بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑاؤ سکیم

آزاد انسائیکلوپیڈیا، وکیپیڈیا توں
Jump to navigation Jump to search
بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑاؤ سکیم
बेटी बचाओ، बेटी पढ़ाओ
دیسبھارت
وزیر اعظم بھارتنرندر مودی
جاریکرنجنوری 22, 2015؛ 6 سال پہلے (2015-01-22)
موجودہ حالتچالو
ویبسائیٹbetibachaobetipadhao.co.in

بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑاؤ سکیم (ہندی: बेटी बचाओ، बेटी पढ़ाओ، انگریزی: Save girl child, educate girl child) بھارت سرکار سرکار دی اک سکیم اے اسدا مکھ کم عورتاں لئی بنائیاں گئیاں سرکاری سکیماں متعلق لوکاں نوں آگاہ کرنا اتے اوہناں وچ سدھار لیکے آؤنا اے۔ ایہہ سکیماں 100 کروڑ دی رقم نال شروع کیتی گئی۔


بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ حکومت بھارت کا ایک منصوبہ ہے جس کا مقصد بچیوں اور خواتین کے حوالہ سے بیداری اور رفاہی خدمات کی فراہمی میں ترقی لانا ہے۔ 100 کروڑ کے سرمایہ سے اس منصوبہ کا آغاز کیا گیا تھا۔[۱]

مردم شماری کے مطابق، 2001 میں بھارت میں جنسی تناسب ایک ہزار لڑکوں پر 927 لڑکیاں تھا جو 2011 آتے آتے گھٹ کر 918 [۲] تک آگیا۔ 2012 کی یونیسف رپورٹ کی مطابق بھارت 195 ممالک میں اکتالیسویں نمبر ہے۔[۳] نیز حکومت کی جانب سے یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ اس منصوبہ پر وزارت داخلہ مزید 150 کروڑ صرف کرے، تاکہ بڑے شہروں میں خواتین کے تحفظ میں اضافہ کیا جاسکے۔

لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب کے دوران لڑکیوں کے اسقاط حمل کے استئصال کی دعوت دی اور منصوبہ "بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ" پر بھارتی شہریوں سے تجاویز دینے کی اپیل کی۔[۴]

نریندر مودی نے ہریانہ کے شہر پانی پت سے 22 جنوری 2015 کو اس منصوبہ کا آغاز کیا۔[۵][۶]

ہور ویکھو[لکھو]

حوالے[لکھو]