نصیر ترابی

وکیپیڈیا توں
Jump to navigation Jump to search
نصیر ترابی
معلومات شخصیت
جم تریخ 1945  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں date of birth (P569) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں country of citizenship (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
کِتہ شاعر،  لکھاری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں occupation (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں languages spoken, written or signed (P1412) ویکی ڈیٹا پر

نصیر ترابی (جم: 15 جون 1945) اک پاکستانی اردو شاعر اے۔[1] اوہ نے بہت ساریاں غزلاں لکھیاں ہن۔[2][3]

غزلاں[لکھو]

اس دی اک غزل وہ ہم سفر تھا نوں بہت چرچہ ملی اتے اسنوں اک پاکستانی ڈرامے ہم سفر دا تھیم گیت وی بنایا گیا۔ ڈرامے دا تھیم رمانٹک سی، سو مکھ گیت لئی اس رمانٹک غزل نوں چنیا گیا پر جیکر اس غزل دا پچھوکڑ دیکھیئے تاں اسنوں، ترابی صاحب نے ڈھاکا دے پاکستان توں الگ ہو جان اپر لکھیا سی ۔ اس طرحاں، ایہہ غزل سچ مچ وچارن یوگ ہو جاندی اے۔

(1)
ترک تعلقات پہ
رویا نہ تو، نہ میں

لیکن یہ کیا کے چین سے
سویا نہ تو، نہ میں

وہ ہم سفر تھا مگر اسسے ہمنوائی نہ تھی|
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا، جدائی نہ تھی|
وہ ہم سفر تھا....

عداوتیں تھیں تغافل تھا رنجشیں تھی مگر
بچھڑنے والے میں سبھ کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی|
وہ ہم سفر تھا مگر اسسے ہمنوائی نہ تھی|
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا، جدائی نہ تھی|
وہ ہم سفر تھا....

کاجل ڈالوں، کرکرا سرمہ، سہا نہ جائے|
جن نین میں پی بسے، دوجا کون سمائے|
بچھڑتے وقت ان آکھوں میں تھی، ہماری غزل
غزل بھی وہ، جو کبھی کسی کو سنائی نہ تھی|
وہ ہم سفر تھا مگر اسسے ہمنوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا، جدائی نہ تھی
وہ ہم سفر تھا....

(2)

جب تک بکے نہ تھے، کوئی پوچھتا نہ تھا
تونے مجھے خرید کر انمول کر دیا۔[3]

حوالے[لکھو]