ورتنوالا:احتشام جمیل شامی
[[احتشام جمیل شامی ایک عہد ساز شخصیت]
احتشام جمیل شامی 9 جولائی 1979 کو پنجاب کے شہر اوکاڑا میں پیدا ہوئے۔۔۔۔۔
تعلیم کے اولیں ایام سے لکھنا شروع کیا،پہلی تحریر ریت کا دھاگہ کے نام سے اخبار جہاں کراچی نے شائع کی۔۔۔۔۔روزنامہ جنگ،خبریں،نوائے وقت،پاکستان،وفاق،جیسے بڑے اخبارات میں بچوں کے صفحات لکھتے رہے۔۔۔۔۔۔۔یہ شوق بڑھ کر پھو ل اور تعلیم و تربیت جیسے ماہنامہ تک لے گیا۔۔۔۔۔۔ میٹرک میں پھول کہانی گھر کے انچارج مقرر ہوئے۔۔۔۔۔کالج لیول میں
آ نے کے بعد مضامین اور کالم لکھنا شروع کیے۔۔۔۔۔پاکستان کے ہر بڑے اخبار اور میگزین میں لکھا۔۔۔۔۔ لا تعداد شیلڈز اور میڈل وصول کیے۔۔۔۔۔۔2004 میں پاکستان کے وزیر دفاع رائو سکندر اقبال نے آپ کو بیسٹ رائٹرز آف دی ائیر کے ایوارڈ سے نوازا۔۔۔۔2005 میں ایک قومی فلم کے مکالمے لکھنے پہ آپ کو سلور جوبلی ایوارڈ سے نوازاگیا۔۔۔۔آپ اب تک مسلسل 3 بار قائد اعظم ایوارڈ۔۔۔۔2 با بیسٹ شاعر کے ایوارڈز۔۔۔۔۔۔۔متعدد بار رائٹرز ایوارڈ۔۔۔۔۔اور خصوصی انعامات حاصل کر چکے ہیں۔۔۔۔2005 میں آپ نے نیوز سٹی گروپ آف نیوز پیپرز کی بنیاد رکھی۔اس پلیٹ فارم سے اپنی زیر ادارت 2 اخبارات ہفت روزہ گردو نواح اور ماہنامہ شامل حال کا اجرا کیا۔۔۔۔۔۔۔پھر انٹرنیشنل ماہنامہ تارکین وطن۔لندن کے پاکستان میں پہلے بیورو چیف منتخب ہوئے،آپ سماجی اور معاشرتی اشوز کے علاوہ کرنٹ افیئرز اور شو بز پر بھی قلم آزمائی کرتے رہے۔۔۔۔۔آپ کا کالم سپیڈ بریکر اور شو بز رئیل لائف آپ کی وجہ شہرت بنا۔۔۔۔۔۔آپ انٹرنیشنل ادبی تنظیم روش کے اوکاڑا کے صدر ہیں۔۔۔۔ آپ نے ادب کے علاوہ امن کے لیے بھی بے شمار خدمات انجام دیں،انہی خدمات کے اعتراف میں آپ کو وزارت داخلہ حکومت پاکستان کی طرف سے ڈسٹرکٹ چیئرمین قومی امن کمیٹی برائے بین ا لمذاہب و ہم آہنگی نامزد کر دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔آپ نے آل پاکستان انجمن تاجران پاکستان خالد پرویز اور معروف شاعر و ادیب سعد اللہ شاہ کی زیر ادارت شائع ہونے والے بین الاقوامی معیار کے اردو میگزین پائلٹ آئینہ میں بھی بطور ڈپٹی ایڈیٹر خدمات سر انجام دیں۔۔آپ کا شعری مجموعہ جو دل کے پاس ہوتا ہے زیر طبع ہے۔۔۔۔۔۔۔۔آج کل آپ روزنامہ سٹی پریس لاہور میں بطور ریذیڈنٹ ایڈیٹر فرائض انجام دے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔آپ مجید نظامی،طارق عزیز،مجیب الرحمن شامی،ڈاکٹر اجمل نیازی،عمران خان،اعتزاز احسن منو بھائی،سعداللہ شاہ،اسلم کولسری ،حسن عباسی،ڈاکٹر صغرٰی صدف،میاں منظور شاہد،اصغر مغل جیسے سینئر شعرا اور اساتذہ سے داد تحسین حاصل کر چکے ہیں۔۔۔۔۔ آپ کا ایک مشہور شعر آپ دوستوں کی نذر:
میں ہوں مجرم، مرا جرم یہ کہ میں رعایا ہوں میں نے ہر دور کے سلطاں کی غلامی کی ہے