بن عقبہ کو گرفتار کر کے قید کر دیا، اس کے بعد مسجد کی طرف آئے اور خطبہ دیا، جس میں منصور کی بری عادات اور افعال مجرمانہ کا ذکر کر کے لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف کے برتاؤ کا وعدہ کیا اور ان سے امداد کے خواہاں ہوئے۔
اس کے بعد مدینہ کے عہدہ قضا پر عثمان بن محمد بن خالد بن زہیر کو اسلحہ خانہ پر، عبدالعزیز بن مطلب بن عبداللہ مخزومی کو محکمہ پولیس پر عثمان بن عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب کو مقرر کیا اور محمد بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس ملامتانہ پیغام بھیجا کہ تم کیوں گھر میں چھپ کر بیٹھ رہے، محمد بن عبدالعزیز نے امداد کا وعدہ کیا، اسماعیل بن عبداللہ بن جعفر نے محمد مہدی کی بیعت نہیں کی، اسی طرح اور بھی چند شخصوں نے بیعت سے اعتراض کیا۔
محمد مہدی کے خروج اور رباح کے مقید ہونے کے نو دن بعد منصور کے پاس خبر پہنچی، وہ یہ سن کر سخت پریشان ہوا، فوراً کوفہ میں آیا اور کوفہ سے ایک خط بطور امان نامہ محمد مہدی کے نام لکھ کر روانہ کیا، اس خط میں منصور نے لکھا تھا کہ: ﴿اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْہِمْ وَ اَرْجُلُہُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ . اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِ رُوْا عَلَیْہِمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾ (المائدۃ :۵/۳۳،۳۴) ’’ میرے اور تمہارے درمیان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد و میثاق اور ذمہ ہے کہ میں تم کو تمہارے اہل خاندان کو اور تمہارے متبعین کو جان اور مال و اسباب کی امان دیتا ہوں ، نیز اب تک تم نے جو خون ریزی کی ہو، یا کسی کا مال لے لیا ہو اس سے بھی درگزر کرتا ہوں اور تم کو ایک لاکھ درہم اور دیتا ہوں ، اس کے علاوہ جو کوئی تمہاری اور حاجت ہو گی وہ بھی پوری کر دی جائے گی، جس شہر کو تم پسند کرو گے اسی میں مقیم کیے جاؤ گے، جو لوگ تمہارے شریک ہیں ان کو امن دینے کے بعد ان سے کبھی مواخذہ نہ کروں گا، اگر تم ان باتوں کے متعلق اپنا اطمینان کرنا چاہو تو اپنے معتمد کو میرے پاس بھیج کر مجھ سے عہدنامہ لکھوالو اور ہر طرح مطمئن ہو جاؤ۔‘‘ یہ خط جب محمد مہدی کے پاس پہنچا تو اس نے جواب میں لکھا: ﴿طٰسٓمّٓ . تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ . نَتْلُوْا عَلَیْکَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰی وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ . اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَہْلَہَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَۃً مِّنْہُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآئَ ہُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآئَ ہُمْ اِنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ . وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَہُمْ اَئِمَّۃً وَّ نَجْعَلَہُمُ الْوٰرِثِیْنَ . وَ نُمَکِّنَ لَہُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ ہَامٰنَ وَ جُنُوْدَہُمَا مِنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَحْذَرُوْنَ﴾ (القصص : ۲۸/۱ تا ۶) ’’ہم تمہارے لیے ویسا ہی امان پیش کرتے ہیں جیسا کہ تم نے ہمارے لیے پیش کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت ہمارا حق ہے۔ تم ہمارے ہی سبب سے اس کے مدعی ہوئے اور ہمارے ہی گروہ والے بن کر حکومت حاصل کرنے کو نکلے اور اسی لیے کامیاب ہوئے۔ ہمارا باپ علی امام تھا۔ تم اس کی ولایت کے وارث کس طرح ہو گئے؟ حالانکہ ان کی اولاد موجود ہے۔ تم یہ بھی جانتے ہو کہ ہم جیسے شریف و صحیح النسب لوگوں نے حکومت کی خواہش نہیں کی۔ ہم ملعونوں اور مردودوں کے بیٹے نہیں ہیں ۔ بنو ہاشم میں کوئی شخص بھی قرابت و سابقیت و فضیلت میں ہمارا ہمسر نہیں ۔ زمانۂ جاہلیت میں ہم فاطمہ بن عمرو کی اولاد سے ہیں اور اسلام میں فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہم کو تم سے برتر و بہتر بنایا ہے۔ نبیوں میں ہمارے باپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو سب سے افضل ہیں اور سلف میں علی رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور ازواج مطہرات میں سب سے پہلے خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے قبلہ کی طرف نماز پڑھی۔ لڑکیوں میں فاطمہ سیدۃ النساء رضی اللہ عنہا دختر رسول اللہ ہیں جن کو جنت کی عورتوں پر فضیلت حاصل ہے۔ مولو دین اسلام میں حسن و حسین رضی اللہ عنہما ہیں جو اہل جنت کے سردار ہیں ۔ ہاشم سے علی رضی اللہ عنہ کا دوہرا سلسلہ قرابت ہے اور حسن رضی اللہ عنہ کا عبدالمطلب سے دوہرا سلسلہ قرابت ہے۔ میں بہ اعتبار نسب کے بہترین بنی ہاشم ہوں ۔ میرا باپ بنی ہاشم کے مشاہیر میں سے ہے۔ مجھ میں کسی عجمی کی آمیزش نہیں اور نہ مجھ میں کسی لونڈی باندی کا اثر ہے۔ میں اپنے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ اگر تم میری اطاعت اختیار کر لو گے تو میں تم کو تمہاری جان و مال کی امان دیتا ہوں اور ہر ایک بات سے جس کے تم مرتکب ہو چکے ہو، درگزر کرتا ہوں مگر کسی حد کا حدود اللہ سے یا کسی مسلمان کے حق یا معاہدہ کا میں ذمہ دار نہ ہوں گا، کیونکہ اس معاملہ میں جیسا کہ تم جانتے ہو میں مجبور ہوں ۔ یقینا میں تم سے زیادہ مستحق خلافت اور عہد کا پورا کرنے والا ہوں ۔ تم نے مجھ سے پہلے بھی چند لوگوں کو مانا اور قول دیا تھا۔ پس تم مجھے کون سی امان دیتے ہو؟ آیا امان ابن ہبیرہ کی یا امان اپنے چچا عبداللہ بن علی کی یا امان ابو مسلم کی؟‘‘ منصور کے پاس جب یہ خط پہنچا تو اس نے بہت پیچ و تاب کھایا اور ذیل کا خط لکھ کر محمد مہدی کے پاس روانہ کیا :’’میں نے تمہارا خط پڑھا۔ تمہارے فخر کا دارومدار عورتوں کی قرابت پر ہے جس سے جاہل بازاری لوگ دھوکا کھا سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو چچاؤں ، باپوں اور ولیوں کی طرح نہیں بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے چچا کو باپ کا قائم مقام بنایا ہے اور اپنی کتاب میں اس کو قریب ترین ماں پر مقدم کیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ عورتوں کی قرابت کا پاس و لحاظ کرتا تو آمنہ (مادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) جنت میں داخل ہونے والوں کی سردار ہوتیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی کے موافق جس کو چاہا برگزیدہ کیا اور تم نے جو فاطمہ ام ابی طالب کا ذکر کیا ہے تو اس کی حالت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے کسی لڑکے اور کسی لڑکی کو اسلام نصیب نہیں کیا۔ اگر اللہ تعالیٰ مردوں میں سے کسی کو بہ وجہ قرابت برگزیدہ کرتا تو عبداللہ بن عبدالمطلب کو اور بے شک وہ ہر طرح بہتر تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے لیے جس کو چاہا، با اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ وَ ہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ﴾ (القصص : ۲۸/۵۶) اور جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چار چچا موجود تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: ﴿وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾ (الشعراء ۲۶ : ۲۱۴) نازل فرمائی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرایا اور دین حق کی طرف بلایا۔ ان چاروں میں سے دو نے اس دین حق کو قبول کر لیا، جن میں سے ایک میرا باپ تھا اور دو نے دین حق کے قبول کرنے سے انکار کیا۔ ان میں سے ایک تمہارا باپ (ابوطالب) تھا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کا سلسلہ ولایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقطع کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں اور ان دونوں میں کوئی عزیزداری اور میراث قائم نہ کی۔ حسن رضی اللہ عنہ کی بابت جو تم نے یہ لکھا ہے کہ عبدالمطلب سے ان کا دوہرا سلسلہ قرابت ہے اور پھر تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوہرا رشتہ قرابت ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر الاولین و الآخرین ہیں ۔ ان کو ہاشم و عبدالمطلب سے ایک پدری تعلق تھا۔ تمہارا یہ خیال ہے کہ تم بہترین بنو ہاشم ہو اور تمہارے ماں باپ ان میں زیادہ مشہور تھے اور تم میں عجمیوں کا میل اور کسی لونڈی کا لگاؤ نہیں ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم نے کل بنو ہاشم سے اپنے آپ کو زیادہ اچھا بنایا ہے۔ ذرا غور تو کرو، تم پر تف ہے۔ کل اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دو گے۔ تم نے حد سے زیادہ تجاوز کیا اور اپنے آپ کو اس سے بہتر بتایا جو تم سے ذات و صفات میں بہتر ہے، یعنی ابراہیم بن رسول اللہ بالخصوص تمہارے باپ کی اولاد میں کوئی بہتر و افضل اور اہل فضل سوائے کنیز زادوں کے نہیں ۔ وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تم میں علی بن حسین یعنی امام زین العابدین سے افضل کوئی شخص پیدا نہیں ہوا اور وہ کنیز کے لڑکے تھے اور بلاشبہ تمہارے دادا حسن بن حسن سے بہتر ہیں ۔ ان کے بعد تم میں کوئی شخص محمد بن علی کی مانند پیدا نہیں ہوا۔ ان کی دادی کنیز تھیں اور وہ تمہارے باپ سے بہتر ہیں ۔ ان کے لڑکے جعفر تم سے بہتر ہیں اور ان کی دادی کنیز تھیں ۔ تمہارا یہ کہنا غلط ہے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: ﴿مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ﴾ (الاحزاب ۳۳:۴۰) ہاں تم ان کی لڑکی کے لڑکے ہو اور بے شک یہ قرابت قریبہ ہے مگر اس کو میراث نہیں پہنچ سکتی اور نہ یہ ولایت کی وارث ہو سکتی ہے اور نہ اس کو امامت جائز ہے۔ پس اس قرابت کے ذریعہ سے تم کس طرح وارث ہو سکتے ہو؟ تمہارے باپ نے ہر طرح اس کی خواہش کی تھی۔ فاطمہ( رضی اللہ عنہا ) کو دن میں نکالا، ان کی بیماری کو چھپایا اور رات کے وقت ان کو دفن کیا، مگر لوگوں نے سوائے شیخین (یعنی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ) کے کسی کو منظور نہیں کیا۔ تمام مسلمان اس پر متفق ہیں کہ نانا، ماموں اور خالہ مورت نہیں ہوتے، پھر تم نے علی رضی اللہ عنہ اور ان کے سابق بالاسلام ہونے کی وجہ سے فخر کیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کے وقت دوسرے (یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں لوگ ایک کے بعد دوسرے کو امام بناتے گئے اور ان کو منتخب نہ کیا۔حالانکہ یہ بھی ان چھ اشخاص میں سے تھے، لیکن سبھوں نے ان کو اس امر کے قابل نہ سمجھ کر چھوڑ دیا اور اس معاملہ میں ان کو حق دار نہ سمجھا۔ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے تو ان پر عثمان رضی اللہ عنہ کو مقدم کر دیا اور وہ اس معاملہ میں متہمم بھی ہیں ۔ طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما ان سے لڑے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ان کی بیعت سے انکار کیا، بعد ازاں معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔ اس کے بعد تمہارے باپ نے پھر خلافت کی تمنا کی اور لڑے۔ ان سے ان کے ساتھی جدا ہو گئے اور حکم مقرر کرنے سے پہلے ان کے ہوا خواہ ان کے مستحق ہونے کی بابت مشکوک ہو گئے، پھر انہوں نے رضا مندی سے دو اشخاص کو حاکم مقرر کیا۔ ان دونوں نے ان کی معزولی پر اتفاق کر لیا، پھر حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے۔ انہوں نے خلافت کو معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کپڑوں اور درہموں کے عوض فروخت کر ڈالا اور اپنے ہواخواہوں کو معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا اور حکومت نا اہل کو سونپ دی۔ پس اگر اس میں تمہارا کوئی حق بھی تھا تو تم اس کو فروخت کر چکے اور قیمت وصول کر لی، پھر تمہارے چچا حسین رضی اللہ عنہ نے ابن مرجانہ (ابن زیاد) پر خروج کیا۔ لوگوں نے تمہارے چچا کے خلاف اس کا ساتھ دیا، یہاں تک کہ لوگوں نے تمہارے چچا کو قتل کیا اور ان کا سر کاٹ کر اس کے پاس لے آئے، پھر تم لوگوں نے بنو امیہ پر خروج کیا۔ انہوں نے تم کو قتل کیا۔ خرما کی ڈالیوں پر سولی دی، آگ میں چلایا، شہر بدر کر دیا۔ یحییٰ بن زید کو خراسان میں قتل کیا، تمہارے مردوں کو قتل کیا، لڑکوں اور عورتوں کو قید کر لیا اور بغیر پردہ کے اونٹوں پر سوار کرا کے تجارتی لونڈیوں کی طرح شام بھیج دیا۔ یہاں تک کہ ہم نے ان پر خروج کیا اور ہم نے تمہارا معاوضہ طلب کیا۔ چنانچہ تمہارے خونوں کا بدلہ ہم نے لے لیا اور ہم نے تم کو ان کی زمین و جائیداد کا مالک بنایا۔ ہم نے تمہارے بزرگوں کو فضیلت دی اور معزز بنایا۔ کیا تم اس کے ذریعہ سے ہم کو ملزم بنانا چاہتے ہو؟ شاید تم کو یہ دھوکا لگا ہے کہ تمہارے باپ کا حمزہ و عباس اور جعفر رضی اللہ عنہم پر مقدم ہونے کی وجہ سے ہم ذکر کیا کرتے تھے۔ حالانکہ جو کچھ تم نے سمجھا ہے، وہ بات نہیں ہے۔ یہ لوگ تو دنیا سے ایسے صاف گئے کہ سب لوگ ان کے مطیع تھے اور ان کے افضل ہونے کے قائل تھے مگر تمہارا باپ جدال و قتال میں مبتلا کیا گیا۔ بنو امیہ ان پر اسی طرح لعنت کرتے تھے جیسے کفار پر نماز فرائض میں کی جاتی ہے۔ پس ہم نے جھگڑا کیا، ان کے فضائل بیان کیے، بنو امیہ پر سختی کی اور ان کو سزا دی۔ تم کو معلوم ہے کہ ہم لوگوں کی بزرگی جاہلیت میں حجاج کے پانی پلانے کی وجہ سے تھی اور یہ بات تمام بھائیوں میں صرف عباس رضی اللہ عنہ ہی کو حاصل تھی۔ تمہارے باپ نے اس کے متعلق ہم سے جھگڑا کیا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہمارے حق میں فیصلہ کیا۔ پس اس کے مالک جاہلیت اور اسلام میں ہم ہی رہے۔ جن دنوں مدینہ میں قحط پڑا تھا تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے رب سے پانی مانگنے میں ہمارے ہی باپ کے ذریعہ سے توسل کیا تھااور اللہ تعالیٰ نے پانی برسایا تھا۔[1] حالانکہ تمہارے باپ اس وقت موجود تھے، ان کا توسل نہیں کیا۔ تم جانتے ہو کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو بنی عبدالمطلب میں سے کوئی شخص سوائے عباس رضی اللہ عنہ کے باقی نہ تھا۔ پس وراثت چچا کی طرف منتقل ہو گئی، پھر بنی ہاشم میں سے کئی شخصو ں نے خلافت کی خواہش کی مگر سوائے عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد کے کوئی کامیاب نہ ہوا۔ سقایت تو ان کی تھی ہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث بھی ان کی طرف منتقل ہو گئی اور خلافت ان کی اولاد میں آگئی۔ غرض دنیا و آخرت اور جاہلیت و اسلام کا کوئی شرف باقی نہ رہا، جس کے وارث و مورث عباس رضی اللہ عنہ نہ ہوئے ہوں ۔ جب اسلام پھیلا تو عباس رضی اللہ عنہ کو بہ اکراہ نہ نکالا جاتا تو ابو طالب و عقیل بھوکے مر جاتے اور عتبہ و شیبہ کے برتن چاٹتے رہتے، لیکن عباس رضی اللہ عنہ ان کو کھانا کھلا رہے تھے۔ انہوں نے ہی تمہاری آبرو رکھی، غلامی سے بچایا۔ کھانے، کپڑے کی کفالت کرتے رہے، پھر جنگ بدر میں عقیل کو فدیہ دے کر چھڑایا۔ پس تم ہمارے سامنے کیا تفاخر جتاتے ہو۔ ہم نے تمہارے عیال کی کفر میں بھی خبر گیری کی، تمہارا فدیہ دیا، تمہارے بزرگوں کی ناموس کو بچایا اور ہم خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث ہوئے۔ تمہارا بدلہ بھی ہم نے لیا اور جس چیز سے تم عاجز ہو گئے تھے اور حاصل نہ کر سکتے تھے، اس کو ہم نے حاصل کر لیا … والسلام‘‘ تفاخر نسبی کے معاملہ میں بے شک محمد مہدی کی طرف سے ابتدا ہوئی تھی اور منصور نے جو کچھ لکھا تھا جواباً لکھا تھا، مگر منصور اس کے جواب میں حد سے بڑھ گیا تھا۔ محمد مہدی نے عباس رضی اللہ عنہ کی نسبت کچھ نہیں لکھا تھا۔ منصور نے بلا وجہ علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخانہ الفاظ لکھے۔ منصور نے یہ بھی سخت بہتان باندھا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو خلافت حاصل کرنے کے لیے دن کے وقت باہر نکالا۔ حسن رضی اللہ عنہ کی شان میں بھی منصور نے بڑی بدتمیزی اور گستاخی کی تھی۔ انہوں نے خلافت کو فروخت نہیں کیا بلکہ انہوں نے مسلمانوں کے دو گروہوں میں جو آپس میں لڑتے تھے، اتفاق اور صلح کو قائم کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیش گوئی کو پورا کیا تھا۔ عباس رضی اللہ عنہ نے ضرور ابی طالب کی امداد کی تھی اور عقیل کو اپنے پاس رکھ کر پرورش کرتے تھے لیکن ایسی باتوں کا زبان پر لانا اور طعنہ دینا شرفاء کا کام نہیں بلکہ اس قسم کے احسانات کو زبان پر لانا کمینہ پن کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ منصور نے ان باتوں کو زبان پر لا کر اپنی روش کا اظہار کر دیا تھا۔ محمد مہدی نے مدینہ کے انتظام سے فارغ ہو کر محمد بن حسن بن معاویہ بن عبداللہ بن جعفر کو مکہ کی طرف روانہ کیا۔ قاسم بن اسحاق کو یمن کی امارت پر اور موسیٰ بن عبداللہ کو شام کی امارت پر مامور کر کے رخصت کیا۔ چنانچہ محمد بن حسن اور قاسم بن اسحاق دونوں مدینہ سے ساتھ ہی روانہ ہوئے۔ عامل مکہ نے مقابلہ کر کے شکست کھائی اور محمد بن حسن نے مکہ پر قبضہ کر لیا۔ منصور نے مندرجہ بالا خط روانہ کرنے کے بعد عیسیٰ بن موسیٰ کو محمد مہدی سے جنگ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ عیسیٰ کے ساتھ محمد بن سفاح، کثیر بن حصین عبدی اور حمید بن قحطبہ کو بھی روانہ کیا۔ روانگی کے وقت عیسیٰ بن موسیٰ اور دوسرے سرداروں کو یہ تاکید کر دی کہ اگر تم کو محمد مہدی پر کامیابی حاصل ہو جائے تو اس کو امان دے دینا اور قتل نہ کرنا اور اگر وہ رو پوش ہو جائے تو اہل مدینہ کو گرفتار کر لینا۔ وہ اس کے حالات سے خوب واقف ہیں ۔ آل ابی طالب میں سے جو شخص تمہاری ملاقات کو آئے اس کا نام لکھ کر میرے پاس بھیج دینا اور جو شخص نہ ملے اس کا مال و اسباب ضبط کر لینا۔ عیسیٰ بن موسیٰ جب مقام فید میں پہنچا تو اس نے خطوط بھیج کر مدینہ کے چند اشخاص کو اپنے پاس طلب کیا۔ چنانچہ عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب، اس کے بھائی عمر بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب اور ابو عقیل محمد بن عبداللہ بن عقیل مدینہ سے نکل کر عیسیٰ کی طرف روانہ ہو گئے۔ محمد مہدی کو عیسیٰ کے آنے کی خبر پہنچی تو اس نے اپنے مصاحبوں سے مشورہ لیا کہ ہم کو مدینہ سے نکل کر مقابلہ کرنا چاہیے یا مدینہ میں رہ کر مدافعت کرنی چاہیے؟ مشیروں میں اختلاف رائے ہوا تو محمد مہدی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا و پیروی کے خیال سے اسی خندق کو کھودنے کا حکم دیا جس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ احزاب میں کھدوایا تھا۔ اسی اثناء میں عیسیٰ بن موسیٰ نے مقام اعوض میں پہنچ کر پڑاؤ کیا۔ محمد مہدی نے مدینہ والوں کو باہر نکل کر مقابلہ کرنے سے منع کر دیا تھا اور کوئی شخص مدینہ سے باہر نہیں نکل سکتا تھا لیکن جب عیسیٰ بن موسیٰ قریب پہنچا تو مدینہ سے نکلنے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ محمد مہدی کی غلطی تھی کہ پہلے حکم امتناعی کو منسوخ کر دیا۔ اہل مدینہ کا ایک جم غفیر مع اہل و عیال نکل کے بہ غرض حفاظت پہاڑوں کی طرف چلا گیا اور مدینہ میں بہت ہی تھوڑے آدمی محمد مہدی کے پاس رہ گئے۔ اس وقت اس کو اپنی غلطی محسوس ہوئی اور ان لوگوں کے واپس لانے کے لیے آدمی بھیجے مگر وہ واپس نہ آئے۔ عیسیٰ نے اعوض سے کوچ کر کے مدینہ منورہ سے چار میل دور پر قیام کیا اور ایک فوج کے دستہ کو مکہ کے راستے پر متعین کر دیا کہ بعد ہزیمت محمد مہدی مکہ کی طرف نہ جا سکیں ۔ اس کے بعد محمد مہدی کے پاس پیغام بھیجا کہ خلیفہ منصور تم کو امان دیتے اور کتاب و سنت کے فیصلہ کی طرف بلاتے ہیں اور بغاوت کے انجام سے ڈراتے ہیں ۔ محمد مہدی نے جواب میں کہلا بھیجا کہ میں ایک ایسا شخص ہوں جو قتل کے خوف سے کبھی نہیں بھاگا۔ ۱۲ رمضان المبارک سنہ ۱۴۵ھ کو عیسیٰ بن موسیٰ آگے بڑھ کر مقام جرف میں آکر خیمہ زن ہوا۔ ۱۴ رمضان المبارک کو اس نے ایک بلند مقام پر کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہا کہ ’’اے اہل مدینہ! میں تم کو امان دیتا ہوں اگر تم میرے اور محمد مہدی کے درمیان حائل نہ ہو اور غیر جانبدار ہو جاؤ۔‘‘ اہل مدینہ اس آواز کو سن کر گالیاں دینے لگے۔ عیسیٰ واپس چلا گیا۔ دوسرے دن پھر اسی مقام پر لڑائی کے ارادے سے گیا اور اپنے سرداروں کو مدینہ کے چاروں طرف پھیلا دیا۔ محمد مہدی بھی مقابلہ کے لیے میدان میں نکلا۔ ان کا عَلم عثمان بن محمد بن خالد بن زبیر ( رضی اللہ عنہ ) کے ہاتھ میں تھا جبکہ ان کا شعار ’’احد احد‘‘ تھا۔ محمد مہدی کی طرف سے ابو غلمش سب سے پہلے میدان میں نکلا اور للکار کر اپنا ہم نبرد طلب کیا۔ عیسیٰ کی طرف سے یکے بعد دیگرے کئی نامور بہادر اس کے مقابلہ کو نکلے اور سب مارے گئے۔ اس کے بعد جنگ مغلوبہ شروع ہوئی۔ طرفین سے بہادری کے نہایت اعلیٰ اور انتہائی نمونے دکھائے گئے۔ ان لڑنے والی دونوں فوجوں کے سپہ سالاروں نے بھی شمشیر زنی اور صف شکنی میں حیرت انگیز جواں مردی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد عیسیٰ کے حکم سے حمید بن قحطبہ نے پیادوں کو لے کر خندق کے قریب کی دیوار کا رخ کیا۔ محمد مہدی کے ہمراہیوں نے تیر بازی سے اس کو روکنا چاہا مگر حمید نے اس تیر بازی میں اپنے آپ کو مستقل رکھ کر پیش قدمی کو جاری رکھا اور بڑی مشکل سے دیوار تک پہنچ کر اس کو منہدم کر دیا اور خندق کو بھی طے کر کے محمد مہدی کی فوج سے دست بہ دست لڑائی شروع کر دی۔ عیسیٰ کو موقع مل گیا، اس نے فوراً خندق کو کئی مقامات سے پاٹ کر راستے بنا دیے اور سوار ان لشکر خندق کو عبور کر کے محمد مہدی کی فوج پر حملہ آور ہوئے اور بڑے گھمسان کی لڑائی ہونے لگی۔ محمد مہدی کی فوج بہت ہی تھوڑی تھی اور حملہ آور لشکر تعداد میں کئی گنا زیادہ اور آسمان حرب و اسلحہ جنگ سے خوب آراستہ تھا مگر صبح سے لے کر نماز عصر تک برابر تلوار چلتی رہی۔ محمد مہدی نے اپنے ہمراہیوں کو عام اجازت دی کہ جس کا جی چاہے، وہ اپنی جان بچا کر چلا جائے۔ محمد مہدی کے ہمراہیوں نے بار بار اور بہ اصرار کہا کہ اس وقت آپ اپنی جان بچا کر بصرہ یا مکہ کی طرف چلے جائیں اور پھر سامان و جمعیت فراہم کر کے میدانی جنگ کریں مگر محمد مہدی نے ہر ایک کو یہی جواب دیا کہ تم اگر اپنی جان بچانا چاہو تو چلے جاؤ لیکن میں دشمن کے مقابلے سے فرار نہیں ہو سکتا۔ آخر محمد مہدی کے ہمراہ کل تین سو آدمی رہ گئے۔ اس وقت اس کے ہمراہیوں میں سے عیسیٰ بن خضیر نے جا کر وہ رجسٹر جس میں بیعت کرنے والوں کے نام درج ہوتے تھے، جلا دیا اور قید خانہ میں آکر رباح بن عثمان اور اس کے بھائیوں کو قتل کیا۔ محمد بن قسریٰ نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کر لیا تھا، وہ بچ گیا۔ یہ کام کر کے عیسیٰ بن خضیر محمد مہدی کے پاس آکر پھر لڑنے لگا۔ اب محمد مہدی کے ہمراہیوں نے اپنی سواریوں کے پاؤں کاٹ ڈالے اور تلواروں کی نیامیں توڑ کر پھینک دیں اور مرنے مارنے پر قسمیں کھا کر دشمنوں پر حملہ آور ہوئے۔ یہ حملہ ایسا سخت اور ہیبت ناک تھا کہ عیسیٰ کی فوج شکست کھا کر میدان سے بھاگی مگر اس کی فوج کے چند آدمی پہاڑ پر چڑھ گئے اور پہاڑ کے دوسری طرف اتر کر مدینہ میں آ گئے اور ایک عباسی عورت کی سیاہ اوڑھنی لے کر اس کو مسجد کے منارہ پر پھریرہ کی طرح اڑایا۔ یہ حالت دیکھ کر محمد مہدی کے ہمراہیوں کے اوسان خطا ہو گئے اور یہ سمجھ کر کہ عیسیٰ کی فوج نے مدینہ پر قبضہ کر لیا ہے، پیچھے کو لوٹے۔ عیسیٰ کے مفرور سپاہیوں کو موقع مل گیا۔ وہ سمٹ کر پھر مقابلہ پر آئے اور اس کے لشکر کی ایک جماعت بنو غفار کے محلہ کی طرف سے مدینہ میں داخل ہو کر مدینہ کی طرف سے محمد مہدی کے مقابلہ کو نکل آئی۔ یہ تمام صورتیں بالکل خلاف امید واقع ہوئیں ۔ محمد مہدی کو یہ بھی امید نہ تھی کہ بنو غفار دشمنوں کو راستہ دے دیں گے۔ یہ دیکھ کر محمد مہدی نے آگے بڑھ کر حمید بن قحطبہ کو مقابلہ کے لیے للکارا لیکن حمید مقابلہ پر نہ آیا۔ محمد مہدی کے ہمراہیوں نے پھر ان دشمنوں پر حملہ کیا۔ عیسیٰ بن خضیر بڑی بہادری اور جانبازی سے لڑ رہا تھا۔ عیسیٰ بن موسیٰ نے آگے بڑھ کر اس کو پکارا اور کہا کہ میں تم کو امان دیتا ہوں ، تم لڑنا چھوڑ دو لیکن عیسیٰ بن خضیر نے اس کی بات پر مطلق توجہ نہ کی اور برابر مصروف قتال رہا۔ آخر لڑتے لڑتے زخموں سے چور ہو کر گر پڑا۔ محمد مہدی اس کی لاش پر لڑنے لگا۔ عیسیٰ بن موسیٰ کے لشکری ہر چہار طرف سے حملہ آور تھے اور وہ بڑی بہادری سے حملہ آوروں کو جواب دیتا اور پسپا کر دیتا تھا۔ محمد مہدی نے اس وقت وہ بہادری دکھائی اور اپنی شجاعت و سپہ گری کی وہ دھاک بٹھائی کہ عیسیٰ بن موسیٰ کے لشکر میں کسی کو اس کے مقابلہ کی تاب نہ تھی۔ آخر ایک شخص نے پیچھے سے لپک کر اس کی کمر میں ایک نیزہ مارا، اس زخم کے صدمے سے وہ جوں ہی ذرا جھکا تو حمید بن قحطبہ نے آگے سے لپک کر اس کے سینہ میں نیزہ مارا۔ آگے اور پیچھے سے دو نیزے جب جسم کے پار ہو گئے تو وہ زمین پر گر پڑا۔ قحطبہ نے فوراً گھوڑے سے اتر کر اس کا سر اتار لیا اور عیسیٰ بن موسیٰ کے پاس لے کر آیا۔ اس شیر نر کے قتل ہوتے ہی مدینہ عیسیٰ بن موسیٰ کے قبضہ و تصرف میں تھا۔ عیسیٰ بن موسیٰ نے محمد مہدی کا سر اور فتح کا بشارت نامہ محمد بن ابی الکرام بن عبداللہ بن