تصیل پنجپائی

وکیپیڈیا توں
Jump to navigation Jump to search
تصیل پنجپائی
دیس پاکستان Flag of Pakistan.svg
صوبہ بلوچستان
ضلع ضلع کوئٹہ

پنجپائی تحصیل قبیله درانی کے ذیلی شاخ پنجپائی قبائل کے نام منسوب ہے درانی کے دو شاخ ہے زیرک اور پنجپائی۔

پنجپائی کا مطلب پانچ شاخ یا پانچ بھائی یه پانچ شاخ درج ذیل ہے

نورزئی___ ماکو خوگیانی رودی علیزئی ساگزئی

تاریخ دانوں کا کھنا ہے نورزئی ان سب کا بڑا بھائی ہے ساگزئی کے سوا ماکو خوگیانی علیزئی یه سب خود کو نورزئی کھتے ہے ۔

تاریخ پنجپائی[لکھو]

پنجپائی ضلع کوئٹہ کی تحصیل ہے۔ ضلع نوشکی جاتے ہوئے پہلے پنجپائی آتا ہے۔ ضلع نوشکی سے افغانستان کا علاقہ ’’شوراوک‘‘ ملحق ہے، جب کہ پنجپائی سے افغانستان کا علاقہ ’’سرلٹ‘‘ لگتا ہے۔ پنجپائی کے مقام پر یہ سرحد صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے صرف 85کلو میٹر دوری پر ہے۔1725ء میں میں جب افغان قبائلی سردار روح خان نورزئی اور درانی کے پنجپائی شاخ بلوچوں کی ہر روز کے چوری چکاری سے تنگ آکر تو سردار روح خان نورزئی کے سپہ سالاری میں ایک مضبوط فوج تیار ہوئی۔1725ء میں سردار روح خان نورزئی پنجپائی قبیلے کے فوج کو لیکر اپنی پہلی پڑوا کوئٹہ سے تھوڑی دور ایک جگہ ڈالی بعد میں یہ جگہ پنجپائی کے نام سے مشہور ہوا۔

1948ء میں خان آف قلات میر احمد یار خان نے جب پاکستان سے الحاق کا معاہدہ کیا تو الحاق کو ان کے بھائی اور دوسرے بلوچ سیاسی رہنماؤں نے جبری قرار دیا۔ چناں چہ شہزادہ عبدالکریم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ افغانستان کی طرف نقل مکانی کی۔ گویا نیت نوزائیدہ پاکستان کے خلاف مسلح مزاحمت کی تھی، لیکن افغانستان کی حکومت نے انہیں اس کی اجازت نہ دی البتہ انہیں پْرامن طور پر پناہ گزین کی حیثیت سے رہنے کی اجازت دے دی۔ شہزادہ عبدالکریم نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ’’سرلٹ‘‘ کے مقام پر پڑاؤ کیا۔ افغان حکومت کے عدم تعاون کے بعد شہزادہ عبدالکریم لوٹ آئے، اور گرفتار ہوئے۔ انہیں قید و بند کی سزا ہوئی۔ پھر وہ پاکستان کی پارلیمانی سیاست کا حصہ بھی بنے۔ بزرگ بلوچ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری مرحوم کے بیٹے نواب زادہ بالاچ مری نے جب ریاست کے خلاف مسلح مزاحمت شروع کی تو کچھ عرصے بعد وہ بھی افغانستان منتقل ہوگئے تھے اور اسی سرلٹ کے علاقے میں مقیم رہے۔ ان کا افغانستان میں انتقال ہوا تو الزام یہ لگایا گیا کہ پاکستان کی فورسز نے سرلٹ کے علاقے میں ان کے کانوائے پر حملہ کرکے انہیں قتل کردیا۔ سرلٹ کی اکثریتی آبادی میں پشتونوں کی ہے۔ نواب رئیسانی کے خاندان کی زمینیں بھی واقع ہیں، جب کہ براہوی بلوچ اقوام کے ساسولی اور پاکستانی حدود کے سرلٹ کے سرحدی علاقوں میں پرکانی بلوچ قبائل آباد ہیں۔