وکیپیڈیا اسلام میں مسلمان لشکروں کے پاس فتح کے بعد فتح کے نشان کے طور پر جو جھنڈا مفتوحہ زمین میں گاڑا جاتا ہے اسے الرائیہ کہتے ہیں اس جھنڈے کا ذکر احادیث میں کثرت سے آیا ہے اور صحابہ نے جنگ اور غزوہ کے دوران اسے گرنے سے بچانے کے لئے شہادتیں نوش فرمائی ہیں مکہ مکرمہ میں فتح مکہ پر رسول اللہﷺ مسجد حرام میں جس دروازے سے حرم میں داخل ہوئے اس کا نام باب فتح ہے وہاں پر قریب ہی جھنڈے کو نبی ﷺ نے نصب فرمایا اور بعد میں جھنڈے والی جگہ پر ایک مسجد تعمیر کروائی گئی جس کا نام الرائیہ ہے مدینہ منورہ میں غزوہ خندق کی کامیابی پر جس جگہ جھنڈا گاڑا گیا وہاں جو مسجد تعمیر کی گئی اس کا نام مسجد فتح ہے پوری تاریخ اسلامی میں اس فتح کے نشان والے جھنڈے الرائیہ کا ذکر ضرور ملتا ہے محمد بن قاسم نے برصغیر میں سند فتح کرنے کے بعد ملتان میں یہ جھنڈا نصب کیا اس فتح کے بعد محمد بن قاسم علیہ رحمۃ کی فوج کے مجاھدین کو الرائیہ کی نسبت سے الرائیی پکارا جانے لگا مطلب فتح یاب الرائیہ والا۔ سپاہی تقریباً تیرہ سو سال گزرنے کے بعد پہلے الرائیی اور اب ان سپاہیوں کی اولاد کو ارائیں لکھا جاتا ہے پکارنے میں یہ لفظ ایک جیسی آواز دیتا ہے کچھ دہایاں قبل یہاں کے مقامی مصنفین نے تاریخ ارائیاں میں لکھا کہ محمد بن قاسم علیہ رحمۃ کی فوج کے بارہ ہزار سپاہیوں میں ایک فرد سلیم الراعی کی پوری ارائیں قوم اولاد ہے وجہ یہ لکھتے ہیں کہ الراعی لفظ وقت کے ساتھ تبدیل ہوکر ارائیں بن گیا ہے ۔ حالانکہ الراعی قبیلہ جو کہ عرب میں مال مویشی پالنے والا اس دور کا ایک مالدار اور عزت والا قبیلہ ہے باقی پورے لشکر کو اس نام کی مناسبت سے اس طرح جوڑ دینا عقل سے باہر ہے ایک اور قول کے مطابق لکھتے ہیں کہ ملک شام کے ایک شہر کا نام اریحا ہے وہاں سے سپاہی بھی شامل ہوئے تو اریحائی نام بدل کر ارائیں ہو گیا حالانکہ اس وقت شام میں دارالخلافہ دمشق شہر تھا وہاں خلیفہ کی زیر نگرانی لشکر تیار ہوا اور خلیفہ کے بھائی ملک سلمان بن مروان کو محمد بن قاسم علیہ رحمۃ نے نیزہ بازی کے مقابلے میں ہرا کر لشکر کی قیادت حاصل کی اور سترہ سال کی عمر میں الحمدللہ سندہ فتح کیا اور ملتان سے دو سو کلومیٹر آگے پیر محل کے نواح تک پہنچے اس لشکر کی نشانی آج بھی کھجور کے درختوں کی صورت میں موجود ہے جو کہ لشکر کھجوریں کھا کر ان گھٹلیاں پھینکنے کی وجہ سے پیرمحل سے لے کر شام تک یہ درخت اب بھی موجود ہیں ملتان اس دور کا قدیم شہر ہے خلیفہ کے پیش قدمی روک دینے کی وجہ سے تمام سپاہ نے اسلامی نقتہ نظر سے اپنے فتح کئے گئے آخری شہر ملتان میں تدفین پسند کی تقریباً ایک ہزار شامی مجاہدین ملتان میں مدفون ہیں اسی لئے اسے اولیاء کرام کا شہر کہتے ہیں برصغیر میں اس جہاد کی وجہ سے کروڑوں انسان اسلام میں داخل ہوئے اور اس خطے میں دوسرا بڑا تحفہ جو دیا وہ اردو زبان ہے اسے پہلے لشکری اور قاسمی یا الرائیی زبان کہا جاتا تھا عربی زبان کے انتیس کے انتیس حروف تہجی اس میں ہیں اس کے علاوہ آٹھ حروف مزید شامل ہوئے ان میں 5 گرمکھی ہندی اور 3 پارسی کے الفاظ شامل ہوئے ہیں اردو کے کل 37 حروف ہیں ہر قوم کا صرف ایک پیشہ ہوتا ہے جس کی نسبت سے انہیں پہچانا جاتا ہے جیسے گجر مویشیوں کی وجہ سے مغل لکڑی کی کاریگر موچی چمڑا سلائی کی وجہ سے جاٹ کھیتی ی بنا پر الرائیی قوم کا پیشہ زمینوں کی ملکیت ہے
) اک ایسا انسائکلوپیڈیا جیہدے وچ انسائکلوپیڈیا> گزٹ اَتے جنتری دیاں خوبیاں ہیگیاں نیں۔ مضے نیں: بغیر حوالے توں دتی ہوئی گل مٹائی جاسکدی ہے اس لئی گزارش ہے کہ حوالہ وی دیو۔ وکیپیڈیا اپنی راۓ تجربہ یا گل بات دی جگہ نئی اے۔ نوی سوچ جیدی کوئی پرکھ نہ ہووے اوہدی اییا تقریر کرن آلی، اشتہار لان آلی، لوک راج وچ پرکھاں یا پھوکیاں گلاں دی جگہ نہیں ہے۔ ایہہ اخبار نہیں ہے اَتے نہ ہی ڈاکومنٹ دی کوئی جگہ ہے۔ ایہناں کماں لئی وکیپیڈیا دے رلویں پراجیکٹ ہیگے نیں۔
پنجابی دی صحیح املاء لئی شاہ مکھی وچ املاء دیاں غلطیاں ویکھونی طرف توں لفظ نہ بناؤ ھ لوو کہ کُجھ پنجابی الفاظ کیویں لکھے جاندے نیں۔
وکیپیڈیا متوازن
وکیپیڈیا ساریاں واسطے
وکیپیڈیا تے کم کرن لئی مناسب چال چلن دی لوڑ ہے۔ اپنے سنگی وکیپیڈین دی لاج رکھو بھاوی لڑائیاں توں بچو۔ غلطیاں کرن توں نہ ڈرو جے کوئی غلطی ہو جاۓ گی اَتے اوہنوں ٹھیک کر لیا جاۓ گا۔