گریشام دا قانون

وکیپیڈیا توں
Jump to navigation Jump to search

ایسے تجربات کیے جو بعد میں دوسروں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئے۔ریاضیات میں اس وقت تک جتنی بھی کتابیں لکھی گئی تھیں ان کو پھر سے مرتب کیا اور ان کی تعداد صرف سولہ بتائی۔اس خزانہ میں طوسی نے مزید چار اور کتابوں کا اضافہ کیا۔ اقلیدس کی ایک شاخTrigonometryکی بنیاد ڈالی اور اس شعبہ میں تجدید کی کئی راہیں تلاش کیں۔

طوسی کو ان کی فلکیاتی تحقیقا ت کی بنا پر شہرت حاصل ہوئی۔ بارہ سال کی مسلسل کوشش کے بعد انہوں نے نظامِ ِ شمسی کا ایک نقشہ مرتب کیا۔ فلکیات پر کئی کتابوں میں ’’کتاب ا لتذکرۃ الناصریہ‘‘ جس کا دوسرا نام ’’تذکرہ فی علم نسخ‘‘بہت مشہور ہے۔ علمِ نجوم پر متاخرین کے لیے یہ اساس بن گئی۔ کئی محققوں نے اس پر شرح لکھی ہے۔اس کتاب کے چار اہم حصے ہیں پہلا کائنات کے نظام میں حرکت کی اہمیت دوسرا فلکیاتی تغیرات، چاند کی گردش اور اس کا حساب ،تیسرا کرۂ ارض پر فلکیاتی اثر، مدوجزر، کوہ، صحرا،سمندر، اور ہوائیں اور چوتھا نظامِ شمسی میں ستاروں کے فاصلے۔ظاہر ہے کہ یہ کتاب بہت مقبول و دلچسپ ثابت ہوئی۔

اس کتاب میں طوسی نے بطلیموس کے بعض خیالات کی تردید کی ہے اور اس کی کوتاہیوں کی نشاندہی کی ہے۔ اس کتاب کی بنیاد پر یورپ کے مشہور منجم کوپر نیکس نے اپنے نظریات قائم کیے جو صحیح ثابت ہوئے۔یعنی کوپرنکس کی تحقیقات کی بنیاد طوسی کے وضع کردہ اصول تھے۔طوسی نے فلکیات پر دیگر کتابیں بھی لکھی ہیں مثلاً ضبط الٰہیہ،کتاب التحصیل فی نجوم، زیج ایلخانی،اظہر الماجستی وغیرہ۔اس کے علاوہ مریخ پر، سورج کے طلو ع وغروب پر، زمین کی گردش پر، سورج اور چند کے فاصلہ پر،سیاروں کی نوعیت پر، رات اور دن کے ظہور پر اوراس کرۂ ارض کے جائے وقوع پر تفصیلی کتابیں لکھی ہیں جس کی وجہ سے ان کو علم فلکیات کا ماہر سمجھا جاتاہے۔مراغہ کی آبز رویٹری طوسی کی تحقیقا ت کے لیے بہت مفید ثابت ہوئی۔


محمد بن محمد بن حسن طوسی (۵۹۷-۶۷۲ ھ)، خواجہ نصیر الدین طوسی کے نام سے مشہور، ساتویں صدی کے حکیم اور متکلم تھے۔ ان کے مذہب کے متعلق مختلف اقوال پائے جاتے ہیں اگرچہ زیادہ قرائن ان کے اثنا عشری شیعہ ہونے کی تائید کرتے ہیں۔ خواجہ نصیر نے اخلاق، منطق، فلسفہ، کلام، ریاضیات اور نجوم جیسے مختلف علوم میں تالیفات، کتابیں اور رسالے لکھے تھے۔ اخلاق ناصری، اوصاف‌ الاشراف ، اساس الاقتباس، شرح الاشارات، تجرید الاعتقاد، جامع الحساب اور مشہور کتاب زیج ایلخانی اور علم نجوم میں تذکرة فی علم الهیئة ان کے مہم ترین آثار شمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے ایران کے ایک شہر مراغہ کا رصد خانہ قائم کیا اور ۴۰۰،۰۰۰ سے زیادہ کتابوں کے ساتھ مراغہ میں ایک کتب خانے کا سنگ بنیاد رکھا۔

پیدائش اور بچپن[لکھو]

خواجہ نصیرالدین در ۱۱ جمادی‌الاول سال ۵۹۷ھ کو طوس میں پیدا ہوا اور وہی پرورش پائی۔ اسی منابت سے طوسی کے نام سے معروف ہوئے۔ان کا اصل گاؤں جہ رود تھا جسے آج کل جہرود کہتے ہیں[1] اور قم کے نواحی علاقے وشاره کے توابع میں سے ہے۔[2]

خواجہ نصیر نے بچپنے میں قرآن، صرف، نحو اور آداب کے علوم حاصل کئے فقہ و حدیث میں اسکا پہلا استاد اس کا جد محمد بن حسن اور اسکا ماموں نورالدین علی بن محمد شیعی منطق و حکمت کا استاد تھا [3] پھر باپ کے کہنے پر کمال الدین محمد کے پاس ریاضی پڑھی اسی دوران اپنے باپ کے پاس علوم حدیث، روایت و فقہ کو پڑھا۔جوانی کے ابتدائی دور میں ہی خواجہ نے ریاضی کے مختلف ذیلی علوم حساب، ہندسہ اور الجبرا میں حد کمال تک حاصل کر لیے ۔

اپنے باپ کے مرنے کے بعد اسکی وصیت کے مطابق جہاں کوئی استاد ملتا وہی مہاجرت کرتا اور اس سے علوم حاصل کرتا۔ اسی وجہ سے اس زمانے میں نیشاپور علما اور داشوروں کا شہر ہونے کی بدولت وہاں چلا گیا ۔ سراج‌الدین قمری، قطب‌الدین سرخسی، فرید الدین داماد، ابوالسعادات اصفہانی اور دیگراساتذہ کے درس میں شرکت کی ۔اسی شہر میں فریدالدین عطار سے ملاقات ہوئی ۔[4]

مغل حملے اور اسماعیلی قلعے[لکھو]

خواجہ نصیر جس زمانے میں نیشاپور میں موجود تھا اسی زمانے میں مغلوں نے چنگیز کی قیادت میں اپنے حملے کا آغاز کیا اور شدید جنگ و جدال اور کشت و کشتار کیا۔ سلطان محمد خوارزم شاه ان کے مقابلے میں شکست کھا گیا اور مقاومت کوئی سود بخش ثابت نہ ہوئی شہروں کے شہر یکے بعد دیگرے مغلوں کے قبضہ میں آنے لگے ۔لوگوں نے شہروں سے دور مقامات یا مضبوط قلعوں کا رخ کیا ۔[5] مغلوں کے مقابلے میں صرف اسماعیلی قلعوں کی طاقت نے ان کے سامنے مقاومت کی جبکہ خراسان اور نیشاپور مکمل طور پر انکے قبضے میں آ چکے تھے۔ یہ قلعے بہت بولانی مدت تک مغلوں کے سامنے تسلیم نہیں ہوئے ۔[6]

اس زمانے کے اسماعیلی رہبر علاءالدین محمد کی جانب سے محتشم ناصرالدین عبدالرحیم بن ابی منصور کے پاس خراسان کے قلعوں کی ذمہ داری تھی اور وہ خود قہستان تھی ۔ ناصرالدین خود اہل فضل میں سے تھا اور علما پر خصوصی نظر رکھتا تھا ۔اسے خواجہ نصیر کی علمی حیثیت کو جانتا تھا اور اسے اسکی شہرت کی خبر ملی تو اس نے اسے قہستان آنے کی دعوت دی۔ خواجہ مغلوں کے حملوں سے آوارہ ہو چکا تھا اس نے اس موقعہ کو غنیمت جانا اور قہستان کا سفر کیا۔

تصغیر|ایران کے محکمہ ڈاک کا جاری کردہ ڈاک ٹکٹ اس زمانے میں ناصرالدین کی درخواست پر ابوعلی مسکویہ رازی کی ایک کتاب کا فارسی میں ترجمہ کیا اور اس میں کچھ مطالب کا اضافہ کیا ۔اس کتاب کا نام ناصر الدین کی مناسبت سے اخلاق ناصری رکھا۔کچھ مدت بعد ہیئت میں معین الدین بن ناصرالدین کے نام کی مناسبت سے الرسالۃ المعینیہ کے نام سے ایک کتاب لکھی ۔

اسماعیلیوں کے رہبر علاؤالدین محمد کو ناصر الدین کے پاس خواجہ نصیر کی موجودگی اور اس سے علمی فوائد حاصل کرنے کی خبر پہنچی تو اس خواجہ کو اپنے پاس طلب کیا ۔ خواجہ اس دعوت کو قبول کرنے پر مجبور تھا پس وہ ناصرالدین کے ہمراہ میمون دز کے قلعے میں اسکے پاس چلا گیا ۔وہاں اسکا شایان شان استقبال ہوا ۔ علاؤ الدین کے اپنے محافظوں کے ہاتھوں قتل ہونے کے بعد رکن الدین خورشاه کے رہبر بننے اور اسکے مغلوں کے سامنے تسلیم ہونے تک قلعہ الموت میں اسکے پاس رہا۔[7]

بعض محققین کا عقیدہ ہے کہ خواجہ نصیر کا اسماعیلیوں کے قلعوں میں انکے پاس رہنا اپنی رضا و رغبت سے نہیں تھا بلکہ وہ اسے اپنے پاس رہنے پر مجبوری کرتے رہے ۔ ہرچند آق سرائی جیسے محقق مسامرة الاخبارمیں معتقد ہیں کہ خواجہ طوسی اسماعیلیوں کے پاس کسی شرط و قید کے بغیر وزارت مطلق رکھتا تھا اور انکے نزدیک اس قدر حیثیت رکھتا تھا کہ انہوں نے اسے استاد کائنات کا لقب دیا تھا ۔لہذا اس بنا وہ اسکے اجبار اور زندانی ہونے کی داستان کی مکمل طور پر نفی کرتے ہیں ۔جو اسکے اسماعیلیوں کے پاس رہنے اور انکے قلعوں میں زندانی کے قائل ہیں وہ اس ادعا کیلئے خواجہ کی کتاب شرح اشارات کے آخری شکایاتی جملوں کو پیش کرتے ہیں کہ جن میں خواجہ نے زندگی کے حالات اور وضعیت پر گریہ کیا ہے ۔[8]

دوسرا مغل حملہ[لکھو]

مغلوں نے ہلاکو خان کی قیادت میں حملہ کیا جو چنگیز خان کے حملے سے زیادہ شدید تر تھا ۔اسماعیلی ان حملوں کی تاب نہ لا سکے ۔ رکن الدین خورشاه نے دفاع کو بے فائدہ دیکھا تو تسلیم ہوا لیکن ہلاکو نے خواجہ نصیرالدین طوسی اور دو ڈاکٹروں کے علاوہ سب کو قتل کر دیا ۔ خواجہ نصیر کو زندہ رکھنے کا سبب ہلاکو کا اسکی علمی و فکری حیثیت سے آگاہ ہونے کی وجہ سے تھا ۔[9]

خواجہ طوسی کسی قدرت کے انتخاب کے بغیر ہلاکو کے ساتھ ہو گیا ۔اس بنا پر اول روز سے ہی اس نے ارادہ کر لیا تھا کہ اس موقعہ سے فائدہ اٹھائے تا کہ میراث اسلامی جو اسوقت نابودی کے دہانے پر تھیں انہیں بچا سکے ۔اس نے ایسی تدابیر کہ جنکے ذریعے اسلامی لشکروں کے نابود ہونے کا راستہ روکا جا سکے اور آخر کار چنگیز کے جانشین ہلاکو مسلمان ہو گیا اور ایک مسلمان سلطنت میں تبدیل ہو گئی۔

ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ دانشوروں کی زندگی اور کتابوں کی محافظت خواجہ نصیر کے نزدیک اہمیت کے پہلے درجہ میں تھی ۔لوگوں اور حکومت کی طرف سے مقاومت ممکن نہیں تھی ،خواجہ نصیر نے خواجہ نصیر نے مراغہ میں رصد خانہ کو بہت سے دانشمندوں کے اکٹھے ہونے کیلئے مقام قرار دیا ۔ اس طرح بہت سے دانشمندوں کی زندگی کو رہائی بخشی نیز کتابوں کی جمع آوری اور حفاظت کی کوشش میں مصروف رہا.[10]

اقدامات خواجہ‌نصیر[لکھو]

رصدخانۂ مراغہ[لکھو]

خواجہ نصیر نے ہلاکو کو ایک رصد خانہ بنانے تجویز دی ۔اس کام کیلئے بہت سے دانشمندوں نے اس کے ساتھ کام کرنے کی یقین دہانی کروائی ۔ سال ۶۵۷ھ میں اس رصد خانہ کی تعمیرات کا کام ایران کے شہر مراغہ میں شروع ہوا ۔[11] وہ عمر کے آخری دنوں تک اس میں مشغول رہا ۔اس رصد خانے میں سورج ،چاند اور ستاروں کی حرکات کا محاسبہ کرنے والا چارٹ بنایا گیا جسے زیج ایلخانی کہا گیا ۔اسی نام کی کتاب میں یہ جدول و چارٹ جدید ریاضی کے مطابق چھاپ ہوئے جو اس سے پہلے تاریخ میں نہیں دیکھے گئے تھے ۔[12]

مراغہ کی لائبریری[لکھو]

خواجہ کے ديگر بڑے کارناموں میں سے ایک مراغہ میں بہت بڑی لائبریری کا قیام ہے ۔جس میں ہلاكو کے فرمان پر بہت مفید نفیس کتابوں کا ذخیرہ بغداد ، دمشق ، موصل اور خراسان‌ کے حملوں میں ضائع ہونے والی ضروری کتابوں کی جمع آوری کی گئی۔

خواجہ‌ خود مختلف شہروں میں ملازمین کو بھیجتا کہ جہاں کوئی علمی کتاب دیکھیں اسے خرید لیں اور میرے لئے بھیج دیں ۔خود بھی جہاں سفر پر جاتا اگر کوئی نفیس و مفید کتاب دیکھتا اس کی خریداری کر لیتا ۔بعض محققین کے مطابق تقریبا چار لاکھ (۴۰۰۰۰۰) کتابیں اس کتابخانے میں اکٹھی کیں۔[13]

ہلاکو کے جانشینوں کا اسلام[لکھو]

[[ملف:نقشه حرم كاظمین.jpg|تصغیر|کاظمین میں خواجہ نصیرالدین کا مقبرہ]] ہلاکو کے بعد اسکا بیٹا اباقاخان پھر اسکے بعد دوسرا بیٹا تکودار تخت نشین ہوا ۔ اس زمانے میں اگرچہ خواجہ نصیر زندہ نہ تھا لیکن اسکی کوششیں بار آور ثابت ہوئیں تکودار نے اسلام کا اعلان کیا اور اپنا نام احمد تکودار نام رکھا ۔بادشاہ کے اسلام لانے سے حکومت بھی اسلامی حکومت میں تبدیل ہو گئ۔[14]

وفات[لکھو]

سال ۶۷۲ ہجری قمری میں نصیرالدین طوسی اباقاخان کے ساتھ بغداد گیا۔ اباقاخان سردی کے موسم واپس بغداد آ گیا۔لیکن خواجہ نصیر بغداد کے دانشمندوں اور اوقاف کے امور کو ترتیب دینے کیلئے وہیں رہ گیا ۔اسی سال ۱۸ ذی الحجہ کو اسکی وہیں فوات ہوئی۔ اسے اپنی ہی بنائی عمارت میں اسکی وصیت کے مطابق حرم کاظمین(ع) کے جوار میں دفن کیا گیا ۔سائیٹ غلطی:بند کردا </ref&gt ؛ <ref&gt دا کعاٹا ٹیک

شاگردان[لکھو]

خواجہ کے شاگردوں کے درج ذیل اسما ذکر کئے جا سکتے ہیں:

  1. علامہ حلی (متوفی ۷۲۶ھ) کہ جنہوں نے اسکی کتابوں پر شروحات لکھیں۔
  2. ابن میثم بحرانی صاحب مصباح السالکین (شرح نہج البلاغہ) وہ ایک حکیم، ریاضیدان، متکلم اور فقیہ تھے۔وہ حکمت میں اسکے شاگرد اور فقہ میں اسکے استاد تھے ۔
  3. قطب‌الدین شیرازی (متوفی ۷۱۰ھ) کہ جو 14 سال کی عمر میں اپنے باپ کی وفات کے بعد ہسپتال میں طبابت کرتا۔ اس نے علم ہیئت اور ابو علی کی اشارات خواجہ سے پڑھی.
  4. کمال الدین عبدالرزاق شیبانی بغدادی (۷۲۳ھ) حنبلی مذہب اور ابن الفوطی کے نام سے معروف تھا۔وہ ساتویں صدی کے عروف تاریخ دانوں میں سے تھا ۔ معجم الآداب، الحوادث الجامعہ و تلخیص معجم الالقاب اسکے آثار میں ہیں۔
  5. سید رکن الدین استرآبادی (متوفی ۷۱۵ھ) کہ جس نے اپنے استاد کی کتابوں پر شرح لکھیں ۔

مذہب‌[لکھو]

خواجہ نصیر کے مذہب کے متعلق مختلف اقوال موجود ہیں ۔ زیادہ شواہد اور قرائن اسکے شیعہ اثنا عشری ہونے کے موجود ہیں ۔اس نے اپنی اکثر کتابوں میں جیسے تجرید الاعتقاد میں 12 آئمہ کی امامت اور عصمت کے وجوب کی طرف اشارہ کیا ہے ۔نیز مخصوص رسالے اسی نام سے بھی تالیف کئے ہیں جیسے رسالہ الفرقۃ الناجيۃ ، رسالۃ في‌ حصر الحق‌ بمقالۃ الاماميۃ نيز الاثنی عشريہ و رسالۃ فی الامامۃ کے نام بھی لیے جا سکتے ہیں ۔[15]

آثار[لکھو]

خواجہ نصیر نے ۱۸۰ کتابیں اور علمی رسالے مختلف موضوعات اور عناوین میں لکھے ۔ اساس الاقتباس،تجرید الاعتقاد، شرح اشارات،اخلاق ناصری، اخلاق محتشمی و آغاز و انجام ان میں سے اہم ترین کتابیں ہیں ۔

حوالے[لکھو]

  1. جو قم شہر کے مضافات میں ۳۷ دیہاتوں پر مشتمل مزرعہ کا نام ہے۔ بیب بن جودرز [ گودرز ] نے اسے بنایا تھا اور اس کا نام ویرود رکھا تھا۔ یہ نام کچھ مدت کے بعد کہ رود کہا جانے لگا پھر اس کے بعد معرب ہوا اور وہ جہرود کہلانے لگا (تاریخ قم ص۵۸، ۶۹)؛ لغت نامہ دہخدا
  2. شیخ عبداللہ نعمت، فلاسفۃ الشیعہ حیاتہم و آراؤہم، ص۵۳۵
  3. الامین، الاسماعیلیون و المغول و نصیرالدین الطوسی، ص ۱۶-۲۰
  4. امین سید محسن، اعیان الشیعہ، ج۹، ص۴۱۵
  5. امین سید محسن، اعیان الشیعہ، ج۹، ص۴۱۵
  6. امین سید محسن، اعیان الشیعہ، ج۹، ص۴۱۵
  7. امین سید محسن، اعیان الشیعہ، ج۹، ص۴۱۵
  8. امین سید محسن، اعیان الشیعہ، ج۹، ص۴۱۵-۴۱۶
  9. امین سید محسن، اعیان الشیعہ، ص۴۱۶
  10. امین سید محسن، اعیان الشیعہ، ص۴۱۶-۴۱۷
  11. ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ج۱۷، ص۳۸۷
  12. امین، سید محسن، اعیان الشیعہ، ص۴۱۷
  13. كتبی، ابن‌ شاكر، فوات‌ الوفيات،ج۳، ص۲۴۶-۲۵۲؛ مجلۃ العرفان، سال‌۴۷، ش۴، ص‌۳۳۰؛ زيدان، جرجی، تاريخ‌ التمدن‌ الاسلامي، ج۳، ص۲۱۴.
  14. امین سید محسن، اعیان الشیعہ، ص۴۱۷-۴۱۸
  15. نعمت، شيخ‌ عبداللہ، فلاسفۃ الشيعہ، ص۴۷۴-۵۰۱، چاپ‌ بيروت

مآخذ[لکھو]

  • ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، نحقیق: دکتر عبدالله بن عبدالمحسن الترکی، مصر: ہجر للطباعہ والنشر والتوزیع والاعلان، ۱۹۹۷ء
  • امین سید محسن، اعیان الشیعہ، تحقیق: حسن الامین، بیروت: دارالتعارف، ۱۹۸۶ء
  • الامین، حسن، الاسماعیلیون و المغول و نصیرالدین الطوسی، قم: مؤسسہ دائرۃ معارف الفقہ الاسلامی، ۱۴۲۶ق/۲۰۰۵ء
  • نعمة،عبدالله، فلاسفۃ الشیعہ حیاتہم و آراؤہم، بیروت، دارالفکراللبنانی، ۱۹۸۷ء