تشیعت دی تریخ

آزاد انسائیکلوپیڈیا، وکیپیڈیا توں
Jump to navigation Jump to search

اہل تشیع یا شیعیت (عربی: شيعة) اسلام کا دوسرا بڑا فرقہ ہے۔ اہل تشیع رسول اللہ ﷺ کے بعد فقط حضرت علی بن ابی طالب کی امامت کے قائل ہیں اور صرف انہیں رسول اللہ ﷺ کا جانشین اور پہلا معصوم امام مانتے ہیں۔ شیعہ یا اہل تشیع نظریہ خلافت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعوت ذوالعشیرہ جو حدیث یوم الدار یا حدیث العشیرہ والدار کے نام سے مشہور ہے اور خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر علی بن ابی طالب کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا۔ دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ

جو میری مدد کرے گا وہ میرا وزیر، میرا وصی اور خلیفہ ہوگا۔[۱][۲][۳]


تینوں دفعہ علی بن ابی طالب کھڑے ہوئے اور کہا کہ

اگرچہ میں چھوٹا ہوں اور میری ٹانگیں کمزور ہیں مگر میں آپ کی مدد کروں گا۔


تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ

اے علی تم دنیا اور آخرت میں میرے وزیر اور وصی ہو"۔[۱][۲][۴]


اس کے علاوہ حضور ﷺ نے حجۃ الوداع کے بعد غدیر خم کے علاقے میں ایک خطبہ میں فرمایا کہ

جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں"۔[۵][۶]


شیعہ کی آبادی کل مسلم آبادی کا 13-10 % فیصد ہے ـ[۷] مسلمانوں بلاخص اہل تشیع کی آبادی کے بارے میں کوئی یقینی اعداد و شمار میسر نہیں ہے۔ 2000ء کے اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں شیعہ آبادی 400ملین یعنی 40 کروڑ ہے اور ان میں سے تقریبا85٪ شیعہ اثناعشری ہیں۔ [۸]مذکورہ اعداد و شمار موجودہ اکثر منابع کے مطابق ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں بعض دیگر اعداد و شمار اہل تشیع کی آباد کو مسلم آبادی کا 23 فیصد تک بتاتے ہیں۔[۷]

شیعہ اہل سنت کے بعد دین اسلام کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔ عدل اور امامت شیعہ مذہب کے ان دو بنیادی عقائد میں سے ہیں جو اسے دوسرے اسلامی فرقوں سے ممتاز کرتا ہے۔ شیعوں کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خدا کے حکم سے حضرت علیؑ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔

شیعوں کے تمام فرقے سوائے زیدیہ کے امام کو معصوم سمجھتے ہیں اور اس بات کے معتقد ہیں کہ مہدی موعود ان کے آخری امام ہیں جو اس وقت غیبت میں ہیں اور ایک دن دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے قیام کریں گے۔

حسن و قبح عقلی، اَمرٌ بَینَ الاَمرَین، تمام صحابہ کی عدالت کا انکار، تقیہ، توسل اور شفاعت کلام اسلامی میں شیعوں کے بعض مخصوص اعتقادات ہیں۔ البتہ ان کے بعض فرقے ان میں سے بعض مسائل میں اختلاف نظر رکھتے ہیں۔

شیعہ مذہب میں بھی اہل سنت کی طرح شرعی احکام کے استنباط کے منابع قرآن، سنت، عقل اور اجماع ہیں۔ البتہ اہل‌ سنت کے بر خلاف پیغمبر اکرمؐ کی سنت کے ساتھ ساتھ ائمہ معصومین کے سنت کو بھی حجت سمجھتے ہیں۔

شیعوں کے اہم فرقے امامیہ، اسماعیلیہ اور زیدیہ ہیں۔ ان میں امامیہ فرقہ شیعوں کی اکثریت پر مشتمل ہے۔ امامیہ بارہ اماموں کی امامت پر اعتقاد رکھتے ہیں جن میں سے آخری امام مہدی موعود ہیں جو اس وقت غیبت میں ہیں۔

اسماعیلیہ امامیہ کے بارہ اماموں میں سے چھٹے امام یعنی امام صادقؑ تک کی امامت کے قائل ہیں اور ان کے بعد آپؑ کے بیٹے اسماعیل اور ان کے بیٹے محمد کی امامت کے قائل ہیں اور انہی کو مہدی موعود سمجھتے ہیں۔

زیدیہ امام کو کسی خاص عدد میں محدود نہیں سمجھتے اور اس بات کے معتقد ہیں کہ حضرت زہرا(س) کی اولاد میں سے جو شخص بھی عالم، زاہد، شجاع اور سخاوتمند ہو اور قیام کریں تو وہ امام ہوگا۔

آل‌ادریس، علویان طبرستان، آل بویہ، یمن کے زیدی، فاطمی، اسماعیلیہ، سبزوار کے سربداران، صفویہ اور جمہوری اسلامی ایران تاریخ میں شیعہ حکومتیں گزری ہیں۔

پیو ریسرچ سینٹر(Pew Research Center) کی 7 اکتوبر 2009ء کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی مسلم آبادی کا 10 سے 13 فیصد شیعہ ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق شیعوں کی کل آبادی 154 میلین سے 200 میلین تک ہے۔ شیعوں کی اکثریت ایران، عراق، پاکستان اور ہندوستان میں آباد ہیں۔


شیعہ:لغت اور قرآن میں[لکھو]

لفظ شیعہ لغت میں مادہ شیع سے ہے جس کے معنی پیچھے پیچھے چلنے اور کامیابی اور شجاعت کے ہیں۔ اس شعر کی طرح:

والخزرجی قلبہ مشیع
لیس من الامر الجلیل یفزع

ترجمہ: خزرجی لوگ شجاع اور بہادر ہیں اور بڑے سے بڑا کام انجام دینے سے بھی نہیں ڈرتے۔ [۹] اسی طرح اکثر لفظ شیعہ کا اطلاق حضرت علی کی پیروی کرنے والوںاور ان کے دوستوں پر ہوتا ہے۔ [۱۰]

جیساکہ ازہری نے کہا ہے: شیعہ یعنی وہ گروہ جو عترت اور خاندان رسولۖ کو دوست رکھتا ہے۔ [۱۱]

ابن خلدون نے کہا ہے : لغت میں شیعہ دوست اور پیروکار کو کہتے ہیں، لیکن فقہا اور


گذشتہ متکلمین کی نظر میں علی اور ان کی اولاد کی پیروی کرنے والوںپراطلاق ہوتاہے (١)لیکن شہرستانی نے معنا ی شیعہ کے سلسلے میں دائرہ کو تنگ اور محدودکرتے ہوئے کہاہے : شیعہ وہ ہیں جو صرف علی کی پیروی کرتے ہیںاور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ علی کی امامت اور خلافت نص سے ثابت ہے اور کہتے ہیں کہ امامت ان سے خارج نہیں ہو گی مگر ظلم کے ذریعہ ۔(٢) قرآن میں بھی لفظ شیعہ متعدد مقامات پر پیروی کرنے والوںاور مدد گار کے معنی میں آیا ہے جیسےانّ من شیعتہ لابراھیم،،(٣) (نوح کی پیروی کرنے والوں میں ابراہیم ہیں)دوسری جگہ ہے فاستغاثہ الذی من شیعتہ علی الذی من عدوہ،،(٤) موسیٰ کے شیعوں میں سے ایک شخص نے اپنے دشمن کے خلاف جناب موسیٰ سے نصرت کی درخواست کی ،روایت نبوی میں بھی لفظ شیعہ پیروان اور علی کے دوستوں کے معنی میں ہے(٥) لفظ شیعہ شیعوں کے منابع میں صرف ایک ہی معنی اور مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ شیعہ، علی اور ان کے گیارہ فرزندوںکی جانشینی کے معتقدہیں جن میں پیغمبر ۖ کی وفات کے بعد سے لے کر غیبت صغریٰ تک کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ، جس طرح سے تیسری ہجری کے دوسرے حصہ کے نصف میں مکمل بارہ اماموں پر یقین ............

(١)ابن خلدون،عبدالرحمٰن بن محمد،مقدمہ ،دار احیا التراث العربی بیروت ١٤٠٨ھ ص١٩٦ (٢)شہرستانی،الملل والنحل ،منشورات الشریف الرضی ،قم ،١٣٦٤ ھ ش،ج١ص١٣١ (٣)سورہ صافات٣٧،٨٣ (٤)سورہ قصص٢٨،١٥ (٥)بعد والی فصل میں اس روایت پر اشارہ کیا جائے گا۔

رکھتے تھے ،پہلے دور کے شیعہ جو پیغمبرۖ کے اصحاب تھے و ہ بھی اس بات کے معتقد تھے۔ اس لئے کہ انہوںنے بارہ اماموںکے نام حدیث نبوی سے یاد کئے تھے اگرچہ ستمگار حاکموں کے خوف کی بنا پر کچھ شیعہ ان روایات کو حاصل نہیں کر پائے جواس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اپنے زمانے کے امام کی معرفت واجب ہے جیسا کہ پیغمبر ۖ نے فرمایا:(من مات لایعرف امامہ مات میتة جاھلیة) (١)جو اپنے زمان کے امام کو نہ پہچانے اور مر جائے تو ا س کی موت جاہلیت کی موت ہے۔ اس رو سے ہم دیکھتے ہیں جس وقت امام جعفرصادق ـ کی شہادت واقع ہوئی ............

(١)ابن حجر ہیثمی جو اہل سنت کے دانشمندوں میں سے ایک ہیں انہوں نے اس حدیث کوجو بارہ اماموں کے بارے میں آئی ہے ذکر کیا ہے اور اس حدیث کے صحیح ہو نے پر اجماع کا دعویٰ بھی کیا ہے جو مختلف طریقوں سے نقل ہوا ہے، وہ اس حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے اہل سنت کے علماء اور دانشوروں کے متضاد و متناقض اقوال پیش کرتے ہیں کہ جو اس سلسلہ میں وارد ہوئے ہیں اور آخر میں کسی نتیجہ تک نہیں پہونچتے ہیں ،ان میں سے قاضی عیاض نے کہا :شاید اس سے مراد بارہ خلیفہ ہیں کہ جو اسلام کی خلافت کے زمانہ میں حاکم تھے کہ جو ولیدبن یزید کے زمانہ تک جاری رہا ،بعض دوسروںنے کہا: بارہ سے مراد خلیفہ بر حق ہیں کہ جو قیامت تک حکومت کریں گے جن میںسے چند کا دور گزر چکا ہے جیسے خلفائے راشدین ،امام حسن ،معاویہ عبداللہ بن زبیر ،عمر بن عبد العزیز اور مھدی عباسی، دوسرے اورجو دو با قی ہیںان میں سے ایک مھدی منتظر ہیں جو اہل بیت میں سے ہوں گے،نیز بعض علما ء نے بارہ ائمہ کی حدیث کی تفسیربارہ اماموںسے کی ہے کہ جو مہدی کے بعد آئیں گے ان میں سے چھ امام حسن کے فرزندوں میں سے اور پانچ امام حسین کے فرزندوں میںسے ہوںگے(الصواعق المحرقہ ، مکتبةقاہرہ، طبع دوم، ١٣٨٥،ص٣٧٧)

زرارہ جو کہ بوڑھے تھے انہوںنے اپنے فرزند عبید کو مدینہ بھیجا تاکہ امام صادق کے جانشین کا پتہ لگائیں لیکن اس سے پہلے کہ عبید کوفہ واپس آتے،زرارہ دنیا سے جاچکے تھے، آپ نے موت کے وقت قرآن کو ہاتھ میں لے کر فرمایا : اے خدا !گواہ رہنا میں گواہی دیتاہوں اس امام کی امامت کی جس کو قرآن میں معین کیا گیا ہے۔(٢) البتہ زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ لفظ شیعہ کا معنی اور مفہوم اپنی اصلی شکل اختیار کرنا ہو گیا اور اس کے حدو د مشخص ہوگئے ،اسی لئے ائمہ اطہار نے باطل فرقوں اور گروہوں کی طرف منسو ب لوگوں کو شیعہ ہونے سے خارج جانا ہے ، چنانچہ شیخ طوسی حمران بن اعین سے نقل کرتے ہیں، میں نے اما م محمد باقر سے عرض کیا:کیا میں آپ کے واقعی شیعوں میںسے ہوں؟امام نے فرمایا:ہاں تم دنیااورآخرت دونوںمیں ہمارے شیعوں میںسے ہواورہمارے پاس شیعوں کے نام ان کے باپ کے نام کے ساتھ لکھے ہوئے ہیں ،مگر یہ کہ وہ ہم سے روگردانی کریں ،پھر وہ کہتے ہیں، میں نے کہا : میں آپ پر قربان ہوجاؤں کیا کوئی آپ کا شیعہ ایسا ہے کہ جو آپ کے حق کی معرفت رکھتا ہو اور ایسی صورت میں آپ سے روگردانی بھی کر ے ؟امام نے فرمایا: ہاں حمران تم ان کو نہیں دیکھو گے ۔ حمزہ زیّات جو اس حدیث کے راویوں میں سے ایک ہے ،وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کے سلسلہ میں بحث کی لیکن ہم امام کے مقصد کو نہیں سمجھ سکے لہذاہم نے امام رضاکو خط لکھا اور امام سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو امام نے فرمایا : امام صادق ............

(١) کلینی ،اصول کافی ،دارالکتب ا لاسلامیہ طبع پنجم تھران ،١٣٦٣ش،ج١ ص٣٧٧ (٢)شیخ طوسی ، اختیارمعرفةالرجال ،مؤسسہ آل البیت لاحیا ء التراث ،قم ١٤٠٤ ھ، ص،٣٧١

کا مقصود، فرقہ واقفیہ تھا(١) اس بنا پر رجال شیعی میں صرف شیعہ اثنا عشری پر عنوانِ شیعہ کا اطلاق ہوتا ہے،اورفقہا کبھی کبھی اس کو اصحابنا یا اصحابناالامامیہ سے تعبیر کرتے ہیں اور وہ لوگ جو صحیح راستہ یعنی راہ تشیع سے منحرف ہوگئے تھے ان کوفطحی ،واقفی ،ناؤوسی وغیرہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اگر ان کا نام شیعوں کی کتب رجال میں آیا بھی ہے توانہوں نے منحرف ہونے سے قبل روایتیںنقل کی ہیں ،چنانچہ اہل سنت کے چند راویوں کے نام اس کتاب میں آئے ہیںجنہوں نے ائمہ اطہار سے روایتیں نقل کی ہیں لیکن اہل سنت کے دانشمندوں اور علماء رجال نے شیعہ کے معنی کو وسیع قرار دیا ہے اور تمام وہ فرقے جو شیعوںسے ظاہر ہوئے ہیں جیسے غلاة وغیرہ ان پر بھی شیعہ کا اطلاق کیا ہے، اس کے علاوہ اہلبیت پیغمبرۖ کے دوستوں اور محبوں کو بھی شیعہ کہا ہے جب کہ ان میں سے بعض اہل بیت کی امامت اور عصمت پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے ،جیسے سفیان ثوری جومفتیان عراق میں سے تھا اور اہلسنت کے مبنیٰ پر فتویٰ دیتاتھا لیکن ابن قتیبہ نے اس کو شیعوں کی فہرست میں شمار کیا ہے۔( ٢) ابن ندیم کہ جو اہل سنت کے چار فقہامیں سے ایکہے شافعیوں ان کے بارے میں یوں کہتا ہے کہ شافعیوں میں تشیع کی شدت تھی(٣)البتہ دوسری ا ور تیسری صدی ہجری میں شیعہ اثناعشری کے بعد شیعوں کی زیادہ تعداد کو زیدیوں نے تشکیل دیا ہے، وہ لوگ اکثر سیاسی معنیٰ ............

(١) شیخ طوسی،معرفة الرجال موسسہ آل البیت لاحیاء التراث ، ج٢ص٧٦٣۔ (٢) ابن قتیبہ ،المعارف منشورات شریف الرضی ،قم ،طبع اول ،١٤١٥،١٣٧٣،ص ٦٢٤۔ (٣)ابن ندیم ،ا لفہرست ،دارالمعرفة للطبع والنشر ،بیروت،ص٢٩٥،(کان الشافعی شدیداًفی التشیع)

میں شیعہ تھے نہ کہ اعتقادی معنیٰ میں، اس لئے کہ فقہی اعتبار سے وہ فقہ جعفری کے پیروی نہیں کرتے تھے بلکہ فقہ حنفی کے پیرو تھے، (٢)اصول اعتقادی کے اعتبار سے شہرستانی نقل کرتا ہے، زید ایک مدت تک واصل بن عطا کا شاگرد تھا جس نے مذہب معتزلہ کی بنیاد ڈالی اور اصول مذہب معتزلہ کو زید نے پھیلایا ہے، اس وجہ سے زیدیہ اصول میں معتزلی ہیں اسی باعث یہ مفضول کی امامت کوافضل کے ہوتے ہوئے جائز جانتے ہیں اور شیخین کو برا بھی نہیں کہتے ہیں اور اعتقادات کے اعتبار سے اہل سنت سے نزدیک ہیں۔(٣) چنانچہ ابن قتیبہ کہتا ہے: زیدیہ رافضیوں کے تمام فرقوں سے کم تر غلو کرتے ہیں۔(٤) اس دلیل کی بنا پر محمد نفس زکیہ کے قیام(جو زیدیوں کے قائدین میں سے ایک تھے) کو بعض اہل سنت فقہاکی تاکید اور رہنمائی حاصل تھی اور واقدی نے نقل کیا ہے، ابوبکر بن ابیسیرہ(٥)ابن عجلان(٦) عبد اللہ بن جعفر(٧)مکتب مدینہ کے بڑے محدثین میں سے تھے اور خود واقدی نے ان سے حدیث نقل کی ہے ،وہ سب محمد نفس زکیہ کے قیام میں شریک تھے ،اسی طرح شہرستانی کہتاہے محمد نفس زکیہ کے شیعوں میں ابوحنیفہ بھی تھے ۔ (٨) بصرہ کے معتزلی بھی محمد کے قیام کے موافق تھے اور ابو الفرج اصفہانی کے نقل کے مطابق بصرہ میں معتزلیوں کی ایک جماعت نے جن میں واصل بن عطا اور عمرو بن عبید تھے ان لوگوںنے ان کی بیعت کی تھی (١)اس لحاظ سے زیدیہ صرف سیاسی اعتبار سے شیعوں میں شمار ہوتے تھے اگر چہ وہ اولاد فاطمہ سلام اللہ علیہا کی افضلیت واولویت کے معتقد بھی تھے ۔ ............

(٢)شہرستانی ،ملل و نحل، منشورات شریف الرضی ،قم ١٣٦٤ھ ش ،ج ١، ص١٤٣ (٣)شہرستانی ،ملل و نحل، منشورات شریف الرضی ،قم ١٣٦٤ھ ش ،ج ١، ص ١٣٨ (٤)ابن قتیبہ ،المعارف ،ص ٦٢٣ (٥)ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ،منشورات شریف الرضی ،قم ١٣٧٤ص٢٥١ (٦)گزشتہ حوالہ ص،٥٤ (٧)گزشتہ حوالہ ص،٢٥٦ ٢ (٨ )شہرستانی ،ملل و نحل ،منشورات شریف الرضی ،قم ،١٣٦٤ ھ ش مج ١ ص١٤٠

لفظ شیعہ لغت میں[لکھو]

لغت میں لفظ شیعہ دو معانی میں استعمال ہوا ہے۔

١: دو افراد یا دو گروہ کے درمیان عقیدہ یا عمل کے لحاظ سے موافقت ، بغیر اس کے کہ ایک دوسرے کا تابع ہو۔ جیسا کہ لسان العرب میں مادہ شیع کے ضمن میں آیا ہے : شیعہ اس جماعت کو کہتے ہے جو کسی ایک امر پر اجتماع کریں۔ پس جو قوم کسی ایک امر پر اجتماع کرے اسے شیعہ کہا جائے گا۔ ( لسان العرب، مادہ 'شیع')۔


یہ معنی قرآن کریم میں بھی استعمال ہوئے ہیں جیسا کہ حضرت ابراھیم کو حضرت نوح کا شیعہ کہا ہے۔ و ان من شیعتہ لابراھیم ( صافات، آیہ ٨٣)

حضرت ابراہیم اولوالعزم پیغمبر اور صاحب شریعت تھے حضرت نوح کی شریعت کے پیرو نہیں تھے لیکن چوں کہ توحید الٰہی میںدونوں کی روش ایک تھی لہٰذا جناب ابراہیم کو حضرت نوح کاشیعہ کہا گیا۔

٢: دوسرے کی پیروی کرنا۔لغت قاموس المحیط میں آیا ہے۔ کسی کا شیعہ یعنی اس کی پیروی کرنے والا کسی کے عقیدہ اور راہ و رسم کی پیروی کرنا محبت اور دوستی کے بغیر ممکن نہیں۔جیسا کہ قرآن کریم اس قبطی آدمی کا بارے میں جو جناب موسیٰ کا پیرو تھا فرماتا ہے:فاستغاثہ الذی من شیعتہ علیٰ الذی من عدوہ پس اس آدمی نے جو موسیٰ کا پیرو تھا دشمن کا مقابلے میں موسیٰ سے مدد چاہی۔

مذکورہ دونوں معانی میں سے دوسرے معنی زیادہ معروف و مشہور ہیں اور اگر کوئی قرینہ کلام میں موجود نہ ہو تو یہی معنی مراد لئے جاتے ہیں جیسا کہ لغت اور تفسیر کی کتابوں میں شیعہ کو اسی معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔

مفہوم شیعہ اصطلاح میں[لکھو]

ملل و نحل کے محققین اور مورخین نے شیعہ کے عنوان کو کلی طور پر بارہ اماموں کے ماننے والوں پر اطلاق کیا ہے کہ جن میں سے بعض کی طرف ذیل میں اشارہ کیاجاتا ہے:۔ ١: شہرستانی کہتے ہیں: وہ لوگ جو علی کی پیروی کرتے ہیںاور ان کی امامت اور خلافت کو نص اور وصیت پیغمبر ۖ کے سبب مانتے ہیں انہیں شیعہ کہا جاتا ہے ( الملل و النحل، ج١، ص ٤٧)

٢: ابن خلدون لکھتے ہیں: لغت میں شیعہ پیرو اور ساتھی کے معنی میں ہے لیکن عرف میں علی اور اولاد علی کی پیروی کرنے والے فقہا ء اور متکلمین کو کہا جاتا ہے۔ ( مقدمہ ٔ ابن خلدون، ص ١٣٨)

٣: میر سید شریف جرجانی رقمطراز ہیں۔شیعہ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو علی کی پیروی کرتے اور رسول خدا کے بعد ان کی امامت کو قبول کرتے ہیں اور معتقد ہیں کہ امامت علی اور اولاد علی سے باہر نہیں جا سکتی۔ ( کتاب التعریفات، ص ٥٧)

٤: محمد فرید وجدی لکھتے ہیں: وہ لوگ جو علی کو امام مانتے اور ان کی پیروی کرتے ہیں اور امامت کو ان کی اولاد سے خارج نہیں مانتے ان کوشیعہ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ قائل ہیں کہ امامت کوئی ایسا مصلحت آمیز قضیہ نہیں ہے کہ امت اپنے اختیار سے کسی کو بہ عنوان امام پہچنوا دے بلکہ امامت ارکان دین کا ایک اساسی رکن اور ستون ہے۔اسی وجہ سے رسول خدا ۖ نے واضح طور پر اپنے بعد امام کی معرفت کروائی ہے ۔ شیعوں کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اماموں کو گناہان کبیرہ وصغیرہ سے معصوم جانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کو اپنی رفتار و گفتار میں تولّیٰ اور تبرّیٰ کی رعایت کرنا چاہئیے مگر یہ کہ کسی ظالم دشمن کا خوف ہو اس صورت میں تقیہ کر سکتا ہے۔ ( دائرة المعارف، ص ٥٧)

٥:ابو الحسن اشعری کہتے ہیں: شیعوں کو اس وجہ سے شیعہ کہتے ہیں کہ وہ علی کے پیروکار ہیں۔اور انہیں تمام اصحاب پر مقدم جانتے ہیں ۔ (مقالات اسلامیین،ص٦٥)

٦: پطرس بستانی کہتے ہیں: شیعہ اسلام کے بڑے فرقوں میں سے ایک ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو معتقد ہیں کہ امامت رسول خدا ۖ کے بعد نص جلّی اور خفی کے ساتھ علی تک پہنچی اور یہ منصب ان کی اولاد سے خارج نہیں ہو سکتا۔

٧:شیخ مفید علیہ الرحمہ کہتے ہیں : وہ لوگ جو امام علی کی پیروی کر تے ہیں اور انہیں دوسرے اصحابہ پر مقدم جانتے ہیں شیعہ کہلاتے ہیں۔ وہ معتقدہیں کہ امام علی رسول خدا کے بعد ارادۂ خدا اور وصیت پیغمبر اسلامۖ کے مطابق امام مقرر ہوئے ہیں۔[۱۲]


آغاز تشیّع[لکھو]

آغاز تشیع کے سلسلہ میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ، جنہیںاجمالی طور پر دو طبقوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: (١)وہ صاحبان قلم اور محققین جن کا کہنا ہے: شیعیت کا آغاز رسول اعظمۖ کی وفات کے بعد ہوا، خود وہ بھی چند گروہ میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔ (الف )پہلے گروہ کا کہنا ہے : شیعیت کا آغاز سقیفہ کے دن ہوا ، جب بزرگ صحابہ کرام کی ایک جماعت نے کہا :حضرت علی علیہ السلام امامت و خلافت کے لئے اولویت رکھتے ہیں ۔(٢) ............

(١)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین، ص ٢٥٨ . (٢)یعقوبی بیان کرتے ہیں :چند بزرگ صحابہ نے ابوبکر کی بیعت کرنے سے انکار کیااور کہا: حضرت علی خلافت کے لئے اولویت رکھتے ہیں، تاریخ یعقوبی، جلد ٢،ص ١٢٤،طبع، منشورات الشریف الرضی قم ١٤١٤ھ

(ب)دوسرے گروہ کا کہنا ہے : آغاز تشیع خلافت عثمان کے آخری زمانے سے مربوط ہے اور یہ لوگ اس زمانہ میں ، عبد اللہ بن سبا کے نظریات کے منتشر ہونے کوآغاز تشیع سے مربوط جانتے ہیں۔(١) (ج)تیسرا گروہ معتقد ہے کہ شیعیت کا آغاز اس دن سے ہوا جس دن عثمان قتل ہوئے ،اس کے بعد حضرت علی کی پیروی کرنے والے شیعہ حضرات ان لوگوں کے مدمقابل قرار پائے ،جو خون عثمان کا مطالبہ کررہے تھے ، چنانچہ ابن ندیم ر قم طراز ہیں:جب طلحہ و زبیر نے حضرت علی کی مخالفت کی اور وہ انتقام خون عثمان کے علاوہ کسی دوسری چیز پر قانع نہ تھے ، نیز حضرت علی بھی ان سے جنگ کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ حق کے سامنے تسلیم ہوجائیں ،اس دن جن لوگوں نے حضرت علی کی پیروی کی وہ شیعہ کے نام سے مشہور ہوگئے اور حضرت علی بھی خود ان سے فرماتے تھے:یہ میرے شیعہ ہیں ،(٢) نیز ابن عبدربہ اندلسی ر قم طراز ہیں : شیعہ وہ لوگ ہیں جو حضرت علی کو عثمان سے افضل قرار دیتے ہیں۔(٣) (د)چوتھا گروہ معتقد ہے کہ شیعہ فرقہ روز حکمیت کے بعدسے شہادت حضرت علی تک وجود میں آیا۔ (٤) ............

(١)مختار اللیثی، سمیرہ ، جہاد الشیعہ ، دار الجیل ، بیروت ، ١٣٩٦ھ، ص :٢٥ (٢)ابن ندیم الفہرست دار المعرفةطبع،بیروت(بی تا) ص٢٤٩ (٣)ابن عبدربہ اندلسی احمد بن محمد ، العقد الفرید ،دار الاحیاء التراث العربی ، بیروت ١٤٠٩ھ ج٢ ص٢٣٠ (٤)بغدادی ، ابو منصور عبد القادر بن طاہر بن محمد الفرق بین الفرق طبع،قاہرہ،١٣٩٧، ص١٣٤

(ھ )پانچواں گروہ آغاز تشیع کو واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین سے مربوط قرار دیتاہے۔(١) (٢)دوسرا طبقہ ان محققین کا ہے جو معتقد ہیںکہ شیعیت کا ریشہ رسول خدا ۖکی حیات طیبہ میں پایا جا تا تھا،تمام شیعہ علما بھی اس کے قائل ہیں ۔(٢) بعض اہل سنت دانشوروں کابھی یہی کہنا ہے ،چنانچہ محمد کردعلی جو اکابرعلمائے اہل سنت سے ہیں ،کہتے ہیں :رسول خدا صلیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں بعض صحابہ کرام شیعیان علی کے نام سے مشہور تھے۔(٣) مذکورہ بالا نظریات کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ روز سقیفہ ، خلافت عثمان کا آخری دور،جنگ جمل ، حکمیت اور واقعہ کربلا وغیرہ وہ موارد ہیںجن میں رونما ہونے والے کچھ حادثات تاریخ تشیع میں مؤثر ثابت ہوئے ،چونکہ عبداللہ بن سبا نامی کے وجود کے بارے میں شک و ابہام پایا جاتاہے،لہٰذا ان ادوار میں شیعیت کا تشکیل پا نا بعید ہے ۔ کیونکہ اگر احادیث پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر محققانہ نظر کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان سب سے پہلے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبانی بہت سی احادیث میں لفظ شیعہ حضرت علی کے چاہنے والوں کے لئے استعمال ہوا ہے ،جن میں سے ہم بعض کی طرف اشارہ کررہے ہیں، نیز یہ تمام احادیث اہل سنت و الجماعت کے نزدیک مقبول ہیںاور منابع احادیث میں ہیں ،جیسا کہ سیوطی جو کہ اہل سنت والجماعت کے مفسروں ............

(١)مختار اللیثی، ڈاکٹر سمیرہ جہاد الشیعہ ٣٥ ۔ نقل از برنا رولویس اصول الاسماعیلیہ ص٨٤ (٢)دفاع از حقانیت شیعہ، ترجمہ غلام حسن محرمی ، مومنین ، طبع اول ١٣٧٨ ص ٤٨، اورشیعہ در تاریخ،، ترجمہ محمد رضا عطائی ، انتشارات آستانہ قدس رضوی ، طبع دوم ، ١٣٧٥ ، ش ، ص ، ٣٤ (٣)خطط الشام ، مکتبة النوری ، دمشق ، طبع سوم ، ١٤٠٣ ھ ۔ ١٩٨٣ ، ج ٦ ، ص ٢٤٥

میں سے ہیں اس آیۂ کریمہ: اولٰئکٔ ھم خیر البریة کی تفسیر میں پیغمبر اکرم ۖسے حدیث نقل کرتے ہیں ، منجملہ یہ حدیث کہ پیغمبرۖ اسلام نے فرمایا : اس آیۂ کریمہ: اولٰئکٔ ھم خیر البریة میں خیرالبریہ سے مراد حضرت علی اور ان کے شیعہ ہیں اور وہ قیامت کے دن کامیاب ہیں۔(١) ر سول اکرم ۖ نے حضرت علی سے فرمایا : خداوند کریم نے آپ کے شیعوں کے اور شیعوں کو دوست رکھنے والے افراد کے گناہوں کو بخش دیا ہے ،(٢)نیز پیغمبر اسلامۖنے حضرت علی سے فر مایا :آپ اور آپ کے شیعہ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے در حالانکہ آپ حوض کوثر سے سیراب ہوںگے اور آپ کے چہرے (نور سے ) سفیدہوں گے اور آپ کے دشمن پیاسے اور طوق و زنجیر میں گرفتا رہوکر میرے پاس آئیںگے (٣)رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک طولانی حدیث میں حضرت علی کے فضائل بیان کرتے ہوئے اپنی صاحبزادی فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا سے فرمایا: اے فاطمہ! علی اور ان کے شیعہ کل (قیامت میں ) کامیاب(نجات پانے والوں میں) ہیں۔(٤) اسی طرح ایک دوسری حدیث میں رسول اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اے علی ! خداوند عالم نے آپ کے اور آپ کے خاندان اور آپ کے شیعوں کو ............

(١) الدر المنثور فی التفسیر بالمأ ثور،ج :٦ ،ص :٣٧٩، منشورات مکتبةآیة اللہ مرعشی نجفی ، قم ١٤٠٤ھ (٢) ابن حجر ھیثمی المکی صواعق محرقہ ،ص ٢٣٢ طبع دوم مکتب قاہرہ، ١٣٨٥ (٣)ابن حجرمجمع الزوائد، نورالدین علی ابن ابی بکر ۔ ج ٩ ، ص ١٧٧ ، دار الفکر ١٤١٤ھ (٤) المناقب ، ص ٢٠٦ ، اخطب خوارزمی منشورات مکتبةالحیدریہ ، نجف ١٣٨٥

دوست رکھنے والوں کے گناہوں کو بخش دیا ہے ۔(١)

نیز رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

اے علی !جب قیامت برپا ہوگی تو میں خدا سے متمسک ہوں گا اورتم میرے دامن سے اورتمہارے فرزندتمہارے دامن سے اورتمہاری اولاد کے چاہنے والے تمہاری اولاد کے دامن سے متمسک ہوں گے۔ (٢)

نیز رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی سے فرمایا :

تم قیامت میں سب سے زیادہ مجھ سے نزدیک ہو گے اور (تمہارے) شیعہ نورکے منبر پر ہوں گے ۔(٣)

ابن عباس نے روایت کی ہے کہ جناب جبرئیل نے خبر دی کہ (حضرت) علی اور ان کے شیعہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ جنت میں لے جائے جائیں گے ۔(٤) جناب سلمان فارسی نقل کرتے ہیںکہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی سے فرمایا : اے علی !سیدھے ہاتھ میں انگوٹھی پہنو تاکہ مقرب لوگوں میں قرار پاؤ، حضرت علی نے پوچھا : مقربین کون ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : ............

(١) مذکورہ مصدر کے علاوہ، ینابیع المودة ، قندوزی حنفی ، منشورات مؤسسہ اعلمی طبع اول، ١٤١٨ ھ ج ١، ص ٣٠٢ (٢) المناقب ، ص ٢١٠ ، اخطب خوارزمی (٣) المناقب ، ص ١٥٨، ١٣٨٥ھ ( ٤) مذکورہ مصدر ،ص ٣٢٢ ۔ ٣٢٩ حدیث کے ضمن میں، فصل ١٩

جبرئیل و میکائیل، پھر حضرت علی نے پوچھا :کون سی انگوٹھی ہاتھ میں پہنوں؟

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : وہ انگوٹھی جس میں سرخ عقیق ہو ، کیونکہ عقیق وہ پہاڑ ہے ،جس نے خدائے یکتا کی عبودیت ، میری نبوت ، آپ کی وصایت اور آپ کے فرزندوں کی امامت کا اقرار و اعتراف کیا ہے اور آپ کو دوست رکھنے والے اہل جنت ہیںاور آپ کے شیعوں کی جگہ فردوس بریں ہے ،(١)پھر رسول خدا ۖ نے فرمایا :ستر ہزار (٧٠٠٠٠)افراد میری امت سے بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے ،حضرت علی نے دریافت کیا : وہ کون ہیں ؟

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:وہ تمہارے شیعہ ہیں اورتم ان کے امام ہو۔ (٢)

انس ابن مالک حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:جبرئیل نے مجھ سے کہا :خدائے کریم حضرت علی کواسقدر دوست رکھتا ہے کہ ملائکہ کو بھی اتنا دوست نہیں رکھتا ،جتنی تسبیحیں پڑھی جاتی ہیں، خدائے کریم اتنے ہی فرشتوں کو پیدا کرتا ہے تاکہ وہ حضرت علی کے دوستوں اور ان کے شیعوں کے لئے تاقیامت استغفار کریں۔(٣) جابر بن عبد اللہ انصاری نقل کرتے ہیںکہ رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :خدائے یکتا کی قسم جس نے مجھے پیغمبر بنا کر مبعوث کیاکہ خدا وند عالم کے مقرب بارگاہ ............

(١) مذکورہ مصدر ص ٢٣٤ (٢) مذکورہ مصدر ص ٢٣٥ (٣) ینابیع المودة ، القندوزی الحنفی ، شیخ سلمان ،ص ٣٠١

فرشتے حضرت علی کے لئے طلب مغفرت کرتے ہیں نیز ان کے اور ان کے شیعوں کے لئے باپ کی طرح الفت و محبت اور اظہارہمدردی کرتے ہیں۔ (١) خود حضرت علی روایت کرتے ہیںکہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اے علی!اپنے شیعوں کو خوش خبری دیدوکہ میں روز محشر(ان کی ) شفاعت کروں گا جس دن میری شفاعت کے علاوہ مال و فرزند کوئی فائدہ نہیں دیں گے ۔(٢) رسالت مآبۖ نے فرمایا: اے علی ! سب سے پہلے جنت میں جو چار افراد داخل ہوں گے وہ میں ،تم اور حسن و حسین ،ہیں ،ہماری ذریت ہمارے پیچھے اور ہماری ازواج ہماری ذریت کے پیچھے اور ہمارے شیعہ دائیں،بائیں ہوں گے۔(٣) خلاصہ، بہت سے محققین اور مؤرخین اہل سنت، منجملہ ابن جوزی ، بلاذری ، شیخ سلیمان قندوزی حنفی ، خوارزمی اور سیوطی نے نقل کیا ہے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا : یہ اور ان کے شیعہ قیامت کے دن کامیاب ہیں (٤) حتیٰ بعض شیعہ حضرات ............

(١) ینابیع المودة ص ٣٠١ (٢) ینابیع المودة ص ٣٠٢ (٣)مجمع الزوائد ص١٧٨، ھیثمی نور الدین علی بن ابی بکر (٤) تذکرة الخواص ص ٥٤ ، ابن جوزی ، منشورات المطبعة الحیدریہ نجف ١٣٨٣ ھ، ص ٥٤، بلا ذری انساب الاشراف ،تحقیق محمد باقر محمودی ، موسسہ اعلمی بیروت ، ج ٢ ،ص ١٨٢ ، قندوزی حنفی ینابیع المودة منشورات اعلمی للمطبوعات ،طبع بیروت ،طبع اول ١٤١٨ ھ ج ١، ص٣٠١، اخطب خوارزم المناقب، منشورات المطبعة الحیدریہ ، نجف ، ١٣٨، ص٢٠٦، سیوطی جلا ل الدین ، الدر المنثور فی تفسیر بالمأ ثور ، مکتبة آیة اللہ العظمیٰ مرعشی نجفی ، قم ، ١٤٠٤ھ ، ج ٦، ص ٩ا٣٧

کے بارے میں رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایات منقول ہیں اور کمال کی بات یہ ہے کہ شیعوں کے مخالفین کی زبانی روایات نقل ہوئی ہیں ،جیسے جناب عائشہ سے حجر بن عدی کے بارے میں روایت منقول ہے ،جب معاویہ حجر اور ان کے دوستوں کے قتل کے بعد حج کرکے مدینہ آیاتو عائشہ نے اس سے کہا: اے معاویہ ! جب تم نے حجر بن عدی اور ان کے دوستوں کو قتل کیا توتمہاری شرافت کہاں چلی گئی تھی؟آگاہ ہوجاؤ کہ میں نے رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا ہے ،آنحضرت صلی ٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :ایک جماعت مرج عذرائنام کی جگہ قتلہوگی، ان کے قتل کی وجہ سے اہل آسمان غضب ناک ہوں گے۔(١) چونکہ یہ احادیث قابل انکار نہیں ہیں اور انہیں بزرگان اہل سنت نے نقل کی ہیں، لہٰذا بعض صاحبان قلم نے ان میں بیجا و نارواتاویلیں کی ہیں،چنانچہ ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں : بہت سی روایات میں ان شیعوں سے مراد جن سے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے وہ افراد ہیں جو حضرت علی کو تمام مخلوق میں سب سے افضل و برتر سمجھتے ہیں ،اس وجہ سے ہمارے معتزلی علمانے اپنی تصانیف اور کتابوں میں لکھا ہے کہ در حقیقت ہم شیعہ ہیں اور یہ جملہ قریب بہ صحت اور حق سے مشابہ ہے (٢) نیز ابن حجر ہیثمی نے اپنی کتاب الصواعق محرقہ فی الرد علی اھل البدع والزندقةمیں جوکہ شیعوں کے اصول و اعتقادکے خلاف لکھی گئی ہے،اس حدیث کو نقل ............

(١ ) ابن واضح ،تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی ، قم ١٤١٤ھ ج٢، ص٢٣١ (٢) ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ ۔دار الاحیاء التراث العربی ، بیروت ، ج ٢٠ ، ص ٢٢٦

کرتے وقت بیان کیا : اس حدیث میں شیعوں سے مراد موجودہ شیعہ نہیں ہیں بلکہ ان سے مراد حضرت علی کے خاندان والے اوران کے دوست ہیںجو کبھی بدعت میں مبتلا نہیں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے اصحاب کرام کو سب و شتم کیا (١) مرحوم مظفر ان کے جواب میں بیان کرتے ہیں : بڑے تعجب کی بات ہے کہ ابن حجر نے گمان کیا ہے کہ یہاں شیعوں سے مراد اہل سنت حضرات ہیں مجھے نہیں معلوم کہ یہ مطلب لفظ شیعہ و سنی کے مترادف ہونے کی وجہ سے ہے یا اس وجہ سے کہ یہ دونوں فرقے ایک ہی ہیں ؟یا یہ کہ اہل سنت حضرات شیعوں سے زیادہ خاندان پیغمبر اسلام ۖ کی اطاعت و پیروی کرتے ہیں اور انہیں دوست رکھتے ہیں۔(٢) مرحوم کاشف الغطاء کہتے ہیں : لفظ شیعہ کو شیعیان حضرت علی سے منسو ب کرنے ہی کی صورت میں یہ معنیٰ سمجھ میں آتے ہیں ،ورنہ پھر اس کے علاوہ شیعہ کے کوئی دوسرے افراد ہیں۔(٣) احادیث اور اقوال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میںشیعہ معنیٰ کا ظہور روز روشن کی طرح واضح وآشکار ہے اور یہ حضرات اس طرح کی بے جا تاویلات کے ذریعہ حقیقت سے روگردانی کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے خود اپنے نفسوں کو دھوکا دیا،کیونکہ لفظ شیعہ کے ............

(١)ہیثمی مکی ،ابن حجر ، صواعق محرقہ، مکتبة قاہرة، ١٣٨٤، ص ٢٣٢ (٢)مظفر ، محمد حسین تاریخ الشیعہ ، منشورات مکتبة بصیرتی ، ص٥ (٣) دفاع از حقانیت شیعہ ، ترجمہ غلام حسن محرمی ،مؤمنین، طبع اول ١٣٧٨ھ،ص٤٨۔٤٩

مصادیق آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں موجود تھے اور کچھ اصحاب پیغمبر اسلام صلی ٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم شیعیان علی کے نام سے مشہورتھے ۔ (١) اصحاب پیغمبر اسلام صلی ٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی حضرت علی علیہ السلام کے پیروکاروں کو شیعہ کہتے تھے ، ہاشم مرقال نے 'حضرت علی سےمحل بن خلیفہ طائی نامی شخص کے بارے میں کہا: اے امیرالمؤمنین!وہ آپ کے شیعوں میں سے ہیں ۔(٢) اور خود شیعہ بھی آپس میں ایک دوسرے کو شیعہ کہتے تھے ،چنانچہ شیخ مفید نقل کرتے ہیں کہ ایک جماعت نے حضرت علی کی خدمت میں شرفیاب ہوکر عرض کی:اے امیرالمومنین!ہم آپ کے شیعوں میں سے ہیں ۔ نیز حضرت علی نے فرمایا : ............

(١) سعد بن عبد اللہ اشعری اس بارے میں کہتے ہیں :سب سے پہلا فرقہ شیعہ ہے اوریہی فرقہ علی بن ابی طالب کے نام سے مشہورہے کہ جس کے افراد زمانہ ٔ پیغمبر ۖمیں شیعیان علی کہے جاتے تھے اور وفات پیغمبرۖ کے بعد بھی مشہور تھا کہ یہ افرادحضرت علی کی امامت کے معتقد ہیں ،جن میں مقداد بن اسود کندی ، سلمان فارسی اور ابوذر و عمار ہیں ،یہ حضرات حضرت علی کی اطاعت و پیروی کو ہر چیز پر ترجیح دیتے تھے اور آنجناب کی اقتدا کرتے تھے ،دیگر کچھ افراد ایسے تھے کہ جن کا نظریہ حضرت علی کے موافق تھا اور یہ اس امت کا پہلا گروہ ہے ، جس کو شیعیت کے نام دیا گیا،نیز شیعہ ایک قدیم نام ہے جیسا کہ اس سے پہلے بھی لفظ شیعہ کا استعمال ہوا ہے مثلا، شیعۂ نوح ، شیعۂ ابراہیم ، شیعۂ موسیٰ اور شیعۂ عیسیٰ نیزدیگر انبیا کے سلسلہ میں بھی ملتا ہےالمقالات والفرق ، مرکز انتشارات علمی ، فرہنگی ، تہران ص٣۔ (٢)شیخ مفید محمد، بن محمد نعمان الجمل مکتبة العلوم الاسلامی ، مرکز نشر ط دوم ١٤٢٦ھ ص٢٤٣

ہمارے شیعوں کے چہرے راتوں میں عبادت کی وجہ سے زرد پڑجاتے ہیں اور گریہ و زاری کی وجہ سے ان کی آنکھیں کمزور ہوجاتی ہیں…،(١)مذکورہ بالا روایت کی طرح حضرت علی نے بہت سے مقامات پر اپنی پیروی کرنے والوں کو شیعوں کے نام سے یاد کیا ہے ،مثلا جب طلحہ وزبیر کے ہاتھوں بصرہ میں رہنے والے شیعوں کی ایک جماعت کی خبر شہادت پہنچی تو حضرت نے (ان قاتلوں) کے حق میں نفرین کرتے ہوئے فرمایا : خدایا !انہوں نے میرے شیعوںکو قتل کردیا ،تو بھی انہیں قتل کر(٢) حتیٰ دشمنان حضرت علی بھی اس زمانہ میں آپ کی پیروی کرنے والوں کو شیعہ کہتے تھے ،چنانچہ جب عائشہ و طلحہ و زبیر نے مکہ سے سفر عراق کی طرف سفر کیا تو آپس میں گفتگوکی اور کہا : بصرہ چلیں گے اور حضرت علی کے عاملین کو وہاں سے باہر نکالیں گے اور ان کے شیعوں کو قتل کریں گے۔(٣) بہر حال حقیقت تشیع وہی حضرت علی سے دوستی و پیروی اور آ پ کو افضل وبرتراور مقدم قرار دینا ہے جوکہ زمانہ پیغمبر ۖسے مربوط ہے،آنحضر ت صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی احادیث و اقوال میں لوگوں کو حضرت علی اورآپ کے خاندان کی دوستی و پیروی کا حکم دیا ۔ منجملہ غدیر خم کا واقعہ ہے جیسا کہ ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں :یہ روایات، ان ............

(١) شیخ مفید ،محمد بن محمد نعمان ، الارشاد ترجمہ محمد باقر ساعدی خراسانی ، کتاب فروشی اسلامیہ ، طبع دوم ، ص٢٢٨ (٢) شیخ مفید، محمد بن محمد نعمانالجمل ص٢٨٥ (٣) شیخ مفید ،محمد بن محمد نعمان ص٢٣٥

لوگوں نے نقل کی ہیں جنہیں رافضی اور شیعہ ہونے سے کسی نے بھی متہم نہیں کیاہے یہاں تک کہ وہ دوسروں کی نسبت حضرت علی کی افضلیت و برتری اور تقدم کے قائل بھی نہیں تھے ۔(١) ہم اس سلسلہ کی بعض احادیث کی طرف( مزید) اشارہ کرتے ہیں : بریدہ اسلمی کہتے ہیں : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : خدائے تعالیٰ نے مجھے چار لوگوں سے دوستی کرنے کا حکم دیا ہے اور مجھ سے فرمایا ہے : میں بھی انہیں دوست رکھتا ہوں ، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ۖ!ان کا نام بتائے؟ آنحضرت نے تین بار فرمایا: علی اور پھر ابوذر ، مقداد اور سلمان فارسی کا نام لیا۔(٢) طبری جنگ احد کے سلسلہ میں بیان کرتے ہیں کہ رسو ل خدا ۖ نے فرمایا : میں علی سے ہوں اور علی مجھ سے ہیں(٣) جناب ام سلمہ سے روایت ہے کہ آپ نے کہا : جب کبھی حضرت رسو ل خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم غصہ ہوتے تھے تو حضرت علی کے علاوہ کوئی ان سے گفتگو کرنے کی جرأت نہیں کرتا تھا،سعد ابن ابی وقاص نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : ............

(١)شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید معتزلی ،ج ٢، ص٣٤٩،طبع دار الاحیاء التراث العربی (٢)ہیثمی مکی صواعق المحرقہ، ص١٢٢، مکتبة القاہرہ، طبع دوم ١٣٥٨ (٣)تاریخ طبری، ج٢ ص٦٥ طبع سوم، دار الکتب العلمیة ، بیروت، تیسری طباعت ١٤٠٨ھ

جس نے علی کو دوست رکھا ، اس نے مجھے دوست رکھا اور جس نے مجھے دوست رکھا ، اس نے خدا کو دوست رکھا اور جس نے علی سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی گویااس نے خدا سے دشمنی کی۔(١) ابن جوزی بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اے علی ! تم جنت اور جہنم کو تقسیم کرنے والے ہو، تم جنت کے دروازہ کوکھولوگے اور بغیر حساب داخل ہوجاؤ گے ،(٢) کتاب مناقب خوارزمی میں جناب ابن عباس سے نقل ہواہے کہ رسو ل خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : جب مجھے معراج پر لے جا یا گیا ،تو میں نے جنت کے دروازہ پر لکھا ہوا دیکھا:لاالہ الااللّہ ، محمد رسول اللّہ ،علی حبیب اللّہ ،الحسن والحسین صفوة اللّہ،فاطمة امة اللّہ،علیٰ مبغضھم لعنة اللّہ (١) زبیر بن بکار جو زبیر کے پوتے ہیں اور حضرت علی سے انحراف اختیار کرنے میں مشہور ہیں ، بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور میری نبوت کو قبول کیا ،میں انہیں علی بن ابیطالب علیہماالسلام کی ولایت اور دوستی کی وصیت کرتا ہوں ، جس نے انہیں دوست رکھا، اس نے مجھے ............

(١)صواعق محرقہ ص١٢٣، ہیثمی مکی (٢)ہیثمی مکی الصواعق المحرقہ ، ص ١٢٣،تذکرة الخواص،ص ٢٠٩، سبط ابن جوزی طبع ، منشورات مطبعہ حیدریہ نجف اشرف ١٣٨٣ (٣) مناقب ، ص ٢١٤ ، اخطب خوارزمی ١٣٨٥

دوست رکھا اور جس نے مجھے دوست رکھا ،اس نے خدا کود وست رکھا(١) ابن ابی الحدید ، زید بن ارقم سے نقل کرتے ہیںکہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں اس چیز کی طرف راہنمائی کررہا ہوں کہ اگر جان لو گے تو ہلاک نہیںہوگے ، تمہارے امام علی بن ابی طالب( علیہماالسلام )ہیں ،ان کی تصدیق کر وکہ جناب جبرئیل نے مجھے اس طرح خبر دی ہے ۔ ابن ابی الحدید معتزلی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں اگرلوگ کہیں کہ یہ حدیث صریحی طور پر حضرت علی کی امامت پر دلالت کرتی ہے توپھر معتزلہ کس طرح اس اشکال کو حل کریں گے ؟ ہم جواب میں کہتے ہیں :ہوسکتاہے کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مراد یہ ہو کہ حضرت علی فتویٰ دینے اور احکام شرعی میں لوگوں کے امام ہیں ، نہ کہ خلافت کے سلسلہ میں ، جس طرح ہم نے بغدادی علمائے معتزلہ کے اقوال کی شرح میںجو بات کہی ہے وہ (اس اشکال کا ) جواب ہوسکتی ہے ،جس کا خلاصہ یہ ہے: در حقیقت امامت و خلافت حضرت علی کا حق تھا ، اس شرط کے ساتھ کہ آنجناب اس کی طرف میل و رغبت کا اظہار کرتے اور اس کی خاطر دوسروں کے مد مقابل آجاتے لیکن چونکہ آپ نے اس عہدہ امامت و خلافت کو دوسروں پر چھوڑکر سکوت اختیار کیا،لہذا ہم نے ان کی ولایت و سر براہی کو قبول کرتے ہوئے ان کی خلافت کے صحیح ہونے کا اقرار ............

(١) الاخبار الموفقیات ، انتشارات الشریف الرضی ، قم، ١٤١٦ھ ص٣١٢

واعتراف کرلیا ،چنانچہ حضرت علی نے خلفائے ثلاثہ کی مخالفت نہیں کی اور ان کے مقابلہ میں تلوار نہیں اٹھائی اور نہ ہی لوگوں کو ان کے خلاف بھڑ کایا ، پس آپ کا یہ عمل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ نے ان کی خلافت کی تصدیق کی، اسی وجہ سے ہم ان کو قبول کرتے ہیں اور ان کے بے قصور ہونے اور ان کے حق میں خیر وصلاح کے قائل ہیں،ورنہ اگر حضرت علی ا ن حضرات سے جنگ کرتے اور ان کے خلاف تلوار اٹھا لیتے اور ان سے جنگ کرنے کے لئے لوگوں کو دعوت دیتے تو ہم بھی ان کے فاسق و فاجر اور گمراہ ہونے کا اقرار و اعتراف کرلیتے (١)

شیعوں کے دوسرے نام[لکھو]

حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے بعد جب تشیع وسیع تر ہوئی تو شیعہ نام کے علاوہ آہستہ آہستہ اور دوسرے عناوین جیسے علوی ،امامی ،حسینی ،اثنا عشری ،خاصہ، جعفری ترابی ، رافضی، خاندان رسالت کے دوستوں کے لئے استعمال ہونے لگے اگر چہ عام طور پر اہل بیت کے دوستوں کو شیعہ ہی کہتے تھے، یہ القاب اور عناوین مختلف مناسبتوں سے شیعوں کے متعلق کہے گئے کبھی مخالفین یہ القاب شیعوں کی سرزنش اور ان کو تحقیر کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے، چنانچہ معاویہ کے زمانے میں بنی امیہ اور اہل شام علی کے القاب اور کنیت میںسے آپ کو ابو تراب اور آپ کے شیعوں کو ترابی کہتے تھے ،معاویہ نے صفین

(١)شرح نہج البلاغہ ،ج ٣ ، ص ٩٨ ابن ابی الحدید معتزلی ،طبع ، دار الاحیاء الکتب العربیة مصر،طباعت اول، ١٣٧٨ھ ق اورحکمیت کے بعد جب عبداللہ بن خزرمی کو بصرہ بھیجنا چاہاتو تمام قبیلوں کے بارے میں اس نے بہت تاکید کی لیکن قبیلہ ربیعہ کے بارے میں کہا کہ:ربیعہ کو چھوڑواس لئے کہ اس کے تمام افراد ترابی ہیں۔(١) مسعودی کے بقول ابو مخنف کے پاس ایک کتاب تھی جسکا نام اخبار الترابیین تھا، مسعودی اس کتاب سے نقل کرتا ہے کہ جس میں ( عین الورد کے حوادث)کا تذکرہ کیا گیا ہے۔(٢) رافضی عنوان کو مخالفین، شیعوں پر اطلاق کرتے تھے اور اکثر جب کسی کو چاہتے تھے کہ اس پر دین کو چھوڑنے کی تہمت لگائیں تو اس کورافضی کہتے تھے ۔ چنانچہ شافعی کہتے ہیں:

ان کان رفضاً حب آل محمدٍ
فلیشہد الثقلان انی رافضی

یعنی اگر آل محمد علیہم السلام کی دوستی رفض ہے تو جن وانس گواہ رہیں کہ میں رافضی ہوں ۔(٣)(٤)

تاریخ میں آیا ہے کہ زید بن علی کے قیام کے بعد شیعوں کو رافضی کہا جاتا تھا، ............

(١) بلاذری ،انساب الاشراف ،منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات ،بیروت ،١٣٩٤ھ ج ٢ ص٤٢٣ (٢)مسعودی ،مروج الذہب ،منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات،بیروت، ١٤١١ھ ج٣ ص١٥ (٣)ہیثمی مکی ،الصواعق المحرقہ ص ١٢٣، (٤)الامین ،سید محسن ،اعیا ن الشیعہ،دارالتعارف للمطبوعات ،بیروت ،ج١، ص٢١

شہرستانی کہتا ہے: جس وقت شیعیان کوفہ نے زید بن علی سے سنا کہ وہ شیخین پر تبرّا نہیں کرتے اور افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کی امامت کو جائز جانتے ہیں تو ان کو چھوڑ دیا اوروہ اسی وجہ سے رافضی کہلانے لگے، کیونکہ رفض کے معنیٰ چھوڑنے کے ہیں۔(١)

علوی لقب کے بارے میں سید محسن امین لکھتے ہیں :عثمان کے قتل نیز معاویہ کے حضرت علی سے برسر پیکار ہونے کے بعد معاویہ کی پیروی کرنے والوں کو عثمانی کہا جاتا تھا کیونکہ وہ عثمان کو دوست رکھتے تھے اورحضرت علی سے نفرت کرتے تھے اور حضرت علی کے چاہنے والوں پر شیعہ کے علاوہ علوی ہونے کا بھی اطلاق ہوتا ہے اور یہ طریقۂ کار بنی امیہ کے دور حکومت کے آخر تک جاری رہا اور عباسیوں کے زمانے میںعلوی اور عثمانی نام منسوخ ہو گئے اور صرف شیعہ اور سنی استعمال ہو نے لگا،(٢) شیعوں کے لئے دوسرا نام امامی تھا جو زیدیوں کے مقابلے میں بولا جاتا تھا۔

چنانچہ ابن خلدون لکھتا ہے: بعض شیعہ اس بات کے قائل ہیں کہ روایات صریح دلالت کرتی ہیں کہ امامت صرف علی کی ذات میں منحصر ہے اور یہ امامت ان کے بعد ان کی اولاد میں منتقل ہو جائے گی ،یہ لوگ امامیہ ہیں اور شیخین سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں کیوںکہ انہوںنے علی کو مقدم نہیں کیا اور ان کی بیعت نہیں کی ،یہ لوگ ابو بکر اور عمر کی امامت کو قبول نہیں کرتے ہیںاور بعض شیعہ اس بات کے قائل ہیں کہ پیغمبر ۖ نے اپنی جگہ پر کسی کو معین نہیں کیا بلکہ ............

(١)شہرستانی ،ملل و نحل، منشورات شریف الرضی ،قم ،١٣٦٤ ھ ج: ١، ص١٣٩ (٢) امین ،سید محسن ،اعیان الشیعہ ص١٩

امام کے اوصاف بیان کردیئے کہ جوصرف امام علی پر منطبق ہوتے ہیں اور یہ لوگوں کی کو تاہی تھی کہ انہوںنے ان کو نہیں پہچانا ،وہ لوگ جو شیخین کو برا نہیںکہتے ہیں وہ فرقہ زیدیہ میں سے ہیں۔(١)

امام اور ان کے اصحاب کی شہادت کے بعد جوا شعار کہے گئے ہیں اور ابھی تک باقی ہیں ان سے بخوبی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ امام مظلوم کی شہادت کے بعد ان کے شیعوں کو حسینی بھی کہا جاتا تھا، ان لوگوں نے اپنے کو اکثر اشعار میں حسینی اور دین حسین پر اپنے آ پ کو پہچنوایاہے۔(٢)

ابن حزم اندلسی اس بارے میں کہتے ہیں : رافضیوں میں سے کچھ حسینی ہیں کہ جو ابراہیم (ابن مالک)اشتر کے اصحاب میں سے ہیں کہ جو کوفہ کی گلیوں میں گھومتے پھرتے تھے اور یا لثارات الحسین کا نعرہ لگاتے تھے ان کو (حسینی) کہا جاتا تھا۔(٣)

لیکن قطعیہ کانام امام موسیٰ کاظم کی شھادت کے بعد واقفیہ کے مقابلہ میں شیعوں پر اطلاق ہوتا تھایعنی ان لوگوں نے امام موسیٰ کاظم کی شہادت کا قاطعیت کے ساتھ یقین کرلیا تھا اور امام رضا اور ان کے بعد آنے والے اماموں کی امامت کے قائل ہوگئے تھے جب کہ واقفیہ امام موسیٰ کاظم کی شہادت کے قائل نہ تھے۔(٤) ............

(١)ابن خلدون ،مقدمہ ،دار احیاء ا لتراث العربی،بیروت،١٤٠٨ھ ص١٩٧ (٢)ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب ،مؤسسہ انتشارات علامہ ،قم ،ج٤،ص١٠٢ (٣)عبد ربہ اندلسی ،العقد الفرید، دار احیاء التراث العربی، بیروت ،١٤٠٩ھ ج٢ ،ص٢٣٤ (٤)شہرستانی ،ملل و نحل ،ص ١٥٠

آج جعفریہ کالقب،فقہی اعتبار سے زیادہ تر اہل سنت کے چار مذاہب کے مقابل میں استعمال ہوتا ہے کیو نکہ فقہ شیعہ امام جعفر صادق کے توسط سے زیادہ شیعوں تک پہنچی ہے اور زیادہ تر روایتیں بھی امام جعفرصادق سے نقل ہوئی ہیں، لیکن سید حمیری کے شعر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کلمۂ جعفری کانہ صرف فقہی لحاظ سے امام صادق کے زمانہ میں شیعوں پر اطلاق ہوتا تھا بلکہ اصولی لحاظ سے بھی تمام فرقوں کے مقابلہ میںیہ نام استعمال ہوا ہے، سیدحمیری اپنے شعر میں کہتے ہیں۔

تجعفرت باسم اللہ واللہ اکبر

میں خدا کے نام سے جعفری ہو گیا ہوں اور خدا وند متعال بزرگ ہے ۔(١)

سید حمیری کا مقصد جعفری ہونے سے فرقۂ حقہ شیعہ اثنا عشری کے راستہ پر چلنا ہے کہ جو کیسانیہ کے مقابلہ میں ذکر ہوا ہے۔ ............

(١)مسعودی ،علی بن حسین ،مروج الذھب منشورات مؤسسةالاعلمی،ج:٣،ص٩٢

شیعہ کب وجود میں آئے؟[لکھو]

اس طرح کا سوال کلامی اور فقہی فرقوں کے بارے میں کیا جاتا ہے مثال کے طور پر یہ پوچھا جاتا ہے کہ فرقہ اشعری کب وجود میں آیا؟ یا فرقہ معتزلہ کب وجود میں آیا؟ یا مثلا فرقہ حنبلی یا شافعی کب وجود میں آیا؟ اس طرح کے سوالوں کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فرقہ اشعری چوتھی صدی ہجری قمری میں ابوالحسن اشعری کے ذریعے وجود میں آیا معتزلہ کی واصل بن عطا نے دوسری صدی ہجری میں بنیاد رکھی۔ اسی طرح فقہی مذاہب کے بارے میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ حنفی مذھب ابو حنیفہ کے ذریعے دوسری صدی ہجری میں اور شافعی مذھب محمد بن ادریس شافعی کے ذریعے تیسری صدی ہجری میں وجود میں آیا۔

لیکن شیعت کے بارے میں یہ سوال کرنا ہی درست نہیں ہے چونکہ شیعہ کوئی ایسا فرقہ نہیں ہے جو بعد میں کسی ایک شخصیت کے ذریعے وجود میں آیا ہو بلکہ شیعت وہی اسلام ہے جسے مرسل اعظم حضرت محمد مصطفیٰ(ص) لے کر آئے تھے شیعت وہی اسلام ہے جو پیغمبر اکرم (ص) کے بعد امامت اور ولایت کی صورت میں اسلامی سماج کی رہبریت کے لیے آگے بڑھا۔ یہ وہ طریقہ کار ہے جس کا حکم خود خداوند متعال نے دیا اور رسول اسلام(ص) نے اس کا اعلان فرما کر اپنی آنکھ بند کر لی۔ یہ ایک ایسی بنیادی اصل ہے جس پر اسلام کی بقا ہے جس سے اسلام کا تشخص باقی ہے اور اسی حقیقی اور محمدی(ص) اسلام کا دوسرا نام تشیع یا شیعت ہے۔ اسلام کے اس دوسرے نام کا تذکرہ بھی خود زبان مبارک رسول سے ہوا اور بہت سارے اصحاب نے اسی الہی اور محمدی(ص) طریقہ کار کو آپ(ص) کی رحلت کے فورا بعد اپنایا اور اسی پر تا حیات باقی رہے یہ وہ اصحاب تھے جنہیں خود رسول اسلام(ص) نے شیعہ ہونے کا لقب دیا تھا اور درحقیقت پیغمراسلام(ص) انہی اصحاب کے ذریعے اسلام کے دوسرے نام کو تشیع کی صورت میں پہچنوا رہے تھے۔ لیکن اس کے برخلاف بعض صحابہ ایسے بھی تھے جنہوں نے رسول اسلام(ص) کے ذریعے بیان کئے ہوئے اس بنیادی اصول کو نظر انداز کر دیا اور خلافت و جانشینی رسول کے مقام پر زبردستی قبضہ جما لیا اور لوگوں کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ بجائے اس کے کہ رسول کے حقیقی جانشین کی رہبریت کو قبول کریں ان کی خلافت پر ایمان لائیں اور ان کی بیعت کریں۔

شیعت اس معنی میں خود اسلام کا حصہ بلکہ حقیقی اسلام ہے اور یہ اصول یعنی رسول کی جانشینی کا تعین ’’من جانب اللہ‘‘ ہونا چاہیے اسلام کی تعلیمات کا حصہ ہے اور خود رسول اسلام (ص) نے ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اپنے جانشین کا اعلان اپنی حیات مبارکہ میں کر دیا تھا۔

انتخاب رہبر کے طریقے پر عقلی تجزیہ[لکھو]

جب بھی احادیث اور تاریخی کی کتابوں کی چھان بین کرتے ہیں تو سب سے زیادہ ہمیں اسلامی حکومت کے طریقہ کار کے بارے میں گفتگو ملتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا ییغمبر اسلام (ص) نے اپنے بعد امت اسلامی کی حکمرانی کی باگ ڈور کسی ایک شخص کے حوالے کی یا یہ وظیفہ خود امت کے حوالے کر دیا؟

تاریخی، احادیثی اور اعتقادی کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے بعد امت کی رہبری امر الہی سے ایک خاص شخص کے حوالے کی اور یہ سنگین وظیفہ امت کے حوالے نہیں کیا۔ اس لیے کہ جب پیغمبر اسلام نے دنیا سے رحلت فرمائی تو تین طرح کے طاقتور دشمن امت کی تاک میں بیٹھے تھے مشرق کی جانب سے آتش پرست مجوس، مغرب کی جانب رومی عیسائی اور خود اسلام کے اندر منافقین کا گروہ جو ہر لمحہ اسلام کی نابودی کے لیے کوشاں تھے۔

ایسے عالم میں پیغمبر گرامی اسلام کی کیا ذمہ داری بنتی تھی؟ کیا اسلامی سماج کے لیے کسی عالم، شجاع، زاہد اور رہبریت کے قابل شخص کو معین اور مقرر فرما کر اسلام کو در پیش آنے والے خطرات سے بچائیں یا اس کام کو امت کے حوالے کردیں اور امت خود اپنا رہبر بھی مقرر کرے اور مشکلات کے ساتھ دست و پنچہ بھی نرم کرے؟ اور اس کے ساتھ ساتھ خود اس مسئلہ میں امت پاش پاش ہو کر رہ جائے۔ اس لیے امت کی رہبریت کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں تھا خلافت اور حکمرانی کا مسئلہ کوئی چھوٹا سا مسئلہ نہیں تھا جس کے پاس سے مسلمان آسانی سے گذر جاتے اور حکمرانی کی خواہش دل سے نکال دیتے بلکہ اس کے برخلاف پیغمبر اسلام(ص) بخوبی یہ جانتے تھے کہ ان کی بزم میں بیٹھنے والے دسیوں ایسے کلمہ گو موجود ہیں جو صرف اس تاک میں ہیں کہ کب پیغمبر کی آنکھیں بند ہوں اور خلافت کی کرسی پر جھپٹا جائے۔ ایسے میں ایک معمولی سی عقل رکھنے والا انسان خود ہی فیصلہ کر سکتا ہے کہ پیغمبر کو کیا کرنا چاہیے؟ اگر ایک معمولی انسان بخوبی فیصلہ کر سکتا ہے تو کیا عقلِ کُل رکھنے والا یہ فیصلہ نہیں کر سکتا؟

دوسرے لفظوں میں بعد پیغمبر حاکم اسلامی کے تعین کے لیے دو ہی راستے ہیں ایک تنصیص دوسرا انتخاب۔ تنصیص یعنی خود پیغمبر اپنا جانشین مقرر کریں۔ انتخاب یعنی مہاجرین اور انصار پیغمبر کا جانشین انتخاب کریں۔ ان دو راستوں کے پیش نظر اگر پیغمبر اسلام(ص) کی موقعیت کو نزدیک سے تحقیق کریں تو تین صورتیں سامنے آتی ہیں:

  • ۱: پیغمبر نے اپنے جانشین کو مقرر کرنے کے حوالے سے کوئی بات نہ کی ہو۔
  • ۲: پیغمبر نے اپنے جانشین کے تعین کا طریقہ بتا کر اسے شوریٰ کے سپرد کر دیا ہو تاکہ وہ جسے چاہیں انتخاب کر لیں۔
  • ۳: اپنے تربیت کردہ افراد میں سے کسی ایک کو اپنا جانشین خود مقرر کر دیں۔

پہلی صورت دین اسلام کے جامع، کامل اور قیامت تک باقی رہنے والے دین کے اعتبار سے اس کے ساتھ سازگاری نہیں رکھتی اس لیے کہ اسلام ایک انفرادی دین نہیں ہے اسلام کسی ایک شعبہ زندگی سے مخصوص نہیں ہے یہ ایسا جامع اور کامل دین ہے جس میں دنیا کا ہر خشک وتر موجود ہے لہذا ممکن نہیں ہے کہ اس کا لانے والا اس کی بقا کی نسبت ایک غیر منطقی رویہ اختیار کرے اور خاموشی سے کام لے۔

دوسری صورت کسی حد تک قابل قبول ہے کہ پیغمبر اپنے جانشین کے حوالے سے مثبت دید رکھتے ہوں لیکن اس کے اںتخاب کو شوریٰ پر چھوڑ دیں لیکن ایسی صورت میں پیغمبر کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی گفتگو میں اس بات کی طرف اشارہ کریں اور شوریٰ کے شرائط اور قوانین معین فرمائیں مسلمانوں کو یہ چیز سکھانے کے لئے زندگی میں کبھی ایک بار اسے عملی طور پر انجام دے کر بتائیں کہ شوریٰ یہ ہوتی ہے اس کے شرائط یہ ہوتے ہیں اور اس کے ذریعے اس طرح رہبر کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ حالانکہ پیغمبر اکرم(ص) کی پوری زندگی اور ان کی تمام تر احادیث چھان مارنے کے بعد کوئی بھی ایسی چیز نظر نہیں آتی حتی اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ ایسا ہوا اور جانشین کو انتخاب کرنے کا طریقہ صرف شوریٰ پر منحصر کر دیا گیا توایسی صورت میں یہ سلسلہ ہمیشہ قائم رہنا چاہیے تھا اور قیامت تک آنے والے خلفائے اسلام اسی طریقہ کار سے انتخاب ہونا چاہیے تھے جبکہ ایسا صرف پہلی بار ہوا اور خلیفہ اول نے اپنی زندگی کے اختتام پر اس طریقے پر عمل نہیں کیا اور اپنے جانشین کو خود مقرر کر دیا۔ فرض کریں اگر حکم رسول یا سنت رسول یا تاکید رسول شوریٰ کے ذریعے جانشین انتخاب کرنے پر تھی تو پہلے ہی خلیفہ نے کیوں اس سنت کو توڑ دیا؟

اسلام میں حکومت کا مسئلہ اتنا سادہ اور آسان مسئلہ نہیں ہے کہ ایک جملے «وَأَمْرُهُمْ شُورى بَيْنَهُمْ» سے حل و فصل ہو جائے۔

واضح سی بات ہے کہ تیسری صورت ہی گزشتہ دو صورتوں میں سے قابل قبول ہے اور اتفاق سے پیغمبر اسلام(ص) کی دسیوں معتبر حدیثیں اسے نظریے کی تائید کرتی ہیں کہ خود پیغمبر اسلام(ص) نے اپنا جانشین اپنی حیات مبارکہ میں مقرر فرمایا۔

یہاں پر ہم چند ایک ان احادیث کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن میں خود رسول اسلام نے لفظ شیعہ کو اپنی زبان مبارک پر جاری فرما کر اس فرقے کا تعارف کروایا: اکثر شیعہ و سنی محدثین اور مفسرین کا کہنا ہے کہ جب قرآن کریم کے سورہ بینہ کی یہ آیت «إِنَّ الّذينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّالِحات أُولئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيّة» نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت علی علیہ السلام کی رخ کر کے فرمایا:

’’ اس آیت سے مراد آپ اور آپ کے شیعہ ہیں جو قیامت میں راضی ہوں گے اور خدا ان سے راضی ہو گا‘‘۔

اسی ملتی جھلتی دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے اس مقام پر حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: ’’ اس سے مراد آپ اور آپ کے شیعہ ہیں جو قیامت میں حوض کوثر پر اس وقت مجھ پر وارد ہوں گے جب تمام امتیں اپنا حساب کروانے وہاں آئیں گی، آپ کو بلایا جائے گا اس حال میں آپ کی پیشانی سے نور چمک رہا ہو گا۔‘‘

گزشتہ دو احادیثیں ان تمام حدیثوں کا خلاصہ ہیں جو اس آیت کے ذیل میں رسول اسلام (ص) سے مختلف کتابوں میں نقل ہوئی ہیں بنعوان مثال چند کتابوں کا حوالہ یہاں ملاحظہ کر لیں(الدر المنثور، ج6، ص 589; الصواعق المحرقه، ص 161; نهايه ابن اثير، ماده قمح، ج4، ص 106; مناقب ابن مغازلي، ص 293; و غيرہ)

لہذا علی علیہ السلام کے پیروکاروں کو شیعہ کا نام خود رسول اسلام (ص) نے دیا اور انہیں خیر البریہ یعنی بہترین مخلوق کا مصداق قرار دیا جو خود اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کے بعد حق بجانب کون سا فرقہ ہے اور حقیقی اسلام کے وارث کون لوگ ہیں؟

امامت، تسلسل نبوت[لکھو]

اس میں کوئی شک نہیں کہ مقام امامت اور مقام نبوت کے درمیان فرق پایا جاتا ہے۔ پیغمبر پر وحی ہوتی ہے اور وہ دین کا موسس اور اس کی بنیاد رکھنے والا ہوتا ہے جبکہ امام نہ ہی وحی حاصل کرتا ہے اور نہ ہی کسی دین کی بنیاد رکھ سکتا ہے بلکہ صرف ان وظائف کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے جو اس سے ماقبل رسول یا نبی نے معین کئے ہوتے ہیں۔ بنابرایں امامت نبوت کا تسلسل ہوتی ہے اور امام بعدِ نبی اسلامی مملکت کے تمام اجتماعی، انفرادی، دنیوی اور اخروی امور کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس اصول کے پیش نظر جب رسول ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفیٰ (ص) نے روز اول دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر اعلان رسالت کیا تواسی دن اپنے جانشین اور خلیفہ کو مقرر کر دیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نبوت اور امامت ہمزاد ہیں امامت نبوت کا تسلسل ہے اور دونوں عہدے الہی عہدے ہیں اور دونوں وحی الہی کے ذریعے ہی مقرر ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے ائمہ معصومین (ع) کی امامت کے قائلین اس بات کے معتقد ہیں کہ ائمہ معصومین (ع) منصوص من جانب اللہ ہیں اور ان کی اطاعت رسول اور خدا کی اطاعت ہے۔ شیعت کا یہی طرہ امتیاز ہے کہ یہ اسلام ناب محمدی (ص) ہے جس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہوئی جس میں اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کسی کی رائے شامل نہیں ہوئی جس کو انہوں نے مقرر کیا تشیع نے اسی کو مانا، جس کی اطاعت کا حکم اللہ اور رسول نے دیا اسی کی اطاعت کی اور یہ جانشین رسول کی اطاعت کا حکم اسی دن مل گیا تھا جس نے اعلان رسالت ہوا تھا۔ لہذا یہ بات بالکل غلط ہے کہ کوئی یہ کہے کہ مذہب تشیع بعد کی پیداوار ہے[۱۳]


صحابہ کے درمیان حضرت علی کا مقام[لکھو]

حضرت علی کا اصحاب پیغمبر ۖکے درمیان ایک خاص مقام ہے ،مسعودی کہتا ہے: وہ تمام فضائل و مناقب جو اصحاب پیغمبرۖ میں تھے جیسے اسلام میں سبقت ، ہجرت ،نصرت پیغمبرۖ،آنحضرتۖ کے ساتھ قرابت ،قناعت ،ایثار ، کتاب خدا کا جاننا ،جھاد، تقویٰ، ورع پرہیز گاری ، زہد،قضا،فقہ وغیرہ یہ تمام فضیلتیں حضرت علی میں بدرجہ اتم موجود تھیں بلکہ ان کے علاوہ بعض فضیلتیں صرف آپ کی ذات گرامی سے مختص ہیں جیسے پیغمبر ۖ کابھائی ہونا اور پیغمبر ۖ کا آپ کے بارے میں فرمانا: یا علی: تم کومجھ سے و ہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، اور یہ بھی کہ جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں ، اے اللہ !علی کے دوستوں کودوست رکھ اور علی کے دشمن کو دشمن قراردے اور جب انس بھنے ہوئے پرندے کو لے کر حاضر ہوئے تو پیغمبر ۖنے دعاکی: پرور دگار ا!پنی محبوب ترین مخلوق کو بھیج تاکہ وہ میرے ساتھ کھا نا کھائے اس وقت حضرت علی وارد ہوئے اورآپ نے پیغمبر ۖ کے ساتھ کھانا کھایا ، جب کہ پیغمبر ۖکے تمام اصحاب ان فضائل سے محروم تھے۔(١)

بنی ہاشم میں بھی حضرت علی پیغمبر ۖسے سب سے زیادہ نزدیک تھے بچپنے ہی سے آپ نے پیغمبرۖ کے گھر اور انھیں کے زیر نظر تربیت پائی۔(٢)

آپ شب ہجرت پیغمبرۖ کے بستر پر سوئے اور پیغمبرۖ کی امانتوں کو صاحبان امانت تک پہنچایااور مدینہ میں آپ سے ملحق ہوئے ۔(٣)

ان سب سے اہم بات یہ ہے کہ رسول خدۖا نے اسلام میں حضرت علی کے مقام کو آغاز پیغمبری ہی میں معین فرمادیاتھا، جس وقت پیغمبر ۖ کوحکم ہو ا کہ اپنے قرابت داروں کو ڈرائیں اس جلسہ میں جو پیغمبرۖ کی مدد کے لئے حاضر ہوئے وہ صرف علی تھے اس کے بعد رسول ۖنے اسی جلسہ میں خاندان کے بزرگوں کے درمیان یہ اعلان کردیا کہ ............

(١)مسعودی ، علی بن حسین مروج الذھب ، موسسة الاعلمی ، للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ھج ٢ ص٤٤٦ (٢)ابوالفرج اصفہانی ،مقتل الطالبین ،منشورات شریف الرضی ،قم ١٤١٦ھ ص٤١ (٣)مسعودی ،علی بن حسین ، مروج الذہب ،ص٢٩٤

علی میرے وصی وزیر ،خلیفہ اور جا نشین ہیں جب کہ حضرت علی کا سن تمام حاضرین سے کم تھا(١)

پیغمبر اکرمۖ نے مختلف مقامات پر مناسبت کے لحاظ سے حضرت علی کی موقعیت اور ان کے مقام کو لوگوںکے سامنے بیان کیا ہے اور ان کے مقام کے لئے خاص تاکید کی ہے، خاص طور پر اسلام کے پھیلنے کے بعد کافی لوگ جو مسلمانوں کے لباس میں آگئے تھے خصوصاًقریش کا حسد خاندان بنی ہاشم و رسالت سے کافی زیادہ ہوچکا تھا ، ابن شہر آشوب نے عمر بن خطاب سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں:

میں علی کو اذیت دے رہا تھا کہ پیغمبر ۖسے ملاقا ت ہوگئی تو آپ نے فرمایا: اے عمر! تونے مجھے اذ یت دی ہے عمر نے کہا : خدا کی پناہ کہ میں اللہ کے رسول کو اذیت دوں،آپ نے فرمایا تونے علی کو اذیت دی ہے اور جس نے علی کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی ۔

مصعب بن سعدنے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص سے نقل کیا ہے وہ کہتا ہے : میںاور ایک دوسرا شخص مسجد میںعلی کو برا بھلا کہہ رہے تھے، پیغمبر ۖ غضب ناک حالت میں ہماری طرف آئے اورفرمایا :کیو ں مجھ کو اذیت دے رہے ہو جس نے علی کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی ۔

ہیثمی نقل کرتا ہے: بریدہ اسلمی ان لو گوںمیںسے ہے کہ جو حضرت علی کی سپہ سالاری میں یمن گئے تھے وہ کہتا ہے کہ میں لشکر سے پہلے مدینہ واپس آگیا لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا خبر ہے؟میں نے کہا : خبریہ ہے کہ خدا نے مسلمانوں کو کامیاب کردیاہے پھر لوگوں ............

(١)یوسفی غروی ،محمد ہادی ،موسوعة التاریخ الاسلامی ،مجمع الفکرالاسلامی ،قم ،طبع اول ١٤١٧ھ ج١ ص٤١٠

نے دریافت کیا کہ تو تم کیوں پہلے واپس آگئے؟میں نے کہا : علی نے ایک کنیز خمس میں سے اپنے لئے مخصوص کرلی ہے میںآیاہوں تاکہ اس بات کی خبر پیغمبر ۖ کو دوں ، جس وقت یہ خبر پیغمبرۖ تک پہنچی تو پیغمبرۖ ناراض ہوئے اور آپۖ نے فرمایا: آخرکیوں کچھ لوگ علی کے بارے میں چوںچرا کرتے ہیں جس نے علی پر اعتراض کیا اس نے مجھ پر اعتراض کیا ہے جو علی سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہو ا، علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں،وہ میری سرشت سے خلق ہوئے ہیں اور میں سرشت ابراہیم سے، اگرچہ میںابراہیم سے افضل ہوں،اے بریدہ! کیا تم نہیں جانتے کہ علی ایک کنیزسے زیادہ کے مستحق ہیںاور وہ میرے بعد تمہارے ولی ہیں۔(١)

ابن شہر آشوب نے بھی اس طرح کی حدیث محدثان اہل سنت سے نقل کی ہے جیسے تر مذی ،ابو نعیم ،بخاری و موصلی وغیرہ۔(٢)

ابن شہر آشوب انس بن مالک سے نقل کرتے ہیں :

رسول اسلام ۖکے زمانہ میں اگر کسی کو پہچاننا چاہتے تھے کہ کون حرام زادہ ہے اور کون حرام زادہ نہیںہے تو اس کو علی بن ابی طالب کے بغض سے پہچانتے تھے ،جنگ خیبر کے بعد لوگ اپنے بچوں کو اپنی آغوش میںلئے ہوئے جاتے تھے جب راستہ میں علی کو دیکھتے تھے اوروہ ہاتھوں سے حضرت علی کی طرف اشارہ کرتے تھے اور بچہ سے پوچھتے تھے کہ اس شخص ............

(١)ہیثمی ،نورالدین علی بن ابی بکر ،مجمع الزوائد، دار الفکر للطباعةوالنشر التوزیع،بیروت ١٤١٤ھ ، ج٩، ص١٧٣ (٢) ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ،ص،١١ ٢۔٢١٢

کو دوست رکھتے ہو اگر بچہ نے کہا: ہاں تو اس کا بوسہ لیتے تھے اور اگروہ کہتاتھا نہیں ، تو اس کو زمین پراتاردیتے اور کہتے کہ اپنی ماں کے پاس چلے جائو،عبادہ بن صامت کا بھی کہناہے: ہم اپنی اولادکو بھی علی بن ابی طالب کی محبت پر آزماتے تھے اگر دیکھتے تھے کہ ان میںسے کوئی ایک بھی حضرت علی کو دوست نہیں رکھتاتو سمجھ لیتے تھے کہ یہ نجات یافتہ نہیں ہو سکتا ۔(١)

پیغمبر اکرمۖ کی عمر کے آخری سال گزرنے کے ساتھ ساتھ مولا علی کی جانشینی کا مسئلہ عمومی تر ہوتا گیا اور اس قدر عام ہو ا کہ لقب وصی حضرت علی سے مخصو ص ہو گیا جس کو دوست و دشمن سبھی قبول کرتے تھے خاص کر رسول اکرم ۖ نے تبوک جانے سے پہلے حضرت علی سے فرمایا: اے علی !تم میرے لئے ایسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لئے تھے لیکن فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حجةالوداع کے موقع پر بھی پیغمبر ۖ نے منیٰ و عرفات کے میدان میں اپنی تقریر وں کے ذریعہ لوگو ں کے کانوں تک یہ بات پہنچا دی تھی کہ میرے بارہ جانشین ہوں گے جو سب کے سب بنی ہاشم سے ہوں گے۔(٢)

بالآخر مکہ سے واپسی پرغدیر خم کے میدان میں خدا کا حکم آیاکہ تمام مسلمانوں کے درمیان علی کی جانشینی کا اعلان کردیں ،رسول اکرم ۖنے ،مسلمانوں کو ٹھہرنے کا حکم دیا اور اونٹ کے کجاؤںکے منبر پر تشریف لے گئے اورمفصل تقریر کے بعد فرمایا: ............

(١) ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ،ص،٢٠٧ (٢)مرتضیٰ عاملی ،سید جعفر ،الغدیروالمعارضون ،دار السیر، بیروت ،١٤١٧ھ ص٦٢۔٦٦

(من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ اللہم وال من والاہ و عاد من عاداہ وانصر من نصرہ واخذل من خذلہ) اس کے بعد لوگوں کو حکم دیا کہ علی کی بیعت کریں اس مطلب کی تفصیل علامہ امینی نے الغدیر کی پہلی جلد میں بیان کی ہے ،رسول خداۖ نے مسلمانوں میں اعلان کر دیا کہ کون میرا جانشین ہے اسی بنا پر لوگوں کو یقین تھا کہ پیغمبر ۖ کی وفات کے بعد علی ان کے جانشین ہوں گے، زبیر بن بکار اس سلسلے میں لکھتا ہے :

تمام مہاجرین اور انصار کو اس بارے میں بالکل شک نہیں تھا کہ رسول خدۖا کی وفات کے بعد حضرت علی خلیفہ اور صاحب الامر ہوںگے۔(١)

یہ مطلب زمانۂ سقیفہ کے اشعار سے بخوبی آشکار ہے اور یہ اشعار اس مطلب پر دلیل ہیں جب کہ ان اشعار میں مختصر سی تحریف ہوئی ہے عتبہ بن ابی لہب نے سقیفہ کے واقعہ کے بعداور ابوبکر کے خلیفہ بن جانے کے بعد اس طرح اشعار پڑھے ہیں ۔

ما کنت احسب ان الأمر منصرف
عن ہاشم ثم منہا عن ابی حسن

میں نے اس بات کا گمان بھی نہیں کیا تھا کہ خلافت کو بنی ہاشم اور ان کے درمیان ابوالحسن یعنی حضرت علی سے چھین لیںگے۔

الیس اول من صلّی لقبلتکم
و اعلم الناس بالقرآن و السنن

............

(١) زبیر بن بکار، الاخبار الموفقیات ،منشورات شریف الرضی،قم ،١٤١٦ھ ،ص٥٨

کیاوہ سب سے پہلے شخص نہیں ہیںجنہوںنے تمہارے قبلہ کی طرف نماز پڑھی اور لوگوں میں قرآن و سنت کو سمجھنے میں سب سے دانا ہیں۔

و اقرب الناس عہداً باالنبی ۖ و من
جبرئیل عون لہ فی الغسل و الکفن

وہ لوگوں میں سب سے آخری شخص ہیںجس نے پیغمبر ۖ کے چہرے پر نگاہ کی ، جبرئیل آنحضرت کے غسل و کفن میں ان کی مدد کر رہے تھے۔

ما فیہ ما فیہم لا یمترون بہ
و لیس فی القوم ما فیہ من الحسن

جوکچھ ان کے پاس ہے اور جو کچھ دوسروں کے پاس ہے اس کے بارے میں فکر نہیںکرتے در حالانکہ قوم میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کی نیکیاں ان کے برابر ہوں

ماذا الذی ردہم عنہ فتعلمہ
ہا ان ذا غبننا من اعظم الغبن

کون سی ایسی چیز ہے جس نے ان کو ان سے برگشتہ کردیا ہے ،جان لو کہ یہ ہمارا ضرر بہت بڑا نقصان ہے ۔ ان اشعار کے کہنے کے بعد حضرت علی نے اس سے سفارش کی کہ دوبارہ ایسا نہیں کرنا اس لئے ہمارے لئے دین کی سلامتی سب سے زیادہ اہم نکلے ۔(١) ............

(١)زبیر بن بکار ،الاخبار الموفقیات ،منشورات شریف الرضی قم ،١٤١٦ھ ص ا٥٨

ابن ابی عبرہ قرشی نے بھی یہ شعرپڑھے :

شکراً لما ہو باالثنا ء حقیق
ذہب الّجاج و بویع الصدیق

اس کا شکر جو تعریف کے لائق ہے ،صدیق کی بیعت کی گئی اور ہمارے درمیان جھگڑا ختم ہو گیا ۔

کنّا نقول لہا علی و الرضا
عمر و اولاہم بذاکٔ عتیق

ہم کہتے تھے کہ علی خلافت کے حقدار ہیں اور ہم عمر سے بھی راضی تھے لیکن اس مورد میں ان کے درمیان سب سے بہتر ابو بکر نکلے۔(١) خلافت کے موقع پر وہ اختلاف جو سقیفہ کی بنا پر قریش و انصار کے درمیان پیدا ہوا اور عمرو عاص نے انصارکے خلاف گفتگو کی نعمان بن عجلان جو انصار کے شعراء میں سے ایک تھے انہوں نے عمرو عاص کے جواب میں اشعار کہے جو علی کے حق کی وضاحت کرتے ہیں۔

فقل لقریشٍ نحن اصحاب مکة
و یوم حنین والفوارس فی بدر

قریش سے کہو ہم فتح مکہ کے لشکر، جنگ حنین اور بدر کے سواروں میں سے ہیں ............

(١) زبیر بن بکار ،الاخبار الموفقیات ،منشورات شریف الرضی، قم ،١٤١٦ھ ص ٥٨٠

و قلتم حرام نصب سعد و نصبکم
عتیق بن عثمان حلال ابا بکر

تم نے کہا سعد کو خلافت پر منصوب کرنا حرام ہے اور تمہارا عتیق بن عثمان، (ابوبکر) کو نصب کرنا جائز ہے۔

و اہل ابو بکر لہا خیر قائم
و ان علیاً کان اخلق بالامر

اور تم نے کہا ابو بکر اس کے اہل ہیں اور اس کو انجام دے سکتے ہیں جبکہ علی لوگوں میں سب سے زیادہ خلافت کے حقدارو سزاوار تھے۔

وکان ہوانا فی علیّ و انہ
لاہل لہا یا عمرو من حیث لاتدری

ہم علی کے طرفدار تھے اور وہ اس کے اہل تھے لیکن اے عمر و !تو اس بات کو نہیں سمجھتا .

فذاکٔ بعون اللّہ یدعواالی الھدیٰ
و ینہیٰ عن الفحشاء و البغی و النّکر

یہ علی ہیں جو خدا کی مدد سے لو گوں کی ہدایت کرتے ہیں ،علی ہیں جو ظلم و فحشا سے روکتے ہیںاور نہی عن المنکر کرتے ہیں ۔

وصی النبی المصطفیٰ وابن عمہ
وقاتل فرسان الضلالة والکفر

یہ علی ہیں جو وصی مصطفیۖ اور ان کے بھائی ہیں جو کفر و ضلالت کے پہلوانوں کو قتل کرنے والے ہیں ۔(١)

حسان بن ثابت نے بھی فضل بن عباس کے شکریہ کی وجہ سے کہجنہوںنے حضرت علی کے حکم سے انصار کا دفاع کیا، ان اشعار کو پڑھا:

جزیٰ اللّہ عنا و الجزابکفّہ
ابا حسن عنا و من کان کابی حسن

خدا ہماری طرف سے ابوالحسن کو جزائے خیر دے کیوں کہ جزا اسی کے ہاتھ میں ہے اور کون ہے جو کہ علی کے مانند ہے؟

سبقت قریش بالذی انت اہلہ
فصدرکٔ مشروح و قلبک ممتحن

علی ہی اس کے اہل تھے قریش پر سبقت لے گئے آپ کا سینہ کشادہ اور قلب امتحان شدہ (پاک و پاکیزہ )ہے ۔

حفظت رسول اللّہ فینا و عہدہ
الیکٔ و من اولیٰ بہ منکٔ من و من

پیغمبرۖ کی سفارش کو ہمارے بارے میں حفظ کیا آپ کے علاوہ کون ہے جو رسولۖ کا ولی اور جانشین ہو؟

الست اخاہ فی الہدیٰ و وصیّہ
واعلم منہ باالکتاب و السّنن

............

(١)زبیر بن بکار ،الاخبار الموفقیات ،منشورات شریف الرضی، قم ،١٤١٦ھ ص٥٩٢

کیا آپ وہ نہیں ہیں جو ہدایت میں پیمبرۖ کے بھائی اور ان کے وصی اور لوگوں میں کتاب و سنت کے سمجھنے میں سب سے زیادہ جاننے والے ہیں؟ (١) ابو سفیان بھی شروع میں(سقیفہ کی) خلافت کا مخالف تھا اور حضرت علی کی طرف سے دفاع کرتا تھا ،تقریر کے علاوہ جو اس نے سلسلہ میں کہے ہیں وہ ذیل کے اشعار کہ جس کی نسبت اس کی طرح دی گئی ہے :

بنی ہاشم لاتطمعوا الناس فیکم
ولا سیّما تیم بن مرّة اوعدی

(٢)

اے بنی ہاشم! تم اس بات کی اجازت نہ دو کہ دوسرے تمھارے کام میں لالچ کریں بالخصوص تیم بن مرہ یا عدی ۔

فما الأمر الأ فیکم و الیکم
و لیس لہا الّا ابوالحسن علیّ

خلافت فقط تمہارا حق ہے اور صرف ابوالحسن علی اس کے اہل اور سزاوار ہیں۔(٣)

غدیر کے دن حسان بن ثابت جو شاعر پیغمبر ۖ کہے جاتے تھے رسول اسلام ۖ سے اجازت مانگی اور غدیر کے واقعہ کو اپنے اشعار میں اس طرح پیش کیا : ............

(١)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی ،منشورات شریف الرضی ،قم ،طبع اول ١٤١٤ ھ ج ٢ ص ١٢٨ (٢)تیم ابو بکر کا اور عدی عمر کا قبیلہ تھا ۔ (٣)ابن واضح، تاریخ یعقوبی ص١٢٦

ینادیھم یوم ا لغدیر نبیھم
بخم واسمع بالنبی منادیاً

مسلمانوں کا پیغمبرۖغدیر خم کے دن ان کو آواز دیتا ہے لوگو آئو پیغمبر ۖ کی آواز کو سنو

وقد جاء جبرئیل عن امر ربہ
بانکّ معصوم فلاتکٔ وانیا

جبرئیل خدا کی طرف سے پیغام لائے کہ(اے رسولۖ) تم خدا کی حفظ و امان میں ہو لہذا اس سلسلہ میں سستی وغفلت نہ برتو۔

و بلّغھم ما انزل اللّہ ربھم
الیکٔ ولا تخش ھناکّ الاّ عادیا

جو کچھ تمہارے خدا نے تم پر نازل کیا ہے اس کو پہنچا دواور اس موقع پر دشمنوں سے نہ ڈرو۔

وتقام بہ اذ ذاکٔ رافع کفّہ
بکف علیّ معلن الصوت عالیا

علی کو اپنے ہاتھوں سے اٹھایااس طرح سے کہ علی کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر بلندکیا اور بلند آواز سے اعلان کیا۔

فقال فمن مولاکم و ولیکم
فقالوا ولم یبدوا ھناکّ تعامیا

اس کے بعد لوگوں سے کہا: کون ہے تمہارا مولا و ولی؟ پس انہوں نے بے توجہی کا ثبوت دئے بغیر کہا۔

الھک مولانا وانت ولینا
ولن تجدن فینا لکٔ الیوم عاصیا

آپ کا خدا ہمارا مولا ہے اور آپ ہمارے ولی ہیں؟ ہم میں سے کوئی بھی سرکش نہیں ہے۔

فقال قم یا علی فاننی
رضیتک من بعدی اماماً و ھادیاً

اس کے بعد آپ نے فرمایا: اے علی ! اٹھو میں راضی ہوںاس بات سے کہ تم میرے بعد امام اور ہادی ہوگے۔

فمن کنت مولا ہ فھذا ولیّہ
فکونو لہ انصار صدق موالیاً

اس کے بعد کہا جس شخص کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی بھی مولا ہیں تم لوگ ا ن کے حقیقی اور سچے دوست بنو۔

ھناک دعا اللھم وال ولیہ
وکن للذی عادی علیاً معادیاً

اس مقام پر رسولۖ نے دعا کی: خدایا !علی کے دوست کو دوست رکھ اور علی کے دشمن کو دشمن قرار دے۔

فیارب انصر ناصریہ لنصرھم
امام ھدی کالبدر یجلوا الدیا جیا

(١)

پرور دگارا!علی کی مدد کرنے والوںکی مدد کرکیونکہ جس طرح تاریک شب میں چاند ہدایت کرتا ہے اسی طرح وہ اپنے چاہنے والوں کی ہدایت کرتے ہیں۔

ان اشعارمیں حسان نے پیغمبر اسلامۖ کی تقریر جو علی کے بارے میں تھی ان کو امام، ولی اور ہادی جاناکہ جو امت کی رہبری اور زعامت کی وضاحت کرتی ہے ہاں !عام مسلمان اس بات کا گمان نہیں کرتے تھے کہ پیغمبر ۖکے بعدکوئی بھیپیغمبرۖ کی جانشینی اور خلافت کے بارے میں علی سے جھگڑا کرے گاجیسا کہ معاویہ نے محمد بن ابی بکر کے خط کے جواب میں تحریر کیا کہ رسول ۖکے زمانہ میں میں اور تمہارے باپ ابوطالب کے بیٹے کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم سمجھتے تھے اور ان کے فضل کو اپنے اوپر آشکار جانتے تھے پیغمبر ۖ کی رحلت کے بعد تمہارے باپ اورعمر سب سے پہلے وہ شخص تھے کہ جنہوںنے علی کے مرتبہ کو گھٹا یا اور لوگوں سے اپنی بیعت لی ۔(٢) یہی وجہ ہے وہ لوگ جو پیغمبرۖ کی زندگی کے آخری مہینوںمیں مدینہ میںنہیں تھے انہیں بعد وفات پیغمبرۖ بعض انجام دی جانے والی سازشوں کا علم نہیں تھا، جیسے خالدبن سعید ............

(١)امینی ، عبد الحسین،الغدیر ،دارالکتب الاسلامیہ ،تہران،١٣٦٦ہجری شمسی ج،١ ص١١،و ج٢،ص ٣٩

(٢)بلاذری ،احمد بن یحییٰ بن جابر ،انساب الاشراف ،منشورات مؤسسة الاعلمی للمطبوعات بیروت ١٣٩٤ھ ،ج٢،ص٣٩٦

اور ابوسفیان پیغمبر ۖ کی وفات کے بعد جب مدینہ آئے تو انے دیکھاکہ ابوبکر پیغمبر ۖ کی جگہ بیٹھے ہیں اور خود کو پیغمبر ۖ کا خلیفہ بتا رہے ہیںتو ان لوگوں کو بہت تعجب ہوا ۔( ١) حتیٰ کہ جب ابو سفیان سفر سے واپس آیا اور ان حالات کو دیکھا تو عباس بن عبدالمطلب اور علی کے پاس گیا اور ان سے درخواست کی کہ اپناحق لینے کے لئے قیام کریں لیکن انہوں نے اس کی بات کو قبول نہیں کیا، البتہ ابو سفیان کی نیت میں خلوص نہیں تھا۔(٢)

اگر چہ پیغمبر اکرم ۖکے اکثر صحابہ نے ابو بکر کی خلافت کو قبول کرلیا لیکن علی کے کی فضلیت وبرتری کو نہیں بھولے جب آپ مسجد میںہوتے تھے شرعی مسائل میںآپ کے علاوہ کوئی فتویٰ نہیں دیتا تھا کیونکہ آپ کو رسول ۖ اکرم کی صاف و صریح حدیث کی بنا پر امت میںسب سے زیادہ صحیح فیصلہ کرنے والا جانتے تھے۔(٣)

حضرت عمر کا کہنا تھا کہ خدانہ کرے کوئی مشکل پیش آئے اور ابوالحسن نہ ہوں ۔(٤)

نیزاصحاب پیغمبرۖ سے کہتے تھے ؛ جب تک علی مسجد میںموجودر ہیں ان کے علاوہ کوئی بھی فتویٰ دینے کا حق نہیں رکھتا۔(٥) ............

(١)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی منشورات شریف الرضی، قم ،طبع اول ،١٤١٤ھ، ج٢، ص١٢٦ (٢) ابن اثیر، عزالدین ابی الحسن علی بن ابی الکرم ،اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ ، داراحیاء التراث العربی بیروت ،ج٣ ،ص١٢، ابن واضح، تاریخ یعقوبی ۔ج٢ ،ص١٢٦ (٣)بلاذری ،انساب الاشراف ،ص٩٧ (٤)ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ ،دار احیاء التراث االعربی ،ج ١ ،ص١٨ (٥)ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ ،دار احیاء التراث االعربی ،ج ١ ،ص١٨

اگر چہ علی نے پیغمبر کی وفات کے بعد سیاسی اقتدارحاصل نہیں کیالیکن آپ کے فضائل ومناقب کویہی اصحا ب پیغمبر ۖبیان کرتے ہیں، ابن حجر ہیثمی جو اہل سنت کے متعصب عالموں میں سے ہیں انہوںنے حدیث غدیر کے راویوں کی تعداد تیس افراد بتائی ہے۔(١)

لیکن ابن شہر آشوب نے حدیث غدیر کے اصحاب میںراویوں کی تعداد اسی(٨٠) بیان کی ہے۔(٢)

لیکن علامہ امینی نے حدیث غدیر کے راویوں کی تعداد جو صحابہ سے نقل ہوئی ہے ایک سو دس ذکر کی ہے کہ جس کی تفصیل یوں ہے:۔(٣)

ابو ہریرہ، ابو لیلیٰ انصاری ،ابو زینب انصاری، ابو فضالہ انصاری، ابو قدامہ انصاری، ابو عمرہ بن عمرو بن محصن انصاری، ابوالہیثم بن تیّہان، ابو رافع، ابو ذؤیب، ابوبکر بن ابی قحافہ، اسامہ بن زید،ا بی بن کعب ،اسعد بن زراۂ انصاری، اسماء بنت عمیس،ام سلمہ، ام ہانی، ابو حمزہ انس بن مالک انصاری، براء بن عازب، بریدہ اسلمی، ابوسعید ثابت بن ودیعہ انصاری، جابر بن سمیرہ، جابر بن عبد اللہ انصاری، جبلہ بن عمرو انصاری، جبیر بن مطعم قرشی، جریر بن عبد اللہ بجلی ، ابوذر جندب بن جنادہ، ابو جنیدہ انصاری ،حبہ بن جوین عرنی، حبشی بن جنادہ سلولی ،حبیب بن بدیل بن ورقاء خزاعی، حذیفہ بن اسید غفاری، ا بو ایوب خالد زید انصاری، خالد بن ولید مخزومی، خزیمہ بن ............

(١)صواعق المحرقہ ،مکتبہ قاہرہ ،طبع١٣٨٥،ص١٢٢ (٢)مناقب آل ابی طالب ،مؤسسہ انتشارات علامہ ،ج٣،ص٢٥و٢٦ (٣)الغدیر ،دارالکتب الاسلامیہ ،تہران،ج١،ص١٤۔٦١

ثابت، ابو شریح خویلد بن عمرو خزاعی، رفاعہ بن عبد المنذر انصاری، زبیر بن عوام، زید بن ارقم ،زید بن ثابت ،زید بن یزید انصاری ،زید بن عبداللہ انصاری، سعد بن ابی وقاص، سعد بن جنادہ،سلمہ بن عمرو بن اکوع، سمرہ بن جندب، سہل بن حنیف، سہل بن سعد انصاری، صدی بن عجلان، ضمیرة الاسدی، طلحہ بن عبید اللہ، عامر بن عمیر، عامر بن لیلیٰ، عامر بن لیلیٰ غفاری،عامر بن واثلہ،عائشہ بنت ابی بکر ،عباس بن عبدالمطلب، عبد الرحمن بن عبدربہ انصاری،عبد الرحمن بن عوف قرشی، عبدالرحمن بن یعمر الدیلی ، عبداللہ بن ابی عبد الاثر مخزومی، عبد اللہ بن بدیل، عبد اللہ بن بشیر، عبد اللہ بن ثابت انصاری،عبد اللہ بن ربیعہ، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن ابی عوف، عبد اللہ بن عمر،عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن یامیل، عثمان بن عفان، عبید بن عازب انصاری، ابو طریف عدی بن حاتم، عطیہ بن بسر، عقبہ بن عامر، علی بن ا بی طالب، عمار بن یاسر، عمارہ الخزرجی، عمر بن عاص، عمر بن مرہ جہنی، فاطمہ بن رسول ۖ فاطمہ بنت حمزہ، عمربن ابی سلمہ، عمران بن حصین خزاعی ،عمر و بن حمق خزاعی، عمر و بن شراحیل، قیس بن ثابت انصاری ،قیس بن سعد انصاری، کعب بن عجرہ انصاری، مالک بن حویرث لیثی،مقداد بن عمرو، ناجیہ بن عمرو خزاعی، ابو برزہ فضلہ بن عتبہ اسلمی، نعمان بن عجلان انصاری، ہاشم مرقال، وحشی بن حرب، وہب بن حمزہ، ابو جحیفہ، وہب بن عبد اللہ و یعلی بن مرہ۔(١) حدیث غدیر کے راویوں کے درمیان وہ لوگ جو علی سے دشمنی رکھتے تھے جیسے ابوبکر،عمر،عثمان،طلحہ،عبدالرحمن بن عوف،زیدبن ثابت،اسامہ بن زید،حسان بن ثابت، ............

(١) الغدیر، درالکتب الاسلامیہ،تہران،ج١،ص١٤ـ ٦١۔

خالد بن ولید،اور عائشہ کا نام لیا جاسکتا ہے حتیٰ کہ یہی صحابہ جوحضرت علی کے موافق بھی نہیں تھے لیکن اس کے باوجودکبھی آپ کی طرف سے آپ کے دشمن کے مقابلے میں دفاع بھی کرتے تھے جیسے سعد بن وقاص ،یہ ان چھ لوگوں میں سے تھے جو عمر کے مرنے کے بعد انتخاب خلافت کے لئے چھ رکنی کمیٹی بنی تھی اورانہوںنے علی کے مقابلے میں عثمان کو ووٹ دیا نیز خلافت کے مسئلہ میں حضرت علی کی طرفداری اور حمایت بھی نہیں کی اور بے طرفی اختیار کی، وہ باتیں جو ان کے اور معاویہ کے درمیان ہوئیں تو انہوں نے معاویہ سے کہا: تونے اس شخص سے جنگ و جدال کیا ہے جو خلافت میں تجھ سے زیادہ سزاوار تھا، معاویہ نے کہا: وہ کیسے؟ اس نے جواب دیا : میرے پاس دلیل یہ ہے کہ ایک تو رسولۖ نے علی کے بارے میں فرمایا جس کا میں مولاہوں اس کے علی مولاہیں بارالہاٰ! علی کے دوستوں کو دوست اورعلی کے دشمنوں کو دشمن رکھ اوردوسرے ان کے فضل و سابقہ کی وجہ سے(١) اسی طرح عمرو عاص کا بیٹا عبد اللہ جنگ صفین میں اپنے باپ کے ساتھ معاویہ کی طرف تھا ،جب عمارقتل ہوگئے اور ان کے سر کو معاویہ کے پاس لایا گیا تو دو شخص آپس میں جھگڑنے لگے ہر ایک یہ دعویٰ کرنے لگا کہ عمار کو اس نے قتل کیا ہے عبد اللہ نے کہا :بہتر یہ ہے کہ تم میں سے ایک اپنا حق دوسرے کو بخش دے اس لئے کہ میں نے رسولۖ اسلام سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: عمار کو ایک ظالم گروہ قتل کرے گا معاویہ نا راض ہوا اور اس نے کہا: ............

(١)بلاذری،انساب الاشراف،موسسة الاعلمی للمطبوعات، بیروت، طبع اول، ١٣٩٤ ہجری، ج٢،ص ١٠٩،اخطب خوارزمی ،المناقب، منشورات، المکتبة الحیدریہ، نجف، ١٣٥٨، ہجری ص٥٩۔٦٠

تو یہاںپر کیا کر رہا ہے عبد اللہ نے کہا :کیونکہ رسولۖ نے مجھ کو باپ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اس لئے میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن جنگ نہیں کروںگا۔(١) جناب عمار کا امیر المومنین کی رکاب میں موجود ہونا کہ رسولۖ اسلام نے عمار کے قاتلوںکو ایک ستم گار گروہ بتایا ہے اس پر آشوب دور میں یہ علی کی حقانیت کی بہترین گواہی تھی جس کا عمرو عاص کے بیٹے نے بھی اعتراف کیا ۔

سقیفہ کی تشکیل میں قریش کا کردار[لکھو]

علی کی جانشینی کے بارے میںپیغمبر ۖ کی تمام کوششوں اور واقعہ غدیرکے باوجودسقیفہ کا اجتماع واقع ہوا خدا کافرمان زمین میں دھرارہ گیا اور رسول اکرم ۖ کا خانوادہ خانہ نشین ہو گیا ، اس سلسلہ میں ضروری ہے کہ قریش کے کردارکی نشاندہی کی جائے اس لئے کہ قریش ہی چاہتے تھے کہ پیغمبر ۖ کی عترت کا حق غصب کریں ،حضرت علی نے مختلف مقامات پر قریش کے مظالم اور خلافت حاصل کرنے کی کوشش کو بیان کیا ہے ۔(٢) ............

(١)بلاذری،انساب الاشراف،ص٣١٢۔٣١٣ (٢)بطور نمونہ نہج البلاغہ ، خطبہ ١٧،میں فرماتے ہیں خدایا قریش اور ان لوگوں کے مقابلے میں جو ان کی مدد کرتے ہیں تجھ سے مدد چاہتا ہوں کیوں کہ انہوں نے میرے مرتبہ کو کم کیا اور وہ خلافت جو مجھ سے مخصوص تھی اس کے بارے میں میرے خلاف متفق ہوگئے، نہج البلاغہ ، فیض الاسلام ، ص ٥٥٥، اس طرح اپنے بھائی عقیل کے خط کے جواب میں فرماتے ہیں:قریش سخت گمراہی میں ہیں ، ان کی دشمنی اور نا فرمانی معلوم ہے انہیں سر گردانی میں ہی چھوڑ دو اس لئے کہ انہوں نے مجھ سے جنگ ٹھان لی ہے جس طرح رسول اللہ ۖ سے جنگ پر تلے ہوئے تھے مجھ کو سزا دینے سے پہلے ، انہیں چاہئے کہ وہ قریش کو سزا دیں اورانہیں مزہ چکھائے کیونکہ انہوں نے رشتہ داری توڑ دی اور میرے بھائی کی حکومت مجھ سے چھین لی۔

امام حسن نے جو خط معاویہ کو لکھا تھا اس میں سقیفہ کی تشکیل میںقریش کے کردار کو اس طرح بیان فرمایا : پیغمبر ۖ کی وفات کے بعد قبیلۂ قریش نے اپنے آپ کواس حیثیت سے پہچنوایا کہ ہم لوگ پیغمبرۖ سے زیادہ نزدیک ہیں اور اسی دلیل کی بنا پر تمام عربوں کوکنارے کردیا اور خلافت کواپنے ہاتھ میں لے لیا ہم اہل بیت محمدۖ نے بھی یہی کہاتو ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا اور ہم کو ہمارے حق سے محروم کردیا۔(١) امام باقر نے بھی اپنے ایک صحابی سے فرمایا : قریش نے جو ستم ہمارے اور ہمارے دوستوں اور شیعوں پر کئے ہیں اس کے بارے میں کیا کہوں؟ رسول خداۖ کی وفات ہوئی جب کہ پیغمبر ۖنے کہا تھاکہ لوگوں کے درمیان(خلافت کے لئے) اولیٰ ترین فردکون ہے؟ لیکن قریش نے ہم سے روگردانی کی اور خلافت کو اس کی جگہ سے منحرف کردیا ہماری دلیلوں کے ذریعہ انصار کے خلاف احتجاج کیا اور اس کے بعد خلافت کو ایک دوسرے کے حوالے کرتے رہے اور جس وقت ہمارے پاس واپس آئی توبیعت شکنی کی اور ہم سے جنگ کی ۔(٢) قریش کافی مدت پہلے ایسا عمل انجام دے چکے تھے جس سے لوگ سمجھ گئے تھے کہ یہ ............

(١) ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ، منشورات شریف الرضی ، قم ١٤١٦ھ ص ٦٥ (٢)کتاب سلیم بن قیس العامری، منشورات دار الفنون ، بیروت ، ١٤٠٠ھ ص ١٠٨، شیرازی السید علی خان، الدرجات الرفیعة فی طبقات الشیعة ، مؤسسة الوفاء ، بیروت ،ص ٥

خلافت کو غصب کرنا چاہتے ہیں اسی لئے انصار سقیفہ کی طرف دوڑے تاکہ قریش تک حکومت پہنچنے سے مانع ہوں ، اس لئے کہ قریش فرصت طلب تھے۔

خاندان پیغمبر ۖسے قریش کی دشمنی کے اسباب[لکھو]

اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیوں قریش خاندان پیغمبرۖ سے دشمنی رکھتے تھے؟ کیاان کا دین اور ان کی دنیا اس خاندان کی مرہون منت نہیں تھی؟ کیاانہوںنے اسی خاندان کی برکت کی وجہ سے ہلاک ہونے سے نجات نہیں پائی تھی ؟اس سوال کا جواب دینے کے لئے چند امور کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

(١) قریش کی ریاست طلبی

قریش زمانہ جاہلیت میں پورے جزیرة العرب پر تمام عربوں میں ایک امتیاز رکھتے تھے، ابوالفرج اصفہانی کا اس بارے میں کہنا ہے : تمام عرب قومیں قریش کو شعر کے علاوہ ہر چیز میںمقدم جانتی تھی(١)یہ موقعیت اورحشیت ان کو دوجہتوں سے حاصل ہوئی تھی۔ (الف) اقتصادی قوت : قریش نے پیغمبر ۖ کے جد جناب ہاشم کے زمانہ ہی سے پڑوسی ممالک جیسے یمن، شام ،فلسطین ، عراق، حبشہ سے تجارت کرنی شروع کردی تھی اور اشراف قریش اس تجارت کی وجہ سے بہت زیادہ ثروتمند ہو گئے تھے۔(٢) ............

(١) اصفہانی، الاغانی، دار الاحیاء تراث العربی ، ج ١ ص ٧٤ (٢) مہدی پیشوائی، تاریخ اسلام ، دانشگاہ آزاد اسلامی ،واحد اراک ، ص ٥٠۔٥١

خداوند عالم اس تجارت کو قریش کے لئے سرمایہ افتخار اور عیش و مسرت قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے :ایک دوسرے سے محبت و الفت پیدا کرنے گرمیوں اور سردیوں میں آپس میں رابطہ رکھنے کے لئے اللہ کی عبادت کریں وہی پروردگارکہ جس نے بھوک سے انہیں نجات دی اورخوف و ہراس ان سے دور کیا۔ (١)

(ب) معنوی حیثیت :قریش کعبہ کے وجود کی بنا پر کہ جو عرب دنیامیں ، عرب قبائل کے درمیان ایک مشہورزیارت گاہ تھی نیز اسے عربوں کے درمیان ایک خاص معنوی حیثیت حاصل تھی خاص طور پر ہاتھیوں کے لشکر ابرہہ کی شکست کے بعد قریش کا احترام لوگوں کی نظر میں زیادہ ہو گیاتھا اور یہ کعبہ کے کلید دار بھی تھے،قریش نے اس واقعہ سے فائدہ اٹھایا اور خود کو آل اللہ ، جیران اللہ اور سکان حرم اللہ کہلواناشروع کر دیا ، اسی وسیلہ کی بنیاد پر انہوں نے اپنے مذہبی مقام کو استوار کرلیا ۔(٢)

اسی احساس برتری و اقتدار کی وجہ سے قریش نے کوشش شرو ع کی کہ اپنی برتری کو ثابت کریں چونکہ مکہ کعبہ کی وجہ سے عرب کے لئے مرکز تھا جزیرةالعرب کے اکثر ساکنین وہاں آتے جاتے تھے،قریش اپنی رسومات کو مکہ آنے والوں پرتھوپتے تھے طواف کعبہ کے وقت لوگوں کو متوجہ کرتے تھے کہ حاجی ان سے خریدے ہوئے لباس میں طواف کریں(٣) لیکن رسول اکرم ۖکے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے احساس کیا کہ تعلیمات اسلامی ان کی برتری اور انحصار طلبی کے منافی ہے ،قریش نے ان کو قبول نہیں کیا اور اپنی تمام ............

(١)سورہ قریش (٢)تاریخ اسلام ،مہدی پیشوائی ، ص ٥٢ (٣)ابن سعد ، الطبقات الکبری ، دار صادر ، بیروت ، ج١ ،ص ٧٢

طاقت کے ساتھ مخالفت میں کھڑے ہوگئے اور جو بھی اسلام کی نابودی کے لئے ممکن تھا اس کوانجام دیا لیکن ہوتا وہی ہے جو خدا چاہتا ہے، آخر کار پیغمبرۖنے قریش پرکامیابی حاصل کرلی ،آٹھویں ہجری میں قریش کے کچھ افراد مدینہ آئے اور مسلمانوں سے مل گئے لیکن دشمنی سے باز نہ آئے مثلاًحکم بن عاص نے پیمبرۖ کا مذاق اڑایا آنحضرتۖ نے ا سے طائف کی جانب شہر بدر کردیا۔(١)

جب قریش میں رسول اکرم ۖسے مقابلے کی طاقت نہیں رہی تو انہوں نے ایک نیا فارمولہ بنا یاکہ آنحضرتۖ کے جانشین سے مقابلہ کریں عمر نے ہمیشہ ابن عباس سے کہا: عرب نہیں چاہتے کہ نبوت اور خلافت تم بنی ہاشم کے درمیان جمع ہواسی طرح مزید کہا:(٢) اگر بنی ہاشم میںسے کوئی امر خلافت کا ذمہ دار بن گیا تو اس خاندان سے خلافت باہر نہیں جائے گی اور ہمارا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا لیکن اگر بنی ہاشم کے علاوہ کوئی اس کا ذمہ دار ہوگیا تو وہ لوگ اپنے ہی درمیان ایک دوسرے کو منتقل کرتے رہیں گے۔(٣)

اس زمانے کے لوگ بھی قریش کے اس رویہ سے آگاہ تھے جیسا کہ براء بن عازب نے نقل کیا کہ میں بنی ہاشم کے چاہنے والوں میںسے تھا جس وقت رسول اکرم ۖ دنیا سے گئے تو مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ قریش بنی ہاشم سے خلافت کو نہ چھین لیں اور میں کافی حیران وسر گردان تھا۔(٤) ............

(١) ابن اثیر، اسد الغابة فی معرفة الصحابہ،دار احیا التراث العربی،ج٢،ص٣٤ (٢) ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ،دار احیا التراث العربی،ج١،ص١٩٤ (٣)ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ،دار احیا التراث العربی،ج١،ص١٩٤ (٤) ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ،دار احیا التراث العربی،ج٢،ص٥١

قریش کا ابو بکر اور عمر کی خلافت پر راضی ہونا خود ان کے فائدے میں تھا جیساکہ ابوبکر نے مرتے وقت قریش کے کچھ لوگوں سے کہ جو اس کی عیادت کے لئے آئے تھے کہا: میں جانتا ہوں کہ تم میں سے ہر ایک یہ خیال کرتا ہے کہ میرے بعد خلافت اس کی طرف منتقل ہوگی لیکن میں نے تم میں سے بہترین شخص کو اس کے لئے چنا ہے۔(١) ابن ابی الحدید کہتا ہے: قریش عمر کی طولانی خلافت کی وجہ سے ناراض تھے اور عمربھی اس بات سے آگاہ تھے لہذاوہ اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ مدینہ سے باہر جائیں۔(٢)

(٢) قبیلوں کی رقابت و حسادت

عربوں میں قبیلوں کے درمیان رقابت اور حسادت بہت تھی خدا وند عالم نے قرآن مجید میں سورہ تکاثر(٣)اور سورہ سبائ( ٤)میں اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے، زمانۂ جاہلیت ............

(١) ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ،دار احیا التراث العربی،ج١،ص١١٠ (٢) ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ،دار احیا التراث العربی،ج٢ ،ص١٥٩ (٣)تمہاری سرگرمی کا باعث زیادہ طلبی ہے یہاں تک کہ تم اپنے مرنے والوں کی قبروں سے ملاقات کرو۔

(٤)تم نے کہا : ہمارے پاس مال اور بیٹے زیا دہ ہیں اسی وجہ سے ہم سزا نہیں پاسکتے ان سے کہہ دوکہ میراخدا جب کسی کو چاہے گا اس کی روزی کم کردے اور جب چاہے زیادہ کردے گا لیکن زیادہ تر لوگ نہیں جانتے ہیں کہ اولاد اور مال کا زیادہ ہونا ان کو مجھ سے نزدیک نہیں کرے گا مگر یہ کہ وہ لوگ جو ایمان لائیں اور عمل صالح انجام دیں ۔

میں بنی ہاشم اور دوسرے تمام قبائل کے درمیان رقابت موجود تھی، زمزم کھودتے وقت جناب عبدالمطلب کے مقابلہ میں قریش کے تمام قبائل جمع ہوگئے تھے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ افتخار صرف عبد المطلب کو حاصل ہو ۔(١)

یہی وجہ ہے کہ ابو جہل کہتا تھا ہم بنی ہاشم سے ان کے شرف کی وجہ سے رقابت کرتے تھے وہ بھی لوگوں کو کھانا دیتے تھے توہم بھی لوگوںکو کھانا دیتے تھے ، وہ لوگوں کو سواری مہیاکرتے تھے تو ہم بھی لوگوں کو سواری مہیا کرتے تھے تو وہ لوگوں کو پیسے دیتے تھے ہم بھی لوگوں کو پیسے بانٹتے تھے اور ہم ان کے ساتھ اس طرح شانہ بشانہ بڑھ رہے تھے جیسے گھوڑوں کی دوڑمیں دو گھوڑے ساتھ چل رہے ہوں ، یہاں تک کہ ان لوگوں نے کہا : ہم میں ایک ایسا پیغمبرمنتخب ہوا ہے کہ جس پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے اب ہم ان تک کیسے پہونچتے ؟ خدا کی قسم !ہم اس پر ہرگز ایمان لائے اور نہ ہی ان کی تصدیق کی۔ (٢)

امیہ بن ابی ا لصلت جو طائف کے اشراف میں سے تھا اس نے اسی وجہ سے اسلام قبول نہیں کیااور پیغمبرۖ موعودکا سالہا سال انتظار کرتا رہاتاکہ اس انتطارمیں خود کو اس منصب تک پہنچا دے جب اس کو بعثت رسول ۖکی خبر ملی پیروی کرنے سے اجتناب کیا اور اس کی علت یہ بتائی کہ مجھ کو ثقیف کی عورتوں سے شرم آتی ہے، اور اس کے بعد کہتا ہے : کافی عرصہ تک میںان سے یہ کہتا رہاکہ وہ پیغمبر موعود میںہوگااب کس طرح تحمل کروں کہ وہ مجھے بنی عبد مناف کے ایک جوان کا پیرو دیکھیں۔(٣) ............

(١)ابن ہشام ،السیرة النبویہ ،دارالمعرفة،بیروت ،ج ١ ،ص١٤٣،١٤٧ (٢)ابن ہشام ،سیرةالنبویہ، دار المعرفة ، بیروت (بی تا) ج١ ص ١٤٣۔١٤٧ (٣) ابن قتیبہ، المعارف ، منشورات الشریف الرضی ، قم ١٤١٥ھ ص ٦٠، اور تاریخ اسلام ، مہدی پیشوائی ، زمانہ جاہلیت سے حجة الوداع تک ، دانشگاہ آزاد اسلامی ، واحد اراک ، ص ٨٨

لیکن اس حسد ورقابت کے باوجود خدا نے پیغمبر ۖ کو کامیاب کیا اور قریش کی شان و شوکت کو خاک میں ملادیا ،آٹھویں ہجری کے بعد اکثر اشراف قریش مدینہ منتقل ہو گئے اور وہاں بھی خاندان پیغمبر ۖ کو تکلیف دینے سے باز نہ آئے۔

ابن سعد نے نقل کیا ہے کہ مہاجرین میں سے ایک نے عباس بن عبدالمطلب سے چند بار کہا : آپ کے والد عبدالمطلب اور بنی سہم کاہنہ غیطلہ دونوں جہنم میں ہیں، آخر کار عباس غصہ ہو گئے اور اس کے منھ پر طمانچہ مارا اور اس کی ناک سے خون نکل آیا، اس شخص نے پیغمبر ۖ سے آکر عباس کی شکایت کی رسول ۖنے اپنے چچا عباس سے اس با ت کی وضاحت چاہی ،عباس نے سارا قضیہ بیان کیا تو پیغمبر ۖ نے فرمایا : کیوں عباس کو اذیت دیتے ہو؟(١)

حضرت علی اپنے مخصوص کمال کی بنا پر زیادہ مورد حسد قرار پائے امام باقر فرماتے ہیں کہ جب بھی رسول اکرم ۖ علی ـ کے فضا ئل بیان کرناچاہتے تھے یا اس آیت کی تلاوت کرنا چاہتے تھے جو علی کی شان میں نازل ہوئی تھی تو کچھ لوگ مجلس سے اٹھ کر چلے جاتے تھے، اس طرح کی روایت نبی اکرم ۖ سے بہت زیا دہ وارد ہوئی ہیں۔ (٢)

آپ ۖنے فرمایا: جس نے علی سے حسد کیا اس نے مجھ سے حسد کیا اور جس نے مجھ سے حسد کیا وہ کافر ہوگیا ۔(٣) ............

(١)طبقات الکبریٰ داربیروت ١٤٠٥ھ ، ج ٤ ،ص٢٤ (٢)ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ، مؤسسہ انتشارات ١٤٦،قم ،ج ٣ ،ص٢١٤ (٣)ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ، مؤسسہ انتشارات ١٤٦،قم ،ج ٣ ص، ٢١٣۔٢١٤

یہاں تک کہ پیغمبرۖکے زمانہ میںبعض افراد علی سے حسد کرتے تھے اور آ پ کو اذیت پہونچاتے تھے جیسا کہ سعد بن وقاص سے نقل ہواہے کہ میں اور دوسرے دو آدمی مسجد میں بیٹھے علی کی برائی کر رہے تھے کہ پیغمبر ۖ غصہ کی حالت میں ہم لوگو ں کی طرف آئے اورفرمایا : علی نے تمہارا کیا بگاڑاہے؟ جس نے علی کو اذیت دی اس نے مجھ کو اذیت دی ۔(١)

(٣)حضرت علی سے قریش کی دشمنی

علی کی محرومیت اورمظلومیت کی اہم ترین دلیل قریش کی مخالفت اور دشمنی تھی کیونکہ وہ حضرت علی سے زک کھا چکے تھے حضرت نے رسول ۖ خدا کے زمانے میںجنگوں میں ان کے باپ،بھائیوںاور عزیزوں کو قتل کیا تھا ،چنانچہ یعقوبی حضرت علی کی خلافت کے شروع کے حالات کے بارے میںلکھتا ہے :قریش کے مروان بن حکم ،سعید بن عاص اور ولید بن عقبہ کے علاوہ تمام لوگوں نے حضرت علی کے ہاتھوںپر بیعت کی ، ولید نے ان لوگوں کی طرف سے حضرت علی سے کہا:آپ نے ہم لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے، بدرکے بعد میرے باپ کی گردن اڑائی سعیدکے باپ کو جنگ میں قتل کیا اور جب عثمان نے مروان کے باپ کو مدینہ واپس بلا نا چاہا تو آپ نے اعتراض کیا ۔(٢) اسی طرح خلافت علی کے وقت عبید اللہ بن عمر نے امام حسن سے سفارش کی ............

(١)ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ، مؤسسہ انتشارات ١٤٦،قم ،ج :٣ ،ص٢١١ (٢)ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ،تاریخ یعقوبی ،منشورات شریف رضی ، قم ،٤١٤١ھ، ج٢،ص ١٧٨

کہ آپ مجھ سے ملاقات کریں مجھے آ پ سے کام ہے، جس وقت دونوں کی ملا قات ہوئی تو عبید اللہ بن عمرنے امام حسن سے کہا : آپ کے والد نے شروع سے آخر تک قریش کو نقصان پہنچایا لوگ ان کے دشمن ہو گئے ہیں آپ میری مدد کریں تاکہ ان کو ہٹا کر آ پ کو ان کی جگہ بٹھادیا جائے۔(١) جب ابن عباس سے سوال کیاگیا: کیوں قریش حضرت علی سے دشمنی رکھتے ہیں؟ تو انہوںنے کہا : پہلے والوں کو حضرت علی نے واصل جہنم کیا اور بعد والوںکے لئے باعث عار ہو گئے ،حضرت علی کے دشمن قریش کی اس ناراضگی سے فائدہ اٹھاتے تھے اورقضیہ کو مزید ہوا دیتے تھے۔(٢) عمر بن خطاب نے سعد بن عاص سے کہا : تومجھے اس طرح دیکھ رہا ہے جیسے میںنے ہی تیرے باپ کو قتل کیا ہو میں نے اس کو قتل نہیں کیا بلکہ علی نے ان کو قتل کیا ہے۔(٣) خود حضرت علی نے بھی ابن ملجم کے ہا تھوں سے ضربت کھانے کے بعد ایک شعر کے ضمن میں قریش کی دشمنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

تکلم قریش تمنا ی لتقتلنی
فلا و ربکٔ ما فازوا وما ظفروا

(٤)

قریش کی خود تمنا تھی کہ وہ مجھے قتل کریں لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے ۔ ............

(١) ابن ابی الحدید، شرح نہج البلا غہ ،ج١،ص٤٩٨ (٢) ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب ، ص ٢٢٠ (٣) ابن سعد ، طبقات الکبریٰ ، دار بیروت ، ١٤٠٥ھ ، ج ٥ ،ص ٣١ (٤)ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب ،ص٣١٢

حضرت علی کا سکوت[لکھو]

اب یہ دیکھناچاہیے کہ حضرت علی نے سقیفہ اور ابوبکر کی حکومت کے آغا ز کے بعد کیوں اپنے حق سے صرف نظر کیا ؟چند ماہ کے استدلال اور احتجاجات کے بے اثر ہونے کا یقین کر لینے کے بعد حکومت کے خلاف مسلحانہ جنگ کیوں نہیں کی؟ جب کہ بعض بزرگ اصحاب پیغمبر ۖ آپ کے واقعی طرفداروں میں تھے اور عمومی طور سے مسلمان بھی آپ سے مخالفت نہیں رکھتے تھے، بہ طورکلی کہا جا سکتا ہے کہ امیر المومنین نے اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کو مد نظر رکھا اور سکوت اختیار کیا جیساکہ خطبہ شقشقیہ میں آپ نے فرمایا: میں نے خلافت کی قباکو چھوڑ دیا اور اپنے دامن کو اس سے دور کر لیا حالانکہ میں اس فکر میں تھا کہ آیا تنہا بغیر کسی یاورومدد گار کے ان پر حملہ کردو ںیا اس دم گھٹنے والی تنگ و تاریک فضا میں جوان کی کار ستانیوںکانتیجہ تھی اس پر صبر کروںایسی فضاجس نے بوڑھوں کو فرسودہ بنادیا تھا، جوانوں کو بوڑھا اور با ایمان لوگوں کو زندگی کے آخری دم تک کے لئے رنجیدہ کردیا تھامیں نے انجام پر نگاہ کی تو دیکھا کہ بردباری اور حالات پر صبر کرنا ہی عقل و خرد سے زیادہ نزدیک ہے اسی وجہ سے میں نے صبر کیا لیکن میں اس شخص کی طرح رہا کہ جس کی آنکھ میں کانٹا اور گلے میں کھردری ہڈی پھنسی ہوئی ہو میں اپنی میراث کو اپنی آنکھ سے لٹتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ (١) ............

(١)نہج البلاغہ ،فیض الا سلام، خطبہ ، ٧٤ ((فَسَد َلْتُ دُونھا ثوباً و طَویتُ عنھا کَشحاً و طفِفتُ ارتئی بین ان اصُول بِیَدٍ جذّٰائَ اَو أَصبِرَ علیٰ طَخیَةٍ عَمیٰا ء یَھْرَمُ فیھا الکبیر ، و یَشِیبُ فیھا الصّغیرُ ، و یَکْدَحُ فیھا مُوْمِن حتّیٰ یلقی ربَّہ ! فَرَاَیْتُ انَّ الصَّبْرَ علیٰ ھٰاتا اَحجیٰ فَصَبَرتُ وَ فی المعین قَذیٰ ، و فی الحلْقِ شجی ٰأَرَیٰ تُراثِی نَھْباً))

حضرت علی کے کلام سے خاموشی کے دوسرے اسباب کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے (اگرچہ وہ اسباب جزئی ہیں جیسے :)

(١)مسلمانوں کے درمیان تفرقہ

امیر المومنین فرماتے ہیں: جب خدا نے اپنے پیغمبر ۖکی روح قبض کی قریش نے اپنے کو ہم پر مقدم کیا اور ہم (جو امت کی قیادت کے لئے سب سے زیادہ سزاوار تھے)کو ہمارے حق سے بازر کھا لیکن میں نے دیکھا کہ اس کام میں صبر و برد باری کرنا مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور ان کے خون بہنے سے بہتر ہے کیونکہ لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے دین کی مثال بالکل دودھ سے بھری ہوئی اس مشک کی سی تھی کہ جس میں جھاگ بھر گیا ہوکہ جس میں ذرا سی غفلت اور سستی اسے نابود کر دے گی اور تھوڑا سا بھی اختلاف اسے پلٹ دے گا۔(١) ............

(١) انّ اللّہ لمّا قبض نبیّہ استاثرث علینا قریش بالامر ودفعتنا عن حقٍّ نحن احقُّ بہ مِن النّاسِ کافّةً فرایْتُ انَّ الصّبر علیٰ ذلکٔ افضَلُ مِن تفیقِ کلمةِ المُسلمین َ و سفْکِٔ دِمائِھم و النّاسُ حد یثو عھدٍ بالاسلام والدین ِ یُمخَص مخْصَ الوطب ، یُفسَدہُ ادنیٰ و ھَنٍ و یعکسہ خُلفٍ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ،دار الجیل بیروت،طبع اول،١٤٥٧ہجری ،ج١،ص٣٠٨


(٢)مرتد ہونے کا خطرہ

پیغمبر اکرم ۖکی وفات کے بعد، عرب قبائل کی بڑ ی تعداد کہ جنہوںنے پیغمبر اسلام ۖکی آخری زندگی میں اسلام قبول کیا تھا وہ دین سے پلٹ گئے اور مرتد ہوگئے تھے کہ جس کی وجہ سے ،مدینہ کے لئے خطرہ بہت بڑھ گیا تھاان کے مقابلہ میں مدینہ کی حکومت کمزورنہ ہو نے پائے اس لئے حضرت علی نے سکوت اختیار کیا حضرت علی نے فرمایا: خدا کی قسم! میں نے یہ کبھی نہیں سوچا اور نہ میرے ذہن میں کبھی یہ بات آئی کہ پیغمبرۖ کے بعدعرب منصب امامت اور رہبری کو ان کے اہل بیت سے چھین لیں گے اور خلافت کو مجھ سے دور کر دیں گے تنہا وہ چیز کہ جس نے مجھے نا راض کیا وہ لوگوں کا فلاں (ابو بکر ) کے اطراف میں جمع ہوجانا اور اس کی بیعت کرنا تھا میں نے اپناہاتھ کھینچ لیامیں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کچھ گروہ اسلام سے پھر گئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دین محمد ۖ کونابودکردیں، میں نے ا س بات کا خوف محسوس کیا کہ اگر اسلام اور اس کے اہل کی مددد نہ کروںنیز اسلام میں شگاف اور اس کے نابود ہونے پر شاہد رہوں تو میرے لئے اس کی مصیبت حکومت اور خلافت سے محروم ہونے سے زیادہ بڑی تھی کیونکہ دنیا کا فائدہ چند روزہ ہے جو جلدہی ختم ہوجائے گا جس طرح سراب تمام ہوجاتا ہے یا بادل چھٹ جاتے ہیںپس میں نے اس چیز کو چاہا کہ باطل ہمارے درمیان سے چلا جائے اور دین اپنی جگہ باقی رہے۔(١) ............

(١)فواللّہ ما کان یلقی فی روعی و لا یخطر ببالی ، انّ العرب تزعج ھذا الامر من بعدہ عن اہل بیتہ ولا انھم منحّوہ عنّی من بعدہ فما راعنی الّا انثیال النّاس علی فلان یبایعونہ، فامسکت یدی حتّی رایت رجعة النّاس قد رجعت عن الاسلام یدعون الی محق دین محمد ٍۖ فخشیتُ ان لم انصر الاسلام و اہلہ ان اری فیہ ثلماً او ھدماً تکون المصیبة بہ علیَّ اعظم من قوت ولا یتکم الّتی انّما ھی متاع ایّام قلائل یزول منھا ما کان یزول السَّراب او کما یتقشّع السحاب فنھضت فی تلکٔ الاحداث حتی زاح الباطل و زھق ،واطمانّ الدین و تنھنہ ( نہج البلاغہ ، فیض الاسلام، مکتوب ٦٢

امام حسن نے بھی معاویہ کو خط میں لکھا :میں نے منافقوں اور عرب کے تمام گروہ کہ جو اسلام کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے ان کی وجہ سے اپنے حق سے چشم پوشی کی(١) حتیٰ کہ ان لوگوں میں کچھ ایسے تھے جن کے لئے قرآن نے شہادت دی ہے: ان کے قلوب میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا تھا اور انہوں نے زبردستی اسلا م قبول کیا تھا اور اپنے نفاق کی وجہ سے علی کی ولایت کے منکر تھے حتیٰ کہ رسولۖ کے دور میں بھی اس مطلب پر اعتراض کرتے تھے۔

طبرسی نے آیۂ سئل سائل بعذاب واقع کی تفسیرمیںحضرت امام صادق سے نقل کیا ہے : غدیر خم کے واقعہ کے بعد نعمان بن حارث فھری پیغمبر ۖ کے پاس آیا اور کہنے لگا:آپ کے حکم کے مطابق ہم نے خداکی وحدانیت اور آ پ کی رسالت کی گواہی دی اورآپ نے جہاد ، روزہ ،حج ، زکوٰ ة، نماز کا حکم دیا ہم نے قبول کیا ان تمام باتوں پر آپ راضی اور خوش نہیں ہوئے اور کہہ رہے ہیں کہ جس کامیں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں، کیا یہ آپ کی طرف سے ہے یا خداکی جانب سے ؟تو رسول ۖ خدا نے فرمایا: اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے یہ حکم خدا کی طرف سے ہے ،نعمان بن حا رث وہاں سے یہ کہتا ہوا واپس ہوا کہ اگر یہ مطلب حق ہے تو آسمان سے میرے اوپر پتھر نازل فرما ،اسی وقت آسمان سے اس کے اوپر پتھر نازل ہو ااور وہ وہیں پر ہلا ک ہوگیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔(٢) ............

(١)ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، منشورات الشریف الرضی ، قم ١٤١٦ھ ص ٦٥ (٢)مجمع البیان ،دارالمعرفة للطباعة ،١٤٠٨ھ ،ج١٠،ص٥٣٠

سقیفہ میں بھی یہ لوگ قریش کے حامی اورطرف دار تھے جیسا کہ ابو مخنف نے نقل کیا ہے کہ کچھ صحرائی عرب مدینہ کے اطراف میںکار وبار کے لئے آئے ہوئے تھے اور پیغمبرۖ کی وفات کے دن مدینہ میںموجود تھے ان لوگوں نے ابو بکر کی بیعت کرنے میںاہم کردار ادا کیا تھا۔(١)

(٣) عترت پیغمبر ۖ کی حفاظت

پیغمبر ۖ کے اصلی وارث اور دین کے سچے حامی نیز خیر خواہ رسولۖ کے خا ندان والے تھے یہ لوگ قرآن کے ہم پلہ اورہم رتبہنیز پیغمبر ۖکے دوسری عظیم یاد گارنیز قرآن وشریعت کی تفسیر کرنے والے تھے انہوںنے پیغمبرۖ کے بعد اسلام کا صحیح چہرہ لوگوں کے سامنے پیش کیاتھا ان لوگوں کا قتل ہوجانا ناقابل تلافی نقصان تھا امیر المؤمنین فرماتے ہیں: میںنے سوچا اور فکر کی کہ اس وقت اہل بیت کے علاوہ کوئی میرا مدد گار نہیں ہے میں راضی نہیں تھا کہ یہ لوگ قتل کر دئیے جائیں۔(٢)

سقیفہ کے بعد شیعوں کے سیاسی حالات[لکھو]

اگرچہ سقیفہ تشکیل پانے کے بعد حضرت علی سیاسی میدان سے دور ہوگئے تھے، شیعہ مخصوص گروہ کی صورت میں سقیفہ کے بعدسیاسی طور پر وجود میں آئے اور انفرادی یا جماعت ............

(١) شیخ مفید ، محمد بن محمد بن نعمان ،الجمل ،مکتب الاعلام الاسلامی، مرکز نشر ،ص١١٨،١١٩ (٢)فَنَظَرتُ فاِذَا لَیْسَ لِی مُعِینُ اِلّا اَہل بَیْتِی فَضَنَنْتُ بِھِمْ عَن المُوْت ( نہج البلاغہ ، فیض الاسلام ، خطبہ : ٢٦ )

جماعت کی صورت میں حضرت علی کی حقانیت کادفاع کرتے رہے پہلے حضرت فاطمہ ۖ زہراکے گھر جمع ہوئے اور بیعت سے انکار کیا اور سقیفہ کے کارندوں سے روبروہوئے۔(١) لیکن حضرت علی تحفظ اسلام کی خاطر خشونت اور سختی کا رویہ ان کے ساتھ اپنانا نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ چاہتے تھے کہ بحث و منا ظرہ کے ساتھ مسئلہ کا تصفیہ کریںچنانچہ براء بن عازب نقل کرتا ہے:میں سقیفہ کے قضیہ سے دل برداشتہ رات کے وقت مسجد نبی ۖ میں گیا اور دیکھا: مقداد، عبادہ بن صامت ، سلمان فارسی ،ابوذر ، حذیفہ اور ابوالہیثم بن تیہان پیغمبر ۖ کے بعد رونما ہونے والے حالا ت کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ہم سب ایک ساتھ ابی بن کعب کے گھر گئے تو اس نے کہا: جو بھی حذیفہ کہیں اس کی رائے بھی وہی ہوگی۔(٢) آخر کار شیعان علی نے جمعہ کے دن مسجد نبیۖ میں ابو بکر کے ساتھ مناظرہ کیا اور اس کو ملامت کیا ، طبرسی نقل کرتے ہیں: ابا ن بن تغلب نے امام صادق سے پوچھا : میں آپ پر فدا ہو جاؤں،جس وقت ابو بکر رسول خدا ۖکی جگہ پر بیٹھے تو کیا کسی نے اعتراض نہیں کیا ؟امام نے فرمایا : کیوں نہیںانصار و مہاجرین میںسے بارہ افرادنے مثلاًخا لد بن سعید ،سلمان فارسی ، ابوذر ، مقداد، عمار، بریدہ اسلمی ،ابن ا لہیثم بن تیھان ، سہل بن حنیف ،عثمان بن حنیف ،خزیمہ بن ثابت (ذوالشہادتین)،ابی بن کعب ،ابو ایوب انصاری ایک جگہ پر جمع ہوئے اور ............

(١)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی،منشورات شریف رضی ،قم، ١٤١٤ھ، ج٢،ص١٢٦ (٢)ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ ، دار احیاء التراث العربی ،بیروت ،ج٢ص٥١

انہوں نے سقیفہ کے متعلق آپس میں گفتگو کی، بعض نے کہا : مسجد چلیںاور ابوبکر کو منبر سے اتارلیں لیکن بعض لوگوں نے اس سے اتفاق نہیںکیا یہ لوگ امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے اورکہا چلتے ہیں اور ابوبکر کو منبر سے کھینچ لیتے ہیں حضرت نے فرمایا: ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہے اگرسختی کرو گے اور یہ کام انجام دوگے تو وہ لوگ آئیں گے اور مجھ سے کہیں گے کہ بیعت کرو ورنہ تمہیںقتل کردیں گے بلکہ اس کے پاس جائوجو کچھ رسول خدا ۖ سے سنا ہے اس سے بیان کرو، اس طرح سے اتمام حجت ہوجائے گی ،وہ لوگ مسجد میںآئے اور سب سے پہلے خالد بن سعید اموی نے کہا : اے ابوبکر! آپ جانتے ہیں کہ پیغمبرۖ نے جنگ بنی نضیر کے بعد کیاکہا تھا : یاد رکھو! اور میری وصیت کو حفظ کرلو تمہارے درمیان میرے بعد میرے جانشین اور خلیفہ علی ہیں ، اس کے بعد جناب سلمان فارسی نے اعتراض کیا اس کے بعد جب دوسرے لوگوں نے احتجا ج کیا تو ابوبکر منبر سے نیچے اترے اور گھر چلے گئے اور تین دن تک گھر سے باہر نہیں نکلے ،خالد بن ولید ، ابو حذیفہ کا غلام سالم اور معاذبن جبل کچھ افراد کے ساتھ ابو بکر کے گھر آئے اور اس کے دل کو قوت دی، عمر بھی اس جماعت کے ساتھ مسجد میں آئے اور کہا کہ اے شیعیان علی اور دوستداران علی، جان لو اگر دوبارہ ان باتوںکی تکرار کی تو تمہاری گردنوں کو اڑا دوں گا۔(١) اسی طرح وہ چند صحابہ جو وفات پیغمبر ۖ کے وقت زکوٰ ة وصول کرنے پر مامور تھے جب وہ اپنی ماموریت سے واپس آئے جن میں خالد بن سعید اوراس کے دو بھائی ............

(١) طبرسی،ابی احمد منصور بن علی بن ابی طالب ،الاحتجاج ، انتشارات اسوہ،ج١ ،ص٨٦ا ٢٠٠١ئ

ابان اور عمر وتھے، ان حضرات نے ابو بکر پر اعتراض کیا اور دوبارہ زکوٰ ة وصول کرنے سے انکار کیا اور کہا: پیغمبر ۖکے بعد ہم کسی دوسرے کے لئے کام نہیں کریں گے۔(١) خالد بن سعید نے حضرت علی سے یہ درخواست کی آپ آئیے تاکہ ہم آپ کی بیعت کریں کیونکہ آپ ہی پیغمبر اکرم ۖکی جگہ کے لائق و سزاوار ہیں۔(٢) خلفاء ثلاثہ کی حکومت کے پورے ٢٥ سالہ دور میں شیعیان علی آپ کو خلیفہ اور امیر المومنین کے عنوان سے پہچنواتے رہے،عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں : قرآن کی فرمائش کے مطابق خلیفہ چار ہیںآدم،داؤد ،ہارون اور علی ۔(٣) ............

(١) ابن اثیر، ابی الحسن علی بن ابی اکرام ،اسد الغابہ فی معرفةالصحابہ،قاہرہ، ،دار احیاء التراث العربی بیروت ،ج٢،ص٨٣ (٢) ابن واضح ،تاریخ یعقوبی ، منشورات مؤسسةا لاعلمی للمطبوعات ،بیروت ،طبع اول ،ج٢ ص١١ (٣)خدا وند عالم حضرت آدم کے لئے قرآن میں فرماتا ہے ،( انّی جاعل فی الارضِ خلیفة)(سورہ بقرہ ، آیت ٣٠) خدا وند عالم حضرت دائود کے لئے فرماتا ہے :(یا داؤد انّا جعلناکٔ خلیفة فی الارض )سورہ ص ٣٨،آیت: ٣٦ خدا وند عالم حضرت ہارون کے لئے موسیٰ کی زبانی نقل فرماتا ہے (اخلفنی فی قومی ) سورہ اعراف آیت ١٤٢ خدا وند عالم حضرت علی کے لئے فرماتا ہے :(وعد اللّہ الذین آمنوا منکم و عملوا الصّالحات لیستخلفنّھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم )سورہ نور : ٢٤،آیت ٥٥، ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب ، دارالاضواء ، بیروت ، ١٤٠٥ھ، ج ٣ ،ص ٧٧۔٧٨

حذیفہ بھی کہتے تھے: جو بھی امیر المومنین بر حق کا مشاہدہ کرنا چاہتا ہے وہ علی سے ملاقات کرے۔(١) حارث بن خزرج جو پیغمبر ۖ کی جنگوں میں انصار کے علمدار ہواکرتے تھے نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ۖنے علی سے فرمایا : اہل آسمان آپ کو امیر المومنین کہتے ہیں۔(٢) یعقوبی لکھتا ہے: عمر کی چھ رکنی کمیٹی کی تشکیل اور عثمان کے انتخاب کے بعد کچھ لوگوں نے یہ ظاہر کیا کہ ہم علی کی طرف رجحان رکھتے ہیں اور عثمان کے خلاف باتیں کرتے تھے، ایک شخص نقل کرتا ہے کہ میںمسجدالنبی ۖمیں داخل ہوا دیکھا ایک آدمی دوزانو بیٹھا ہے اور اس درجہ بیتاب ہو رہا ہے جیسے تمام دنیا اس کی تھی اور اب پوری دنیا اس سے چھن گئی ہے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے: قریش پر تعجب ہے کہ خلافت کو خاندان پیغمبرۖ سے خارج کردیا حالانکہ ان کے درمیا ن سب سے پہلا مومن اوررسول خدا ۖکا چچا زاد بھائی دین خدا کا دانا ترین عالم ا ور فقیہ ترین شخص صراط مستقیم موجود تھا ،خدا کی قسم! امام ہادی و مہدی اور طاہر و نقی سے خلافت کو لے لیا گیاکیونکہ ان کا ہدف اصلاح امت و دین داری نہ تھا بلکہ انہوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی راوی کہتا ہے:میں نزدیک ہوا اور دریافت کیا خدا آپ پر رحمت نازل کرے آپ کون ہیں؟ اور یہ شخص جس کے بارے میں بیان کر رہے ہیں وہ کون ہے؟ فرمایا :میں مقداد بن عمر وہوںاور وہ علی بن ابی طالب ............

(١) بلاذری ،محمد بن یحیی ، انساب الاشراف ،منشورات مؤسسة الاعلمی للمطبوعات بیروت ،١٢٩٤ھ ، ج٣،ص١١٥ (٢)ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ، موسسہ انتشارات علامہ ، قم ، ج٣، ص ٥٤

ہیں، میں نے کہا : آپ قیام کریںمیں آپ کی مدد کرو ں گا ،مقداد نے کہا: میرے بیٹے یہ کام ایک دو آدمی سے ہونے والا نہیں ہے۔(١) ابوذر غفاری بھی عثمان کی خلافت کے روز مسجد نبویۖ کے دروازہ پر کھڑے کہہ رہے تھے جو مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے اور جو نہیں پہچانتا وہ مجھے پہچان لے میں جندب بن جنادہ ابوذر غفاری ہوں ، محمد ۖعلم آدم کے وارث اور تمام فضائل انبیاء کے حامل ہیںاور علی محمدۖکے جانشین اور ان کے علم کے وارث ہیں، اے پیغمبرۖ کے بعد سرگرداں امت! آگاہ ہوجاؤ جس کو خدانے مقدم کیا تھا اس کو اگر تم مقدم رکھتے اور ولایت کو خاندان رسول ۖمیںرہنے دیتے تو خداکی نعمتیں اوپر اور نیچے سے نازل ہوتیں جو بھی مطلب تم چاہتے اس کا علم کتاب خدا اور سنت پیغمبر ۖ سے حاصل کرلیتے لیکن اب تم نے ایسا نہیں کیا تو اپنے اعمال کا نتیجہ دیکھنا۔ (٢) ہاں شیعیان علی کے پہلے گروہ میںیہی پیغمبر اکرم ۖ کے اصحاب با وفا تھے انہیں کے ذریعہ تشیع تابعین تک منتقل ہوئی اور انہیں کی تلاش و کوشش کی وجہ سے عثمان کی حکومت کے آخری دور میں سیاسی حوالہ سے حضرت علی کی خلافت کے اسباب فراہم ہوئے۔ ............

(١) ابن واضح ،تاریخ یعقوبی ، ص ٥٧ (٢)تاریخ یعقوبی ، ابن واضح ، ص ٦٧


شیعہ صحابی[لکھو]

ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے پیروان علی کو شیعہ کہا وہ حضرت محمد مصطفیۖ کی ذات گرامی تھی، رسول اکرم ۖ کے زمانہ میں آپۖ کے کچھ صحابہ شیعیان علی کے نام سے مشہور تھے ،محمدکرد علی خطط الشام میں لکھتا ہے :رسول اللہۖ کے زمانہ میں اصحاب میں سے چند بزرگ، دوستداران علی کے نام سے معروف تھے جیسے سلمان فارسی جوکہتے ہیں ہم نے رسول خدا ۖکے ہاتھوں پر بیعت کی تاکہ مسلما نوں کے ساتھ خیرخواہی کریں اور علی کے دوستوں اور ان کی اقتدا کرنے والوں میں سے رہیں، ابوسعید خدری کہتے ہیں: ہم کو پانچ چیزوں کا حکم ہو الوگوں نے چار پر عمل کیا اور ایک کو چھوڑدیا پوچھا گیا وہ چار چیزیںکون سی ہیں؟ ا نہوں نے کہا: نماز ،زکوٰة ،روزۂ ماہ رمضان اور حج ،پھر پوچھا گیا کہ وہ کیا ہے جس کو لوگوں نے ترک کردیا؟ تو انہوںنے کہا : وہ علی بن ابیطالب کی ولایت ہے لوگوں نے کہا: کیا یہ بھی انہیں چار چیزوں کی طرح واجب ہے؟ کہا: ہاں یہ بھی اسی طرح واجب ہے،یا ابوذر غفاری ، عمار یاسر ، حذیفہ بن یمان ، خزیمہ بن ثابت ذوالشہادتین ابو ایوب انصاری ، خالد بن سعید قیس بن سعدوغیرہ شیعۂ علی کے عنوان سے جانے جاتے تھے۔ (١) ابن ابی الحدید کاپہلے دور کے شیعوں کے بارے میںکہناہے علی کی افضلیت کا قول پرانا قول ہے اصحاب اور تابعین میں سے اکثر اس کے قائل تھے جیسے عمار، مقداد، ابوذر، سلمان، جابر، ابی بن کعب، حذیفہ، بریدہ ،ابو ایوب ،سہل بن حنیف، عثمان بن ............

(١)خطط الشام ، مکتبة النوری، دمشق، طبع سوم ، ١٤٠٣ھ ١٩٨٣ئ ، ج ٦ ص ٢٤٥

حنیف ابولہیثم بن تیھان، خزیمہ بن ثابت ،ابوالطفیل عامر بن واثلہ، عباس بن عبد المطلب اور تمام بنی ہاشم اور بنی مطلب، شروع میں زبیر بھی حضرت علی کے مقدم ہونے کے قائل تھے بنی امیہ میں سے بھی کچھ افراد جیسے خالد بن سعید اور اس کے بعد عمر بن عبدالعزیز بھی علی کی افضلیت کے قائل تھے۔ (١) سید علی خان شیرازی نے درجات الرفیعةفی طبقات الشیعہ میںایک حصہ شیعہ صحابیوں سے مخصوص کیا ہے، سب سے پہلے بنی ہاشم کا ذکر کیا ہے اس کے بعد تما م شیعہ صحابیوں کوپیش کیا ہے، پہلا حصہ جو بنی ہاشم سے مربوط شیعہ اصحاب سے ہے اس طرح ذکر کیا ہے: ابوطالب، عباس بن عبدالمطلب، عبداللہ بن عباس ، فضل بن عباس ، عبیداللہ بن عباس، عبدالرحمن بن عباس ، تمام بن عباس، عقیل بن ابی طالب ، ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب ،نوفل بن حارث بن عبدالمطلب عبداللہ بن زبیر بن عبد المطلب ،عبداللہ بن جعفر ،عون بن جعفر ،محمدبن جعفر ،ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب ،طفیل بن حارث بن عبدالمطلب، مغیرہ بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب ،عباس بن عتبہ بن ابی لھب عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب ،جعفر بن ابی سفیان بن حارث بن عبدالمطلب ۔(٢) سید علی خان نے دوسرے باب میں شیعیان بنی ہاشم کے علاوہ اصحاب شیعہ کا اس طرح تذکرہ کیا ہے عمربن ابی سلمہ، سلمان فارسی ،مقداد بن اسود ،ابوذر غفاری ، عماربن ............

(١)ابن ابی الحدید ، شرح نہج البلاغہ ، دار احیاء التراث العربی ،بیروت ج٢٠ ص ٢٢١،٢٢٢ (٢)سید علی خان شیرازی ، الدرجات الرفیعة فی طبقات الشیعة مؤسسة الوفا، بیروت ص١٤١۔١٩٥

یاسر ، حذیفہ بن یمان ،خزیمہ بن ثابت، ابو ایوب انصاری، ابوالہیثم مالک بن تیہان ، ابی ابن کعب ،سعد بن عبادہ ،قیس بن سعد ،سعدبن سعدبن عبادہ ، ابو قتادہ انصاری ،عدی بن حاتم عبادہ بن صامت، بلال بن رباح ، ابوالحمرا ، ابو رافع، ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص ، عثمان بن حنیف ، سہل بن حنیف ،حکیم بن جبلہ العدوی، خالد بن سعید بن عاص، ولید بن جابربن طلیم الطائی، سعد بن مالک بن سنان ، براء بن مالک انصاری ،ابن حصیب اسلمی کعب بن عمرو انصاری ،رفاعہ بن رافع انصاری، مالک بن ربیعہ ساعدی ،عقبہ بن عمربن ثعالبہ انصاری، ہند بن ابی ہالہ تمیمی ،جعدہ بن ہبیرہ ، ابو عمرہ انصاری ، مسعود بن اوس ، نضلہ بن عبید ،ابو برزہ اسلمی ،مرداس بن مالک اسلمی ، مسور بن شدا دفہری، عبداللہ بن بدیل الخزاعی ، حجر بن عدی کندی ، عمر وبن الحمق خزاعی ، اسامہ بن زید ،ابو لیلیٰ انصاری ، زید بن ارقم اوربراء بن عازب اوسی ۔(١) مؤلف رجال البرقی نے بھی شیعیان ا ورمحبان علی جو اصحاب پیغمبر سے تھے انہیںاپنی کتاب کے ایک حصہ میں اس طرح ذکرکیا ہے: سلمان ، مقداد،ابوذر، عمار،اور ان چار افراد کے بعد ابولیلیٰ ،شبیر ،ابو عمرة انصاری ابو سنان انصاری ،اور ان چار افراد کے بعدجابر بن عبداللہ انصاری، ابو سعید انصاری جن کا نام سعد بن مالک خزرجی تھا،ابو ایوب انصاری خزرجی ، ابی بن کعب انصاری ابوبرزہ اسلمی خزاعی جن کا نام نضلہ بن عبید اللہ تھا،زید بن ارقم انصاری بریدہ بن حصیب اسلمی ،عبدالرحمن بن قیس جن کا لقب سفینہ راکب اسد تھا،عبداللہ بن سلام ،عباس بن ............

(١)سید علی خان شیرازی ، الدرجات الرفیعة فی طبقات الشیعة مؤسسة الوفا، بیروت ص١٩٧ ،٤٥٥

عبد المطلب،عبد اللہ بن عباس ،عبد اللہ بن جعفر ، مغیرہ بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب ،حذیفة الیمان جو انصار میں شمار کئے جاتے تھے، اسامہ بن زید ، انس بن مالک ابو الحمرائ،براء بن عا زب انصاری اور عرفہ ازدی ۔(١) بعض شیعہ علماء رجال عقیدہ رکھتے ہیں کہ شیعہ صحابہ کی تعداد اس سے زیادہ تھی جیسا کہ شیخ مفید نے وہ تمام اصحاب جنہوں نے مدینہ میںحضرت کے ہاتھوں پر بیعت کی خصوصاًوہ اصحاب جو جنگوں میںحضرت کے ساتھ تھے انہیں شیعیان و معتقدین امامت حضرت علی میں سے جاناہے جنگ جمل میں اصحاب میں سے پندرہ سو افراد حاضر تھے۔ (٢) رجال کشی میں آیا ہے :شروع کے اصحاب جو حق کی طرف آئے اور حضرت علی کی امامت کے قائل ہوئے وہ یہ ہیں: ابو الہیثم بن تیہان،ابو ایوب،خزیمہ بن ثابت،جابر بن عبد اللہ ،زید بن ارقم، ابو سعید،سہل بن حنیف،برا ء بن مالک،عثمان بن حنیف،عبادہ بن صامت،ان کے بعد قیس بن سعد ،عدی بن حاتم،عمرو بن حمق،عمران بن حصین،بریدہ اسلمی، اور بہت سے دوسرے جن کو بشر کثیرةسے تعبیر کیا ہے۔(٣) ............

(١) احمد بن محمد بن خالدبرقی، رجال البرقی ،مؤسسةقیوم ص٢٩ ،٣١ (٢)شیخ مفید ، محمدبن محمدبن نعمان ،الجمل ،مکتب الاعلام الاسلامی ، مرکز النشر ، قم ، ص ١٠٩۔١١٠ (٣)شیخ طوسی ، ابی جعفر ، اختیار معرفة الرجال ، رجال کشی ، موسسہ آل البیت التراث،قم ،١٤٠٤ھ ج١، ص١٨١۔١٨٨

مرحوم میر داماد تعلیقہ رجال کشی میں بشر کثیر کی وضاحت و شرح میں کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے بہت سے بزرگان اور تابعین کے چنندہ افراد ہیں ۔(١) سید علی خان شیرازی نے کہا ہے کہ اصحاب پیغمبرۖ کی بیشتر تعداد امیر المومنین کی امامت کی طرف واپس آگئی تھی کہ جس کا شمار کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے اور اخبار نقل کرنے والوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اکثر صحابہ جنگوں میں حضرت علی کے ساتھ تھے ۔(٢) محمد بن ابی بکر نے معاویہ کو خط لکھا کہ جس میں علی کی حقانیت کی طرف اشارہ اس بات سے کیا ہے کہ اکثر اصحاب پیغمبرۖحضرت علی کے ارد گرد جمع ہیں۔(٣) محمدبن ابی حذیفہ جو حضرت علی کے وفادارساتھی تھے اور معاویہ کے ماموں کے بیٹے تھے حضرت علی سے دوستی کی بنا پرمدتوں معاویہ کے زندان میں زندگی بسر کی اور آخر کار وہیں دنیا سے رخصت ہوگئے ،معاویہ سے مخاطب ہوکر کہا : جس روز سے میں تجھ کو پہچانتا ہوں چاہے وہ جاہلیت کا دور ہو یا اسلام کا تجھ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اسلام نام کی کوئی چیز تیرے اندر نہیں پائی جاتی، اس کی علامت یہ ہے کہ تو مجھے علی سے محبت کی بناپر ملامت کرتا ہے حالانکہ تمام زاہد و عابد، مہاجر وانصار علی کے ساتھ ہیں اور تیرے ساتھ آزاد کردہ غلام اور منافقین ہیں۔ (٤) ............

(١)شیخ طوسی ، ابی جعفر ،ا ختیار معرفة الرجال ، رجال کشی ، موسسہ آل البیت التراث ، قم ، ١٤٠٤ھ ج ١ ،ص ١٨٨ (٢)امین،سید محسن،اعیان الشیعہ،دارالتعارف للمطبوعات،بیروت،ج٢،ص٢٤ (٣) بلاذری ، انساب الاشراف، منشورات موسسہ الاعلمی ،للمطبوعات، بیروت،١٣٩٤ھ ج ٢ ، ص٣٩٥ (٤)شیخ طوسی ابی جعفر،رجال کشی،ص٢٧٨

البتہ جو لوگ امیر المومنین کی فوج میں تھے ان سب کا شمار آپ کے شیعوں میںنہیں ہوتا تھا لیکن چونکہ آپ قانونی خلیفہ تھے اس لئے آپ کا ساتھ دیتے تھے اگر چہ یہ بات تمام لوگوں کے بارے میں کہی جاسکتی ہے سوائے ان صحابیوں کے جو علی کے ساتھ تھے اس لئے کہ وہ اصحاب جو حضرت امیر کے ساتھ تھے کہ جن سے وہ اپنی حقانیت ثابت کرنے کے لئے مد د لیتے تھے ان کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں ہے جیسا کہ سلیم ابن قیس نقل کرتا ہے: امیر المومنین صفین میںمنبر پر تشریف لے گئے اور مہاجر و انصار کے سبھی افراد جو لشکر میں تھے منبرکے نیچے جمع ہوگئے حضر ت نے اللہ کی حمد و ثنا ء کی اور اس کے بعد فرمایا: اے لوگو!میرے فضائل و مناقب بے شمار ہیں میںصرف اس پر اکتفا کرتا ہوں کہ جب رسولۖخدا سے اس آیت کے بارے میں السابقون السابقون اولئک المقربون پوچھا گیا توآپ نے فرمایا : خدا نے ا س آیت کو انبیا و اوصیا کی شان میں نازل کیا ہے اور میں تمام انبیا و پیغمبروں سے افضل ہوں اور میرا وصی علی ابن ابی طالب تمام اوصیاء سے افضل ہے اس موقع پر بدر کے ستّر اصحاب جن میں اکثر انصار تھے کھڑے ہو گئے اور گواہی دی کہ رسول ۖ خدا سے ہم نے ایساہی سنا ہے۔ (١) ............

(١)سلیم ابن قیس العامری ، منشورات دار الفنون ، للطبع والنشر والتوزیع ، بیروت ،١٤٠٠ھ ص ١٨٦، طبری، ابی منصور احمد ابن علی ابن ابی طالب ، الاحتجاج ، انتشارات اسوہ ، ج ١ ص ٤٧٢


شیعی تاریخ میں تحول وتغیر[لکھو]

شیعہ خلفا کے زمانے میں[لکھو]

شیعہ پہلے تینوں خلیفہ ،ابوبکر،عمر، عثمان کے زمانے میں حسب ذیل خصوصیات کے حامل تھے ۔

(الف)شیعہ ان تین خلفا کے دور میں سقیفہ کے ابتدائی دنوں کے علاوہ بہت زیادہ فشار میں نہیں تھے اگر چہ کہا جا سکتا ہے کہ بہت سے شیعہ، شیعہ ہونے کی وجہ سے اہم منصبوں سے محروم تھے۔ (١)

(ب)سقیفہ کے بعد مسلمانوں کی قیادت کا مسئلہ انتشار کا شکار ہوگیا اور مسلمان دو اہم گروہوں میں تقسیم ہوگئے، اہل سنت علمی فقہی و اعتقادی مشکلات میں خلفاء زمانہ کی طرف اور شیعہ حضرت علی کی طرف رجوع کرتے تھے، شیعہ اپنے علمی اور فقہی مشکلات بلکہ بطورکلی معارف اسلامی سے متعلق امور میںحضرت علی کی شہادت کے بعد ............

(١)ابو بکر نے پہلی بارخالد بن سعید کو شام کی جنگ کا سردار بنایا عمر نے ان سے کہا: کیا آپ اس بات کو بھول گئے ہیںکہ خالد نے بیعت نہیںکی ہے اور بنی ہاشم کے ساتھ اتحاد کرلیا ہے؟ اس وجہ سے ابو بکر نے خالد سے سرداری اور فرمان روائی کو واپس لے لیا اور خالد کی جگہ کسی اور کو معین کردیا،ابن واضح ،احمد بن ابی یعقوب تاریخ یعقوبی،منشورات الشریف الرضی،قم، ١٤١٤ہجری، ج٢، ص١٣٣

ائمہ طاہرین کی طرف رجوع کرتے رہے اورشیعہ و اہل سنت کے درمیان فقہ و حدیث و تفسیر کلام وغیر ہ میں اختلاف کی وجہ یہی ہے کہ ان دونوں گروہوں کی دینی درسگاہ اورپناہ گاہ ایک دوسرے سے علیحدہ تھی۔ (ج) اسی طرح حضرت علی نے قانونی طور پر خلفاء وقت کے ساتھ فوجی اور سیاسی شعبہ میں عالم اسلام کی حفا ظت اور مصلحت کی خاطر کافی حد تک طرفداری وحمایت کی (١)چند بزرگ شیعہ صحابہ نے بھی امام کی موافقت سے فوجی او رسیاسی منصوبوں کو قبول کرلیا تھا مثلاً حضرت علی کے چچازاد بھائی فضل بن عباس جو سقیفہ میں حضرت علی کے مدافع تھے شام میں فوجی منصب پر فائز تھے اور ١٨ ھ میں فلسطین میںدنیا سے رخصت ہوگئے۔(٢) ............

(١)جیسے حضرت علی کی رائے ابو بکر کے لئے ،فوج کو شام کی طرف بھیجنے کے بارے میں، ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ،تاریخ یعقوبی،منشورات الشریف الرضی،قم، ١٤١٤ہجری، ج٢، ص١٣٣ ،اور حضرت علی کا عمر کو رہنمائی کرناکہ جب انہوں نے رومیوں سے جنگ کرنے کے لئے جانے پر آپ سے مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا : اگرآپ خود ان دشمنوں کے مقابلے میں جائیںگے تو مغلوب ہوجائیں گے اورمسلمانوں کے لئے کسی دور دراز شہر میں بھی کوئی پناہ گاہ نہیں ہوگی نیز آپ کے بعد کوئی نہیںہے کہ جس کی طرف لوگ رجوع کریں ، لہٰذا جنگ کے ماہر اور بہادرافراد کو ان کی طرف بھیجیں اور ایسے لوگوں کو ساتھ انہیں بھیجیںکہ جو سختی کو برداشت کر سکیں اور نصیحت کو قبول کریں، اگر خدا وند متعال نے کامیاب و کامران کر دیا تو یہ وہی ہے کہ جس کی آپ آرزو رکھتے ہیں اور اگر کوئی دوسرا واقعہ پیش آگیا توآپ مسلمانوں کے مددگار اور پناہ دینے والے ہوںگے ( نہج البلاغہ ، ترجمہ فیض الاسلام ، خطبہ : ١٣٤) ونیز جب عمر نے بنفس نفیس ایرانیوں سے جنگ کرنے کے بارے میںآپ سے پوچھا … (٢)احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی، قم ١٤١٤ھ ج٢ص١٥١

حذیفہ ا ور سلمان ترتیب وار مدائن کے حاکم تھے،(١)عمار یاسر ،سعد بن ابی وقاص کے بعد خلیفہ دوم کی طرف سے کوفہ کے حاکم ہوئے( ٢)ہاشم مرقال جو حضرت علی کے مخلص شیعوں میں تھے اور جنگ صفین میں علی کے لشکرمیں شہید ہوئے (٣) تینوں خلفا کے زمانے میںبڑے افسر تھے ٢٢ ھمیںآذر بائیجان کو فتح کیا (٤)عثمان بن حنیف اور حذیفہ بن یمان عمر کی طرف سے عراق کی زمین کی پیمائش پر مامور تھے(٥) عبداللہ بن بدیل بن ورقہ خزاعی،شیعیان علی میں سے تھے جن کا بیٹا جنگ جمل میں سب سے پہلے شہید ہوا(٦)یہ فوجی افسروںمیں سے تھا اور اس نے اصفہان اور ہمدان کو فتح کیاتھا۔ (٧)

اسی طرح سے دوسرے افراد بھی جیسے جریر بن عبد اللہ بجلی (٨)قرظہ بن کعب ............

(١)مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذھب ، منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١٤ھ ج٢ ص ٣٢٣ (٢)احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی، قم ١٤١٤ھ ج٢ص١٥٥ (٣)مسعودی علی ابن الحسین ، ، مروج الذھب ، منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١٤ھ ج٢ ص ٤٠١ (٤)احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی، قم ١٤١٤ھ ج٢ص١٥٦ (٥)احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی، قم ١٤١٤ھ ج٢ص١٥٢ (٦)شیخ مفید، محمد بن محمد بن النعمان ، الجمل ، مکتب الاعلام الاسلامی ، مرکز النشر ، قم ، ص ٣٤٢ (٧)احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی، قم ١٤١٤ھ ج٢ص١٥٧ (٨)بلاذری ، احمد بن یحیی بن جابر ، انساب الاشراف ، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات بیروت ١٣٩٤ ج ٢ ص ٢٧٥

انصاری( ١)یہ لوگ امیر المومنین کی خلافت میں اہم افراد شمار کئے جاتے تھے جب کہ تینوں خلفا کے زمانے میں ملکی اور لشکری عہدوں پر فائز تھے جریر نے کوفہ کا علاقہ فتح کیا( ٢) اور زمانۂ عثمان میں ہمدان کے حاکم تھے(٣)قرظہ بن کعب انصاری نے بھی عمر بن خطاب کے زمانے میںشہر ری کو فتح کیا۔(٤) ............

(١)ابن اثیر ، عز الدین علی بن ابی الکرم ، اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت، ج٤ ص ٢٠٢ (٢) ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، ج ٢ ص ١٤٣ (٣) ابن قتیبہ ، ابی محمد عبد اللہ بن مسلم ، المعارف ، منشورات الشریف الرضی ، قم ، ١٤١٥ھ، ص ٥٨٦، (٤) ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، ج ٢ ص ١٥٧


اظہار تشیّع ( امیرالمومنین کی خلافت میں)[لکھو]

اگر چہ تشیّع کا سابقہ پیغمبرۖ کے زمانہ سے ہے، لیکن قتل عثمان کے بعد خلافت علی کے دورمیں علی الاعلان اظہار ہو ااس زمانہ میں صف بندی ہوئی اور پیروان علی نے آشکار ا اپنے شیعہ ہونے کا اعلان کیا ،شیخ مفید نقل کرتے ہیں کہ ایک جماعت حضرت علی کے پاس آئی اور کہا:

اے امیر المومنین! ہم آپ کے شیعہ ہیں ،حضرت نے ان کو غور سے دیکھا اور فرمایا :آخرمیں تمہارے اندر شیعہ ہونے کی علامت کیوںنہیں دیکھ رہا ہوں؟اس جماعت نے کہا:اے امیرالمومنین شیعوںکی کیاعلامت ہونی چاہیے حضرت نے فرمایا:

راتوں میں کثرت عبادت سے ان کارنگ زردپڑ جائے،(خوف خدا میں) گریہ کرنے سے ان کی بینائی ضعیف ہوگئی ہومسلسل قیام عبادت سے ان کی کمر خمیدہ ہوگئی ہو اور ان کا پیٹ روزہ رکھنے کی وجہ سے پیٹھ سے لگ گیا ہو اور خضوع اور خشوع میں ڈوبے ہوئے ہوں (١)

اسی طرح بہت سے اشعار حضرت علی کی خلافت کے دور میں کہے گئے ہیں کہ جو امام کے بر حق نیز پیغمبر ۖکے بعدپیغمبرۖکے جانشین اور بلا فصل خلیفہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں ،قیس بن سعد نے کہا :

و علی امامنا و امام
لسوانااتیٰ بہ التنزیل

(٢)

علی ہمارے اورہمارے علاوہ لوگوں کے امام ہیں اس بات کو قرآن نے بیان کیا ہے ۔

خزیمہ بن ثابت ذوالشہادتین کہتے ہیں :

فدیت علیاً امام الوری
سراج البریّہ مأوی التّقیٰ

میں علی پر قربان ہو جاؤںوہ لوگوں کے امام اور چراغ خلق اور متقین کی پناہ گاہ ہیں۔

وصی الرّسول وزوج البتول
امام البریّہ شمس الضّحی

وہ پیغمبرۖ کے وصی اورحضرت فاطمہ زہرا کے شوہرنیز خلائق کے امام اور خورشید تاباں ہیں ۔ ............

(١)شیخ مفید، ارشاد ،ترجمہ شیخ محمد باقر ساعدی خراسانی ،کتاب فروشی اسلامیہ ١٣٧٦ھ ش،ص ٢٢٧،٢٢٨ ( ٢)ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب ،موسسہ انتشارات علامہ ، قم ج٣ ص ٢٨

تصدق خاتمہ راکعا
فاحسن بفعل امام الوری

وہ اما م خلق ہیںانہوں نے ہیں رکوع کی حالت میںاپنی انگوٹھی زکوٰة میں دے کر کتنا بڑا نیک کارنامہ انجام دیا

ففضّلہ اللّٰہ رب العباد
و انزل فی شأنہ ھل اتی

اللہ نے ان کو دوسروںپر برتری عطا کی اور ان کی شان میں سورہ ہل اتیٰ نازل کیا۔

حضرت کے شیعوں نے بھی اپنے بعض اشعار میںخود کو علی کے دین پر ہونے کو ثابت کیا ہے عمار یاسر نے جنگ جمل میں عمرو بن یثربی کے سامنے یہ اشعار پڑھے:

لا تبرح العرصة یا ابن یثربی
حتی اقاتلک علی دین عل
نحن وبیت اللّہ اولی بالنّبی

اے یثربی کے بیٹے! میدان سے فرار نہ کرناتاکہ میں دین علی کے دین پر رہ کر تجھ سے جنگ کروں ،خانہ کعبہ کی قسم !ہم نبی کے حوالے سے تم سے اولیٰ ہیں۔

جیسا کہ عمر بن یثربی کہ جو دشمن علی تھا،محبان علی کو قتل کر کے افتخار کرتا تھا وہ شعر میں کہتاہے:

ان تنکرونی فانا ابن یثربی قاتل علبائ
و ھند الجملی ثم ابن صوحان علی دین عل

اگر مجھے نہیں پہچانتے تو پہچان لو میں یثربی کا فرزند ہوںاورعلبا و ہندجملی کا قاتل ہوں( یہ دو لوگ علی کے دوستوں اور شیعوں میںسے تھے ) اور میں نے علی کی دوستی کے جرم میں صوحان کے بیٹے کو بھی قتل کیا ہے ۔(١) ............

(١)شیخ مفید ،الجمل ،مکتب الاعلام الاسلامی ، مرکز النشر ، قم ١٤١٦ ھ، ص ٣٤٦


شیعہ، بنی امیہ کے زمانہ میں[لکھو]

بنی امیہ کا زمانہ شیعوں کے لئے بہت دشوار زمانہ تھا جو چالیس ہجری سے شروع ہوتا ہے اور ایک سو بتیس ہجری تک جاری رہتا ہے، عمر بن عبد العزیز کے علاوہ تمام خلفائے اموی شیعوں کے سخت ترین دشمن و مخالف تھے، البتہ ہشام اموی کے بعد سے وہ داخلی اختلافات وشورش کا شکار ہوگئے تھے اور عباسیوں سے مقابلہ میں لگ گئے تھے اور گذشتہ سختیوں میں کمی آگئی تھی خلفائے بنی امیہ شام کے علاقہ میں وہاںکے حاکموں کے ذریعہ شیعوںکے اوپر فشار لاتے تھے اور تمام اموی حکام، شیعوں کے دشمنوں میں سے منتخب ہوتے تھے جو شیعوں کو اذیت دینے سے گریز نہیں کرتے تھے لیکن ان کے درمیان زیاد، عبیداللہ بن زیاد اور حجاج بن یوسف نے ظلم کرنے میںدوسروں پر سبقت کی، اہل تسنن کا مشہور دانشمند ابن ابی الحدید لکھتا ہے : شیعہ جہاں کہیں بھی ہو تے تھے ان کو قتل کر دیا جاتا تھا، بنی امیہ صرف شیعہ ہونے کے شبہ کی وجہ سے لوگوںکے ہاتھ پیر کاٹ دیا کرتے تھے جو بھی خاندان پیغمبر ۖ سے محبت کرتا تھااس کو زندان میں ڈال دیتے تھے یا اس کے مال لوٹ لیا کرتے تھے یا اس کا گھر ویران کر دیا جاتا تھا، اس ناگفتہ بہ صورت حال کی شدت اس حدتک پہنچ چکی تھی کہ علی سے دوستی کی تہمت لگانا کفر و بے دینی سے زیادہ بد تر شمار کیا جاتا تھااور اس کے نتائج بڑے سخت ہوتے تھے، اس خشونت آمیز سیاست میں کوفہ کے حالات کچھ زیادہ بدتر تھے کیونکہ کوفہ شیعیان علی کا مرکز تھا معاویہ نے زیاد بن سمیہ کوکوفہ کا حاکم بنادیاتھا، بعد میں بصرہ کی سپہ سالاری بھی اس کے حوالہ کردی گئی، زیادچونکہ پہلے کبھی علی کے دوستوں کی صفوں میں تھاجو شیعیان علی کو اچھی طرح پہچانتا تھا اس نے شیعوںکا تعاقب کیا، شیعہ جہاں کہیں گوشہ و کنار میں مخفی تھے ان کو ڈھونڈکر قتل کردیا ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے اور ان کو نا بینا بنادیا اور انہیں کھجور کے درخت پرپھانسی دے دی نیز انہیں شہر بدر کر دیا یہاں تک کہ کوئی بھی مشہور شیعہ شخصیت عراق میں باقی نہیں رہی۔(١)

ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن الجوزی کہتا ہے:

زیادمنبر پر خطبہ دے رہا تھا کچھ شیعوں نے اس پر اعتراض کیا اس نے حکم دیا اسی٨٠ افراد کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے جائیں وہ لوگوں کو مسجد میں جمع کرتا تھا اوران سے کہتا تھا کہ علی پر تبر اکرو اور جو بھی تبرانہیں کرتا تھا ،حکم دیتا کہ اس کا گھر کو منہدم کر دیا جائے۔(٢)

زیاد ہ چھ مہینہ کوفہ میں اور چھ مہینہ بصرہ میں حکومت کرتا تھا، سمرہ ابن جندب کو بصرہ میںاپنی جگہ رکھتا تھا تاکہ اس کی غیر موجودگی میں وہ امور حکومت کی دیکھ بھال کرتا رہے ، سمرہ نے اس مدت میں آٹھ ہزار افراد کو قتل کیا تھازیاد نے اس سے کہا :کیا تجھے خوف نہیں ............

(١)ابن ابی الحدید ، شرح نہج البلاغہ ، دار احیاء الکتب العربیة ، قاہرہ ، ١٩٦١ ء ، ص ٤٣۔٤٥ (٢)ابن جوزی ،عبد الرحمن بن علی ، المنتظم فی الامم والملوک،دارالکتب العلمیہ، بیروت، طبع اول، ١٤١٢ہجری،ج٥،ص٢٢٧

ہوا کہ تونے ان میں سے کسی ایک بے گناہ کو بھی قتل کیا ہو؟ سمرہ نے جواب دیا : اگر اس کے دو برابر بھی قتل کرتا تب بھی اس طرح کی کوئی فکرلاحق نہیں ہوتی۔(١) ابو سوارعدوی کہتا ہے: سمرہ نے ایک دن صبح میں ٤٧ ،افراد کو قتل کیا جومیرے قبیلہ سے وابستہ تھے اور سب کے سب حافظ قرآن تھے۔(٢)

معاویہ نے خط میں اپنے کارندوں کو لکھا کہ شیعیان او رخاندان علی میں سے کسی کی گواہی قبول نہ کرنا ،اور دوسرے خط میں لکھا کہ اگر دو افرادگواہی دیںکہ اس کا تعلق شیعیان علی اور دوستداران علی سے ہے تو اس کانام بیت المال کے دفتر سے حذف کردو اور اس کے وظائف اورحقوق کو قطع کردو۔(٣)

حجاج بن یوسف جو بنی امیہ کا انتہائی درجہ سفاک و بے رحم عامل تھا مکہ و مدینہ میں لوگوں کو بنی امیہ کا مطیع بنانے کے بعد ٧٥ہجری میں خلیفہ اموی عبد الملک بن مروان کی جانب سے عراق کی حکومت پر مامور ہوا جو شیعوں کا مرکز تھا، حجاج چہرہ کو چھپائے ہوئے مسجد کوفہ میں داخل ہوا صفوں کو چیرتا ہوا منبر پر بیٹھ گیا کافی دیر تک خاموش بیٹھا رہا لوگوںمیںچہ می گوئیاں ہونے لگیں کہ یہ کون ہے؟ایک نے کہا: نیا حاکم ہے دوسرے نے کہا اس پرپتھر مارے جائیں کچھ نے کہا: نہیں صبر سے کام لیا جائے دیکھتے ہیں کہ یہ کیا کہتا ہے؟ جب سب لوگ خاموش ہو گئے تواس نے اپنے چہرہ سے نقاب ہٹائی اور چند جملوں ............

(١)طبری،محمدبن جریر، تاریخ الامم والملوک، دار القاموس الحدیث بیروت،ج٦،ص١٢٣ (٢)طبری محمد بن جریر ،تاریخ الامم والملوک ،ج٦،ص١٣٢ (٣)ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ،دار احیاء الکتب العربیہ،قاہرہ،ج١،ص٤٥

کے ذریعہ سے ایسا ڈرایا کہ جس کے ہاتھ میں مارنے کے لئے پتھر تھے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گئے اس نے اپنے خطبہ کی ابتدا اس طرح کی:

اے کوفہ والو! برسوں سے آشوب و فتنہ برپا ہے تم نے نا فر مانی کو اپنا شعار بنا لیا ہے میں ایسے سروں کو دیکھ رہا ہوں جو پھلوں کی طرح بالکل تیار ہیں انہیں جسمو ںسے جدا کر دینا چاہئیے، میں اتنے سروں کو قلم کروں گا کہ تم فرمانبرداری کا راستہ یاد کرلو گے۔(١)

حجاج نے پورے عراق میں اپنی حکومت قائم کی اور کوفہ کے نیک اور بے گناہ بہت سے لوگوں کا قتل کیا ۔

مسعودی حجاج کے مظالم کے بارے میں لکھتا ہے :

حجاج کی بیس سال کی حکومت میں جو لوگ اس کی شمشیر کے ذریعہ شکنجوں میں رہ کر جاں بحق ہوئے ہیںان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار ہے، اس کے علاوہ کچھ وہ افراد ہیں جو حجاج کے ساتھ جنگ میں اس کی فوج کے ہاتھوں قتل کئے گئے حجاج کی موت کے وقت اس کے مشہور زندان میں پچاس ہزار مرد اورتیس ہزار عورتیں قیدتھیں، ان میں سولہ ہزار عریاں اور بے لباس تھے حجاج مرد اور عورتوں کو ایک جگہ قید کرتا تھا، اس کے تمام زندان بغیر چھت کے تھے اس وجہ سے زندان میں رہنے والے گرمی اور سردی سے امان میں نہیں تھے۔(٢) ............

(١)زبیر بن بکار،اخبار الموفقیات ،منشورات شریف رضی ،قم،١٤١٦ہجری ص٩٩،٩٥،ڈاکٹر شہیدی جعفر ،تاریخ تحلیلی اسلام تا پایان اموی ، مرکز نشر ، دانشگاہ ، تہران ، ١٣٦٣ھ ش، ص ١٨٤، پیشوائی ، مہدی، سیرہ پیشوایان ، موسسہ ، امام صادق قم ، طبع ہشتم ، ١٣٧٨ھ ش، ص ٢٤٦ (٢)مروج الذہب،منشورات موسسةالاعلمی،للمطبوعات ،بیروت،١٤١١ہجری ج٣،ص١٨٧

حجاج معمولاً شیعوں کو زندانی اور شکنجہ کرتا تھا اور انہیں قتل کرتا تھا شیعوں کی دردناک وضعیت کا پتہ اس سے لگا یا جا سکتا ہے جس کو انہوں نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم کو اموی دور میں امام سجاد سے بیان کیا ہے ،مرحوم علامہ مجلسینے نقل کیاہے :کچھ شیعیان علی امام زین العابدین کے پاس آ ئے اورمصیبتوں پر آہ و گریہ کیا نیز اپنے درد ناک حالات کو بیان کیا: فرزند رسول، ہم کو ہمارے شہر سے نکال دیا گیا قتل و غارت کے ذریعہ ہم کو نابودکردیا گیا امیر المومنین پر شہروں میں مسجد نبوی میں منبروںسے سب و شتم کیا گیالیکن کوئی مانع نہیں ہوا، اور اگرہم میں سے کسی نے اعتراض کیا تو کہتے تھے کہ یہ ترابی ہے جب اس کا علم حاکم کو ہوتا تھاتو اس شخص کے بارے میںحاکم کے پاس لکھ بھیجتے تھے کہ اس نے ابوتراب کی تعریف کی ہے وہ حکم دیتا تھا کہ اس کو زندان میں ڈال دیا جائے اور قتل کردیا جائے۔( ١) ............

(١)مجلسی،محمد باقر، بحار الانوار،ج٤٦،ص٢٧٥

اموی دور میں تشیع کی وسعت[لکھو]

اموی خلفا کے دور میں شیعوں پر ظلم و ستم ہونے کے باوجود تشیع کی ترویج و فروغ میں کوئی کمی نہیںآئی پیغمبر و خاندان پیغمبر ۖکی مظلومیت لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف کھینچتی رہی اور نئے نئے لوگ شیعہ ہوتے گئے، یہ مطلب اموی حکومت کے آخری زمانہ میں پورے طور سے دیکھا جا سکتا ہے اموی زمانہ میں تشیع کے پھیلنے کے کئی مراحل تھے ہر مرحلہ کی ایک خصوصیت تھی کلی طور پر شیعوں کی کثرت کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔

  • (الف) ٤٠ھ سے ٦١ھ تک، دوران امام حسن اور امام حسین ۔
  • (ب) ٦١ھ سے ١١٠ ھ تک، دورا ن امام سجاد و امام باقر علیہما السلام۔
  • (ج) ١١٠ ھ سے ١٣٢ھ یعنی اموی حکومت کے اختتام تک، دوران اما م صادق

(الف) عصر امام حسن ١و امام حسین علیہما السلام

امیر المومنین کے زمانہ میں شیعیت نے آہستہ آہستہ ایک گروہ کی شکل اختیار کر لی تھی اور شیعوں کی صف بالکل نمایاں تھی اسی بنیاد پر امام حسن نے صلح نامہ کے شرائط میں ایک شرط شیعوں کی امنیت کی رکھی تھی کہ ان پر تجاوز نہ کیا جائے (١)

شیعہ رفتہ رفتہ عادت ڈال رہے تھے کہ جو امام اور خلیفہ حکومت سے وابستہ ہو اس کی اطاعت ضروری نہیں ہے، اسی وجہ سے جس وقت لوگ دھیرے دھیرے امام حسن کے ہاتھ پر بیعت کررہے تھے حضرت نے ان سے شرط رکھی تھی کہ وہ جنگ و صلح میں آپ کی اطاعت کریں گے اس طرح واضح ہو جاتا ہے کہ امامت لازمی طور پر حاکمیت کے مساوی نہیں ہے اور معاویہ جیساظالم حاکم امام نہیں ہو سکتا اور اس کی اطاعت واجب نہیں ہے ،چنانچہ امام نے جو خطبہ صلح کے بعد معاویہ کے فشار کی وجہ سے مسجدکوفہ میں دیا، اس میں فرمایا : خلیفہ وہ ہے جو کتاب خدا اور سنت پیغمبرۖ پر عمل کرے ،جس کا کام ظلم کرناہے وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا بلکہ وہ ایک بادشاہ ہے جس نے ایک ملک کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے ............

(١)ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب ،مؤسسة انتشارات علامہ ، قم ،ج ٤ ص ٣٣

مختصر سی مدت تک اس سے فائدہ اٹھائے گا بعدمیں اس کی لذتیں ختم ہو جائیں گی لیکن بہر حال اسے حساب و کتاب دینا پڑے گا(١)

اس دور کے تشیع کی دوسری خصوصیت شیعوں کے درمیان اتحاد ہے جس کا سرچشمہ بہترین رہبر کا وجود ہے امام حسین کی شہادت تک شیعوں میں کوئی فرقہ نہیں تھاامام حسن اور امام حسین علیہ السلام کو مسلمانوں کے درمیان ایک خاص اہمیت حاصل تھی ان کے بعد ائمہ طاہرین میں سے کسی کوبھی یہ مقام حاصل نہیں ہوسکایہی دونوں فرزندتنہا ذریت پیغمبرۖتھے ، امیر المومنین نے جنگ صفین میں جس وقت دیکھا کہ اما م حسن تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں فرمایا:میرے بجائے تم اس جوان کی حفاظت کرو (ان کو جنگ سے روکومجھے مضطرب نہ کرو مجھے ان دونوں کی بہت فکر ہے) یہ دونوں جوان (امام حسن وامام حسین) قتل نہ ہوں کیونکہ ان کے قتل ہونے سے پیغمبر ۖکی نسل منقطع ہوجائے گی ۔(٢)

حسنین کا مقام اصحاب پیغمبرۖ کے درمیان بھی ایک خاص اہمیت کا حامل تھااس کی دلیل یہ ہے کہ لوگوں نے امام حسن کی بیعت کی اور صحابۂ پیغمبر ۖ نے حضرت کی خلافت کو قبول کیایہی وجہ ہے کہ خلافت امام حسن میں کوئی مشکل دیکھنے میں نہیں آتی کسی نے اعتراض تک نہیں کیا ،صرف شام کی حکومت کی طرف سے مخالفت کی گئی جس وقت حضرت نے صلح کی اور کوفہ سے مدینہ جانا چاہا تو لوگوں نے شدت سے گریہ کیا مدینہ میں ............

(١) ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، منشورات الشریف الرضی، قم ، ١٤١٦ھ ص ٨٢

(٢)نہج البلاغہ ،فیض الاسلام ،خطبہ،١٦٨،ص٦٦٠

قریش کی طرف سے کسی نے معاویہ کو جو خبر دی اس سے حضرت کی اہمیت و عظمت کا اندازہ ہوتا ہے قریش کے کسی آدمی نے معاویہ کو لکھا :یا امیر المومنین!! امام حسن نماز صبح مسجد میںپڑھتے ہیں، مصلیٰ پر بیٹھ جاتے ہیں اور سورج طلوع ہونے تک بیٹھے رہتے ہیں، ایک ستون سے ٹیک لگائے ہوتے ہیں اور جو لوگ بھی مسجد میں ہوتے ہیں ان کی خدمت میں جاتے ہیںاور ان سے گفتگو کرتے ہیںیہاں تک کہ کچھ حصہ دن کا چڑھ جاتا ہے اس کے بعددو رکعت نماز پڑھتے ہیںاور آگے بڑھ جاتے ہیں اور پیغمبر ۖ کی بیو یوںکی احوال پرسی کرتے ہیں اور اس کے بعد اپنے گھر تشریف لے جاتے ہیں۔(١)

امام حسین کا بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح اقبال بہت بلند تھا یہاں تک کہ عبداللہ بن زبیر جو اہل بیت کاسر سخت دشمن تھا وہ بھی امام حسین کی عظمت سے انکار نہ کرسکا،جب تک حضرت مکہ میں تھے لوگوں نے ابن زبیر کی طرف کوئی توجہ نہ دی اسی بنا پر وہ چاہتا تھا کہ امام جلدی مکہ سے چلے جائیں لہذاا مام سے کہتاہے کہ اگر میرا بھی آپ کی طرح عراق میں بلند مقام ہوتا تومیں بھی وہاں جانے میں جلدی کرتا۔(٢)

حضرت کا مرتبہ اس قدر بلند تھا کہ جب آپ نے بیعت سے انکار کردیا تو حکومت یزیدزیر بحث آگئی اور یہی وجہ ہے کہ حضرت سے بیعت لینے کا اصرار و فشار اس قدر زیادہ تھا ،بنی ہاشم کے ان دو بزرگوں کاایک خاص احترام واکرام تھا اس طرح سے کہ ان کے ............

(١) بلاذری ،انساب الاشراف، دار التعارف ،للمطبوعات ، بیروت، ١٣٩٤ھ، ج٣، ص ٢١

(٢) ابن عبد ربہ اندلسی ، احمد بن محمد ، عقد الفرید، دار احیاء التراث، العربی ، بیروت، ١٤٠٠ھ، ج٤، ص ٣٢٦

زمانے میں، بنی ہاشم میں سے نہ ہی کسی نے رہبری کا دعویٰ کیا اور نہ ہی کوئی (بنی ہاشم کی)سرداری کا مدعی ہوا،جس وقت امام حسن معاویہ کے زہر دینے کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوگئے تو شام میں معاویہ نے ابن عباس سے کہا :اے ابن عباس !امام حسن وفات کر چکے ہیںاور اب تم بنی ہاشم کے سردار ہو، ابن عباس نے جواب دیا: جب تک امام حسین موجود ہیں اس وقت تک نہیں۔(١)

ابن عباس بلند مقام ،مفسر قرآن ا ور حبرالامة تھے اور سن میںبھی امام حسن اور امام حسین دونوں سے بڑے تھے اس کے باوجود ان دوبزرگواروںکی خدمت کرتے تھے مدرک بن ابی زیاد نقل کرتا ہے:

ابن عباس امام حسن امام حسین کی رکاب سنبھالتے تھے تاکہ یہ دو حضرات سوار ہوجائیں، میں نے کہا : آپ ایساکیوںکرتے ہیں توانہوںنے فرمایا: احمق! تو نہیں جانتا کہ یہ کون لوگ ہیں یہ رسولۖ کے فرزند ہیں کیا یہ ایک عظیم نعمت نہیں ہے جس کی خدانے مجھے توفیق دی ہے کہ میں ان کی رکاب پکڑوں؟(٢)

تشیع کی وسعت میں انقلاب کربلا کا اثر[لکھو]

امام حسین کی شہادت کے بعد شیعہ اپنی پناہ گاہ کھو دینے کے بعد کا فی خوف زدہ تھے اور دشمن کے مقابلہ میں مسلحانہ تحریک اوراقدام سے نا امید ہو گئے تھے دل خراش واقعۂ ............

(١) مسعودی علی بن حسین ، مروج الذھب ، موسسہ ا لاعلمی ،للمطبوعات، بیروت،ج٣ ص ٩

(٢)ابن شہر آشوب،مناقب آل ابی طالب،موسسةانتشارات علامہ،ج٣ ص٤٠٠

عاشورہ کے بعد مختصر مدت کے لئے انقلاب شیعیت کو کافی نقصان پہونچا،اس حادثہ کی خبر پھیلنے سے اس زمانے کی اسلامی سر زمین خصوصاً عراق و حجاز میں شیعوں پر رعب و وحشت کی کیفیت طاری ہوگئی تھی کیونکہ یہ مسلّم ہو گیا کہ یزید فرزند رسوۖل کو قتل کرکے نیز ان کی عورتوں اور بچوں کو اسیر کرکے اپنی حکومت کی بنیادمستحکم کرنا چاہتا ہے اور وہ اپنی حکومت کوپائیدار کرنے میں کسی بھی طرح کے ظلم سے گریز نہیں کرنا چاہتا ہے اس وحشت کے آثار مدینہ اور کوفہ میں بھی نمایاں تھے ،واقعہ حرّہ کے ظاہر ہوتے ہی لوگوں کی بے رحمانہ سرکوبی میں یزید کی فوج کی جانب سے شدت آگئی تھی عراق و حجازکے شیعہ نشین علاقے خاص کر کوفہ اور مدینہ میں سانس لینابھی دشوارہو گیااور شیعوں کی یکجہتی و انسجام کا شیرازہ یکسر منتشر ہوگیا تھا امام صادق اس ابتر اورناگفتہ بہ وضعیت کے بارے میں فرماتے ہیں: امام حسین کی شہادت کے بعد لوگ خاندان پیغمبرۖ کے اطراف سے پرا گندہ ہو گئے ان تین افراد کے علاوہ ابو خالد کابلی، یحییٰ ابن ام الطویل ، جبیر ابن مطعم۔(١)

مورخ مسعودی بھی ا س بارے میں کہتا ہے : علی بن حسین مخفی اور تقیہ کی حالت میںبہت دشوار زمانے میں امامت کے عہدے دار ہوئے ،،(٢)یہ وضعیت حکومت یزید کے خاتمہ تک جاری رہی ،یزید کے مرنے کے بعد شیعوں کا قیام شروع ہوا اور اموی ............

(١)شیخ طوسی ،اختیار معرفة الرجال ،معروف بہ رجال کشی،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، ١٤٠٤ہجری، ج ١،ص ٢٣٨ (٢) اثبات الوصیة، مکتبة الحیدریة ، نجف ، طبع چہارم ، ٣١٧٣ھ ص ١٦٧

حکومت کے مضبوط ہونے تک یعنی عبد الملک کی خلافت تک یہ سلسلہ جاری رہا، یہ مدت تشیع کے فروغ کے لئے ایک اچھی فرصت ثابت ہوئی، قیام کربلا کی جو اہم ترین خاصیت تھی وہ یہ کہ لوگوں کے ذہنوں سے بنی امیہ کی حکومت کی مشروعیت یکسرختم ہوگئی تھی اور حکومت کی بدنامی اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ خلافت بالکل سے اپنی حیثیت کھوچکی تھی اور لوگ اسے پاکیزہ عنوان نہیں دیتے تھے یزید کی قبر سے خطاب کر کے جو شعر کہا گیا اس سے بخوبی اس بات کا اندازہ ہو سکتا ہے :

ایھا القبر بحوارینا
قدضمنت شر الناس اجمعینا

[۱۴]

اے وہ قبرکہ جو حوارین کے شہر میں ہے لوگوں میںسے سب سے بد ترین آدمی کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے ۔

اس زمانہ میںسوائے شامیوں کے شیعہ و سنی سب کے سب، حکومت بنی امیہ کے مخالف تھے، شیعہ اور سنی کی جانب سے بغاوتیں بہت زیادہ جنم لے رہی تھیں۔ [۱۵] یعقوبی لکھتا ہے: عبد الملک بن مروان نے اپنے حاکم حجاج بن یوسف کو لکھا تک تو مجھے آ ل ابی طالب کا خون بہانے میں ملوث نہ کر کیونکہ میں نے سفیانیوں( ابوسفیان کے بیٹے) کا نتیجہ ان کے قتل کرنے میں دیکھا کہ کن مشکلات سے دوچار ہوئے تھے(١)

آخرکار خون اما م حسین علیہ السلام نے بنی امیہ کے قصر کو خاک میں ملا دیا ۔

مقدسی کہتا ہے : جب خدا وند عالم نے خاندان پیغمبر ۖپر بنی امیہ کا ظلم و ستم دیکھا تو ایک لشکر کو کہ جو خراسان کے مختلف علاقوں سے اکٹھا ہواتھا شب کی تاریکی میں ان کے سروں پر مسلط کردیا۔(٢)

دوسری طرف سے امام حسین علیہ السلام اور شھداء کربلا کی مظلومیت کی وجہ سے خاندان پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت لوگوںکے دلوں میں بیٹھ گئی اور ان کے مقام کو اولاد پیغمبرۖ اوراسلام کے تنہا سرپرست ہونے کے عنوان سے مستحکم کردیا ،بنی امیہ کے دور میں جگہ جگہ لوگ یالثارات الحسین کے نعرہ کے ساتھ جمع ہوتے، یہاں تک کہ سیستان میں ابن اشعث کاقیام ،(٣)حسن مثنیٰ فرزند اما م حسن علیہ السلام ............

(١) ابن واضح تاریخ یعقوبی، منشورات شریف رضی ،قم،١٤١٤ھ ،ص٣٠٤ (٢) مقدسی، احسن التقاسیم ، ترجمہ منذوی ، شرکت مولفان و مترجمان ایرانی، ج ٢ ص ٤٢٦۔٤٢٧ (٣) عبد الرحمن بن محمد بن اشعث حجاج کی جانب سے سیستان میں حاکم تھا ، سیستان کا علاقہ مسلمانوں اور ہندئوں کے درمیان سر حدواقع ہوتا تھا یہاں مسلمانوں اور ہندوستان کے حاکموں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں ، حجاج کو عبد الرحمن سے جو دشمنی تھی اس کی بنا پر اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ اسے اس طرح ختم کر دے ، عبد الرحمن جب اس سازش سے آگاہ ہوا تواس نے ٨٢ھ میں حجاج کے خلاف بغاوت کردی ، چونکہ عوام حجاج سے نفرت کرتی تھی لہذابصرہ و کوفہ کے کافی لوگ عبد الرحمن کے ساتھ ہوگئے، کوفہ کے بہت سے قاریان قرآن ا ور شیعہحضرات قیام کرنے والوں کے ساتھ ہوگئے، اس طرح عبد الرحمن سیستانسے عراق کی جانب روانہ ہوا ، اس کا پہلا (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ ہو )

کے نام سیتشکیل پایا (١)اسی بنیاد پر امام مہدی کی احادیث انتقام آل محمد ۖکے عنوان سے پھیلی(٢)اور لوگ بنی امیہ سے انتقام لینے والے کا بے صبری اور شدت سے انتظار کرنے لگے( ٣)کبھی مہدی کے نام کو قیام اور تحریک کے قائدین پر منطبق کرتے تھے۔ (٤) دوسری طرف ائمہ اطہار اور پیغمبر ۖ کے خاندان والے شہدائے کربلاکی یادوںکو زندہ رکھے ہوئے تھے ،امام سجاد جب بھی پانی پیناچاہتے تھے اور پانی پر نظر پڑتی تھی تو ............

(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ کا ) پروگرام یہ تھا کہ حجاج کو بر طرف کردے پھر خود عبد الملک کو خلافت سے ہٹادے ، عبد الملک نے شام سے بہت بڑا لشکر حجاج کی مدد کے لئے روانہ کیا ،کوفہ سے سات فرسخ کے فاصلہ پر دیر الجماجم نامی جگہ پر شام کے لشکر نے عبد الرحمن کو شکست دے دی ،وہ ہندوستان بھاگا اور وہاں کے ایک بادشاہ سے پناہ طلب کی لیکن حجاج کے عامل نے اسے قتل کر دیا ، مسعودی ، مروج الذھب ، ج ٣ ص ١٤٨، معجم البلدان ، یاقوت حموی ، ج ٤ ص ٣٣٨ (١)ابن عنبہ ،عمدةالطالب فی انساب آل ابی طالب، انتشارات رضی،قم ، ص ١٠٠ (٢)ابوالفرج اصفہانی مقاتل الطالبین ،منشوارات شریف رضی ، قم ١٤١٦ھ،ص٢١٦ (٣)یعقوبی نقل کرتا ہے : عمر بن عبد العزیز نے اپنی خلافت کے دور میںعامر بن وائلہ کو کہ جس کا نام وظیفہ لینے والوںکی فہرست سے کاٹ دیا گیا تھا ، اس کے اعتراض کے جواب میں کہا: سنا ہے تم نے اپنی شمشیر کو تیز کیا ہے ،نیزہ کو تیز کیا ہے تیر اور کمان کو آمادہ رکھا ہے اور ایک امام قائم کے کہ وہ قیام کریں لہذا انتظار کرو جس وقت بھی وہ خروج کریں گے اس وقت تمہیں وظیفہ دیا جائے گا،( تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی ، قم ، ١٤١٤ ھ، ج ٢ ص ٣٠٧ ) (٤)ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، ج ٢، ص٢١٠

آنکھوں میں آنسو بھر آتے تھے، جب لوگوں نے اس کا سبب معلوم کیا تو آپ نے فرمایا : کیسے گریہ نہ کروں اس لئے کہ انہوںنے پانی جنگلی جانوروں اور پرندوںکے لئے آزاد رکھاتھا اور میرے بابا کے لئے بند کردیا تھا؛ایک روز امام کے خادم نے دریافت کیا، کیا آپ کا غم تمام نہیں ہوگا؟امام نے فرمایا: افسوس تجھ پر یعقوب کے بارہ بیٹوں میں سے ایک آنکھوںسے اوجھل ہوگیا تھا اس کے فراق میں اتنا گریہ کیا کہ نابینا ہوگئے اور شدت غم سے کمر جھک گئی حالانکہ ان کا فرزند زندہ تھا لیکن میںنے اپنے باپ بھائی ،چچا نیز اپنے خاندان کے سترہ افراد کو قتل ہوتے ہوئے دیکھا ہے ان کے لاشے زمین پر پڑے ہوئے تھے لہذا کس طرح ممکن ہے کہ میرا غم تمام ہوجائے ؟!۔ (١) امام صادق امام حسین کی مدح میں اشعارکہنے والے شاعروں کی تشویق کرتے تھے اور فرماتے: جو بھی امام حسین کی شان میں شعر کہے اور گریہ کرے اور لوگوں کو رلائے اس پر جنت واجب ہے اور اس کے گناہ معاف کر دئے جائیںگے۔ (٢)

امام حسین تشیع کی بنیاداور علامت ٹھہرے اسی بنا پربہت سے زمانوں میںجیسے متوکل کے دور میں آپ کی زیارت کو ممنوع قرار دیا گیا۔ (٣) ............

(١)علامہ مجلسی ،بحار الانوار ، المکتبة الاسلامیہ ،تہران،طبع دوم ،١٣٩٤ھ ق،ج٤٦ص١٠٨ (٢)شیخ طوسی ، اختیارمعرفة الرجال ، معروف بہ رجال کشی ،ج٢ ص ٥٧٤ (٣)طبری، ابی جعفر محمد بن جریر ،تاریخ طبری ، دارالکتب العلمیہ بیروت،طبع دوم،١٤٠٨ھ ج٥،ص٣١٢


عصر امام سجّاد علیہ السّلام[لکھو]

امام سجّاد کے دور کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

پہلا مرحلہ: شہادت امام حسین اوربنی امیہ کی حکومت کے متزلزل ہونے کے بعدسے اورسفیانیوں(ابو سفیان کے بیٹوں اور پوتوں ) کے خاتمہ اور مروانیوں کے برسراقتدار آنے نیز بنی امیہ کے آپس میںجھگڑنے اور مختلف طرح کی شورشوں اور بغاوتوں میں گرفتار ہونے تک یہاں تک کہ مروانیوں کی حکومت برقرار ہوگئی۔ دوسرا مرحلہ: حجاج کی حکمرانی اورمکہ میں عبداللہ بن زبیر کی شکست،(١)سے لے کر امام محمد باقر کا ابتدائی زمانہ اور عباسیوں کے قیام تک۔ ............

( ١ ) مکہ میں عبد اللہ بن زبیر کی حاکمیت ،اس زمانے سے کہ جب اس نے یزید کی بیعت سے انکار کیا اور لوگوںکو اپنی طرف آنے کی دعوت دی ، یہاں تک کہ ٧٢ھ میں حجاج کے سپاہیوں نے اسے قتل کردیا ، یہ کل بارہ سال کا عرصہ ہے ابن عبدر بہ نے اس بارہ سال کے طولانی دور کو العقد الفرید میں ابن زبیر کے فتنہ کے عنوان سے ذکر کیا ہے، معاویہ کے مرنے کے بعد مدینہ کے حاکم نے ابن زبیر سے یزید کی بیعت طلب کی، یزید کی بیعت سے بچنے کے لئے جس وقت امام حسین مکہ تشریف لے گئے تو ابن زبیر بھی مکہ آگیا لیکن وہاں لوگوں نے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی، اسی بنا پرمکہ میں امام حسین کا رہنا اسے ناگوار لگ رہا تھا لہذا اس نے امام حسین سے کہا : اگر آپ کی طرح لوگ مجھے بلاتے تو میں عراق چلا جاتا ، امام حسین کی شہادت کے بعد یزید کے خلاف پرچم بغاوت بلند کر دیا یزید نے ٦٢ ھ میں مسلم بن عقبہ کو ایک لشکر کے ساتھ مدینہ کی شورش کو دبانے اور ابن زبیر کی سر کوبی کے لئے پہلے مدینہ اور پھر مکہ روانہ کیا لیکن واقعۂ حرّہ کے بعد مکہ جاتے ہوئے راستہ ہی میں وہ مر گیا اس کا جا نشین حصین بن نمیر شام کے لشکر کے ہمراہ مکہ گیا اور ٦٤ ھ میں منجنیق کے ذریعہ کعبہ پر آگ برسائی انہ کعبہ کا پردہ جل گیا اسی جنگ کے دوران یزید کے مرنے کی خبر ملی، شام کی فوج سست پڑ گئی ،حصین نے ابن زبیر سے کہا : بیعت کر لو اور شام چلو وہاں مجھے تخت حکومت پر بٹھادو لیکن ابن زبیر نے قبول نہیںکیا،یزید کے مرنے کے بعد اردن کے علاوہ تمام اسلامی سر زمین نے ابن زبیر کی خلیفہ کے عنوان سے بیعت کر لی اور اس کی حکومت کو تسلیم کر لیا لیکن بنی امیہ نے مروان کو جابیہ میںاپنا خلیفہ منتخب کرلیا اس نے شام میں اپنے مخالفین کو تخت سے اتار دیا، اس کے بعد اس کا بیٹا عبد الملک خلیفہ بنا عبد الملک نے مصعب بن زبیر کو شکست دینے کے بعد اس کے بھائی عبد اللہ ابن زبیر کو شکست دینے کے لئے حجاج ابن یوسف کو عراق سے مکہ روانہ کیا حجاج نے مکہ کا محاصرہ کر لیا ، کوہ ابو قبیس پر منجنیق رکھ کر گولہ باری کر کے کعبہ اور مکہ کو ویران کر دیا اس جنگ میں عبد اللہ بن زبیر کے ساتھیوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا لیکن عبد اللہ نے مقاومت کی اور آخر کار قتل ہو گیا، اس طرح ١٢ سال بعد عبد اللہ ابن زبیر کا کام تمام ہو گیا ( ابن عبد ربہ اندلسی ، احمد بن محمد ، العقد الفرید ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، ١٤٠٩ھ ج ٤ ص ٢٦٦، مسعودی ، علی ابن الحسین ، مروج الذھب ،منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ھ ج ٣ ص ٧٨۔٧٩

امام حسین کی شہادت کے بعدایک طرف سے تو بنی امیہ عراق و حجاز کے علاقہ میں برپا ہونے والے انقلابات میں گرفتار تھے تو دوسری طرف سے ان کے اندر اندرونی اختلاف تھا جس کی بنا پرحکومت یزید زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہ سکی یزید تین سال کی حکومت کے بعد ٦٤ ھ میں مر گیا،(١)اس کے بعداس کا بیٹا معا ویہ صغیر بر سر اقتدار آیا ا س نے چا لیس روز سے زیادہ حکومت نہیں کی تھی کہ خلافت سے الگ ہو گیا اور بلا فاصلہ دنیاسے رخصت ہو گیا،(٢) اس کے مر تے ہی خاندان بنی امیہ کے درمیان اختلاف ............

(١) ابن واضح تاریخ یعقوبی، منشورات شریف رضی ،قم،١٤١٤ھ ،ج ٢،ص٢٥٢ (٢) ابن واضح تاریخ یعقوبی، منشورات شریف رضی ،قم،١٤١٤ھ ،ج ٢،ص٢٥٦

شروع ہو گیا ، مسعودی نے اس کے مرنے کے بعد پیش آنے والے واقعات کہ جس سے بنی امیہ کی ریاست طلبی کی عکاسی ہوتی ہے یوں بیان کیا ہے: معاویہ دوّم ٢٢ سال کی عمر میں دنیا سے چلا گیااوردمشق میں دفن ہوا ولید بن عتبہ بن ابی سفیان خلافت کی لالچ میں آ گے بڑھا تا کہ معاویہ دوم کے جنازہ پر نماز پڑھے نماز تمام ہونے سے پہلے ہی اسے ایسی ضرب لگی کہ وہیں پر ڈھیر ہوگیا اس وقت عثمان بن عتبہ بن ابی سفیان نے نماز پڑھائی لیکن لوگ اس کی خلافت پربھی راضی نہیں ہوئے اور وہ ابن زبیر کے پاس مکہ جانے پر مجبور ہوگیا ۔[۱۶] امام حسین کی شہادت کو ابھی تین سال بھی نہ گزرے تھے کہ سفیانیوں کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا، اسلامی سر زمین کے لوگ یہاںتک کہ بنی امیہ کے کچھ بزرگ افراد جیسے ضحاک بن قیس ا و رنعمان بن بشیر،ابن زبیر کی طرف مائل ہو گئے تھے، اسی وقت ابن زبیر نے مدینہ سے اموی ساکنین منجملہ مروان کونکال باہرکیا وہ سب وہاں سے نکل کرر اہی شام ہو گئے چونکہ دمشق میں کوئی خلیفہ نہیں تھا ،امویوں نے جابیہ میں مروان بن حکم کوخلیفہ بنا د یااور خالد بن یزید اور اس کے بعد عمرو بن سعید اشدق کو اس کا ولی عہد قرار دیا ، کچھ مدّت کے بعد مروان نے خالد بن یزید کو بر طرف کر دیا اور اس کے بیٹے عبدالملک کو اپنا ولی عہد بنایا اسی وجہ سے خالد کی ماں جو مروان کی بیوی تھی اس نے اس کو زہر دیا اور مروان مر گیا ، عبدالملک نے بھی عمرو بن سعید کو اپنے راستے سے ہٹاکر اس کے فرزند کو اپنا ولی عہد بنایا۔

دوسری طرف سے امویوں کو بہت سی شورشوں اور بغاوتوں کا سامنا تھا یہ قیام دو حصّوں میں تقسیم ہوتا ہے،ایک وہ قیام جو شیعہ ما ہیت نہیں رکھتا تھا جیسے حرّہ کا قیام اور ابن زبیر کا قیام، ابن زبیرکے قیام کی حقیقت معلوم ہے اس قیام کا قائد ابن زبیر تھا جو خاندان رسولۖکا سخت ترین دشمن تھا ،جنگ جمل میں شکست کے بعدہی اس کا دل (اہل بیت کے ) بغض و کینہ سے بھر گیا تھا لیکن اس کا بھائی مصعب شیعیت کی طرف مائل تھا اس نے امام حسین کی بیٹی سکینہ سے شادی کی تھی، اسی بنا پر عراق میں اس کو ایک حیثیت حاصل تھی، امویوں کے مقابلہ میں شیعہ اس کے ساتھ تھے، جناب مختار کے بعد ابراہیم بن مالک اشتر ان کے ساتھ ہوگئے تھے اور انہیں کے ساتھ شہید ہوئے ۔

دوسرے وہ قیام جو ماہیت کے اعتبار سے شیعہ فکر رکھتے تھے ۔

قیام حرّہ کو بھی شیعی حمایت حاصل نہیں تھی ،(١)اس قیام میں امام سجاد کی کسی قسم کی مداخلت نہ تھی جس وقت مسلم بن عقبہ لوگوں سے بیعت لے رہا تھااور یہ کہہ رہا تھا غلام کی سے جنگ کروں گا اس نے مجھے تحفے دئے اکرام کیا میں نے اس کے ہدیہ و تحفہ کو قبول نہیں کیا جگہ یزید کی بیعت کریںاس وقت وہ امام سجاد کا احترام کر رہا تھا اور حضرت پر کسی قسم کا دبائو نہیں ڈالا۔(2) ............

(١)حرّہ کا واقعہ ٦٢ھ میں پیش آیا ، مسعودی اس کی وجہ لوگوں کا یزید کے فسق و فجور سے نا خوش ہونا اور امام حسین کی شہادت جانتا ہے ، مدینہ جو اولاد رسول ۖ اور اصحاب رسول ۖ کا مرکز تھا یہاں کے لوگ یزید سے ناراض تھے مدینہ کا حاکم عثمان بن محمد بن ابی سفیان جو ایک نا تجربہ کار نوجوان تھا ، مدینہ کے لوگوں کی نمائندگی میں کچھ لوگوں کو شام روانہ کیا تاکہ یزید کو قریب سے دیکھیں اور اس کی نوازشات سے فائدہ اٹھائیں اور جب مدینہ آئیں لوگوں کو یزید کی اطاعت پر تشویق کریں ، اس عثمانی تجویز میں مدینہ کے بزرگان کہ جن میں عبد اللہ بن حنظلہ جو غسیل الملائکہ کہے جاتے ہیں وہ بھی شامل تھے ، یزید جو اسلامی تربیت سے بالکل بے بہرہ تھا ان لوگوں کے سامنے بھی اس نے اپنے فسق و فجور کو جاری رکھا، لیکن مدینہ سے آنے والوں کی خوب آئو بھگت کی سب کو گراں بہا تحفے دئے تاکہ یہ لوگ واپس جا کر اس کی تعریفیں کریں لیکن اس کا سب کچھ کرنا بیکار ہو گیا یہ لوگ جب مدینہ پلٹے تو مجمع میں یہ اعلان کیا کہ ہم اس کے پاس سے واپس آرہے ہیں جو بے دین ہے شراب پیتا ہے ، ناچ گانا سنتا ہے ، کتے سے کھیلتا ہے ،ان طوائفوں کے ساتھ ناچ گانے کی محفلیں منعقد کرتا ہے، ان سے ہمنشینی کرتاہے کی آواز یں سنتا ہے ، عیش و عشرت میں زندگی گذارتا ہے ، ہم لوگ آپ کو گواہ قرار دیتے ہیں کہ ہم نے اسے خلافت سے معزول کر دیا ہے ، عبد اللہ ابن حنظلہ نے کہا اگر کسی نے بھی میری مدد نہیں کی تو میں صرف اپنے بچوں کے ساتھ یزیدمگر صرف اس لئے لے لیا کہ خود اس کے خلاف استعمال کروں اس کے بعد لوگوں نے عبد اللہ ابن حنظلہ کی بیعت کی مدینہ کے حاکم اور تمام بنی امیہ کو مدینہ سے باہر بھگا دیا ۔

جب یزید کو یہ خبر ملی تو اس نے بنی امیہ کے ایک نمک خوار و تجربہ کار شخص مسلم بن عقبہ کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ مدینہ روانہ کیا اور کہا: ان لوگوں کو تین دن کی مہلت دینا اگر تسلیم ہو جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان سے جنگ کرکے کامیابی کے بعد تین دن تک جتنی لوٹ مار کرنی ہو کر لینا اور سپاہیوں کو کھلی اجازت دے دینا ۔

اہل مدینہ اور لشکر شام میں شدید جنگ ہوئی آخر کار اہل مدینہ کو شکست ہوئی بڑے بڑے رہبر مارے گئے مسلم نے تین دن بالکل قتل عام کا حکم صادر کر دیا ،لشکر شام نے وہ کام کیا جسے بیان کرنے سے قلم کو بھی شرم آتی ہے اس ظلم و بربریت کی بنا پر مسلم کو مسرف کہا گیا ،قتل و غارت کے بعد اس نے یزید کے لئے لوگوں سے زبر دستی بیعت لی ۔ ابن عبد ربہ اندلسی ، العقد الفرید ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، ج ٤ ص ٣٦٢، ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی ، قم ، ١٤١٤ھ ج٢ ص ٢٥٠۔ ٨٢ ، ابن اثیر ، الکامل دار صادر ، بیروت ، ج ٤ ص ١٠٢۔١٠٣۔ ٢٥٥۔٢٥٦ (2) ابی حنیفہ ، دینوری ، احمد بن دائود ، الاخبار الطوال ، منشورات الشریف الرضی ، قم ، ص ٢٦٦


شیعی قیام[لکھو]

شیعی قیام درج ذیل ہیں : قیام توّابین اور قیام مختار، ان دو قیام کا مقام ومرکز عراق میں شہر کوفہ تھا اور جو فوج تشکیل پائی تھی وہ شیعیان امیرالمو منین کی تھی سپاہ مختار میںشیعہ غیر عرب بھی کافی موجود تھے ۔

توابین کے قیام کی ماہیت میں کوئی ابہام نہیں ہے یہ قیام صحیح ہدف پر استوار تھا جس کا مقصد صرف خون خواہی امام حسین اور حضرت کی مدد نہ کرنے کے گناہ کو پاک کرنے اور ان کے قاتلوں سے مقابلہ کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا، . توابین کوفہ سے نکلنے کے بعد کربلا کی طرف امام حسین کی قبر کی زیارت کے لئے گئے اور قیام سے پہلے اس طرح کہا: پروردگارا!ہم فرزند رسول ۖ کی مدد نہ کر سکے ہمارے گنا ہوں کو معاف فرما، ہماری توبہ کو قبول فرما ، امام حسین کی روح اور ان کے سچّے ساتھیوں پر رحمت نازل کر، ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم اسی عقیدہ پر ہیں جس عقیدہ پر امام حسین قتل ہوئے، پروردگارا!اگر ہمارے گناہوں کو معاف نہیں کیا اور ہم پر لطف وکرم نہیں کیا تو ہم بد بخت ہو جائیں گے۔(١) مختار نے مسلم بن عقیل کے کوفہ میں داخل ہونے کے بعد ان کی مدد کی جس کی وجہ سے عبید اللہ بن زیادکے ذریعہ دستگیر ہوئے اور زندان میں ڈال د یئے گئے اور واقعہ عاشورہ کے بعداپنے بہنوئی عبداللہ بن عمر کے توسط سے آزاد ہوئے وہ ٦٤ھ میں کوفہ آئے اور اپنے قیام کو قیام توابین کے بعد شروع کیا اور یا لثارات الحسین کے نعرہ کے ............

(١)ابن اثیر ،الکامل فی التاریخ ، ج ٤ ص ١٥٨۔١٨٦

ذریعہ تمام شیعوں کو جمع کیا وہ اس منصوبے اور حوصلہ کے ساتھ میدان عمل میں وارد ہوئے کہ امام حسین کے قاتلوں کوان کے عمل کی سزادیں اور اس طرح سے ایک روز میں (٢٨٠) ظالموں کو قتل کیا اور فرار کرنے والوں کے گھروں کو ویران کیا، من جُملہ محمّد بن اشعث کے گھر کو خراب کیا اور اس کی باقیات (ملبہ و اسباب) سے علی کے وفادار ساتھی حجر بن عدی کا گھر بنوایا جس کو معاویہ نے خراب کر دیا تھا۔ [۱۷]

جناب مختار کے بارے میں اختلاف نظرہے بعض ان کو حقیقی شیعہ اور بعض انہیں جھوٹا جانتے ہیں، ابن داؤد نے رجال میں مختار کے بارے میں اس طرح کہا ہے: مختار ابو عبیدثقفی کا بیٹا ہے بعض علماء شیعہ نے ان کو کیسانیہ سے نسبت دی ہے اور اس بارے میں امام سجّاد کا مختار کا ہدیہ رد کرنے کوبطور دلیل پیش کیا گیا ہے لیکن یہ اس کی رد پر دلیل نہیں ہو سکتی ،کیونکہ امام محمّد باقر نے ان کے بارے میں فرما یا : مختار کو برا نہ کہو کیونکہ اس نے ہمارے قاتلوں کو قتل کیا ہے اور اس نے نہیں چاہا کہ ہمارا خون پامال ہو ،ہماری لڑکیوں کی شادی کرائی اور سختی کے موقع پر ہمارے درمیان مال تقسیم کیا ۔ جس وقت مختار کا بیٹا ابو الحکم امام باقر کے پاس آیا امام نے اس کا کافی احترام کیا ابو الحکم نے اپنے باپ کے بارے میں معلوم کیا اور کہا :لوگ میرے باپ کے بارے میں کچھ باتیں کہتے ہیں لیکن آپ کی جو بات ہو گی وہ صحیح میرے لئے معیار ہوگی اس وقت امام نے مختار کی تعریف کی اور فرمایا :

سُبحان اللہ میرے والد نے مجھ سے کہا: میری ماں کا مہر اس مال میں سے تھا جو مختار نے میرے والد کو بھیجا تھا اور چند بار کہا: خدا تمہارے باپ پر رحمت نازل کرے اس نے ہمارے حق کو ضائع نہیں ہونے دیا ہمارے قاتلوں کو قتل کیا اور ہمارا خون پامال نہیں ہونے دیا ۔

امام صادق نے بھی فرمایا : جب تک مختار نے امام حسین کے قاتلوں کے سرقلم کر کے ہم تک نہیں بھیجااس وقت تک ہمارے خاندان کی عورتوں نے بالوں میں کنگھا نہیں کیا اور بالوں کو مہندی نہیں لگائی ۔

روایت میں ہے جس وقت مختار نے عبید اللہ ابن زیاد ملعون کا سر امام سجّاد کے پاس بھیجا امام سجدہ میں گر پڑے اور مختار کے لئے دعائے خیر کی، جو روایتیں مختار کی سرزنش میں ہیں وہ مخالفین کی بنائی ہوئی روایتیں ہیں۔(١)

مُختار کی کیسانیہ سے نسبت کے بارے میں یا فرقۂ کیسانیہ کی ایجادمیں، مختار کے کردار کے بارے میں آیةاللہ خوئی مختار کے دفاع اور کیسانیہ سے ان کی نسبت کی رد میں لکھتے ہیں: بعض علماء اہل سنّت مختار کو مذہب کیسانیہ سے نسبت دیتے ہیں اور یہ بات قطعاً باطل ہے کیونکہ محمد حنفیہ خود مدعی امامت نہیں تھے کہ مختار لوگوں کو ان کی امامت کی دعوت دیتے مختار مُحمّد حنفیہ سے پہلے قتل ہو گئے اور محمّد حنفیہ زندہ تھے، اور مذہب کیسا نیہ محمّد حنفیہ کی موت کے بعد وجود میں آیا ہے لیکن یہ کہ مختار کو کیسانیہ کہتے تھے اس وجہ سے نہیں کہ ان کا مذہب کیسانی ہے اور بالفرض اس لقب کو مان لیا جائے تو یہ وہ روایت ہے کہ امیرالمومنین نے ان سے دو مرتبہ فرمایا:( یاکیس یا کیس) اسی کو صیغئہ تثنیہ میں کیسان کہنے لگے ۔ (٢) ............

(١)رجال ابن دائود ، منشورات الرضی ، قم ص ٢٧٧ (٢)آیة اللہ سید ابو القاسم خوئی ،معجم رجال الحدیث، بیروت، ج ١٨، ص ١٠٢۔١٠٣


=مروانیوں کی حکومت ( سخت دور)[لکھو]

جیسا کہ بیان کر چکے امام سجّاد کے دور کا دوسرامرحلہ مروانی حکومت دور تھا بنی مروان نے عبداللہ بن زبیر کے قتل کے بعد ٧٣ ھ [۱۸] میں اپنی حکومت کومستحکم کر لیا تھا ، اس نے اور اس دور میں ظالم و جابرحجّاج بن یوسف کے وجود سے فائد ہ اُٹھایا وہ دشمن کو ختم کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی یہاں تک کہ کعبہ کو بھی مورد حملہ قرار دیا اس پر آگ کے گولے برسائے اور اس کو ویران کردیا اور بنی امیہ کے مخالفین کوچاہے وہ شیعہ ہو ںیا سُنّی جہاں کہیں بھی پایا فوراان کو قتل کردیا٨٠ ھ میں ابن اشعث نے قیام کیا مگر اس قیام سے بھی حجاج کو کوئی نقصان نہیں پہونچا [۱۹]٩٥ ھ تک حجاز اور عراق میں اس کی ظالم حکومت قائم رہی۔ [۲۰]


امام سجّاد نے ایسے حالات میں زندگی گذاری اور دعائوں کے ذریعہ اسلامی معارف کو شیعوں تک منتقل کیا، ایسے وقت میںشیعہ یا تو فرار تھے یا زندان میں زندگی بسر کر رہے تھے یا حجاج کے ہا تھوں قتل ہورہے تھے یا تقیہ کرتے تھے اس بنا پر لو گو ں میں امام سجّاد سے نزدیک ہو نے کی جرأت نہیں تھی اورحضرت کے مددگار بہت کم تھے ، مرحوم علّا مہ مجلسی نقل کرتے ہیں: حجّاج بن یو سف نے سعید بن جبیر کو اس وجہ سے قتل کیا کہ اس کا ارتباط امام سجّاد سے تھا ۔ [۲۱]

البتہ اس زمانے میں شیعوں نے سختیوں کی وجہ سے مختلف اسلامی سر زمینوں کی طرف ہجرت کی جو تشیع کے پھیلنے کا سبب بنی، اسی زمانے میں کوفہ کے چند شیعہ قم کی طرف آئے اور یہا ں سکونت اختیار کر لی اور وہ تشیع کی ترویح کا سبب بنے۔(١)

امام محمد باقرکی امامت کا ابتدائی دور بھی حکومت امویان سے متصل تھا اس دور میں ہشّام بن عبد الملک حکومت کرتا تھاجو صاحب قدرت اور مغرور بادشاہ تھا، اس نے ا مام محمدباقر کو امام صادق کے ساتھ شام بلوایا اور ان کو اذیت وآزار دینے میں کسی قسم کی کو تاہی نہیں کی۔(٢)

اسی کے زمانے میں زید بن علی بن الحسین نے قیام کیا اور شہید ہو گئے اگرچہ عمر بن عبد العزیز کے دور میں سختیوں میںبہت کمی آگئی تھی لیکن اس کی مدت خلافت بہت کم تھی وہ دو سال اور کچھ مدت کے بعدسرّی طور پر(اس کو موت ایک معمہ رہی ) اس دنیا سے چلا گیا ، بنی امیہ اس قدر فشار اور سختیوں کے باوجود نور حق کو خاموش نہ کر سکے اور علی ابن ابی طالب کے فضائل ومناقب کومحو نہ کر سکے چونکہ یہ خدا کی مرضی تھی، ابن ابی الحدید کہتا ہے : اگر خدانے علی میں سر(راز) قرار نہ دیا ہوتاتوایک حدیث بھی ان کی فضیلت و منقبت میں موجودنہ ہوتیاس لئے کہ حضرت کے فضائل نقل کرنے والوں پر مروانیوں کی طرف سے بہت سختی تھی۔(٣) ............

(١)یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبد اللہ ، معجم البلدان ، دار الاحیاء التراث العربی ، بیروت طبع اول ١٤١٧ھ ، ج ٧ ص ٨٨ (٢)طبری، محمد بن جریر بن رستم ، دلائل الامامہ منشورات المطبعة الحیدریہ، نجف ، ١٣٨٣ھ ص ١٠٥ (٣)محمد عبدہ ، شرح نہج البلا غہ، دار احیاء الکتب العربیہ، قاہرہ، ج ٤ ص ٧٣


عباسیوں کی دعوت کا آغاز اورشیعیت کا فروغ

سن ١١١ھ سے عباسیو ں کی دعوت شروع ہو گئی(١)یہ دعوت ایک طرف تو اسلامی سر زمینوں میںتشیع کے پھیلنے کا سبب بنی تو دوسری طرف سے بنی امیہ کے مظالم سے نجات ملی جس کے نتیجہ میں شیعہ راحت کی سانس لینے لگے ،ائمہ معصومین علیہم السّلام نے اس زمانے میں شیعہ فقہ وکلام کی بنیاد ڈالی تشیّع کے لئے ایک دور کا آغاز ہوا ، کلّی طور پرامویوں کے زمانے میںفرزندان علی اور فر زندان عبّاس کے درمیان دو گا نگی کا وجود نہیں تھا کوئی اختلاف ان کے درمیان نہیں تھا جیسا کہ سیّد محسن امین اس سلسلے میں کہتے ہیں: ابنائِ علی اور بنی عباس، بنی امیہ کے زمانے میں ایک راستے پر تھے، لوگ اس بات کے معتقد تھے کہ بنی عباس، بنی امیہ سے زیادہ خلافت کے سزا وار ہیں اور ان کی مدد کرتے تھے کہ نبی عباس لوگ شیعیان آل محمد کے نام سے یاد کئے جاتے تھے اس زمانے میں فر زندان علی و فرزندان عبّاس کے درمیان نظریات و مذہب کا اختلاف نہیں تھا لیکن جس وقت بنی عباس حکومت پر قابض ہوئے شیطان نے ان کے اور فرزندان علی کے درمیان اختلاف پیدا کر دیا، انہوںنے فرزندان علی پر کا فی ظلم وستم کیا،(٢) اسی سبب سے داعیان فرزندان عبّاس لوگوں کو آل محمّد کی خشنو دی کی طرف دعوت دیتے تھے اور خاندان پیغمبرۖ کی مظلومیت بیان کرتے تھے ۔

ابو الفرج اصفہانی کہتا ہے: ولید بن یزید کے قتل اور بنی مروان کے درمیان ............

(١) ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی ، ج ٢ ص ٣١٩ (٢)سید محسن امین ، اعیان الشیعہ ،دار التعارف للمطبوعات ، بیروت ، ج ١ص ١٩

اختلاف کے بعد بنی ہاشم کے مبلّغین مختلف جگہوں پرتشریف لے گئے اورانہوں نیجس چیز کا سب سے پہلے اظہار کیا وہ علی ابن ابی طالب اور ان کے فرزندوں کی فضیلت تھی،وہ لوگوں سے بیان کرتے تھے کہ بنی امیہ نے اولاد علی کو کس طرح قتل کیا اور ان کو کس طرح دربدر کیا ہے،(١)جس کے نتیجہ میں اس دور میںشیعیت قابل ملاحظہ حد تک پھیلی یہا ں تک امام مہدی سے مربوط احادیث مختلف مقامات پر لوگوں کے درمیان کافی تیزی سے منتشر ہوئی داعیان عبّاسی کی زیادہ تر فعالیت وسر گرمی کا مرکز خراسان تھا اس بنا پر وہاں شیعو ں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ۔ یعقوبی نقل کرتا ہے : ١٢١ھ میںزید کی شہادت کے بعدشیعہ خراسان میں جوش وحرکت میں آگئے اور اپنی شیعیت کو ظاہرکرنے لگے بنی ہاشم کے بہت سے مبلّغین ان کے پاس جاتے تھے اور خاندان پیغمبر ۖ پر بنی امیہ کی طرف سے ہونے والے مظالم کو بیان کرتے تھے، خراسان کاکوئی شہر بھی ایسا نہیں تھا کہ جہاں ان مطالب کو بیان نہ کیا گیا ہواس بارے میں اچھے اچھے خواب دیکھے گئے ،جنگی واقعات کو درس کے طور پر بیان کیا جانے لگا ۔(٢) مسعودی نے بھی اس طرح کے مطلب کو نقل کیا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ خراسان میں کس طرح شیعیت پھیلی وہ لکھتا ہے کہ١٢٥ھمیں یحییٰ بن زید جو زنجان میں قتل ہوئے تو لوگوں نے اس سال پیدا ہونے والے تمام لڑکوں کا نا م یحییٰ رکھا۔ (٣) ............

(١) ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ، منشورات الشریف الرضی ، ١٤١٦ھ ص ٢٠٧ (٢) ابن واضح ، ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی ، ج ٢ ص٣٢٦ (٣) مروج الذھب منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١٧ھ ج٣ ص ٢٣٦

اگر چہ خراسان میں عبّاسیوں کا زیادہ نفوذتھا چنانچہ ابو الفرج، عبداللہ بن محمد بن علی ابی طالب کے حالات زندگی میں کہتا ہے: خراسان کے شیعو ں نے گمان کیا کہ عبداللہ اپنے باپ محمّد حنفیہ کے وارث ہیںکہ جو امام تھے اور محمد بن علی بن عبداللہ بن عبّاس کو اپنا جانشین قرار دیا اورمحمدکے جانشین ابراہیم ہوئے اور وراثت کے ذریعہ امامت عباسیوں تک پہونچ گئی۔ (١) یہی وجہ ہے کہ عباسیوں کی فوج میں اکثر خراسانی تھے اس بارے میں مقدسی کا کہنا ہے : جب خدا وند عالم نے بنی امیہ کے ذریعہ ڈھائے جانے والے مظالم کو دیکھا تو خراسان میں تشکیل پانے والے لشکر کو رات کی تاریکی میں ان پر مسلط کردیا حضرت مہدی کے ظہور کے وقت بھی آپ کے لشکر میں خراسانیوں کے زیادہ ہونے کا احتمال ہے ۔(٢)

بہر حال اہل بیت پیغمبر ۖ کالوگوں کے درمیان ایک خاص مقام تھا چنانچہ عباسیوں کی کامیابی کے بعد شریک بن شیخ مہری نامی شخص نے بخارا میںخانوادہ پیغمبر پر عباسیوں کے ستم کے خلاف قیام کیا اور کہا :ہم نے ان کی بیعت اس لئے نہیں کی ہے کہ بغیر دلیل کے ستم کریں اورلوگوں کا خون بہائیں اور خلاف حق کام انجام دیںچنانچہ یہ ابومسلم کے ذریعہ قتل کردیا گیا ۔(٣) ............

(١)ابو الفرج اصفہانی ،مقا تل الطالبین ، منشورات ؛شریف الرضی ، قم ١٤١٦ ص ١٣٣ (٢)مقدسی ، احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم ، ترجمہ دکتر علی نقی منزوی ، شرکت مولفان و مترجمان ایران ، ج٢ ص ٤٢٦۔٤٢٧ (٣) تاریخ یعقوبی، منشورات الرضی ، قم ١٤١٤ھ ج ٢ ص ٣٤٥


(ج) تشیع عصرامام باقر اور امام صادق علیہما السّلام میں

امام محمد باقر ـ کی امامت کا دوسرا دور اور امام صادق علیہما السّلام کی امامت کا پہلا دور عباسیوںکی تبلیغ اور علویو ں کے قیام سے متصل ہے علویوں میں جیسے زید بن علی ، یحییٰ بن زید ، عبداللہ بن معاویہ کہ جوجعفر طیّار کے پوتے ہیں۔ (١)

عباسیوں میں رہبری کا دعوی کرنے والے ابو مسلم خراسانی کا خراسان میں قیام جو لوگوں کو بنی امیہ کے خلاف ابھاررہے تھے۔(٢) دوسری طرف بنی امیہ آپس میںاپنے طرفداروںکے درمیان مشکلات واختلافات کاشکار تھے اس لئے کہ بنی امیہ کے طرفداروں میں مصریوں اور یمنیوں کے درمیان بہت زیادہ اختلاف تھا، یہ مشکلات اور گرفتاریا ں سبب واقع ہوئیں کہ بنی امیہ شیعوں سے غافل ہو گئے جس پر شیعیوں نے سکون کا سانس لیا اور شدید تقیہ کی حالت سے باہر آئے تاکہ اپنے رہبروں سے رابطہ برقرار کر یں اور دوبارہ منظم ہوں،یہ وہ دور تھا کہ جس میں لوگ امام باقر کی طرف متوجہ ہوئے اور ان نعمتوں سے بہرہ مند ہوئے کہ جس سے برسوں سے محروم تھے، حضرت نے مکتب اہل بیت کو زندہ رکھنے کے لئے قیام کیا اور لوگوں کی ہدایت کے لئے مسجد نبی ۖ میں درسی نششتیں اورجلسے تشکیل دیئے جو کہ لوگوں کے رجوع کرنے کا محل قرار پایا ان کی علمی اور فقہی مشکلات کواس طرح حل کرتے تھے کہ جو ان کے لئے حجت ہو ،قیس بن ربیع نقل کرتے ہیں کہ میں ............

(١) مقاتل الطالبین، منشورات الشریف الرضی ، قم ،ج٢ ص ٣٣٢ (٢)تاریخ یعقوبی، منشورات الشریف الرضی ، قم ،ج٢ ص ٣٣٣

نے ابواسحاق سے نعلین پرمسح کرنے کے متعلق سوال کیا اس نے کہا :میں بھی تمام لوگوں کی طرح نعلین پر مسح کرتا تھا یہاں تک کہ بنی ہاشم کے ایک شخص سے ملاقات کی کہ میں نے ہر گز اس کے مثل نہیں دیکھا تھا اوراس سے نعلین پر مسح کرنے کے بارے میں معلوم کیا تو اس نے مجھے اس کام سے منع کیا اور فرمایا امیر المو منین نعلین پر مسح نہیںکرتے تھے اس کے بعد میں نے بھی ایسا نہیں کیا ، قیس بن ربیع کہتے ہیں : یہ بات سننے کے بعد میں نے بھی نعلین پر مسح کرنا ترک کردیا۔

خوارج میں سے ایک شخص امام مُحمّد باقر کی خدمت میں آیا اور حضر ت کو مخاطب کر کے کہا: اے ابا جعفر !کس کی عبادت کرتے ہیں؟ حضرت نے فرمایا: خُدا کی عبادت کرتا ہوں،اس شخص نے کہا :کیا اس کو دیکھا ہے؟ فرمایا: ہاں لیکن دیکھنے والے اس کا مشاہدہ نہیں کر سکتے بلکہ بہ چشم قلب حقیقت ایمان سے اس کو دیکھا جا سکتا ہے، قیاس سے اس کی معرفت نہیں ہو سکتی حواس کے ذریعہ اس کو درک نہیں کیاجا سکتا،وہ لوگوں کی شبیہ نہیں ہے،وہ خارجی شخص امام کی بارگا ہ سے یہ کہتا ہوا نکلا کہ خُدا خوب جانتا ہے کہ رسالت کو کہاں قرار دے ۔ عمر و بن عبید ،طاؤس یمانی ،حسن بصری ، ابن عمرکے غلام نافع ،علمی وفقہی مشکلات کے حل کے لئے امام کی خدمت میں حاضر ہو تے تھے۔(١)

امام محمد باقر علیہ السلام جس وقت مکہ میں آتے تھے تو لو گ حلال و حرام کو جاننے کے لئے امام کے پاس آتے تھے اور حضرت کے پاس بیٹھنے کی فرصت کو غنیمت شمار کرتے تھے اور اپنے علم ودانش میں اضافہ کرتے تھے۔ سر زمین مکہ پر آپ کے حلقہ درس ............

(١)حیدر ، اسد،امام صادق و مذاہب اربع، دار الکتاب العربی ، طبع سوم ، ج١ ص ٤٥٢۔٤٥٣

میں طالب علموں کے علاوہ اس زمانہ کے دانشمند بھی شریک ہوا کرتے تھے۔ (١)

جس وقت ہشام بن عبد الملک حج کے لئے مکہ آیااور حضرت کے حلقۂ درس کو دیکھا تو اس پر یہ بات گراں گذری اس نے ایک شخص کو امام کی خدمت میں بھیجا تاکہ وہ امام سے یہ سوال کرے کہ لوگ محشر میں کیا کھائیں گے؟ امام نے جواب میں فرمایا: محشر میں درخت اور نہریں ہوںگی جس سے لوگ میوہ کھائیںگے اور نہر سے پانی پئیں گے یہاںتک کہ حساب و کتاب سے فارغ ہوجائیں،ہشام نے دوبارہ اس شخص کو بھیجا کہ وہ امام سے سوال کرے کہ کیامحشر میں لوگوں کو کھانے پینے کی فرصت ملے گی ؟ امام نے فرمایا:جہنم میں بھی لوگوں کو کھانے پینے کی فرصت ہوگی اور اللہ سے پانی اور تمام نعمتوں کی درخواست کریں گے۔

زُرارہ کا بیان ہے امام باقرکے ہمراہ کعبہ کے ایک طرف بیٹھا ہوا تھا امام روبقبلہ تھے اور فرمایا: کعبہ کی طرف دیکھنا عبادت ہے اس وقت ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ کعب الاحبارکا کہنا ہے کہ کعبہ بیت المقدس کو ہر روز صبح کو سجدہ کرتا ہے، حضر ت نے فرمایا: تم کیا یہ کہتے ہو اس شخص نے کہا :کعب سچ کہتا ہے، ا مام ناراض ہو گئے اور فرمایا: تم اور کعب دونوں جھو ٹ بو لتے ہو ۔(٢)

حضرت کے محضراقدس میں بزرگ علمائ،فقہا اور محدّثین نے تربیت پائی ہے جیسے زُرارہ بن اعین کہ جن کے بارے میں امام صادق نے فرمایاہے: اگر زُرارہ نہ ............

(١)علامہ مجلسی ، محمد باقر ،بحار الانوار،مکتبة الاسلامیہ، ج ٢٦، ص ٣٥٥ (٢)حیدر ، اسد ، امام صادق و مذاھب اربعہ ، دار الکتاب العربی ، طبع سوم ، ج ١ ص ٤٥٢۔ ٤٥٣

ہوتے تو میر ے والد کی احادیث کے ختم ہو جانے کا احتمال تھا۔ (١) محمدبن مسلم نے امام محمد باقرسے تیس ہزار حدیثیں سنی تھیں (٢) ابو بصیر جن کے بارے میں امام صادق ـنے فرمایا:اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو آثار نبوت پرانے ہو جاتے یا قطع ہو جاتے(٣) اور دوسرے بزرگ جیسے یزید بن معاویہ عجلی ،جابر بن یزید ، حمران بن اعین ، ہشّام بن سالم حضر ت کے مکتب کے تربیت یافتہ تھے ، شیعہ علماء کے علاوہ بہت سے علمائے اہل سنّت بھی امام کے شاگرد تھے اور حضرت سے روایتیں نقل کی ہیں، سبط ابن جوزی کہتا ہے :جعفر اپنے باپ کے حوالے سے حدیث پیغمبر ۖ نقل کرتے تھے، اسی طرح تا بعین کی کچھ تعداد نے جیسے عطا بن ابی رباح، سفیان ثوری ، مالک بن انس (مالکی فرقہ کے رہنما) شعبہ اور ابو ایوب سجستانی نے حضرت کی طرف سے حدیثیں نقل کی ہیں(٤)خلاصہ یہ کہ حضرت کے مکتب سے علم فقہ وحدیث کے ہزاروںعلماء و ماہرین نے کسب فیض کیا اور ان کی حدیثیں تمام جگہ پھیلیں بزر گ محدّث جابر جعفی نے ستّر ہزارحدیثیں حضرت سے نقل کی ہیں (٥) حضرت نے ١١٤ھ میں ساتویں ذی الحجہ کوشہادت پائی ۔ (٦) ............

(١)شیخ طوسی اختیارمعرفة الرجال،ج ١ ص ٣٤٥ (٢)شیخ طوسی ، اختیا ر معرفة الرجال ،ج ١ ص ٣٨٦ (٣)شیخ طوسی ، اختیا ر معرفة الرجال ،ج ١ ص٣٩٨ (٤) ابن جوزی ، تذکرة الخواص ، منشورات شریف الرضی ، قم ، ١٣٧٦ھ ش، ١٤١٨ھ ص ٣١١ (٥) تاریخ الشیعہ ، ص ٢٢ (٦)کلینی، اصول کافی ،دار الکتب الاسلامیہ ، تہران ، ١٣٦٣ھ ش، ج١ ص ٧٢


جعفریہ یونیورسٹی[لکھو]

امام صادق کوایک مناسب سیاسی موقع فراہم ہوا تھا کہ جس میں انہوںنے اپنے والد کی علمی تحریک کو آگے بڑھایا اور ایک عظیم یونیورسٹی کی داغ بیل ڈالی کہ جس کی آوازپورے آفاق میں گونج گئی ۔

شیخ مفید لکھتے ہیں : حضرت سے اتنی مقدار میں علوم نقل ہوئے کہ زبان زدخلائق تھے امام کی آواز تمام جگہ پھیل گئی تھی، خاندان پیغمبر ۖ میں سے کسی فرد سے اتنی مقدار میں علوم نقل نہیں ہوئے ہیں ۔(١)

امیر علی حضرت کے بارے میں لکھتے ہیں : علمی مباحث اور فلسفی مناظروں نے تمام مراکز اسلامی میں عمومیت پیدا کرلی تھی اور اس سلسلے میںجو رہنمائی اور ہدایت دی جاتی تھی وہ فقط اس یونیورسٹی کی مرہون منت تھی جو مدینہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام کے زیر نظر تھی ،آپ امیر المومنین کی اولاد میں سے تھے نیز ایک عظیم وبزرگ دانشور تھے کہ جن کی نظر دقیق اور فکر عمیق تھی اس دور میں تمام علوم کے متبحرتھے، در حقیقت اسلام میں دانشکدئہ شعبۂ معقولات کے بانی تھے۔ (٢)

اس بنا پر علم و دانش کے چاہنے والے اور معارف محمدیۖ کے تشنہ لب افراد جوق در جوقمختلف اسلامی سر زمینوں سے امام کی طرف آتے اور تمام علوم و حکمت کے ............

(١)شیخ مفید ، الارشاد ، ترجمہ ، محمد باقر ساعدی ، خراسانی ، کتاب فروشی الاسلامیہ ،تہران ١٣٧٦ھ ش ، ص ٥٢٥ (٢) امیر علی ، تاریخ عرب و اسلام،ترجمہ فخر داعی گیلانی ،انتشارات گنجینہ ، تہران ، ١٣٦٦ ھ ،ش، ص ٢١٣

چشمہ سے بہرہ مند ہوتے تھے ، سید الاہل کہتے ہیں :

کوفہ، بصرہ، واسط اور حجاز کے ہر قبیلہ نے اپنے جگر کے ٹکڑوںکو جعفر بن محمد کی خدمت میں بھیجا عرب کے اکثر بزرگان اور فارسی دوست بالخصوص اہل قم حضر ت کے علم کدے سے شرفیاب ہوئے ہیں۔(١)

مرحوم محقق، معتبر میں لکھتے ہیں:امام صادق کے زمانے میں اس قدر علوم منتشر ہوئے کہ عقلیں حیران ہیں، رجا ل کی ایک جماعت میں چار ہزار افراد نے حضرت سے روایتیں نقل کی ہیں اور ان کی تعلیمات کے ذریعہ کافی لوگوںنے مختلف علوم میں مہارت پیدا کی ، یہا ں تک کہ حضر ت کے جوابات اورلوگوںکے سوالات سے چارسو کتابیںمعرض وجود میں آگئیںکہ جن کو اصولاربعہ ماة کا نام دیا گیا ۔ (٢)

شہید اوّل بھی کتاب ذکریٰ میں فرماتے ہیں: امام صادق علیہ السلام کے جوابات لکھنے والے عراق و حجاز اور خُراسان کے چار ہزار افراد تھے۔ (٣) حضرت کے مکتب کے برجستہ ترین دانشمند جو مختلف علوم منقول و معقول کے ماہر تھے جیسے ہشّام بن حکم ، محمد بن مسلم، ابان بن تغلب، ہشام بن سالم ، مومن طاق مفضل بن عمر ،جابر بن حیا ن و غیرہ ۔

ان کی تصنیف جو اصول اربع مائةکے نام سے مشہور ہے جو کافی، من لا یحضر ہ الفقیہ،تہذیب،استبصار کی اساس و بنیاد ہے ۔ ............

(١)حیدر ، اسد،الامام الصادق والمذاہب الاربعة، طبع سوم ، ١٤٠٣ ھ، ق (٢)المعتبر ،طبع سنگی، ص ٤۔٥ (٣)ذکری،طبع سنگی ، ص ٦

امام صادق کے شاگر د صرف شیعہ ہی نہیں تھے بلکہ اہل سنّت کے بزرگ دانشوروں نے بھی حضرت کی شاگردی اختیارکی تھی، ابن حجر ہیثمی اہل سنّت کے مصنف اس بارے میں لکھتے ہیں: فقہ وحدیث کے بزرگ ترین پیشوا جیسے یحییٰ بن سعد ، ابن جریح مالک ، سفیان ثوری ، سفیان بن عیینہ، ابو حنیفہ، شعبی وایوب سجستانی وغیرہ نے حضرت سے حدیثیں نقل کی ہیں ۔(١) ابو حنیفہ حنفی فرقہ کے پیشوا کہتے ہیں : ایک مدت تک جعفر بن محمد کے پاس رفت و آمدکی، میں ان کوہمیشہ تین حالتوں میں سے کسی حالت میں ضرور دیکھتا تھا یا نماز میں مشغول ہو تے تھے یا روزہ دار ہواکرتے تھے یا تلاوت قرآن کریم میں مصروف رہتے تھے میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے بغیر وضو کے حدیث نقل کی ہو ،(٢)علم وعبادت اور پرہیزگاری میں جعفر بن محمد سے بر تر نہ آنکھوں نے دیکھا اور نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی کے بارے میں دل میںایسا تصور پیدا ہوا ۔(٣)

آپ کے درس میں صرف وہی لوگ شریک نہیں ہوئے کہ جنہوں نے بعد میں مذاہب فقہی کی بنیا د رکھی بلکہ دور ودراز کے رہنے والے فلاسفرا ور فلسفہ کے طالب علم آپ کے درس میں حاضرہوتے تھے، انہوں نے اپنے امام سے علوم حاصل کرنے کے بعداپنے وطن ایسی درسگاہیں تشکیل دیں کہ جس میں مسلمان ان کے گرد جمع ہوتے تھے ............

(١)الصواعق المحرقة ، مکتبة القاہرہ ، ١٣٨٥ھ ،ص ٢٠١ (٢)ابن حجر عسقلانی ، تہذیب ، دار الفکر ، بیروت ، طبع اول ، ١٤٠٤ھ ،ق ،ج ١ ص ٨٨ (٣)حیدر ، اسد ،الامام الصادق و المذاھب الاربعہ،دار الکتب العربیہ ، بیروت، ج١ ص ٥٣

اور یہ لوگ معارف اہل بیت سے لوگوں کو سیراب کرتے تھے اور تشیع کو فروغ دیتے تھے، جس وقت ابان بن تغلب مسجد بنیۖ میں تشریف لاتے تو لوگ اس ستون کو کہ جس سے پیغمبرۖ تکیہ لگا تے تھے ان کے لئے خالی کردیتے تھے اور وہ لوگوں کے لئے حدیث نقل کرتے تھے، امام صادق نے ان سے فرمایا: آپ مسجد نبوی میں بیٹھ کے فتویٰ دیجیے میں دوست رکھتا ہو ں کہ میرے شیعوں کے درمیان آپ جیسے شخص دیکھنے میں آئیں ۔

ابان پہلے شخص ہیں جنہوں نے علوم قرآن کے بارے میں کتاب تالیف کی ہے اور علم حدیث میں بھی انہیں اس قدر مہارت حاصل تھی کہ آپ مسجد نبوی ۖ میں تشریف فرما ہوتے اور لوگ آآکر آپ سے طرح طرح کے سوالات کرتے تھے اور مختلف جہت سے ان کے جوابات دیتے تھے مزید احادیث اہل بیت کوبھی ان کے درمیان بیان کرتے تھے ،(١) ذہبی میزان الاعتدال میں ان کے بارے میںلکھتے ہیں: ابان کے مثل افراد جو تشیع سے متہم ہیں اگر ان کی حدیث رد ہو جائے تو کافی آثار نبویۖ ختم ہو جائیں گے ۔(٢) ابو خالد کابلی کا بیان ہے: ابو جعفر مومن طاق کو مسجد نبی ۖ میں بیٹھے ہوئے دیکھا مدینہ کے لوگوں نے ان کے اطراف میں ہجوم کر رکھا تھا، لوگ ان سے سوال کر رہے تھے، اور وہ جواب دے رہے تھے۔(٣) ............

(١)حیدر ، اسد، الامام الصادق و المذاھب الاربعہ، ج١ ص ٥٥ (٢)ذہبی ، شمس الدین محمد بن احمد ،میزان الاعتدال ، دار المعرفة، بیروت ،ج١ ص ٤ (٣)شیخ طوسی ،اختیار معرفة الرجال ، ج ٢ ص ٥٨١

شیعیت اس دور میں اس قدر پھیلی کہ بعض لوگوں نے اپنی اجتماعی حیثیت کے چکر میں اپنی طرف سے حدیث جعل کرنا شروع کردیا اور احادیثِ ائمہ طاہرین کی بیجاتاویل کرنے لگے نیزاپنے نفع میں روایات ائمہ کی تفسیر کر نے لگے ،جیسا کہ امام صادق نے اپنے صحابی فیض ابن مختار سے اختلاف احادیث کے بارے میں فرمایا :وہ ہم سے حدیث اور اظہار محبت میں رضائے خُدا طلب نہیں کرتے بلکہ دنیا کے طالب ہیں اور ہر ایک اپنی ریاست کے چکر میں لگا ہوا ہے۔(١)

شیعہ عبّاسیو ں کے دور میں[لکھو]

شیعیت ١٣٢ ھ یعنی عباسیوں کے آغازسے غیبت صُغریٰ کے آخریعنی ٣٢١ ھ تک امویوں کے دور کی بہ نسبت زیادہ پھیلی، شیعہ دور و دراز کے علاقہ میں منتشر اوربکھرے ہوئے تھے جیسا کہ ہارون کے پاس امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شکایت کی جاتی تھی کہ دنیا کے مشرق ومغرب سے آپ کے پاس خُمس آتا ہے، (٢)جس وقت امام رضا نیشا پورآئے دو حافظان حدیث جن میں ابو زرعہ رازی اور محمد بن مسلم طوسی اور بے شما رطالبان علم حضرت کے ارد گرد جمع ہو گئے اور امام سے خواہش ظاہرکی کہ اپنے چہرئہ انور کی زیارت کرائیں اس کے بعد مختلف طبقات کے لوگ جو ننگے پائوں کھڑے ہوئے تھے ان کی آنکھیں حضرت کے جمال سے روشن ہوگئیں، حضرت نے حدیث سلسلة الذہب ارشاد فرمائی بیس ہزار کاتب اور صاحبان قلم نے اس حدیث کو لکھا۔(٣) ............

(١)شیخ طوسی ، اختیار معرفة الرجال ، ج ٢ ص٣٤٧ (٢) شیخ مفید ،الارشاد،ترجمہ محمد باقر ساعدی ، خراسانی ، کتاب فروشی اسلامیہ ، ١٣٧٦ھ، ص ٥٨١ (٣)شیخ صدوق ، عیون اخبار الرضا ،طبع قم ، ١٣٧٧ ھ ق، ج٢ ص ١٣٥

اسی طرح امام رضا نے ولی عہدی قبول کر نے کے بعد مامون سے کہ جو حضرت سے بہت کچھ توقع رکھتاتھا،اس کے جواب میں فرمایا: اس ولی عہد ی نے میری نعمتو ں میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے جب میں مدینہ میں تھا تو میرالکھاہوا شرق وغرب میں اجر ا دہوتا تھا۔(١)

اسی طرح ابن داؤد جو فقہا ئے اہل سنّت میں سے تھا اور شیعوں کا سرسخت مخالف اور دشمن تھا اس کا اعتراف کر نا بھی اہمیت کا حامل ہے اس سے پہلے کہ معتصم عباسی چور کے ہاتھ کاٹنے کے بارے میں امام جواد کی رائے کو فقہا ئے اہل سنت کے مقابلہ میںقبول کرے ،ابن داؤد تنہائی میں اس کومشورہ دیتا ہے کہ کیوں اس شخص کی بات کو کہ آدھی امت جس کی امامت کی قائل ہے درباریوں، وزیروں ،کاتبوں اور تمام علما ئے مجلس کے سامنے ترجیح دیتے ہیں ،(٢)یہا ں تک کہ شیعیت حکومت بنی عباس کے فرمانروائوں اور حکومت کے لوگوں کے درمیان بھی پھیل گئی تھی جیسا کہ یحییٰ بن ہر ثمہ نقل کرتا ہے۔

عباسی خلیفہ متوکل نے مجھے امام ہادی کو بلانے کے لئے مدینہ بھیجا جس وقت میں حضرت کو لے کر اسحاق بن ابراہیم طاہری کے پاس بغداد پہنچا جو اس وقت بغداد کا حاکم تھاتو اس نے مجھ سے کہا: اے یحییٰ! یہ شخص رسول ۖ خُدا کا فرزند ہے ،تم متوکل کو بھی پہچانتے ہو اگر تم نے متوکل کو ان کے قتل کے لئے برانگیختہ کیا تو گویا تم نے رسولۖ خُدا سے دشمنی کی، میں نے کہا: میں نے اس سے نیکی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا ،اسکے بعد میں ............

( ١) علامہ مجلسی ،بحار الانوار،مکتبة الاسلامیہ ،تہران ، ١٣٥٨ھ ق ،ج٤٩،ص ١٥٥ (٢) علّامہ مجلسی ،بحارر الانوار، ج٠ ٥، ص٦

سامرہ کی طرف روانہ ہو ا جس وقت میں وہاں پہونچا سب سے پہلے وصیف ترکی کے پاس گیا اس نے بھی مجھ سے کہا،(١) اگر اس شخص کے سر کا ایک با ل بھی کم ہو گیا تو تم میرے مقابلہ میں ہو۔(٢)

سیّد محسن امین نے اپنی کتاب کی پہلی جلد میں عباسی حکومت کے چند افراد کو شیعوں میں شمار کیا ہے منجملہ ان میں سے ابو سلمہ خلال ہیں(٣) کہ جو خلافت عباسی کے پہلے وزیر تھے اور وزیر آل محمد کے لقب سے مشہور تھے ، ابو بجیر اسدی بصری منصور کے زمانے میں بزرگ فرمانروائوں میںمحسوب ہوتے تھے، محمد بن اشعث ہارون رشیدکے وزیر تھے اور امام کاظم کی گرفتاری کے وقت اسی شخص سے منسوب داستان ہے جو اس کے شیعہ ہونے پر دلالت کرتی ہے، علی بن یقطین ہارون کے وزیروں میں سے تھے،اسی طرح یعقوب بن داؤد مہدی عباسی کے وزیر اور طاہر بن حسین خزاعی مامون کے دور میں خراسان کے حاکم اور بغداد کے فاتح تھے ،اسی وجہ سے حسن بن سہل نے ان کو ابی السرایا کی جنگ میں نہیں بھیجا۔ (٤) اسی طرح بنی عباس کے دور میںمن جملہشیعہ قاضیوں کی فہرست یوں ہے: ............

(١)ترک کے سردار وں میں سے (٢) مسعودی، مروج الذھب ، منشورات موسسئہ الا علمی للمطبوعات، بیروت ، طبع اول ، ج ٤، ص ١٨٣ (٣) البتہ کچھ صاحبان نظر اس بات کے معتقد ہیں کہ اگر ابو سلمہ کے شیعہ ہونے کی دلیل وہ خط ہے کہ جو امام صادق کی خدمت لکھا گیا تھاتویہ دلیل نہیں ہے کیو نکہ اس اقدام کو ایک سیاسی اقدام تصور کیاگیا ہے ، رجوع کیا جائے پیشوائی ،مہدی ، سیرئہ پیشوایان ،موسسئہ امام صادق ، طبع چہارم ، ١٣٧٨، ص٣٧٨ (٤)اعیان الشیعہ،دارالتعارف للمطبوعات ، بیروت ،ج ١ ص ١٩١

شریک بن عبداللہ نخعی کوفہ کے قاضی اورواقدی مشہور مورّخ جو مامون کے دور میں قاضی تھے ،(١)یہاں تک کہ تشیع ان مناطق میں کہ جہاںپر عباسیوں کارسوخ و نفوذ تھااس قدر پھیل گئی تھی کہ ان کو بڑا خطرہ لا حق ہونے لگاتھا جیسا کہ امام کاظم کی تشییع جنازہ کے موقع پر سلیمان بن منصورکہ جوہارون کا، چچا تھااس نے شیعوں کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے جوکافی تعداد میں جمع تھے آپ کے جنازہ میں پا برہنہ شرکت کی۔ (٢)

اسی طرح جس وقت امام جواد شہید ہوئے وہ چاہتے تھے کہ ان کو مخفی طور پر دفن کردیں لیکن شیعہ باخبر ہو گئے اور بارہ ہزار افراد مسلح ہوکرہاتھوں میں تلوار لئے گھروں سے باہر آگئے اور عزت و احترام کے ساتھ حضرت کے جنازہ کی تشییع کی(٣) امام ہادی کی شہادت کے موقع پر بھی شیعوں کی کثرت کی بنا پر اور بہت کافی گریہ و بکا کی وجہ سے مجبور ہوئے کہ حضرت کو ان کے گھر میں دفن کردیں۔(٤) امام رضاعلیہ السلام کے دور کے بعدعباسی خُلفا نے فیصلہ کیا کہ ائمہ طاہرین کے ساتھ اچھی رفتار سے پیش آئیں تاکہ شیعوں کے غصّہ کا سبب نہ بنیں، اسی بنا پرمام رضا کو ہارون کے دور میں نسبتاً آزادی حاصل تھی اور آپ نے شیعوں کے لئے علمی ا و رتبلیغی ............

(١) اعیان الشیعہ، دار التعارف ، للمطبوعات ،بیروت ،ص١٩٢۔١٩٣ ،( البتہ واقدی کامحققین کے درمیان تشیع کے بارے میںاختلاف ہے ) (٢) امین، سید محسن،اعیان شیعہ ،دارالتعارف للمطبوعات ،بیروت ،ج ١ ،ص ٢٩ (٣) حیدر، اسد، الامام الصادق والمذاہب ا لا ربعہ ، دار الکتاب عربی، بیروت ،طبع سوم، ج١ ، ص٢٢٦ (٤)ابن واضح، تاریخ یعقوبی، منشورات شریف الرضی ، قم ،ج٢ ،ص٤٨٤

فعالیت وسر گرمیاںبھی انجام دیںنیز اپنی امامت کا کھل کر اعلان کیا اور تقیہ سے باہر آئے مزید دوسرے تمام فرق و مذاھب کے اصحاب سے بحث وگفتگو کی، اور ان میں سے بعض کوجواب سے مطمئن کیا جیسا کہ اشعری قمی نقل کرتا ہے: امام کاظم اور امام رضا کے زمانے میں اہل سنّت فرقہ سے مرحبۂ اور زیدیوں کے چند افراد شیعہ ہو گئے اور ان دو اماموں کی امامت کے قائل ہوگئے۔(١)

بعض خُلفائے عباسی کی کوشش یہ تھی کہ ائمہ طاہرین کو اپنی نظارت میں رکھیں تاکہ ان پر کنٹرول کر سکیں، ان حضرات کو مدینہ سے لاتے وقت اس بات کی کوشش کی کہ ان کو شیعہ نشین علاقہ سے نہ گذارا جائے ،اسی وجہ سے امام رضا کو مامون کے دستور کے مطابق بصرہ ،اہواز اور فارس کے راستے سے مرو لے گئے نہ کہ کوفہ،جبل ا ور قم کے راستے سے کیونکہ یہ شیعوں کے علاقے تھے۔(٢)

یعقوبی کے نقل کے مطابق جس وقت امام ہادی علیہ السلام کو متوکل عباسی کے دستور کے مطابق سامرّہ لے جایا گیا توجس وقت آپ بغداد کے نزدیک پہنچے تب اس بات سے باخبر ہوئے کہ کافی تعداد میں لوگ امام کے دیدار کے منتظر ہیں یہ لوگ وہیںٹھہر گئے اور رات کے وقت شہر میں داخل ہوئے اور وہاں سے سامرہ گئے ،(٣) عباسیوں کے دور میں شیعہ حضرات ،دور د ر از اور مختلف مناطق میں پراگندہ ............

(١)المقا لات و الفرق، مرکز انتشارات علمی و فرہنگی ، تہران ، ص٩٤ (٢)پیشوائی ، مھدی ،سیرئہ پیشوایان ، موسسئہ امام صادق ، طبع ھشتم، ١٣٧٨ھ ش ، ص ٤٧٨ (٣)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی ، ج ٢، ص ٥٠٣

تھے ائمہ طاہرین نے وکالت کے نظام کی داغ بیل ڈالی اور مختلف مناطق اور شہروں میں اپنے نائب اور وکیل معین کئے تاکہ ان کے اور شیعوں کے درمیان رابطہ قائم ہوسکے، یہ مطلب امام صادق کے زمانے سے شروع ہوا اس وقت خلفا کا کنٹرول ائمہ طاہرین پر جتنا شدید ہو تا گیا اتنی ہی شیعو ں کی دسترسی اماموں تک مشکل ہوتی گئی اور اسی اعتبار سے وکالت اور وکیلوں کے نظام کی اہمیت میں اضافہ ہوتاگیا ، کتاب تاریخ عصر غیبت میں آیا ہے کہ مخفی کمیٹیو ں کے پھیلنے اورتقویت پانے کا سب سے اہم ترین سبب وکلا ہیں،یہ نظام امام صادق کے زمانے سے شروع ہوا اور عسکریین کے دور میںاس میں بہت زیادہ ترقی اور وسعت ہوئی۔ (١)

استاد پیشوائی اس بارے میں لکھتے ہیں : شیعہ ائمہ جن بحرانی شرائط سے عباسیوں کے زمانے میں رو برو تھے وہ سبب بناکہ ان کی پیروی کرنے والوں کے درمیان رابطہ برقرار کرنے کے لئے نئے وسائل کی جستجوکی جائے اور ان کی بروئے کار لایا جائے اور یہ وسائل وکالت کے ارتباط اور نمائندوںسے رابطہ نیز وکیلوںکا تعین کرنا مختلف مناطق میں امام کے توسط سے تھا، وکلا اورنمائندوں کے معین کرنے کا مقصد مختلف مناطق سے خمس و زکوٰة،ہدایا اورنذورات کی رقم کا جمع کرنا تھا اور وکلاکے توسط سے لوگوں کی طرف سے ہونے والی فقہی مشکل اور عقیدتی سوالات کا امام کو جواب دینا تھا چنانچہ اس طرح کی کمیٹیاں امام کے مقاصدکوآگے بڑھانے میں کافی مؤثر رہیں ۔(٢) ............

(١) پور طبا طبائی ،سید مجید ، تاریخ عصر غیبت ، مرکز جہانی علوم اسلامی ، ص ٨٤ (٢)پیشوائی ، مہدی،تاریخ عصر غیبت ،ص ٥٧٣

وہ مناطق اور علاقے کہ جہاں امام کے وکیل ا و ر نائب ہوا کرتے تھے وہ مندرجہ ذیل ہیں، کوفہ ، بصر ہ ، بغداد قم،و ا سط، اہواز ،ہمدان ،سیستان ، بست ،ری ، حجاز ، یمن ، مصر ا و رمدائن ۔ (١) شیعہ مذہب چوتھی صدی ہجری میں ،شرق وغرب اور اسلامی دنیا کے تمام مناطق میں اتنی اوج اور بلندی پیدا کر چکا تھا کہ اس کے بعد اور اس سے پہلے ایسی وسعت دیکھنے میں نہیں آئی… مقدسی نے شیعہ نشین شہروں کی فہرست اس دور کے اسلامی سر زمین میں جو پیش کی ہے وہ اس مطلب کی طرف نشاندہی کرتی ہے ، ہم اس کی کتاب سے وہ عبارت نقل کرتے ہیں جس میں اس نے ایک جگہ کہا ہے: یمن ، کرانہ ، مکہ اور صحار میں اکثر قاضی معتزلی اور شیعہ تھے۔(٢) جزیرة العرب میں بھی کافی شیعیت پھیلی ہوئی تھی،(٣) اہل بصرہ کے ارد گردرہنے والوں کے بارے میں ملتا ہے کہ اکثر اہل بصرہ قدری ،شیعہ ، معتزلی یاپھر حنبلی تھے (٤)کوفہ کے لوگ بھی اس صدی میں کناسہ کے علاوہ سب شیعہ تھے ، (٥) ............

(١)رجال نجاشی،دفتر نشر فرہنگ اسلامی ،وابستہ جامع مدر سین ،قم ،١٤٠٤ھ ص ٣٤٤، ٧٩٧، ٨٠٠، ٨٢٥،٨٤٧ (٢) مقدسی ، ابو عبداللہ محمد بن احمد ، احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم،ترجمہ منذوی، شرکت مؤلفان ، ومترجمان، ایران، ١٣٦١ ،ج ١ ،ص ١٣٦ (٣)احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم ،ص ١٤٤ (٤)گزشتہ حوالہ ،ص١٧٥ (٥)گزشتہ حوالہ ،ص ١٧٤

موصل کے علاقوں میں بھی کچھ شیعہ موجود تھے ،(١)اہل نابلس ، قدس اور عُمان میں بھی شیعوں کی اکثریت تھی ،(٢)قصبہ فسطاط او ر صند فا کے لوگ بھی شیعہ ہی تھے(٣) سندہ کے شہر ملتان میں بھی شیعہ تھے کہ جو اذان واقامت میں ہرفقرے کو دو بار پڑھتے ہیں۔(٤)

اہواز میں شیعہ اور سنی کے درمیان حالات کشیدہ رہے اورجنگ تک نوبت پہونچ گئی۔(٥) مقریزی نے بھی حکومت آل بویہ اور مصری فاطمیوںکی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے رافضی مذہب مغرب کے شہروں میںشام ، دیار بکر ، کوفہ ، بصرہ ، بغداد ، پورے عراق، خراسان کے شہر، ماوراء النہراور اسی طرح حجاز، یمن، بحرین، میں پھیل گیا ، ان کے اور اہل سنت کے درمیان اس قدر جنگیں ہوئیںکہ جن کو شمارنہیں کیا جا سکتا ، (٦) اس صدی میں بغداد میں بھی اکثر شیعہ ہی تھے جب کہ بغدادبنی عباس کی خلافت کا مرکز تھا اور جتنا ہو سکتا تھا روز عاشو را کھل کر آزادانہ طور پر عزاداری کرتے تھے ،جیسا کہ ابن کثیر کا بیان ہے شیعوں کی کثرت اورحکومت آل بویہ کی حمایت کی بنا پر اہل سنت ان کو اس ............

(١)گزشتہ حوالہ ، ص ٢٠٠ (٢) گزشتہ حوالہ ، ص ٢٢٠ (٣) گزشتہ حوالہ ، ص٢٨٦ (٤) گزشتہ حوالہ،ج٢ ،ص ٧٠٧ (٥) احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم ،ج٢ ،ص ٦٢٣ (٦)مقریزی ،تقی الدین ابن العباس احمد بن علی ، المواعظ و الاعتبار بذکر الخطط و الآثار المعروف با لخطط المقریزیہ دار الکتب العلمیہ ، بیروت ،طبع اوّل ، ١٤١٨،ج ٤ ،ص ١٩١

عزاداری سے نہیں روک سکے،(١) اس زمانے میں شیعوںکے لئے اتنا زیادہ راستہ ہموار ہو گیا تھا کہ اکثر اسلامی سرزمینیں شیعہ حاکموں کے زیر تسلط تھیں، ایران کے شمال میں، گیلان اور مازندران میں طبرستان کے علوی حکومت کرتے تھے ،مصر میں فاطمی ، یمن میں زیدی ، شمال عراق او ر سوریہ میں حمدانی اور ایران وعراق میں آل بویہ حکومت کرتے تھے ، البتہ بعض عباسی خلفا جیسے مھدی ، امین ، مامون، معتصم واثق اور منتصر ان کے زمانے میں شیعہ نسبتاً عملی طورسے آزاد تھے، ان خلفا کے زمانے میں پہلے کی بہ نسبت سخت گیری کم ہو گئی تھی ، یعقوبی کے نقل کے مطابق مھدی عباسی نے طالبیان او ر شیعوں کو کہ جو زندان میں تھے آزاد کر دیا تھا ۔(٢)

امین کی پنج سالہ دور حکومت میں بھی عیش ومستی اور اپنے بھائی مامون سے جنگ میں مشغول ہونے کی وجہ سے شیعوں پر سختی کم تھی مامون ، معتصم، واثق ، اور معتضدعباسی بھی شیعیت کی طرف مائل تھے ،لیکن متوکل خاندان پیغمبر ۖ اور شیعوں کا سخت ترین دشمن تھا اگر چہ اس کے دور میں شیعہ کنٹرول کے قابل نہیں تھے اس کے باو جود بھی و ہ زیارت قبر امام حسین علیہ السلا م سے روکتا تھا ۔( ٣) ابن اثیرکا کہناہے: متوکل اپنے سے پہلے خلفا، جیسے مامون ، معتصم ، واثق جو علی ا و ر خاندان علی سے محبت کا اظہار کرتے تھے ان سے دشمنی رکھتا تھا اور جن کا شمار دشمنان علی میں ............

(١)البدایہ والنھایہ، بیروت ، ١٩٦٦، ج ١١، ص٢٤٣ (٢) ابن واضح ، تاریخ یعقوبی ، منشورات شریف الرضی ، قم ، ج ٢ ، ص ٤٠٤ (٣)طبری ،محمد بن جریر ،تاریخ طبری، دارالکتب العلمیة ،بیروت،ج٥ ص٣١٢

ہوتاتھا مثلاً شامی شاعر علی بن جہم ، عمر بن فرج ، ابو سمط اور مروان بن ابی حفصہ کی اولادیں کہ جو بنی امیہ کا دم بھرتی تھیں اسی طرح عبداللہ بن محمد بن داؤد ھاشمی کہ جو ناصبی اور دشمن علی تھا اس کے ساتھ اس کا اٹھنا بیٹھنا تھا(١) اس دور میں ناصبی اور بے دین شاعروں میں متوکل سے نزدیکی کی وجہ سے یہ جرأت پیدا ہوگئی تھی کہ خاندان پیغمبرۖ کے خلاف اشعار کہنے لگے، لیکن متوکل کے جانشین منتصر نے اس روش کے خلاف کام کیا اور شیعوں کو عملی آزادی دی اور قبر امام حسین کی تعمیر کرائی اور زیارت کی ممانعت کو بر طرف کر دیا ۔(٢) اس دور کے شاعر بحتری نے اس طرح کہا ہے: انّ علیاًلاولی بکم وازکی یداًعند کم من عمر (٣) عمر کی بہ نسبت حضرت علی علیہ السلام زیادہ مقرب و مقدس ہیں ۔

عبّاسی خلفاء کی شیعہ رہبروں پرکڑی نظر[لکھو]

عباسی حکومت نے ٣٢٩ھ تک کلی طور پر ایرانی وزرا ء اور افسروں نیزترک فوجیوں کی برتری کے دو دور گذارے ہیں، اگر چہ ترکوں کے دور میں خلافت کی باگ ڈور ضعیف رہی ............

(١)الکامل فی التاریخ،دار صادر ، بیروت ، ١٤٠٢ھ ، ج ٧ ، ص٥٦ (٢) مسعودی ، علی بن حسین ، مروج الذھب ،منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ھ ، ج ٤ ، ص١٤٧ (٣)مسعودی ، علی بن حسین ، مروج الذھب ،منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ھ، ج ٤ ، ص١٤٧

اورزیادہ تر عباسی خلفاکے افسر اور نمائندے ترک تھے ،اور کلی طور پر حکومت کی سیاست شیعوں کے خلاف تھی عباسیوں کے دور میں تشیّع کے زیادہ پھیلنے کی بنا پر عباسی خُلفا کی سیاست یہ تھی کہ شیعہ قائدین پر سخت نظر رکھی جائے ،اگر چہ شیعوں کے سلسلہ میں خلفاکا رویہ ایک دوسرے سے مختلف تھا بعض ان میں سے جیسے منصور ،ہادی ،رشید ، متوکل ، مستبدحددرجہ سخت گیر اور خون بہانے والے تھے ان میں سے بعض دوسر ے جیسے مہدی عباسی ، مامون واثق اپنے پہلے خلفا کی طرح بہت زیادہ سخت گیر نہیں تھے اور ا ن کے زمانہ میں شیعہ کسی حد تک آرام کی سانس لے رہے تھے،جس وقت منصور عباسی نے محمد نفس زکیہ اور ان کے بھائی ابراہیم کی طرف سے خطرہ کا احساس کیا تو اس نے ان کے باپ ، بھائیوں اور چچاؤں کو گرفتار کیا اور زندان میں ڈال دیا ۔(١) منصور نے بارہا امام صادق ـ کو دربار میں بلوایا اور حضرت کے قتل کا ارادہ کیا لیکن خُدا کاارادہ کچھ اور ہی تھا ،(٢) ............

(١)مسعودی ، علی بن حسین ، مروج الذھب ،منشورات الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ج ٣ ،ص ٣٢٤ (٢)ابن جوزی نقل کرتا ہے جس وقت منصور مکہ کے ارادے سے مدینہ میں وارد ہو ا ،ربیع حاجب سے کہا ،جعفر بن محمد کو حاضر کرو خُدا مجھ کو مار ڈالے اگر میں ان کو قتل نہ کروں، ربیع نے حضرت کے حاضر کرنے میں سُستی برتی ،منصور کے فشار کی وجہ سے ربیع نے حضرت کو حاضر کیا ،جس وقت امام حاضر ہوئے اس وقت آپ نے آہستہ آہستہ اپنے لبوں کو حرکت دی،جب منصور کے نزدیک پہنچے اور آپ نے سلام کیا تو منصور نے کہا: اَے خُدا کے دشمن !نابود ہوجا، ہماری مملکت میں خلل واقع کرتا ہے خُدا مجھ کو مارڈالے اگر میں تم کو قتل نہ کروں ،امام صادق نے فرمایا :

سُلیمان پیغمبرکوسلطنت ملی انہوں نے خدا کا شکرادا کیا ،ایوب نے مصیبت دیکھی اور صبر کیا ،یوسف مظلوم واقع ہوئے ظالموں کو بخش دیا ،تم ان کے جانشین ہوبہتر ہے کہ ان سے عبرت حاصل کرو ،منصور نے اپنے سر کو نیچے جھکالیا دوسری بار اپنے سر کو اُٹھا کر یہ کہا: آپ ہمارے قرابت داروںاور رشتہ داروں میں سے ہیں اس کے بعد اس نے حضرت کو عزّت دی، معانقہ کیا اور آپ کو اپنے نزدیک بٹھاکر آپ سے بات کرنے میں مشغول ہوگیا ،پھر ربیع سے کہا : جتنی جلدی ہوسکے انعام واکرام اورجعفر بن محمد کے لباس کو لے آئواوران کو رخصت کرو،جس وقت حضرت باہر نکلے ربیع آپ کے پیچھے پیچھے آیااور آپ سے کہا :میں تین دن سے آپ کی طرف سے دفاع اورمدار اکر رہاتھاآپ جب آئے تومیں نے دیکھا کہ آپ کے لب حرکت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے منصور آپ کے خلاف کچھ بھی نہ کرسکا چونکہ میں سُلطان کا کارندہ ہوں اِس دُعا کا محتاج ہوں چاہتاہوں کہ آپ مجھ کو یہ دُعا تعلیم فرمائیں حضرت نے فرمایا : یہ کہہ :

((اَللّھمّ احرِ سنی بِعینِکٔ الّتِی لَا تنام وَ اَکنِفنِی بکنَفِکٔ الّذِی لَا یرامُ اَو یَضامُ وَ اغْفِر لِی بِقْدرَتِکَٔ عَلیَّ وَ لا اَھْلِکٔ وَ اَنْتَ رَجَائیِ اللّھُمَ اِنَّکَٔ اَکْبَرُ وَ اَجَلُّ مِمَّنْ اخَافُ وَ اَحذَرُ اَللّھُمَ بِکَٔ اَدفَعُ فِی نَحْرِ ہِ و َ اَ سْتعِیذ ُ بِکَٔ مِنْ شَرِ ہ))

بارالٰہا! تیری آنکھوں کی قسم! کہ جوسوتی نہیںمیری حفاظت کر اورتجھے اس قدرت کا واسطہ ! کہ جو ہدف ِ بلا قرارنہیں پاتی مجھے اس چیز سے محفوظ رکھ اور میں ہلاک نہ کیاجائوں کیونکہ توہی میری اُمید کا سر چشمہ ہے ، بارالٰہا! وہ فراوان نعمتیںکہ جوتونے مجھے دی ہیں میں ان نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرسکااور تونے مجھ کو ان نعمتوں سے محروم نہیں کیابہت سی وہ بلائیںکہ جس میں تو نے مجھے مبتلا کیا اور میں نے کم صبری کا مظاہرہ کیا اس سے تومجھے نجات دے ،بار الٰہا! تیری قدرت کے دفاع اور پشت پناہی سے ہی اس کے شر سے محفوظ رہ سکتا ہوں اور اس کے شر سے تجھ سے پناہ چاہتاہوں ۔

(تذکرة الخواص ، منشورات المطبعة الحیدریہ ومکتبتھا ، النجف الاشرف ،١٣٨٣ ھ ،ص ٣٤٤ )

خلفائے عباسی کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ وہ شیعہ رہنمائوں کو جو ان کے رقیب ہوا کرتے تھے ان کو راستے سے ہٹادیا جائے یہاں تک کہ منصور نے ابن مہاجر نام کے ایک شخص کو کچھ رقم دیکر مدینہ بھیجا تاکہ وہ عبداللہ ابن حسن اور امام صادق علیہ السّلام اور بعض دوسرے علویوںکے پاس جائے اور ان سے کہے کہ میں خراسان کے شیعوں کی طرف سے آیا ہوں اور اس رقم کو ان کے حوالہ کر کے ان سے دستخط لے لے، امام صادق نے اس کو اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ تم کو منصور نے بھیجا ہے اور اس سے تاکید کی کہ منصور سے جاکرکہنا :علویوں کو ابھی کچھ عرصہ سے مروانی حکومت سے نجات اور راحت ملی ہے اورانہیں ابھی اس کی ضرورت ہے، ان کے ساتھ حیلہ اور فریب نہ کر۔(١)

اسدحیدر کہتے ہیں: منصورنے اما م صا دق کو ختم کرنے کے لئے مختلف وسیلوں کا سہارا لیا اور شیعوں کی طرف سے ان کو خط لکھوایا اور ان کی طرف سے آپ کی خدمت میں کچھ مال بھیجا لیکن ان میںسے کسی ایک میں بھی کامیاب نہیں ہو سکا ۔(٢)

جس وقت منصور کوامام صادق علیہ السّلام کی شہادت کی خبر ملی تو اس نے مدینہ کے حاکم محمد بن سلیمان کوخط لکھا کہ اگر جعفر بن محمد نے کسی معین شخص کو اپنا وصی قرار دیا ہے تو اس کو پکڑ لیا جائے اور اس کی گر دن اُڑادی جائے، تو مدینہ کے حاکم نے اس کے جواب میں لکھا : جعفر بن محمد نے ان پانچ افراد کو اپنا وصی قرار دیا ہے ، ابو جعفر منصور ،محمد بن سلیمان عبداللہ ، موسیٰ اور حمیدہ ،اس وقت منصور نے کہا:تب ان کو قتل نہیں کیا جاسکتا ،(٣) ............

(١) ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ،موسسئہ انتشارات علامہ، قم ، (بی تاج ٤ ص ٢٢٠ (٢)الامام الصادق و المذاھب الاربعہ،دار الکتاب العربی ، بیروت ، طبع سوم ، ١٤٠٣ھ ج١، ص ٤٦ (٣) طبرسی ، ابو علی فضل بن حسین ، اعلام الوریٰ موسسة احیا ء التراث ، قم ، ١٤١٧ ج ٢ ،ص ١٣

مہدی عباسی اپنے باپ کی طرح شیعو ں اور علویوں کے لئے سخت گیر نہیں تھا ۔

یعقو بی نقل کرتا ہے: مہدی جب خلیفہ ہوا تواس نے دستور دیا جتنے بھی علوی زندان میں ہیں ان کو آزاد کردیا جائے ،(١)اس وجہ سے اس کے زمانے میں کوئی بھی علوی قیام وجود میں نہیں آیا ، ابوالفرج اصفہانی نے فقط دو کا ذکر کیا ہے کہ جو اس کے زمانے میں مارے گئے ایک علی عبّاس حسنی کہ جن کو زہر کے ذریعہ قتل کیا گیا دوسرے عیسیٰ بن زیدکہ جن کی نا معلوم طریقہ سے موت واقع ہوئی وہ منصور کے زمانے سے پوشیدہ طور پر زندگی بسر کررہے تھے۔(٢)

ہادی عباسی کے زمانے میں علویوں اور شیعوں کے بڑے قائدین پر شدید فشار تھا جیسا کہ یعقوبی نے لکھا ہے:ہادی نے شیعوں اور طالبیوں پر بہت سختی کر رکھی تھی اور ان کو بہت زیادہ ڈرا رکھا تھا اور وہ وظائف او رحقوق کہ جو مہدی نے اپنے زمانے میں ان کے لئے مقرر کئے تھے ان کو قطع کر دیا اور شہروں کے حاکم ا و ر فرمانروائوں کو یہ لکھ بھیجا کہ طالبیوں کا تعاقب کریں اور ان کو گرفتار کر لیں ، (٣) اس غلط رویے کے خلاف اعتراض کرتے ہوئے حسین بن علی کہ جو سادات حسنی سے تعلق رکھتے تھے( شہید فخ ) نے قیام کیااور اس جنگ میں حسین کے علاوہ بہت سے علوی قتل ہوئے۔ (٤) ............

(١) ابن واضح ، تاریخ یعقوبی، منشورات شریف الرضی ، قم ، ١٤١٤ ھ ، ج ٢ ،ص ٣٩٤ (٢) ابو الفرج ،اصفہانی ، مقاتل الطالبین ،منشورات الشریف الرضی ، قم ، ١٤١٦ ھ ،ص ٣٤٢ ۔ ٣٦١ (٣) ابن واضح، تاریخ یعقوبی ،ص٤٠٤ (٤)ابو الفرج ،اصفہانی ،مقاتل الطالبین ، منشورات شریف الرضی ، قم ، ١٤١٦ ھ ،ص٣٦٦

یہ جنگ امام کاظم علیہ السلام پرشدید فشارکا باعث بنی ،ہادی عباسی نے حضرت کوڈرایا اور اس طرح سے کہا :خُدا کی قسم حسین (شہید فخ ) نے موسیٰ بن جعفر کے دستور کی بنا پر میر ے مقابل قیام کیا ہے اوروہ اس نے ان کے تابع اور پیروہیں کیوں کہ اس خاندان کا امام او ر پیشوا موسیٰ بن جعفر کے سوا کوئی اورنہیں ہے، خُدا مجھے موت دیدے اگر میں ان کو زندہ چھوڑدوں،(١) لیکن وہ اپنی موت کا وقت قریب آنے سے اپنے ارادہ کو نافذ نہ کر سکا ۔

دوسر ی صدی ہجری میں منصور کے بعد ہارون رشید علویوں اور شیعہ قائدین کے لئے سخت تر ین خلیفہ تھا ،ہارون علویوں کے ساتھ بے رحمانہ رفتار رکھتا تھا اس نے یحییٰ بن عبداللہ محمد نفس زکیہ کے بھائی کو امان دینے کے بعد بے رحمانہ طریقہ سے زندان میں ڈالا اور قتل کر وا د یا ۔(٢)

اسی طرح ایک داستان عیون اخبار الرضا میں ذکر ہوئی ہے جو ہارون رشید کی بے رحمی کی حکایت کرتی ہے، حمید بن قحطبہ طائی طوسی نقل کرتا ہے : ہارون نے ایک شب مجھ کو بلوایا اور حکم دیا کہ اس تلوار کو پکڑو اور اس خادم کے دستور پر عمل کرو خادم مجھے ایک گھر کے پاس لایا جس کا دروازہ بند تھا ، اس نے دروازہ کو کھولا اس گھر میں تین کمرے اور ایک کنواں تھا اس نے پہلے کمرہ کو کھولا او ر اس میں سے بیس سیّدوں کو باہرنکا لا جن کے بال بلند اور گھنگھریلے تھے ،ان کے درمیان بوڑھے اور جوان دکھائی دے رہے ............

(١) علّامہ مجلسی ، محمد باقر ، بحار الانوار،ج٤٨، ص١٥١ (٢) ابو الفرج اصفہانی ، مقا تل الطالبین ،منشورات الشریف الرضی ، قم ، ١٤١٦ ھ ، ص ٣٨١ ۔ ٤٠٤

تھے ان سب کو زنجیر وں میں جکڑا گیا تھا ہارون کے نوکر نے مجھ سے کہا: امیر المومنین کا دستور ہے کہ ان سب کو قتل کردو یہ سب اولاد علی ا و راولاد فاطمہ ۖ سے ہیں ، میں ایک کے بعد دوسرے کو قتل کرتا گیا اور نو کر ان کے بدن کو سروں کے بل کنویں میں ڈالتا رہا ،اس کے بعد اس نے دوسر ے کمرہ کو کھولا اس کمرہ میں بھی بیس افراد اولاد علی او راولاد فاطمہ میں سے تھے میں نے ان کو بھی پہلے افراد کی طرح ٹھکانے لگادیا،اس کے بعد تیسرے کمرہ کو کھولا اس میں دوسرے بیس افراد اہل سادات تھے میں نے ان کو بھی پہلے والے چالیس افراد کے ساتھ ملحق کردیا ، صرف ایک بوڑھا شخص باقی رہ گیا تھا وہ میری طرف متوجہ ہوا اور اس نے مجھ سے کہا: اے منحوس آدمی! خُدا تجھے نابود کرے روز قیامت ہمارے جد رسول ۖ خُدا کے سامنے کیا عذر پیش کرے گا اس وقت میرے ہاتھ کانپنے لگے تو نوکر نے غضبناک آنکھوں سے مجھے دیکھا اور دھمکی دی تو میں نے بوڑھے آدمی کوبھی قتل کردیا اور نوکر نے اس کا بدن بھی کنویں میں ڈال دیا ۔(١)

آخر کا ر ہارون رشید نے امام کاظم علیہ السلام کو باوجود اس کے کہ وہ ان کے مقام و مرتبہ کاقائل تھا گرفتار کیا اور زندان مین ڈال دیا اور آ خر میں ز ہر دے کر آپ کو شہید کردیا۔ (٢) امام کاظم علیہ السّلام کی شہادت کے بعد ہارون رشید نے اپنے سرداروں میں سے ............

(١) صدوق ، عیون اخبار الرضا ، دار العلم ، قم ، طبع ١٣٧٧ ھ ق ، ص ١٠٩ (٢)طبرسی ، ابو علی فضل بن حسین، اعلام الوریٰ ، موسسئہ آل البیت لا حیاء التراث ، قم ، ١٤١٧ ، ھ ج٢، ص ٣٤

ایک جلودی نامی شخص کو مدینہ بھیجا تاکہ آل ابی طالب کے گھروں پر حملہ کرے، اورعورتوں کے لباس لوٹ لے ہر عورت کے لئے صرف ایک لباس چھوڑدے امام رضادروازے پر کھڑے ہوگئے اور آپ نے عورتوں کو حکم دیا کہ تم اپنے اپنے لباس ان کے حوالے کر دو۔ (١)

مامون ،عباسی خلفا میں سب سے زیادہ سیاست مدارتھا کہ جس نے شیعہ اماموںاور رہبروں پر پابندی کے لئے ایک نئی روش اختیار تاکہ ائمہ اطہار کو زیر نظر رکھ سکے، مامون کے مہم ترین انگیزوں میں سے ایک انگیزہ امام رضا کی ولی عہدی اسی مقصد کے لئے تھی جیسا کہ مامون نے اِس سیاست کو دوسری بار امام جواد کے لئے بھی انجام دیا اور اپنی بیٹی کی شادی آپ کے ساتھ کردی تاکہ مدینہ میں آپ کی فعالیت وسر گرمی پر نظر رکھ سکے مامون کے بعد والے خُلفانے بھی اس روش کو اختیار کیا اور ہمیشہ ائمہ معصومین علیہم السلام حکومت کے جبر سے مرکز خلافت میں زندگی بسر کرتے رہے یہاں تک کہ دسویں اور گیارہویںامام سامرہ میں زندگی گذارنے کی وجہ سے جو ایک فوجی شہر تھا عسکریین کے نام سے مشہور ہو گئے۔ ............

(١) امین، سید محسن ،ص٢٩


عباسیوں کے زمانے میں شیعوں کی کثرت کے ا سباب[لکھو]

شیعیت عباسیوں کے دور میں روز بروز بڑھتی گئی اس مسئلہ کے کچھ عوامل واسباب ہیں کہ ان میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کرتے ہیں:

ہاشمی اور علوی بنی امیہ کے زمانے میں[لکھو]

بنی امیہ کے دور میں ہاشمی چاہے علوی ہوں یا عباسی متحد تھے اور ہشام کے زمانے سے عباسیوں کی تبلیغ شروع ہوگئی تھی وہ زید اور ان کے فرزند یحییٰ کے قیام کے ساتھ ہم آہنگی رکھتے تھے انہوں نے تشیع کی بنیاد پر اپنے کام کا آغاز کر دیا تھا جیساکہ ابو الفرج اصفہانی کا بیان ہے :

جس وقت اموی خلیفہ ولید بن یزید قتل ہوااور مروانیوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا تو بنی ہاشم کے مبلغین مختلف علاقے میں ہجرت کر گئے اور سب سے پہلے جس چیز کا اظہار کیا وہ حضرت علی کی افضلیت اور ان کے فرزندوں کی مظلومیت تھی ۔

منصور عباسی جو حدیث غدیر کے راویوں میں سے ایک تھا(١)جس وقت عباسی سپاہیوںنے علویوں کے مقابلہ میں ان کی سیاست کو دیکھا تواس کو قبول نہیں کیا اوران کا عباسیوں کے ساتھ اختلاف پیدا ہوگیا، ابو سلمہ خلال جو عراق میں عباسیوںکی جانب لوگوں کو دعوت دینے والا تھا۔(٢)

علویوں کی طرف میلان کی وجہ سے عباسیوں کے ہاتھوں قتل ہوگیا(٣)اگر چہ یہ شخص عقیدہ کے اعتبار سے شیعہ نہیں تھا مگر خاندان پیغمبر ۖ سے جواس کو لگائو تھا اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، خاص کرقبیلۂ حمدان سے اور کوفہ کا رہنے والا تھا۔(4) ............

(١) ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین، منشوارات شریف رضی، قم ١٤١٦ھ ص ٢٠٧ (٢) خطیب بغدادی،تاریخ بغداد،دارالکتب العلمیہ بیروت طبع اول ١٤١٧ھ ج١٢،ص ٣٤٠ (٣) ابراہیم کی موت کے بعد ابو سلمہ( خلال کہ جو عراقیوںکو عباسیوں کی جانب سے دعوت دینے والا تھااور بعد میں سفاح کا وزیر بھی بنا) عباسیوں سے منصرف ہو گیا اور سادات علوی میں سے جعفر بن محمد الصادق ، عبد اللہ بن حسن بن حسن بن علی اور عمرالاشرف بن زیدالعابدین کے پاس خط لکھا اور اپنے نامہ بر سے کہا: سب سے پہلے جعفر بن محمد کے پاس جانا اگر وہ قبول کرلیں تو بقیہ دونوں خطوط کے لے جانے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر وہ قبول نہ کریں تو عبد اللہ محض کے پاس جانا اور اگر وہ بھی قبول نہ کریں تب عمرالاشرف کے پاس جانا ، نامہ بر سب سے پہلے مام صادق کی خدمت میں حاضر ہوا ، نامہ دیا امام نے فرمایا : ابو سلمہ دوسروں کا محب اور چاہنے والاہے مجھے اس سے کیا کام ، نامہ بر نے کہا: خط تو پڑھ لیجیے امام نے خادم سے چراغ منگوایا اور خط کو جلا دیا ، نامہ بر نے کہا: جواب نہیں دیجیے گا؟ امام نے فرمایا : جواب یہی ہے جو تم نے دیکھا ہے ، ابو سلمہ کا نمایندہ عبد اللہ بن حسن کے پاس گیا اور خط دیا عبد اللہ نے جیسے ہی خط پڑھا خط کو بوسہ دیا فوراً امام صادق کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یہ ہمارے چاہنے والے شیعہ ابو سلمہ کا خط ہے ، خراسان میںمجھے خلافت کی دعوت دی ہے امام نے فرمایا :خراسان کے لوگ کب سے تمہارے چاہنے والے ہو گئے ہیں کیا ابو مسلم کو تم نے ان کی جانب روانہ کیا ہے ؟کیا تم ان میں سے کسی کو پہچانتے ہو؟ تم نہ انہیں جانتے ہو اور نہ وہ تمہیں جانتے ہیں تو پھر وہ کیسے تمہارے چاہنے والے ہیں ؟ !عبد اللہ نے کہا :آپ کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ آپ ان ساری باتوں سے واقف ہیں ، امام نے فرمایا :خدا جانتا ہے میں ہر مسلمان کی بھلائی چاہتا ہوں تمہاری بھلائی کیوں نہ چاہوں ، اے عبد اللہ! ان باطل آرزوئوں کو چھوڑ دو اور اس بات کو جان لو! کہ یہ حکومت بنی عباس کی ہے ایسا ہی خط میرے پاس بھی آچکا ہے، عبد اللہ وہاں سے ناراض ہو کر واپس آگئے عمر بن زیدالعابدین نے بھی ابو سلمہ کے خط کو رد کر دیا اور کہا: میں خط بھیجنے والے کو نہیں جانتا کہ جواب دوں

ابن طقطقا ، الفخری ، صادر بیروت ١٣٦٨ھ ص ١٥٤، اور مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذہب ، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ج ٤ ، ص ٢٨٠ (4) امین سید محسن ، اعیان الشیعہ،دار التعارف للمطبو عات ، بیروت ، ج١ ،ص ١٩٠

قحطانی قبائل کے درمیان قبیلۂ حمدان تشیع میں سب سے آگے تھا چنانچہ سید محسن امین نے اس کو وزراء شیعہ میں شمار کیا ہے،(١)حتیٰ شروع میںخود عباسیوں نے بھی ذریت پیغمبرۖ کی محبت سے انکار نہیں کیا ہے جیسا کہ لکھا ہے :جس وقت بنی امیہ کے آخری خلیفہ مروان بن محمد کا سر ابوالعباس سفاح کے سامنے لایا گیا تو وہ طولانی سجدہ بجالایا اور اس نے سر کو اٹھا کر کہا: حمد اس خدا کی جس نے مجھے تیرے اوپر کامیابی عطا کی، اب مجھے اس بات کاغم نہیں ہے کہ میں مر جائوں کیونکہ میں نے حسین اوران کے بھائی اور دوستوں کے مقابلہ میں بنی امیہ کے دو سوافراد کو قتل کردیا، اپنے چچا کے بیٹے زید بن علی کے بدلے میں ہشام کی ہڈیوں کو جلا دیااور اپنے بھائی ابراہیم کے بدلے میں مروان کو قتل کردیا۔(٢) جب عباسیوں کی حکومت مضبوط و مستحکم ہوگئی توان کے نیز خاندان پیغمبرۖ اور شیعوں کے درمیان فاصلہ ہوگیا،منصور عباسی کے زمانے سے عباسیوں نے پیغمبرۖ کی ذریت کے ساتھ بنی امیہ کی روش اختیا ر کی، بلکہ خاندان پیغمبرۖ سے دشمنی میں بنی امیہ سے بھی آگے بڑھ گئے۔ ............

(١)امین سید محسن ، اعیان الشیعہ،دار التعارف للمطبو عات ، بیروت ، ج١ ،ص ١٩٠ (٢)مسعودی علی بن حسین ،مروج الذھب، ص ٣٨٣۔٢٨٤


بنی امیہ کا خاتمہ اور عباسیوں کا آغاز[لکھو]

اموی دور حکومت کے ختم ہونے اور عباسیوں کی حکومت آنے کے بعداور ان کے درمیان جنگ و جدال کی وجہ سے امام باقر و امام صادق کو فرصت مل گئی انہوں نے تشیع کے مبانی کوپہچنوانے میںغیر معمولی فعالیت وسر گرمی انجام دیں ،خاص طور پر امام صادق نے مختلف شعبوں اور مختلف علوم میں بہت سے شاگردوں کی تر بیت کی ممتاز دانشور جیسے ہشام بن حکم، محمد بن مسلم ،ابان بن تغلب،ہشام بن سالم مومن طاق ، مفضل بن عمر، جابر بن حیان وغیرہ نے حضرت کے محضر میں تر بیت پائی تھی ،شیخ مفیدکے قول کے مطابق ان کے موثقین (معتمدین )کی تعداد چار ہزار تھی،(١)مختلف اسلامی سر زمین کے لوگ امام کے پاس آتے تھے اور امام سے فیض حاصل کرتے تھے اور اپنے شبہات کو برطرف کرتے تھے ،حضرت کے شاگرد مختلف مناطق اور شہروںمیں پھیلے ہوئے تھے، فطری بات ہے کہ یہ لوگ مختلف مناطق میں تشیع کے پھیلانے کا سبب بنے ۔

علویوں کی ہجرت[لکھو]

عباسیوں کے دور میںتشیع کے پھیلنے کے سلسلہ میں ،سادات اور علویوں کا مختلف مقامات پر ہجرت کرجانا بھی ایک اہم سبب بنا ،ان میں اکثر تشیع نظریات کے حامل تھے اگر چہ ان میں سے کچھ زیدی مسلک کی طرف چلے گئے تھے یہاں تک کہ بعض منابع کے نقل کے مطابق سادات کے درمیان ناصبی بھی موجود تھے۔(٢) یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ سادات میں اکثر شیعہ تھے اورشیعہ مخالف ............

(١)شیخ مفید ،الارشاد ،ترجمہ محمد ساعدی خراسانی، کتاب فروشی اسلامیہ ،١٣٦٧ھ ش ،ص ٥٢٥ (٢)ابن عنبہ، عمدة الطالب، مطبعةالحیدریہ نجف١٩٦١ص٧١،٢٢٠۔٢٥٣

حکومت کے ذریعہ ان پرجو مصیبتیںپڑیںان کی وجہ بھی واضح ہے،اکثراسلامی سرزمینوںمیںسادات تھے، ماوراء النہر اور ہندوستان سے لے کر افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے اگر چہ یہ ہجرت حجاج کے زمانے سے شروع ہوگئی تھی عباسیوں کے زما نے میں علویوں کی طرف سے جو قیام ہواان میںسے زیادہ تر میںشکست ہوئی اور بہت نقصان ہوا ، شمال ایران، گیلان ،مازندران نیز خراسان کے پہاڑی اور دور افتادہ علاقہ علویوں کے لئے امن کی جگہ شمار ہوتے تھے ،سب سے پہلی بار ہارون رشید کے زمانے میں یحییٰ بن عبد اللہ حسنی مازندران کی طرف گئے کہ جو اس زمانے میں طبرستان کے نام سے مشہور تھا ،جب انہوںنے قدرت حاصل کرلی اور ان کے کام میں کافی ترقی پیدا ہوگئی توہارون نے اپنے وزیر فضل بن یحییٰ کے ذریعہ امان نامہ لکھ کر صلح کے لئے وادار کیا۔(١)

اس کے بعدوہاں کافی تعداد میں علوی آباد ہوگئے اور روز بروز شیعیت کو فروغ ملتا گیا اور وہاںکے لوگوں نے پہلی بار علویوں کے ہاتھوں اسلام قبول کیا اورتیسری صدی ہجری کے دوسرے حصہ میں علویوں کی حکومت طبرستان میں حسن بن زید علوی کے ذریعہ تشکیل پائی اس زمانے میں سادات کے لئے یہ جگہ مناسب سمجھی جاتی تھی، جیسا کہ ابن اسفند یار کا بیان ہے کہ اس موقع پر درخت کے پتوں کے مانند علوی سادات اور بنی ہاشم حجازنیز اطراف عراق وشام سے ان کی خدمت میں جمع ہوگئے سبھی کو عزت و شرف سے ............

(١)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین،منشورات شریف الرضی ،قم ، پہلی اور دوسری طبع،١٤١٦، ١٣٧٤، ص٣٨٩،٣٩٥

بہت بہت نوازااور ایساہوگیا تھاکہ جب وہ کہیں جاناچاہتا تھا تین سو شمشیر بکف علوی اس کے ارد گرد صف بستہ ہوتے تھے۔(١) جس وقت امام رضا مامون کے ذریعہ ولایت عہدی کے منصب پر پہنچے، حضرت کے بھائی اور ان کے قریبی افرادایران کی طرف روانہ ہوئے جیسا کہ مرعشی نے لکھا ہے: سادات نے ولایت کی آواز اور اس عہد نامہ پر کہ جو مامون کی طرف سے آنحضرت کی امامت کا پروانہ تھا اس طرف رخ کیاآنحضرت کے اکیس دوسرے بھائی تھے یہ تمام بھائی اور چچا زاد بھائی حسنی اور حسینی سادات میں سے تھے جہوںنے ری اور عراق میں حکومت کی ، جب سادات نے یہ سنا کہ مامون نے حضرت امام رضا سے غداری کی ہے تو انہو ںنے کوہستان دیلمستان اور طبرستان میں جاکر پناہ لی اور بعض لوگ وہیں شہید ہوگئے ، ان کی قبریں اور مزار مشہور ہیں،جیسیاہل اصفہان مازندران کہ جنہوںنے شروع میں اسلام قبول کیا تھا وہ سب کے سب شیعہ تھے اور اولاد رسول ۖ سے حُسن عقیدت رکھتے تھے اور سادات کے لئے وہاں قیام کرنا آسان تھا۔(٢) شہید فخ کے قیا م کی شکست کے بعد ہادی عباسی کے دور خلافت میں حسین بن علی حسنی، ادریس بن عبد اللہ محمد نفس زکیہ کا بھائی افریقہ گئے تو وہاں پرلوگ ان کے اطراف ہیں جمع ہوگئے اورانہوں نے حکومت ادریسیان کی مغرب میں بنیاد ڈالی، چند روز نہیں گذرے تھے کہ خلافت کے کارندوں کے ذریعہ انہیں زہر دے دیا ہوگیا، لیکن ............

(١)تاریخ طبرستان و رویان ، ص ٢٩٠ (٢)مرعشی ،تاریخ طبرستان و رویان و مازندران ،نشتر گسترہ ،تھران ١٣٦٣،٢٧٧ و٢٧٨

ان کے بیٹوں نے وہاں پرتقریباً ایک صدی حکومت کی،(١)اس طرح سادات نے اس طرف کا رخ کیا اسی وجہ سے متوکل عباسی نے ایک نامہ مصر کے حاکم کو لکھا کہ سادات علوی میں مردوں کوتیس دینار اور عورتوں کو پندرہ دینارکے بدلے نکال باہر کرے لہذایہ لوگ عراق منتقل ہوگئے اور وہاں سے مدینہ بھیج دئے گئے۔(٢) منتصر نے بھی مصر کے حاکم کو لکھا کہ کوئی بھی علوی صاحب ملکیت نہ ہونے پائے اور گھوڑے پر سوار نہ ہونیز پائے تخت سے کسی دوسرے علاقہ میں کوچ نہ کرنے پائے اور ایک غلام سے زیادہ رکھنے کا انہیں حق حاصل نہ ہو۔ (٣) علویوں نے تیزی سے لوگوں کے درمیان خاص مقام پیدا کر لیا اس حد تک کہ حکومت سے مقابلہ کر سکیں جیسا کہ مسعودی نقل کرتا ہے: ٢٧٠ھ کے آس پاس طالبیوں میں سے ایک شخص بنام احمد بن عبد اللہ نے مصر کے منطقہ صعید میں قیام کیا لیکن آخر میں احمد بن طولان کے ہاتھوں شکست کھائی اور قتل ہوگیا۔(٤) ............

(١) ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین،منشورات شریف الرضی ،قم پہلی اور دوسری طبع ١٤١٦، ١٣٧٤، ص٤٠٦،٤٠٩ (٢)ادام تمدن اسلامی در قرن چہارم ہجری،ترجمہ علی رضا ذکاوتی،قرا گزلو،موسسہ انتشارات امیر کبیر،تہران ١٣٦٤ھ،صفحہ٨٣،الولاة والقضاة کندی کے نقل کے مطابق،ص ١٩٨ (٣)الولاة والقضاةکندی،ص ٢٠٣،٢٠٤ (٤)مسعود ی ،علی بن حسین مروج الذہب موسسة الاعلمی للمطبوعات ،بیرو ت ،طبع اول ١٤١١ہجری ج٤، ص ٣٢٦

یہی وجہ ہے کہ عباسی دور خلافت میںان کے اہم ترین رقیب اور دشمن علوی شمار ہوتے تھے ٢٨٤ھ میں معتضد خلیفئہ عباسی نے ارادہ کیا کہ یہ دستورصادر کرے کہ منبر پر معاویہ کو نفرین(لعنت )کی جائے اور اس بارے میں اس نے حکم لکھا لیکن اس کے وزیر نے ہنگامہ ہونے سے ڈرایا،معتضد نے کہا: میں ان کے درمیان شمشیر سے کام لوں گاوزیر نے جواب دیا: اس وقت ان طالبیان کے ساتھ کیا کرے گا جو ہر طرف سے نکل رہے ہیں اور خاندان پیغمبرۖ سے دوستی کی بنا پرلوگ ان کے حامی ہیں ،یہ تیرا فرمان ان کے لئے لائق ستائش اور قابل قبول ہوگا اور جیسے ہی لوگ سنیں گے ان کے طرفداراور حامی ہو جائیںگے۔(١) علوی جس منطقہ میں بھی رہتے تھے مورد احترام تھے اسی وجہ سے لوگ ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کی قبروں پر مزار اور روضے تعمیر کرتے تھے اور ان کی زندگی میں ان کے اطراف جمع ہوتے تھے جس وقت محمد بن قاسم علوی معتصم کے دور میں خراسان تشریف لے گئے مختصر سی مدت میں چالیس ہزار افراد اس کے اطراف جمع ہوگئے اور ان کوایک مضبوط قلعہ میں جگہ دی۔(٢) چونکہ ایک طرف علوی پاک دامن اور پرہیز گار افراد تھے جب کہ اموی اور عباسی حاکموں کا فسق و فجور لوگوں پر روشن تھا دوسری طرف ان کی مظلومیت نے لوگوں کے ............

(١)طبری ،ابی جعفر، محمد بن جریر،تاریخ طبری دارلکتب علمیہ بیروت طبع دوم،١٤٠٨ہجری ج، ص٦٢٠۔٦٢٥ (٢)مسعودی،علی بن حسین ،مروج الذھب، ص٦٠

دلوں میں جگہ بنالی تھی جیساکہ مسعودی نے نقل کیا ہے :جس سال یحییٰ بن زید شہید ہوئے اس سال خراسان میں جو بھی بچہ پیدا ہوا اس کا نام یحییٰ یا زید رکھاگیا۔(١)

سادات کی ہجرت کے اسباب[لکھو]

سادات کے مختلف اسلامی علاقے میں ہجرت کرنے اور پھیلنے کے تین اسباب بیان کئے جاسکتے ہیں : جنگوںمیں علویوں کی شکست ،حکومتی دبائو،ہجرت کے لئے مناسب موقع کا فراہم ہونا۔

علویوں کے قیام کی شکست[لکھو]

جنگوں میں شکست کھانے کی وجہ سے ان کے لئے عراق اور حجاز میں زندگی بسر کرنا مشکل ہوگیا تھا جو اس وقت مرکز خلافت بغداد کے کنٹرول میں تھا لہٰذا وہ مجبور ہوئے کہ دور دراز کے علافوں میں ہجرت کرجائیں اور اپنی جان بچائیں جیسا کہ محمد نفس زکیہ کے بھائیوں کے منتشر کے بارے میںمسعودی کا کہنا ہے: محمد نفس زکیہ کے بھائی اور بیٹے مختلف شہروں میں منتشرگئے اور لوگوں کو ان کی رہبری کی طرف دعوت دی ان کا بیٹا علی بن محمد مصر گیا اور وہاں قتل کردیاگیا ان کا دوسرا بیٹا عبداللہ خراسان گیا اور وہاں سے سندھ کی طرف کوچ کیا اور سندھ میں اسے قتل کردیاگیا،ان کا تیسرا بیٹا حسن یمن پہونچا ............

(١)مسعودی،علی بن حسین ،مروج الذھب، ج٣،ص٢٣٦

زندان میں ڈال دیا گیا اوروہیں دنیا سے چل بسا ، ان کے ایک بھائی موسیٰ جزیرہ گئے او ر ایک بھائی یحییٰ ری اور وہاں سے طبرستان تشریف لے گئے نیز ایک دوسرے بھائی ادریس مغرب کی طرف روانہ ہوئے تولوگ ان کے اطراف جمع ہونا شروع ہو گئے۔(١)

حکومتی دبائو[لکھو]

حجاز و عراق کے علاقہ جو مر کز حکومت سے نزدیک تھے جس کی وجہ سے یہاں کے علوی افراد ہمیشہ حکومت کے فشار میں تھے مسعودی کے بقول محمد بن قاسم کا کوفہ سے خراسان کی جانب کوچ کرنامعتصم عباسی کے دبائو کی وجہ سے تھا ۔ (٢)

مناسب موقع کا فراہم ہونا[لکھو]

علویوں کی ہجرت کے اسباب میں سے ایک سبب قم اور طبرستان کے علاقے میں ان کے لئے اجتماعی لحاظ سے بہترین موقعیت کا پایا جانا ہے۔ ............

(١)مسعودی،علی بن حسین ، مروج الذھب ،ج٣،ص٣٢٦ (٢)مسعودی،علی بن حسین ، مروج الذھب ،ج٤،ص٦٠


شیعوں اور علویوں کا قیام[لکھو]

بنی امیہ کے زمانے میں شیعوں اور علویوں کا قیام[لکھو]

شیعوں کاقیام او ر ان کا مسلحانہ بر تائوکربلا اور قیام عاشورہ سے شروع ہوتا ہے لیکن ہم فی الحال کربلا کی بحث کو دوسری جگہ کے لئے چھوڑتے ہیں ٦٠ھ امام حسین کی شہادت کے بعد دو شیعہ قیام، قیام توابین اور قیام مختار،وجود میںآیا، ان دونوں قیاموں کے رہنما علوی نہیں تھے بلکہ پاک دامن شیعہ تھے ( ہم اس بارے میں اس سے پہلے تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں)ان دونوں قیام کی ماہیت جیسا کہ ان کے نعروں سے خود معلوم ہے مکمل طور پرشیعی تھا ،توابین کے رہبروں کے بارے میں اس بات میںکوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ وہ اصحاب پیغمبرۖ اور شیعیان علی میں سے تھے۔ (١)

جناب مختار کے بارے میں بھی علمائے رجال اور بزرگوں کے نظریہ کوتفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے سب ان کی حسن نیت کے قائل ہیںاور ان کے خلاف جو روایات ذکر ہوئی ہیں انہیں جعلی تصورکیا گیاہے۔ ............

(١)دکتر سید حسین جعفری ،تشیع در مسیر تاریخ،ترجمہ،دکتر سید محمد تقی آیت اللہی:ص٢٦٨۔٢٧٣

تشیع کے فروغ کے حوالے سے انقلابات کے موثر ہونے کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ قیام توابین کا زمانہ بہت کم تھاجس کی وجہ سے تشیع کو ترویج کی فرصت نہیں ملی اگر چہ کیفیت کے لحاظ سے تشیع کے مقاصدبہت زیادہ اہمیت کے حامل تھے اس قیام کی وجہ سے محبت اہل بیت دلوں میں راسخ ہوگئی اور شیعہ اپنے عقیدہ میں شدید اورمستحکم تر ہوگئے لیکن اس بات کی بہ نسبت قیام مختار شیعیت کی توسیع میں زیادہ مؤثر ثابت ہوا اور مختار نے موالیان اور غیر عرب کو بھی شیعوں کی صف میں داخل کردیا حالانکہ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا۔(١) اس زمانے میں شرق اسلام میں تشیع کی نبیاد پڑی کہ جس کا عروج ہمیں عباسیوں اور سپاہ جامگان کی تحریکوں میں نظر آتا ہے ،بنی امیہ کے آخری دور میں علویوں کی جانب سے جو قیام عمل میں آیا اس کا عباسیوں کے قیام کے ساتھ ایک طرح کارابطہ تھا اس لئے کہ علوی خواہ بنی ہاشم ہو ں یا عباسی ،بنی امیہ کے دور میں متحد تھے اور ان کے درمیان اختلاف نہیں تھا، یہاں تک کہ سفاح اور منصور ان دونوں خلیفہ نے محمد نفس زکیہ سے پہلے امام حسن کی اولاد کے ہاتھوں پر بیعت کی تھی لیکن عباسیوں کی کامیابی کے بعد یہی محمد اپنے خاندان کے چند افراد کے ساتھ منصور عباسی کے ہاتھوں قتل کردیئے گئے، دوسری صدی ہجری میں علویوں کی جانب سے جو قیام وجود میںآئے وہ زیاد ہ تر زیدی نظریات و عقائد پر استوار تھے ،اگر چہ عباسیوں نے زید کے قیام سے زیادہ فائدہ اٹھایا ، جیسا کہ مؤرخ معاصر امیر علی اس بارے میں بیان کرتاہے۔ ............

(١)جعفریان،رسول ،تشیع در ایران از آغاز تا قرن ہفتم ہجری،شرکت چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی ، طبع پنجم،١٣٧٧ہجری ،ص٧٦

زید کی موت نے عباسی مبلغین کو تقویت بخشی اور وہ تبلیغیںجو اولاد عباس کی خلافت کے سلسلے میںجاری تھی اس کی تائید کی کیونکہ اس نے احتمالی خطروں کو بھی راستے سے دور کردیا اس ماجرا کو ابو مسلم کے حالات کے ذیل میں بیان کیاگیا ہے جو بنی امیہ کی حکومت کو اکھاڑ نے کے لئے بنائی گئی تھی ۔(١)

قیام زید[لکھو]

امام سجاد کے فرزند ارجمند اور امام باقر کے بھائی زید نے اموی خلیفہ ہشام او ر اس کے ظلم کے مقابلے میں قیام کیا، زید عراق کے حاکم یوسف بن عمرو کی شکایت کرنے ہشام کے پاس دمشق گئے تھے، ہشام کے یہاںان کی توہین کی گئی اور شام سے کوفہ واپس آنے کے بعدبہت سے شیعہ ان کے ارد گرد اکٹھا ہوگئے اور بنی امیہ کے مقابلہ میں قیام کرنے کی انہیںتر غیب کی لیکن جنگ میں تیر کھانے کی وجہ سے ان کا قیام شکست کھاگیا اور خود شہیدہوگئے۔(٢) زید کی شخصیت اور قیام کے بارے میں متعدد روایتیں وارد ہوئی ہیں ان میں سے بعض روایتیں ان کی سر زنش پر دلالت کرتی ہیں، لیکن شیعہ علماء اور صاحبان فکر ونظر کا عقیدہ ............

(١)تاریخ عرب اسلام ، امیر علی ،ترجمہ : فخر داعی گیلانی، انتشارات گنجینہ ، تہران ، طبع سوم ، ١٣٦٦ھ ص ١٦٢۔١٦٣ (٢)مسعودی ،علی بن حسین،مروج الذہب،منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات،بیروت،١٤١١ھ ج٣، ص٢٢٨۔٢٣٠

یہ ہے کہ زیدایک مردوارستہ اور قابل ستائش فردتھے اور ان کے منحرف ہونے کا ثبوت ہماری دسترس میں نہیں ہے شیخ مفید کا ان کے بارے میںکہنا ہے کہ بعض مذہب شیعہ ان کو امام جانتے ہیںاور اس کی علت یہ ہے کہ زید نے خروج کیااور لوگوں کو رضائے آل محمد ۖ کی طرف دعوت دی، لوگوں نے اس سے یہ مطلب نکالا کہ یہ اپنے بار ے میں کہہ ر ہے ہیںحالانکہ ان کا مقصد یہ نہیں تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے بھائی محمد باقر امام برحق ہیں اور خودانہوں نے اپنے بیٹے امام صاد ق کی امامت کی تاکید کی ہے۔(١) علامہ مجلسی بھی زید سے مربوط روایتیں نقل کرتے ہیں کہ زید کے بارے میں گوناگوںا وراختلافی روایتیںموجودہیں لیکن وہ روایات جوان کی عظمت و جلالت کی حکایت کرتی ہیں اور یہ کہ ان کا کوئی غلط ارادہ نہیں تھا،وہ بہت زیادہ ہیںاکثر علمائے شیعہ نے زید کی بلندعظمت اور شخصیت کے بارے میںاپنے آرا و نظریات کا اظہار کیا ہے، اس بنا پر مناسب یہ ہے کہ ان کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے اور ان کی مذمت نہ کی جائے۔(٢) آیةاللہ خوئی زید کے بارے میں فرماتے ہیں :روایات زید کی مدح ان کی قدر و منزلت کے بارے میں نیز یہ کہ انہوں نے امر بالمعروف و نہی از منکر کے لئے قیام کیا ہے مستفیض ہیں اور ان کی مذمت میں تمام روایات ضعیف ہیں۔(٣) ............

(١)شیخ مفید محمد بن نعمان، ارشاد ،ترجمہ محمد باقرمساعدی خراسانی،کتاب فروشی اسلامیہ ص٥٢٠ (٢)علامہ مجلسی ، محمد باقر ،بحار الانوار،ج٤٦،ص٢٥٠ (٣) خوئی ،سید ابو القاسم ،معجم رجال حدیث،طبع بیروت ،ج ١٨ص؛١٠٢۔١٠٣

کافی شواہد و ادلہ گواہی دیتے ہیں کہ زید کا قیام امام صادق کی خفیہ اجازت و موافقت سے تھا، ان شواہد میں سے امام رضاکامامون کے جواب میں یہ فرمانا کہ میرے والدامام موسی بن جعفر علیہما السلام نے نقل کیا کہ انہوںنے جعفر بن محمد سے سناتھا کہ زید نے اپنے قیام سے متعلق مجھ سے مشورہ لیا تھاتو میں نے ان سے کہا : اے عمو جان ! اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو کناسہ میں پھانسی دی جائے تو آپ کا راستہ صحیح ہے۔(١)

جس وقت زید امام کے حضور سے باہر چلے گئے تو امام نے فرمایا: افسوس ہے اس پرجو زید کی آواز کو سنے اور اس کی مدد کو نہ جائے۔(٢) زید حقیقی شیعہ اور امام صادق کی امامت کے معتقد تھے جیسا کہ آپ نے فرمایا: ہر زمانہ میں ہم اہل بیت میں سے ایک شخص لوگوں پر خدا کی حجت ہے اور ہمارے زمانے میں یہ حجت میرے بھائی کے فرزند جعفر بن محمد ہیں جو شخص بھی ان کی پیروی کرے گا وہ گمراہ نہیں ہوگا اور جو بھی ان کی مخالفت کرے گا وہ ہدایت نہیں پائے گا۔(٣) زید خود کو امام نہیں سمجھتے تھے اور لوگوں سے بھی منع کرتے تھے اس بارے میںامام صادق فرماتے ہیں خدا میرے چچا زید پر رحمت نازل کرے وہ جب بھی ............

(١)کوفہ کے محلہ میں سے ایک محلہ ہے ،حموی ،یاقوت بن عبد اللہ ، معجم البلدان ،دار احیاء التراث العربی،بیروت ،طبع اول ،١٤١٧ہجری،ج٤،ص١٥٣ (٢)صدوق عیون اخبار رضا ،موسسہ الاعلمی للمطبوعات بیروت ١٤٠٤ہجری ،ج١ ص٢٢٥، باب:٢٥،حدیث:١ (٣)شیخ صدوق ،الامالی،المطبعہ،قم ،١٣٧٣ہجری قمری ،ص٣٢٥

کامیاب ہوتے اپنے وعدے کو وفا کرتے زید نے جن آل محمد ۖ کی طرف دعوت دی ہے وہ میں ہوں۔(١) امام صادق نے زید کی شہادت کے بعد ان کے خاندان کی سر پرستی فرمائی(٢) جس خاندان کے افراد زید کے ساتھ شہید ہوگئے تھے ان کی نصرت و مدد کی اورایک دفعہ تو ایک ہزار دینار ان کے درمیان تقسیم کیا۔(٣) اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ زید کا قیام توابین و مختار کے قیام کی طرح پوری طرح شیعی او ردرست موقعیت پر استوار تھا نیز ظلم کے مقابلے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے تھا ان کی روش فرقہ زیدیہ سے بالکل جداتھی۔

قیام یحییٰ بن زید[لکھو]

زید کی شہادت کے بعد ١٢١ھ میں ان کے فرزند یحییٰ نے اپنے والد کی تحریک کو آگے بڑھایا اور مدائن کے راستے سے خراسان آئے اور شہر بلخ میں ایک مدت تک ناآشنا طریقہ سے زندگی بسر کی، یہاں تک کہ نصر بن سیار نے ان کو گرفتار کرلیا اور ایک عرصہ تک زندان میں رہے یہاں تک کہ اموی خلیفہ ہشام کے مرنے کے بعد جیل سے فرار ............

(١)شیخ طوسی ،اختیار معرفة الرجال (رجال کشی)تحقیق سید مہدی رجائی ،موسسہ آل البیت الاحیاء التراث،قم ،ہجری،ج ص٢،پیشوائی،مہدی:سیرئہ پیشوایان ،موسسہ امام صادق،قم ،طبع ہشتم ١٣٧٨ھ ، شمسی،ص٤٠٧۔٤٠٩ (٢)اصفہانی ابو الفرج ،مقاتل الطالبین ،منشورات شریف الرضی ،قم،١٤١٦ہجری ص ٣٣١ (٣)شیخ مفید ،الامالی،المطبعہ،قم ،١٣٧٣ہجری قمری ،ص٣٤٥

ہوگئے، خراسان کے شیعہ کافی تعداد میں ان کے اطراف میں جمع ہوگئے وہ نیشاپور آئے اور وہاںکے حاکم عمر بن زرارہ قسری کے ساتھ جنگ کی اوراس کو شکست دی لیکن آخر کار ١٢٥ ھ میں جوزجان میں بنی امیہ کی افواج سے جنگ کرتے ہوئے آپ کی پیشانی پر تیر لگا اور میدان جنگ میں قتل ہوگئے اور ان کی فوج منتشر ہوگئی۔(١) قیام زید کے بر خلاف ان کے بیٹے یحییٰ کا قیام کاپوری طرح زیدیہ فرقہ کے مطابق اور اس سے ہماہنگ تھا یہ مطلب متوکل بن ہارون کے درمیان ہونے والی گفتگو سے ظاہر ہے کہ جو امام صادق کے اصحاب میں سے تھے وہ ایک طرح سے اپنے باپ کی امامت کے قائل تھے اور خود کو اپنے باپ کا جانشین سمجھتے تھے، امامت کے تمام شرائط کے ساتھ وہ تلوار سے جنگ کرنے کو بھی امامت کے شرائط میںسے جانتے تھے۔ (٢) یہاں سے فرقہ زیدیہ کی بنیاد پڑتی ہے ان کا راستہ اور شیعہ اثنا عشری سے بالکل جدا ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ فقہی مسائل میں بھی ائمہ معصومین کی طرف رجوع نہیں کرتے تھے ۔ ............

(١)ابن واضح، تاریخ یعقوبی،منشورات شریف رضی،قم ،١٤١٤ہجری ،ج٢،ص٣٢٦،٣٢٧،٣٣٢ (٢)متوکل بن ہارون کہتے ہیں: یح بن زید اپنے باپ کی شہادت کے بعد جب خراسان جا رہے تھے تو میں نے ان سے ملاقات کی ،میں نے سلام کیا انہوں نے پوچھا تم کہاں سے آرہے ہو؟ میں نے کہا: حج سے، پھرانہوں نے مدینہ میں اپنے عزیز و اقارب کے بارے میں پوچھا نیزجعفر بن محمد کے بارے میں بہت سے سوالات کئے، میں نے حضرت کے بارے میں زید کی شہادت کے بعد جوصدمہ و غم تھا اسے بتایا، یح نے کہا: میرے چچا محمد بن علی الباقر علیہ السلام نے بنی امیہ کے خلاف جنگ کرنے سے میرے والد کو منع کیا تھا اور انجام سے با خبر کیا تھا ، کیا تم نے میرے بھائی جعفر بن محمد سے بھی ملاقات کی، میں نے کہا: ہاں ، پوچھا میرے بارے میں بھی انہوں نے کچھ کہا ہے ؟میں نے کہا : انہوںنے جو کچھ کہا ہے اسے میں آپ کے سامنے بیان نہیں کر سکتا ، کہنے لگے ،مجھے موت سے نہ ڈرائو جو کچھ سنا ہے اسے بیان کرو، میں نے بتا یا کہ حضرت نے فرمایاتھا کہ آپ کو قتل کر کے سولی پر لٹکا دیاجائے گاجس طرح آپ کے والد کو شہید کر کے سولی پر لٹکا دیا گیا تھا، یحکا رنگ متغیر ہو گیا کہا : (یمحواللہ ما یشاء و یثبت و عندہ ام الکتاب)اے متوکل! خدا نے اپنے دین کی تائید ہمارے ذریعہ کرائی ہے ، علم و تلوار کا دھنی ہمیں بنایا ہے اور یہ دونوں چیزیں مجھ میں موجود ہیں لیکن ہمارے چچازادبھائیوں کو صرف علم دیا ہے ، میں نے کہا :میں آپ پر قربان جائوں لیکن لوگ تو آپ سے زیادہ جعفر بن محمد کی طرف راغب ہیں کہنے لگے: میرے چچا محمد بن علی اور جعفر بن محمد لوگوں کو زندگی کی دعوت دیتے ہیں اور ہم لوگوں کوموت کی طرف دعوت دیتے ہیں ، میںنے کہا :فرزند رسول! آپ زیادہ جانتے ہیں یا وہ لوگ ، تھوڑی دیر سر جھکا کر سوچتے رہے پھر کہا : ہم سب علم و دانش رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ ہم جو کچھ جانتے ہیں اسے وہ جانتے ہیں مگر وہ جو جانتے ہیں ہم اسے نہیںجانتے ، پھر سوال کیا گیا : میرے بھائی کی کوئی چیز تمہارے پاس محفوظ ہے ؟ میں نے کہا : ہاں میں نے حضرت کی کچھ حدیث اور صحیفہ سجادیہ کی کچھ دعائیںدکھائیں … ( صحیفہ کاملہ سجادیہ ، ترجمہ علی نقی فیض الاسلام ،انتشارات فیض الاسلام ، ص ٩۔ ١٢




عباسیوں کے زمانے میں شیعوں او رعلویوں کا قیام[لکھو]

چوتھی صدی ہجری کے اوائل تک عباسیوں کے دوران حکومت قیام کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  • ( ١)منظم اور پلاننگ کے ساتھ قیام جیسے زیدیوں کا قیام
  • (٢)پراگندہ اور نا منظم قیام

زیدیوں کا قیام[لکھو]

زیدیوں نے پہلی تین صدیوںمیں شیعوں کی بہت زیادہ آبادیوں کو تشکیل دیا اور خلافت وامامت کو فرزندان فاطمہ کا حق جانتے تھے اور عباسیوں کو غاصب جانتے تھے انہوںنے بعض مناطق جیسے طبرستان،مغرب ویمن میں حکومت تشکیل دینے کے لئے پہلے ہی سے پلان بنا رکھا تھا، فرقہ ٔزیدیہ محمد نفس زکیہ اور ابراہیم کو زیدیوں کا امام شمار کرتے ہیں کیونکہ یحییٰ بن زید نے ان کو اپنا جانشین قرار دیا تھا یہیںسے زیدیوں اور اولاد زید کا امام حسن کے پوتوں کے ساتھ یا دوسری اصطلاح میں بنی حسن کے ساتھ گہرارابطہ وجود میں آیا ، ابراہیم بن عبداللہ جو اپنے بھائی محمد نفس زکیہ کے جانشین تھے کہ جنہوں نے بصرہ میںعباسیوں کے مقابلے میں پرچم انقلاب بلند کیا اورزید کے دوسرے فرزندعیسیٰ کو اپنا جانشین قرار دیا ،عیسیٰ ابراہیم کے قتل کے بعدفرار ہو گئے اور مہدی عباسی کے دور خلافت میں بطور مخفی دنیا سے رخصت ہوگئے۔(١)

زیدیوں نے محمد نفس زکیہ اور ابراہیم کے قتل کے بعدکسی ایک کی رہبری پر اتفاق نہیں کیا اور اولاد فاطمہ میں سے ایسے امام کو تلاش کرتے رہے جو جنگ کے لئے شجاعت رکھتا ہو اور ان کی رہبری کو اپنے کاندھوں پر اٹھاسکے ،لیکن ٣٠١ھ تک کسی ایک امام پربھی اتفاق نہ کر سکے یہاں تک کہ حسن بن علی حسنی کہ جواطروش کے لقب سے جانے جاتے تھے اس سال خراسان میں قیام کیا اور گیلان ومازندران کی طرف کوچ کیاتاکہ زیدیوں کی تحریک کو آگے بڑھا سکیں۔(٢) ............

(١) ابو الفرج اصفہانی، ص٣٤٥ (٢)مسعودی ،علی بن حسین ،مروج الذھب،منشورات مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات بیروت ١٤١١ھ ،ج٤، ص٣٩٣۔٣٩٤، و شہرستانی ، کتاب ملل و نحل ، منشورات شریف الرضی ، قم ، ١٣٦٤ھ ش، ج ١ ص١٣٩

یہی وجہ ہے کہ عباسی حکام زیدیوں سے کافی خوف زدہ رہتے تھے اور کوششیں کرتے تھے کہ جس میں بھی رہبریت ہے اس کو قتل کردیا جائے خصوصاً اولاد زید کو ختم کرنے کی کوشش کرتے تھے اور ایسے افراد کو گرفتار کرنے کے لئے جاسوس معین کرتے اور انعامات کا اعلان کرتے تھے۔(١) جیسا کہ عیسیٰ بن زید مخفی طریقہ سے دنیا سے چلے گئے اورہارون نے ان کے بیٹے احمد بن عیسیٰ کو صرف بدگمانی کی بنیاد پرگرفتار کرلیا اور زندا ن میں ڈال دیا۔(٢) ا لبتہ اس دوران بنی حسن کے بعض بزرگان کہ جو بعض تحریکوں کے رہنما شمار ہوتے تھے زیدیوں کے راستے پر نہیں چلے اور زیدیوں کے اصول کے پابند نہیں تھے اسی وجہ سے جب جنگ میں کوئی مشکل پیش آتی اور شکست کا احتمال ہوتاتھاتو زیدی ان کو تنہا جنگ میں چھوڑ کر فرار ہوجاتے تھے اور ان کا قیام شکست کھا جا تا تھا (جیسے یحییٰ بن عبداللہ) ان کے درمیان یحییٰ کا بھائی ادریس تنہاوہ شخص ہے جوکسی حد تک ............

(١) جیسا کہ ہارون کو جب احمد بن عیسیٰ کے زندان سے فرارہونے کا علم ہو ا تو اس نے ابن کردیہ کو اس بات پر معین کیا کہ وہ کوفہ اور بصرہ کے اطراف میںجاکر تشیع کا اظھار کرے شیعوں اور زیدیوں کے درمیان رقم تقسیم کرے تاکہ وہ مخفی طور سے احمدبن عیسیٰ کا پتہ لگائے ابن کردیہ نے بہت زیادہ کوشش کی اور بہت ساری رقم خرچ کرنے کے بعداس کے خفیہ ٹھکانے کاپتہ لگایا پھر بھی وہ احمد کو گرفتار نہیںکر سکا ۔ ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ،منشورات الشریف الرضی ،قم ١٤١٦ھ ص٤٩٢،٤٩٦ (٢)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ،منشورات الشریف الرضی ،قم ١٤١٦ھ ص٤٩٢،٤٩٦

کامیاب ہوا،(١)اور وہ بھی اس وجہ سے کہ وہ افریقہ میں عباسیوں کی دسترس سے دور تھا ،وہاں اس نے عباسیوں کے خلاف جد وجہد کی اور حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوگیا۔(٢) منجملہ ان رہبروں میں کہ جنہوں نے زید یوں کے اصول اور مبنیٰ کو قبول نہیں کیا اور اہل بیت کے راستہ کو اختیا ر کیا، ان میںیحییٰ بن عبداللہ محمد نفس زکیہ کے بھائی تھے کہ جو محمد کی شکست کے بعد خراسان چلے گئے اور وہاں سے سرزمین دیلم جو آج گیلان و مازندران کے نام سے مشہور ہے منتقل ہوگئے،لیکن وہاں کا حاکم جو ابھی مسلمان نہیں ہواتھا ہارون رشیدکی دھمکی پر اس نے چاہاکہ ان کو گرفتا رکرکے ہارون کے کار ندوں کے حوالہ کردے اس وقت یحییٰ ہارون کے وزیر فضل بر مکی سے امان چاہنے پر مجبور ہوئے وزیر نے ان کو امان بھی دی لیکن امان کے بر خلاف انہیںبغداد میںجیل میں ڈیاگیا اور زندان ہی میں دنیا سے رخصت ہوگئے،(٣) ............

(١)ادریس بن عبداللہ کہ جو محمد نفس زکیہ کے بھائی تھے حسین بن علی حسنی (شہید فخ)کے قیام میں کہ جو ہادی عباسی کے زمانہ میںرونما ہوا تھا اور وہ حسین کی شکست کے بعد حاجیوں کے ساتھ انجان طریقہ سے مصرچلے گئے اور وہاںسے مراقش کی طرف کوچ کیامراقش کے لوگ ان کے اطراف جمع ہوگئے انہوںنے وہاںپر ایک حکومت بنائی لیکن ایک شخص نے ان کو خلیفۂ عباسی ہارون کے حکم سے زہر دے دیا اور لوگوں نے ان کے مرنے کے بعد ان کے کمسن بچے کانام ادریس رکھ دیا ادریس دوم نے جوان ہونے کے بعد وہاں پر حکومت بنائی اور حکومت اداریسیہ وہاں پر تقریباًایک صدی قائم رہی مسعودی مروج الذھب ج٣،ص ٣٢٦ (٢) ابوالفرج اصفہانی ،مقا تل الطالبین،ص٤٠٦،٤٠٨ (٣) ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین، ص٣٩٣

یہ امام صادق کے تربیت یافتہ شاگردوں میں سے تھے اور جب بھی امام صادق سے حدیث نقل کرتے تھے تو کہتے تھے میرے حبیب جعفر بن محمد نے اس طرح فرمایا ہے۔(١) کیونکہ ان کے اہل بیت کے راستے پر چلنے اور فقہ پر عمل کرنے کی وجہ سے زیدیوں نے ان کی مخالفت کی اور ان کے اطراف سے دور ہو گئے لہذاوہ مجبور ہوئے کہ خود کو ہارون کے وزیر فضل بن یحییٰ کے سامنے تسلیم ہو جائیں۔(٢ )

قیام محمد نفس زکیہ[لکھو]

دوسری صدی ہجری میں علویوں کے قیام عروج پر تھا ان قیاموںمیں سے ایک اہم قیام منصور عباسی کے زمانے میں تھا اس قیام کے رہبر محمد نفس زکیہ تھے کہ ان کی یہ تحریک عباسیوں کی کامیابی سے پہلے شروع ہوچکی تھی اور امام صادق کے سوا تمام بنی ہاشم نے ان کی بیعت کرلی تھی، یہاںتک کہ اہل سنت کے فقہاو علماء حضرات جیسے ابو حنیفہ، محمد بن عجلان مدینہ کے فقیہ ابو بکر بن ابی سبرہ فقیہ ،عبداللہ بن جعفر؛ہشام بن عروہ ،عبداللہ بن عمر ، واصل بن عطا،عمرو بن عبید…سبھی نے ان کی بیعت کرلی تھی اور نبی اکرم ۖسے منقول روایات جو امام مہدی کے قیام کے بارے میں تھیںاس کو ان پر تطبیق کرتے تھے۔(٣) لیکن عباسیوں کے زمانے میں اس کا قیام وقت سے پہلے ہونے کی وجہ سے ............

(١) ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین، ص٣٩٣ (٢) ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین، ص٣٩٢۔٣٩٣ (٣)مقاتل الطالبین ،ص٢٥٤،٢٥٥،٢٥١،٣٤٧

شکست کھا گیا ،بصرہ میں بھی ان کے بھائی ابراہیم کا قیام زیدیوں کی خیانت کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکا لیکن ان کے اور بھائی منتشر ہوگئے تھے، ہارون کے زمانے تک ان کی بغاوت جاری رہی ادریس بن عبداللہ نے مراقش کی طرف فرار کیا اور وہاں کے لوگوں نے اس کو قبول کیا لیکن ہارون کے کارندوں کے ذریعہ انہیں زہر دے دیاگیا، اس کے بعد اس کی پیر وی کرنے والوں نے ان کے چھوٹے بیٹے کو ان کی جگہ بٹھا دیا اور اس کا ادریس ثانی نام رکھا اور مدتوںتک شمالی افریقہ میں ادریسیوں کی حکومت بر قرار رہی ،محمد کا دوسرا بھائی یحییٰ طبرستان چلاگیا محمد کے ایک اور بھائی نے شمال اور جزیرہ کی طرف سفر کیا ،محمد نفس زکیہ کے اور دوسرے بیٹے بنام علی ،عبد اللہ حسن مصر، ہنداور یمن کی طرف چلے گئے اورمدتوں عباسی حکومت ان سے پریشان تھی۔(١)

قیام ابن طبا طبائی حسنی[لکھو]

ہارون کی موت کے بعد اس کے دو بیٹے امین و مامون کے درمیان حکومت کی خاطر لڑائی کے سبب شیعوں نے فرصت کو غنیمت جانا اور علویوں کے قیام بھی اس زمانے میںعروج پر تھے اس دور میں ابوسرایا جیسے لائق و سزوار فوجی کمانڈر کی وجہ سے علویوں کا محاذتمام عراق (سوائے بغداد کے ) حجاز ، یمن اور جنوب ایران تک پھیل گیا اور یہ علاقے عباسیوں کی حکومت سے خارج ہوگئے۔(٢) ............

(١)مسعودی ،علی بن حسین ،مروج الذہب ،ج٣ ،ص٣٢٦ (٢) ابن واضح ،تاریخ یعقوبی،منشورات شریف رضی ،قم ،١٤١٤ہجری، ج٢، ص٤٤٥

لشکر ابو سرایا جس فوج کے مقابلہ میں بھی جاتا اسے تحس نحس کردیتا اور جس شہر میں بھی جاتا اس پر قبضہ جما لیتاتھا،کہتے ہیں کہ ابو السرایا کی فوج سے خلیفہ کے دولاکھ سپاہی قتل ہوئے حالانکہ اس کے قیام کے روز سے اس کی گردن زنی تک دس ماہ سے زیادہ نہیں گزرے تھے یہاں تک کہ بصرہ جو عثمانیوں کا مرکز تھایہاں بھی علویوں کی حمایت کی گئی اس شہرمیں زید النار نے قیام کیا ،مکہ اور اطراف حجاز میں محمد بن جعفر (جس کا لقب دیباج تھا)نے قیام کیا کہ جس کو امیر المو منین کہا جاتا تھا،یمن میں ابراہیم بن موسیٰ بن جعفر نے قیام کیا، مدینہ میں محمد بن سلیمان بن دائود بن حسن نے قیام کیا، واسط کہ جہاں اکثر لوگ عثمانیوں کی طرف مائل تھے وہاں جعفر بن زید بن علی اور حسین بن ابراہیم بن حسن بن علی نے قیام کیا، اور مدائن میں محمد بن اسماعیل بن محمد نے قیام کیا ،خلاصہ یہ کہ کوئی ایسی سرزمین نہیں تھی جہاں علویوں نے خود سے یالوگوں کے ابھار نے کی وجہ سے عباسیوں کے خلاف قیام نہ کیاہو اورنوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اہل شام اور بین النہرین جو اموی اور آل مروان سے دوستی میں شہرت رکھتے تھے ابو السرا یا کے ساتھی محمد بن محمد علوی کے گرویدہ ہوگئے اور اس کو خط لکھا کہ ہم آپ کے ایلچی کے انتظار میں بیٹھے ہیں تا کہ آپ کے فرمان کو نافذ کریں۔(١)

قیام حسن بن زید حسنی ( طبرستان کے علوی )[لکھو]

٢٥٠ھمستعین عباسی کے دور خلافت میں حسن بن زید جو پہلے رے میں ساکن تھے انہوں ............

(١)ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین،منشورات شریف الرضی،قم ،ص٤٣٥۔٤٣٦

نے طبرستان میں خروج کیا اور لوگوں کو آل محمد ۖ کی رضا کی طرف دعوت دی طبرستا ن اور جرجان کے علاقے میں چھوٹی چھوٹی جھڑپیں کرکے اپنے قبضہ میں کرلیا(١)اور طبرستان میں علوی حکومت کی بنیاد قائم کردی جو ٣٤٥ھ تک جاری رہی۔(٢) حسن بن زید نے بیس سالہ حکومت میں چند مرتبہ ری ،زنجان ،قزوین پر غلبہ حاصل کیا اور اسی سال کہ جس میں قیام کیا تھا علویوں میں سے محمد بن جعفر کو ری کی طرف روانہ کیاجو طاہر یوں کے ہاتھوں گرفتا رہوگیا۔(٣) ٢٥١ھ میں حسین بن احمد علوی نے قزوین میں قیام کیا اور طاہریوںکے کارندوں کو وہاں سے نکال باہرکردیا۔(٤) جیسا کہ حسین بن زید کے بھائی نے لارجان ، قصران اور موجودہ شمال تہران پر غلبہ حاصل کیا اوروہاں کے لوگوں سے اپنے بھائی کے لئے بیعت لی ۔(٥) ............

(١)،طبری ،محمد بن جریر،تاریخ طبری،دارالکتب العلمیہ،بیروت،دو سری طبع،١٤٠٨ھ ج٥،ص ٣٤٦ (٢)سیوطی جلال الدین ،تاریخ الخلفا،منشورات الرضی،طبع اول،١٤١١ و ١٣٧٥ھ، ص ٥٢٥ (٣)،طبری ،محمد بن جریر،تاریخ طبری،دارالکتب العلمیہ،بیروت،دو سری طبع،١٤٠٨ھ، ج٥،ص ٣٦٥ (٤)،طبری ،محمد بن جریر،تاریخ طبری،دارالکتب العلمیہ،بیروت،دو سری طبع،١٤٠٨ھ، ج٥، ص ٣٦٥ (٥) طبری ،محمد بن جریر،تاریخ طبری،دارالکتب العلمیہ،بیروت،دو سری طبع١٤٠٨ھ ج٥،ص ٣٦٥

طبری ٢٥٠ھکے حالات کے بارے میں کہتا ہے: طبرستا ن کی حکومت کے علاوہ حکومت ری کا علاقہ ہمدان تک حسن بن زید کے ہاتھ میں تھا، (١)شمال ایران کے مناطق کے علاوہ جن مناطق میں حسن بن زید نے قیام کیا،اس میں عراق(٢) شام(٣) مصر (٤)بھی شامل ہیں نیز علویوں میں جرأت پیدا ہوگئی تھی کہ وہ لوگوں کو اپنے پاس جمع کرکے قیام کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے تھے ۔ یہاں تک کہ ٢٧٠ ھ میں حسن بن زید کا انتقال ہوگیا اور ان کے بھائی محمد بن زید کو ان کا جانشین قرار دیاگیا اور انہوں نے ٢٨٧ ھ تک حکمرانی کی، آخر کار محمد بن ہارون سے جنگ کے درمیان ایک سامانی کمانڈر کے ہاتھوںشہید ہوگئے۔(٥) ٢٨٧ ھ میں محمد بن زید کی شہادت کے بعد ناصر کبیر( جس کا لقب اطروش تھا) نے منطقہ گیلان و دیلم کے علاقہ میں لو گوں کو اسلام کی دعوت دی اور ١٤ سال وہاں حکومت کی۔(٦) ٣٠١ھمیں طبرستان آیا اور وہاں کی حکومت کو اپنے قبضہ میں کیا۔(٧) ............

(١)،طبری ،محمد بن جریر،تاریخ طبری،دارالکتب العلمیہ،بیروت،دو سری طبع١٤٠٨ھ ج٥،ص ٣٦٥ (٢)،طبری ،محمد بن جریر،تاریخ طبری،دارالکتب العلمیہ،بیروت،دو سری طبع،١٤٠٨ھ ج٥: ص٣٩٥۔ ٣٦۔٤٣٠ (٣)مسعودی ،علی بن حسین ، مروج الذھب ، ص ٣٢٧ (٤)مسعودی ،علی بن حسین ، مروج الذھب ،ص٣٢٦ (٥)ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ،منشورات شریف الرضی ، طبع دوم،١٤١٦ھ ١٣٧٤، ص٥٤٢ (٦)مسعودی ،علی بن حسین ، مروج الذھب ،ص٢٨٣ (٧)مسعودی ،علی بن حسین ، مروج الذھب ،ص ٣٢٧


قیام یحییٰ بن حسین ( یمن کے زیدی)[لکھو]

٢٨٨ھ میں یحییٰ بن حسین علوی جو الھادی الیٰ الحق کے لقب سے مشہور تھا ،اس نے حجاز میں قیام کیا، زیدی اس کے اطراف جمع ہوگئے اور وہ اسی سال یمنی قبائل کی مدد سے صنعامیں داخل ہوا اوراس نے زیدیوںکے امام کے نا م سے اس جگہ خطبہ پڑھا، اگرچہ یمنی قبائل سے اس کی چھڑپ ہوتی رہی ،مگر پھر بھی وہاں کی زمام حکومت کو اپنے ہاتھ میں لینے میں کامیاب ہوگیااوراپنی حکومت قائم کی آخر کار ٢٩٨ھمیں زہر کی وجہ سے اس دنیا سے چلاگیا، اس کا شمار زیدیوں کی بزرگ ترین شخصیتوں میں ہوتاہے، علم و دانش کے لحاظ سے بھی اسے ایک خاص مقام حاصل تھایہی وجہ ہے کہ زیدیہ فرقہ یمن میں اس کے نام سے معروف ہوا اوراسے ہادویہ کہا جانے لگا،(١) اس کے فرزند زیدیوں کے امام اور حکمراں تھے۔(٢) یمن میں زیدیوں کی امامت و حکومت انقلاب جمہوریہ عرب کے قیام یعنی ١٣٨٢ھ تک قائم تھی حکومت پر ہادی الی الحق کے بیٹے او رپوتوں کی حکمرانی تھی۔ ............

(١)رجوع کیا جائے ،علی ربانی گلپائیگانی،فرق و مذاہب کلامی،مرکز جہانی علوم اسلامی ج١، ١٣٧٧،ص١٣٤ (٢)سیوطی جلاالدین، تاریخ الخلفائ،منشورات شریف الرضی،قم ،طبع اول، ١٤١١ھ،ص٥٢٥


پراگندہ قیام[لکھو]

اس قسم کے قیام بغیر کسی پروگرام اور پلاننگ کے ایک فرد کے عزم و ارادے سے وجود میں آئے ہیں اور اکثر خلفاو حکام کی طرف سے شیعوں اور علویوں پر ہونے والے ظلم وجور کے مقابلے میں رد عمل کے طور پر متحقق ہوئے ہیں، ان قیاموں میں سے اہم ترین قیا م حسب ذیل ہیں:

قیام شہید فخ[لکھو]

آپ حسین بن علی حسنی( شہید فخ) کے نام سے مشہور تھے جنہوںنے ہادی عباسی کے دور حکومت میں قیام کیا ان کا خروج ،خلیفہ وقت کی طرف سے علویوں اور شیعوں پر بے حد ظلم و ستم کے مقابلے میں تھا ،یعقوبی کا بیان ہے : خلیفہ عبا سی موسیٰ ہادی نے طالبیوں کو تلاش کیا، ان کو شدت سے ڈرایا اور ان کے حقوق کو قطع کر دیا اور مختلف علاقہ میںیہ لکھ بھیجا کہ طالبیوں پر سختی کی جائے ۔(١)

ہادی عباسی نے مدینہ میں عمر کے پوتے کو حاکم بنایا تھا جو کہ طالبیوں پر بے حد سختی کرتا تھا ، اور ہر روز ان کی تلاشی لیتاتھا اس ظلم کے مقابلے میں حسین بن علی حسنی نے قیام کیا اور حکم دیا کہ مدینہ کی اذان میں حی علیٰ خیر العمل کہا جائے اور کتاب خدا اور سنت پیغمبر ۖکی بنیاد پر لوگوں سے بیعت لی اورلوگوں کو الرضا من آل محمدۖ یعنی اولاد رسول ۖسے ایک معین شخص کی رہبری کی طرف دعوت دی، ان کی روش امام کاظم کی ............

(١) ابن واضح ،تاریخ یعقوبی،منشورات شریف الرضی،قم،طبع١٤١٧،ج٢،ص٤٠٤

مرضی کے مطابق تھی، ان سے امام نے فرمایاتھا : تم قتل کردئے جائوگے۔(١) اس وجہ سے زیدی ان سے دورہوگئے اور وہ پانچ سوسے کم افراد کے ساتھ عباسی سپاہیوں کے مقابلے میںکہ جن کا سردار سلیمان بن ابی جعفر تھا کھڑے ہوگئے آخرکار مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کہ جس کا نام فخ ہے وہاں اپنے دوست اور ساتھیوں کے ہمراہ شہید ہوگئے۔(٢) امام رضانے فرمایا: کربلا کے بعد فخ سے زیادہ عظیم اور بڑی مصیبت کوئی نہیں تھی،(٣) بطور کلی علوی رہنمائوں کے قیام میںمحمد بن عبداللہ نفس زکیہ کے علاوہ عمومیت کے ساتھ مقبولیت کے حامل نہیں تھے ،شیعیان اور اصحاب ائمہ اطہار میں سے چند تن کے علاوہ ان تحریکوں میں زیادہ شریک نہیں تھے ۔

قیام محمد بن قاسم[لکھو]

محمد بن قاسم کا خروج ٢١٩ھ میں واقع ہوا وہ امام سجاد کے پوتوں میں سے تھے اور کوفہ میں ساکن تھے یہ علو ی سادات میںعابد و زاہد و پر ہیز گارشمار ہوتے تھے ، معتصم کی ............

(١) ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، منشورات شریف الرضی ، طبع دوم ، ١٤١٦ھ١٣٧٤ھ، ص٣٧٢ (٢)ابوالفرج اصفہانی،گزشتہ حوالہ،ص٣٨٠،٣٨١ (٣) کیاء گیلانی ،سید احمد بن محمدبن عبد الرحمٰن،سراج الانساب،منشورات مکتبة آیة اللہ العظمیٰ المرعشی النجفی،قم ،١٤٠٩ھ،ص٦٦

جانب سے فشار بڑھا تو مجبور ہوئے کہ کوفہ چھوڑ کر خراسان کی طرف چلے جائیںیہی فشار قیام کا باعث بنا ،جیسا کہ مسعودی کا بیان ہے اس سال یعنی ٢١٩ھ میں معتصم نے محمد بن قاسم کو ڈرایا وہ بہت زیادہ زاہد اور پر ہیز گار تھے جس وقت معتصم کی جانب سے جان کا خطرہ ہوا تو آپ نے خراسان کی طرف کوچ کیا اور خراسان کے مختلف شہروں جیسے مرو، سرخس طالقان اور نسا میں گھومتے رہے۔(١)

ابوالفرج کے نقل کے مطابق ٤٠ ہزار کے قریب افراد ان کے اطراف میں جمع ہوگئے تھے ایسے حالات میں بھی ان کا قیام کسی نتیجہ کو نہیں پہنچا اور یہ جمعیت ان کے اطراف سے منتشر ہوگئی آخر میں طاہر یوں کے ہاتھوںگرفتار ہوگئے اور اس کے بعد سامرہ کی جانب روانہ ہوئے اور وہیں پران کو زندان میں ڈال دیا گیا۔(٢) البتہ شیعوں اور اپنے چاہنے والوں کی وجہ سے آزاد ہوگئے لیکن اس کے بعد کوئی خبر ان کے بارے میں نہیں ملتی اور گمنام طریقہ سے دنیا سے چلے گئے۔ (٣) ............

(١)مسعودی،علی بن حسین ،مروج الذہب ،موسسة الاعلمی للمطبوعات ،بیروت،طبع اول ١٤١١ھ: ج٤:ص٦٠ (٢)ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، منشورات الشریف الرضی، قم طبع دوم ، ١٤١٦ھ ص،٤٦٤۔ ٦٤٧ (٣)مسعودی،علی بن حسین ،مروج الذہب ،موسسة الاعلمی للمطبوعات بیروت،طبع اول : ١٤١١ھ، ج٤،ص١٦٠


قیام یحییٰ بن عمر طالبی[لکھو]

یحییٰ بن عمر جعفر طیار کے پوتوں میں سے تھے آپ نے کوفہ کے لوگوں میں اپنے زہد و تقویٰ کی وجہ سے بلند مقام حاصل کرلیاتھا ،متوکل عباسی اور ترکی فوجیوں کی طرف سے جو ذلت آمیز مظالم آپ پر ہوئے اس کی وجہ سے مجبور ہوئے کہ کوفہ میں ان کے خلاف قیام کریں، جب تک امور کی زمام آپ کے ہاتھ میں تھی آپ نے عدل و انصاف سے کام لیا یہی وجہ ہے کہ کوفہ کے لوگوں میں آپ کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوگئی لیکن آپ کا قیام محمد بن عبداللہ بن طاہر کے ہاتھوں شکست کھا گیا اورلوگوں نے آپ کی مجلس عزا میں بہت زیادہ رنج وغم کا مظاہرہ کیا۔ (١)

جیسا کہ مسعودی کاکہنا ہے : دور اور نزدیک کے لوگوں نے ان کے لئے مرثیہ کہا چھوٹے بڑوں نے ان پر گریہ کیا ۔(٢) ابوالفرج اصفہانی کے مطابق وہ علوی جو دوران عباسی شہید ہوئے تھے ان میں کسی ایک کے لئے بھی اتنے مرثیہ نہیں کہے گئے ۔(٣) ............

(١)مسعودی، علی بن حسین ، مروج الذہب، منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت، طبع اول ١٤١١ھ ج ص١٦٠ (٢)مسعودی، علی بن حسین ، مروج الذہب، منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت، طبع اول ، ١٤١١ھ ج ص١٦٠ (٣)ابو الفرج اصفہانی،مقاتل الطالبین،منشورات الشریف الرضی،قم،طبع دوم،١٤١٦ھ،ص٥١١


قیام و انقلاب کے شکست کے اسباب[لکھو]

ان قیام کی شکست کے اسباب کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :

ایک تو قیادت اور رہبری کا سُست ہونااور دوسرے فوج کا ہم آہنگ نہ ہونا غالباً اس طرح کے انقلاب کے اکثررہنما اور قائد صحیح طریقہ سے پلاننگ نہیں کرتے تھے اور ان کے قیام صحیح طرح سے اسلامی اصول وطریقہ پراستوار نہیں تھے اسی وجہ سے ان میں سے بہت سے انقلاب ایسے تھے کہ جسے امام معصوم کی طرف سے حمایت اور تائید حاصل نہیں تھی، دوسرے بعض قیام کی ناکامی، اگر چہ ان کے رہنما قابل اطمینان اور مؤثق افراد تھے، سبب یہ تھا کہ ان کی پلاننگ ایسی تھی کہ جن کی شکست پہلے سے قابل ملاحظہ تھی ایسی صورت میں اگر امام واضح طور پر ان کی تائید کر دیتے تو قیام کی شکست کے بعد تشیع کی بنیاد اور امامت خطرہ میں پڑ جاتی۔

دوسری طرف یہ قیام آپس میں ہم آہنگ نہیں تھے اگر چہ ان کے درمیان حقیقی اور مخلص شیعہ موجود تھے جو آخری دم تک اپنے مقصدکے حصول کی کوشش کرتے رہے ان میں سے اکثر لوگوں کا ہدف ایمانی نہیں تھا یاتو ان کا علوی رہبروں کے ساتھ توافق نہ ہوسکایازیادہ تر لوگوں نے میدان جنگ میں اپنے کمانڈروں کا ساتھ چھوڑ دیا، علامہ جعفر مرتضیٰ اس بارے میں لکھتے ہیں: ان کی شکست کی علت اس کے علاوہ کچھ نہیں تھی کہ زیدیوں کے قیام سب سے پہلے سیاسی محرکات رکھتے تھے ان کی خصوصیت صرف یہ تھی کہ خاندان پیغمبرۖمیں سے جس نے بھی حکومت کے مقابلے میں تلوارکھینچی اس کو دعوت دیتے تھے، ان کے اندرایمانی فکر اوراعتمادی وجدان نہیں تھا بغیر سوچے سمجھے اٹھ جاتے تھے،اپنے مردہ احساسات اور خشک و فرسودہ ثقافت پراس قدر بھروسہ کرتے تھے کہ احساسات اور وجدان میں ہم آہنگی باقی نہیں رہ گئی تھی کہ ایک مضبوط ومحکم سر چشمہ سے اپنی رسالت و پیغام کو اخذکر سکیں انہیں وجوہ کی بنا پران کی کشتی شکشت کے گرداب میں پھنس جاتی تھی اور جانیں مفت میں تلف ہو جاتی تھیں، بلکہ خود اندرونی طور پر انقلاب سے روکنے کا جذبہ ان میں ابھرتا تھا، ایسی طاقتوں پر اتنا ہی اعتماد تھا جتنا پیاسے کو سراب پر ہوتا ہے ، یہ وہ نکتہ ہے جو واضح کرتا ہے کہ لوگ حادثات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے تھے اور جب پانی سر سے گذر جاتا تھا اور پھل تیار ہو جاتے تھے تو وہ عیش و آرام کی زندگی گزارتے تھے۔(١) ............

(١) زندگی سیاسی امام جواد علیہ السلام ، ترجمہ سید محمد حسینی ، دفتر انتشارات اسلامی ، قم ، طبع ہشتم ، ١٣٧٥ھ ، ص ١٩


جغرافیائی اعتبار سے تشیع کی وسعت[لکھو]

یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ سب سے پہلے تشیع کا مرکزمدینہ تھا اور اصحاب پیغمبرۖ کے درمیان سب سے پہلے شیعہ اسی شہر میں رہتے تھے تینوں خلفاکے زمانے میں شیعہ اصحاب مختلف مناطق و شہروںمیںپھیل گئے اور ان میں سے بعض سیا سی اور فوجی عہدوں پر فائز تھے، علامہ محمد جواد مغنیہ اس بارے میں لکھتے ہیں: شیعہ اصحاب کاتشیع کے پھیلانے میں ایک اساسی کردار رہا ہے جہاں بھی گئے لوگوں کو قرآن و حدیث اور صبرو تحمل کی طرف دعوت دی اور پیغمبرۖ کے اصحاب ہونے کی بنا پر لوگوں کے درمیان ان کابے حد احترام تھا اور ان کی تقاریربہت زیادہ اثر انداز ہوتی تھیں۔(١) حتی ایسی جگہیں جیسے جبل عامل جو شام کا ایک حصہ تھا اور وہاںپر معاویہ کا نفوذ زیادہ تھا پیغمبرۖ کے بزرگ صحابی ابوذر کے جانے کی برکت سے وہ شیعوں کا اصلی مرکز ہوگیا۔(٢) ............

(١)الشیعہ فی المیزان ،منشورات شریف رضی ،قم،١٤١٣ہجری،ص٢٦،٢٨ (٢)امین ،سید محسن،اعیان الشیعہ،دار التعارف للمطبوعات ،بیروت،ج١،ص٢٥

عثمان کی خلافت کے آخری زمانے میں بہت زیادہ شیعہ اسلامی سر زمینوں میں رہتے تھے، اس طرح سے کہ مسلسل حضرت علی کا نام خلافت کے لئے لیا جانے لگا، اسی وجہ سے مدینہ میں جب مخالفین نے اجتماع کیا توعثمان نے علی سے تاکیدکی کہ وہ کچھ مدت کے لئے مدینہ سے نکل جائیںاوراپنی کھیتی جو ینبع میں ہے وہاں چلے جائیں تاکہ شاید شورش کرنے والوں کی تحریک میںکمی آجائے۔(١) خصوصاً عراق میں عثمان کے زمانے میں شیعہ کا فی تعداد میں تھے مثلاً بصرہ کے شیعہ باوجود اس کے کہ یہ شہر ،سپاہ جمل کے تصرّف نیز ان کے تبلیغ کی وجہ سے ان کے زیر اثرآگیا تھا لیکن جس وقت انہیں یہ خبر ملی کہ امیر المومنین مہاجر اور انصار کے ہمراہ ان کی جانب آرہے ہیںتو صرف قبیلئہ ربیع سے تین ہزار افرادمقام ذی قارمیں حضرت سے ملحق ہو گئے،(٢) علی کے ساتھ ان کی ہمراہی عقیدت کی بنا پر تھی اور علی کو پیغمبر ۖ کی جانب سے منصوب خلیفہ کے عنوان سے مانتے تھے ۔ بلا ذری نے انہیں شیعیان علی اور قبیلہ ربیع سے تعبیر کیا ہے۔(٣) اورجب علی خود بر سر حکومت آگئے اور عراق تشریف لے گئے تو تشیع کی وسعت میں عجیب وغریب اضافہ ہوا، اسی طرح حضرت کے حکام اوروالیوںکی اکثریت شیعہ ہونے کی وجہ سے ان مناطق میں شیعیت کو بہت زیادہ فروغ ملا، جیسا کہ سید محمد امین کا بیان ہے جہاں بھی والیان علی جاتے تھے وہاں کے لوگ شیعہ ہوجاتے تھے ۔(٤) ............

(١)نہج البلاغہ ، فیض اسلام ،خطبہ٢٣٥ (٢)بلاذری ، انساب الاشراف ، منشورات الاعلمی ، للمطبوعات ، بیروت ١٣٩٤ھ ج٢ ص ٢٣٧ (٣)بلاذری ، انساب الاشراف ، منشورات الاعلمی ، للمطبوعات ، بیروت ١٣٩٤ھ ج٢ ص ٢٣٧ (٤)اعیان الشیعہ ، دار التعارف ، للمطبوعات ، بیروت ، ج١ ص ٢٥

البتہ اس دور میں شام کے ساتھ ساتھ دوسرے علاقہ میں بھی عثمان کی طرف میلان بڑھ گیا تھا ،شام تو پورے طور پر بنی امیہ کے زیر اثر تھامثلاً بصرہ اور شمالی عراق کے علاقہ میں عثمان کے قریبی افراد ا کے مستقر ہونے کی بناپر اس علاقے کے لوگ عثمان کی طرف مائل ہو گئے تھے،(١)اور شمال عر اق میں یہ میلان دوسری صدی ہجری کے آخر تک باقی تھا۔ مکہمیں بھی زمانہ ٔجاہلیت سے ہاشمیوں اور علویوں کے خلاف ایک فضا قائم تھی اسی طرح طائف میں بھی دورجاہلیت کی طرح اسلام کے بعد بھی قریش کو بنی ہاشم سے رقابت تھی اور وہ بنی ہاشم کی سر براہی کو قبول نہیں کرتے تھے اور یہ قریش کے رسولۖ خدا کے ساتھ مخالفت کے اسباب میںسے ہے طائف والوں نے بھی قریش کی ہم آہنگی سے پیغمبر ۖکی دعوت قبول نہیں کی تھی اگر چہ اسلام کے طاقتور ہونے کے بعد تا خیر سے سہی وہ لوگ بھی تسلیم ہو گئے۔ حجّاج کے زمانے میںشیعیت عراق و حجاز کی سرحدوں سے عبور کر کے تمام علاقے میں پھیل گئی،اسی دور میں شیعہ حجّاج کی طرف سے سختی اور فشار کی بنا پر عراق سے نکل کر منتشرہوگئے اور دوسری اسلامی سرزمینوں میں ساکن ہوگئے ،خاص کر اسلامی شرق جیسے ایران کہ جہاں پہلی صدی کے ختم ہونے کے ساتھ ساتھ شیعہ مرکز قائم ہو گیا، خراسان میں عباسیوں نے ان سے خاندان پیغمبرۖ سے نسبت کی وجہ سے استفادہ کیا اور الرّضا من آل محمدۖ کے نعرہ کے ساتھ اپنے ارد گرد جمع کر لیا اور امویوں کے خلاف جنگ میں ان سے فائدہ اُٹھایا ۔ ............

(١)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی ، منشورات الرضی ، قم ١٤١٤ھ ج٢ ص ١٧٨

عباسیوں کے دور میں تشیع کی وسعت میں معتدبہ اضافہ ہوا شیعہ مشرق میںایران، ہندوستان، قفقازوغیرہ کی طرف ہجرت کرگئے اوردولت اموی کے خاتمہ پرغرب یعنی یورپ کی سمت (مراقش )میں بھی شیعوں کا نفوذ ہو گیا،خصوصاً افریقہ میں دوسری صدی میں ادریسیوں کی شیعہ حکومت قائم ہوگئی اگر چہ یہ حکومت زیدیوں کی تھی لیکن شیعیت کے پھیلنے کا پیش خیمہ تھی البتہ اس کا ارتباط مصر میں اغلبیوں کی حکومت کی وجہ سے کہ جو اس کے مقابلہ میں قائم ہوئی تھی مرکز یعنی مدینہ میں بہت کم اثر تھا۔(١) اس طرح دوسری صدی ہجری میںمذہب تشیع، جہانِ اسلام کے شرق وغرب میں پھیل گیا اس کے علاوہ خوزستان جبل مرکزی ایران نیز مشرق وسطی کے دور دراز علاقے ، افغانستان ،آذر بائیجان ، مراقش ہندوستان اور طبرستان تک پھیل گیا۔ (٢)

شیعہ اجتماعی مراکز[لکھو]

جیسا کہ اشارہ ہو چکا ہے پہلی تین صدی ہجری میں شیعہ اسلامی سر زمین کے کافی علاقوں میں زندگی بسرکرتے تھے اور تمام جگہ منتشرہو گئے تھے لیکن شیعوں کی بھاری ............

(١)امیر علی ، تاریخ عرب اسلام ، انتشارات گنجینہ ، طبع سوم ، ١٣٦٦ھ ص ٢٤١۔٢٤٥، ابوالفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، منشورات الشریف الرضی ، ق، ١٤١٦ھ ،ص ٤٠٨ (٢) ائمہ اطہار کے اصحاب کے درمیان حلب ، مصر ، مدائن ، قزوین ، ری ، کاشان ، ارمنستان ، ساباط ، اصفہان ، ہمدان ، سمرقند ،کابل وغیرہ کے رہنے والے بھی موجود تھے ، رجال نجاشی ، دفتر نشر اسلامی ص ٨۔ ٩۔ ٦٦۔١٣٠۔١٦١۔٢٠٨۔٢٣٣۔٢٣٦۔٢٩٠۔٣٤٤۔٣٦٧،اور ابن شہر آشوب ، معالم العلماء ، منشورات مطبعة الحیدریة، نجف ، ١٣٨٠ھ ش، ص ٣١

اکثریت اورعظیم اجتماع چند ہی مناطق میں تھا پہلی صدی ہجری میںشیعہ اجتماعی مراکز یہ تھے :مدینہ یمن،کوفہ، بصرہ، مدائن ، جبل عامل ، دوسری صدی میں ان مراکز کے علاوہ قم، خراسان، طبرستان، بغداد،جبل عامل، افریقہ وغیرہ میں بھی شیعہ مراکز قائم ہو گئے تھے ، اب ہم یہاں ان جگہوں کی وضاحت کریں گے۔

پہلی صدی ہجری میں شیعہ نشین علاقے[لکھو]

پہلی صدی ہجری میں شیعہ نشین علاقے زیادہ تر حجاز ویمن وعراق کی حد تک محدود تھے، ان علاقے میں رہنے والے افراد عرب تھے اور پہلے دور کے مسلمانوں میںان کاشمار ہوتا تھا، حجاز ویمن میں تشیع کی بنیاد رسولۖ خدا کے دور میں پڑ چکی تھی، پیغمبر ۖ کی وفات کے بعد عراق کا اضافہ ہوا جو یمنی قبائل کا محل زندگی قرار پایا اورحضرت علی علیہ السّلام کے دور حکومت میں وہاں کے تشیع کی وسعت میںمزید اضافہ ہوا۔(١)

مدینہ[لکھو]

ہجرت سے پہلے مدینہ کا نام یثرب تھا یہاں یمن کے دو قبیلے آباد تھے جنہیں اوس و خزرج کہا جاتا تھا جنہیں بعد میں انصار کہا گیا اور تین یہودی قبیلے بنام بنی قینقاع ،بنی نضیراور بنی قریظہ یہاں آبادتھے، جب رسالت مآب نے ہجرت فرمائی تو اس شہر کا نام مدینة النبی یعنی رسول اکرم ۖکا شہر پڑ گیا ،کثرت استعمال اور تکرار کی وجہ سے نبی حذف ہو گیا،اور صرف مدینہ مشہور ہو گیا تینوں خلفاکا مرکز ............

(١)شہیدی ، دکتر سید جعفر ،تاریخ تحلیل اسلام تا پایان اموی، مرکز نشر دانشگاہ ، تہران ج ٢ ،ص ١٣٧۔ ١٣٨

حکومت مدینہ رہا ،اہل بیت کے سر سخت دشمن قریش یہیں رہتے تھے اس کے باوجود مدینہ کی بیشتر آبادی انصار سے مربوط تھی جو اہل بیت کے محب تھے اور سیاسی کشمکش کے وقت اہل بیت کا ساتھ دیتے تھے رسول اکرم ۖکے بہت سے جلیل القدر صحابی یہاں رہتے تھے اور لوگوں کو حقیقت حال سے آگاہ کرتے تھے ، چنانچہ آپ کے عظیم صحابی جناب جابربن عبد اللہ انصاری اپنے عصا کا سہارا لے کر مدینہ کی گلیوں میں گھومتے اور اعلان کرتے :

(علی خیرُ البَشَرِ مَن انکَرَھٰا فَقَدْ کَفَر) یعنی حضرت علی بہترین مخلوق ہیں جس نے انکار کیا وہ کافر ہو گیا ۔

اے انصار !تم اپنے بچوں کو علی کی محبت کا عادی بنائو اور جو بھی علی کی محبت قبول نہ کرے اس کے نطفہ کے بارے میں اس کی ماں سے پوچھو!(١) یہی جابر مسجد النبی کے دروازے پر بیٹھ جاتے تھے اور آواز دیتے تھے :

اے باقر العلوم! آپ کہاں ہیں ؟ بہت سے لوگ کہتے تھے جابر ہذیان بک رہے ہیں،جابر کہتے تھے میں ہذیان نہیں بک رہا ہوں بلکہ میں نے رسولۖ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے : میرے بعد میری نسل سے ایک بچے کی زیارت کرو گے جس کا نام میرا نام ہوگا وہ مجھ سے مشابہ ہوگا وہ لوگوں کے سامنے علم کے دروازے کھولے گا ۔(٢) جناب جابر نے جب امام پنجم کی زیارت کی تو اپنا معمول بنا لیا تھاکہ ہر روز دو بار آنحضرت کی زیارت سے مشرف ہوں ۔(٣) ............

(١)شیخ طوسی ، اختیار معرفة الرجال ( رجال کشی ) تحقیق سید مہدی رجائی ، ج ١ ص ٢٣٧ (٢) شیخ طوسی ، اختیار معرفة الرجال ( رجال کشی ) تحقیق سید مہدی رجائی ، ج ١ ص ٢١٨ (٣)شیخ طوسی ، اختیار معرفة الرجال ( رجال کشی ) تحقیق سید مہدی رجائی ، ج ١ ص ٢٢٢

حضرت ابوذر غفاری مسجد نبی کے دروازہ پر کھڑے ہو کر کہتے تھے:جو مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتاہے اور جو مجھے نہیں پہچانتا وہ پہچان لے میں ابو ذرغفاری جند ب بن جنادہ ہو ں، محمد ۖعلم آدم اور تمام انبیاء کے فضائل کے وارث ہیں اور علی ابن ابی طالب محمد ۖ کے وصی اور ان کے وارث ہیں۔(١) اکثر بنی ہاشم اسی شہر میں زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے جد کے حرم کا احترام کرتے تھے، اس کے علاوہ ائمہ معصومین بھی اس شہر میں ساکن تھے لہذا یہاں کے لوگ ان کی تعلیمات سے بہرمندہوتے تھے ، خاص طور پر امام باقر اور امام صادق کے زمانے میں ان کے حلقۂ درس نے لوگوں کو مسجد نبیۖ کی جانب کھینچ لیا تھا ۔ ابو حمزہ ثمالی کا بیان ہے : میں مسجد نبیۖ میں بیٹھا ہوا تھا میرے نزدیک ایک شخص آیا اور سلام کیا اور امام محمدباقر کے متعلق پو چھا میں نے دریافت کیا کہ کیا کام ہے؟ اس نے جواب دیا :میں نے چالیس مسئلہ آمادہ کئے ہیں تاکہ امام محمدباقر سے سوال کروں اس کی بات ابھی تمام بھی نہ ہونے پائی تھی کہ امام محمدباقر مسجد میں داخل ہوئے، کچھ اہل خراسان نے ان کو گھیر رکھا تھا اور مناسک حج کے بارے میں حضرت سے سوالات کررہے تھے ۔(٢) ان دو بزرگوار کے بعض شاگرد جیسے ابان بن تغلب بھی مسجد نبی ۖ میں درس دیتے تھے ، ابان جس وقت مسجد میں داخل ہوتے تھے پیغمبر ۖ کی جگہ بیٹھتے تھے اور لوگ ان کے ............

(١)تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی ،١٤١٢ھ، ج٢ ص ١٧١ (٢)بحار الانوار، ج ٤٦، ص ٣٥٧

اردگرد جمع ہو جاتے تھے، ابان ان کے لئے پیغمبر ۖ کی حدیث بیان کرتے تھے،امام صادق ان سے فرماتے تھے: آپ مسجد نبیۖ میں بیٹھ کر فتو یٰ دیا کیجئے میںچاہتا ہو ں کہ میرے شیعوں کے درمیان آپ جیسے افرادظاہر ہوں ۔(١)

یمن[لکھو]

عراق کی فتح اور کوفہ کی بناء سے پہلے شیعہ یمن میں زندگی بسر کرتے تھے یمن مدینہ کے بعد دوسرا علاقہ تھا جہاں پیغمبر ۖ کی وفات کے بعد شیعیان علی موجود تھے،اس لئے کہ وہا ں کے لوگ سب سے پہلی مرتبہ حضرت علی کے ذریعے مسلما ن ہوئے تھے ، ابن شہر آشوب لکھتا ہے: رسولۖ اکرم نے خالدبن ولید کو یمن کی جانب روانہ کیا تاکہ ان کو اسلام کی دعوت دے، براء بن عازب بھی خالد کی فوج میں موجود تھا خالد وہاں چھ مہینے رہا لیکن کسی کو مسلمان نہ کر سکا، رسولۖ خدا اس بات سے بہت ناراض ہوئے اور خالد کو بر طرف کر کے اس کی جگہ امیر المو منین علی کو بھیجا،حضرت جس وقت وہاں پہنچے ،نماز صبح بجالائے اور یمن کے لوگوں کو پیغمبر ۖ کا خط پڑھ کر سنایا،قبیلہ حمدان کے تمام لوگ ایک ہی دن میں مسلمان ہو گئے اورحمدان کے بعد یمن کے تمام قبائل نے اسلام قبول کر لیا، رسولۖ خدا اس خبر کو سننے کے بعد سجدئہ شکر بجا لائے ۔(٢) یمن میں جس جگہ سب سے پہلے حضرت علی نے سکونت اختیار کی وہ ایک خاتون بنام امّ سعدبر زخیہ کا گھر تھا ،حضرت علی نے وہاں قرآن کی تعلیم دینا شروع کی، بعد میں یہ گھر مسجد ہو گیا اور اس کا نام مسجد علی رکھ دیا گیا ،خاص طور پر پیغمبر ۖکی آخری عمر میں ............

(١)نجاشی ، احمد بن علی ،فہرست اسماء مصنفی الشیعة ، رجال نجاشی ، دفتر نشر اسلامی ، قم، ص ١٠ (٢)مناقب آل ابی طالب ، موسسہ انتشارات علامہ ، قم ، ج٢ ص ١٢٢

یمن کے مختلف قبائل نے مدینہ میں پیغمبر ۖ کا دیدار کیا اور درمیان میںہونے والی گفتگومیںحضور اکرم ۖ نے حضرت علی کی وصایت اور جانشینی کو بیان کیا،(١)اس بنا پر ان کے ذہن میں یہ مطلب موجود تھا ۔(٢) ............

(١)مظفر، محمد حسین ،تاریخ الشیعہ،منشورات مکتبہ بصیرتی ، ص ١٢٢ (٢)جابر بن عبد اللہ انصاری نقل کرتے ہیں : یمن کے مختلف قبیلہ کے لوگ حضور اکرم ۖ کی خدمت میں حاضر ہوئے رسول اکرم ۖ نے فرمایا: لوگوں میںایسے نرم دل اورقوی الایمان افراد پیدا ہوں گے ، کہ جو میرے جانشین ( امام مہدی ) کی نصرت کرنے کے لئے سترّہزار افراد ان کے درمیان اٹھ کھڑے ہوں گے وہ سب کے سب اپنی تلواروں کو خرمے کی چھال سے حمائل کئے ہوںگے ، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کا وصی کون ہے ؟ فرمایا: میرا وصی وہ ہے جس سے متمسک ہونے کا حکم خدا وند عالم نے دیا ہے اور آیت پڑھی: (واعتصموا بحبل اللّہ جمیعا ولا تفرقوا )( آل عمران ، آیت : ١٠٣) اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور انتشار کا شکار نہ بنو ، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! اللہ کی رسی کیا ہے ؟ یہ رسی وہی اللہ کا فرمان ہے : (الا بحبل من اللّٰہ و من الناس) ( آل عمران ، آیت : ١١٢) خدا کی جانب سے رسی قرآن ہے اور لوگوں کی جانبسے رسی میرا وصی ہے ، پوچھا یا رسول اللہۖ! آپ کا وصی کون ہے ؟ فرمایا : میرا وصی وہ ہے جس کے بارے میں خدا وند عالم فرماتا ہے : (ان تقول نفس یا حسرتی علی ما فرطت فی جنب اللّٰہ )( سورہ زمر آیت : ٥٦) لوگ کہیں گے کے امر خدامیں کتنی کوتاہی کی ہے ، لوگوں نے سوال کیا یہ امر خدا کیا ہے ؟ فرمایا : وہ میرا وصی ، لوگوں کا رہبر ہے جو میرے بعد لوگوں کی میری جانب ہدایت کرے گا ، لوگوں نے کہا :یا رسول اللہ ۖ !آپ کو اس خدا کی قسم جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے آپ اپنے وصی کوہمیں دکھا دیں ،ہم ان کی زیارت کے مشتاق ہیں ، فرمایا : خدا نے اسے لوگوں کے لئے علامت قرار دیا ہے دل سے دیکھو گے تو پہچان لوگے کہ کون میرا وصی ہے جس طرح تم نے اپنے پیغمبر کو پہچان لیا ہے ، جائو مسجد میں لوگوں کو دیکھو ( ) جس کی طرف تمہارا قلب مائل ہو جائے سمجھ لووہی میرا وصی ہے ، اس لئے کہ خدا فرماتا ہے : (فاجعل افئدة من الناس تھوی الیھم) ( ابراہیم ، آیت : ٣٧) خدایا! لوگوں کے دلوں کو اسی کی طرف مائل کر دے اسی وقت اشعریوں میں سے ابو عامر اشعری ،خولانیوں میں سے ابو عزہ خولانی ، بنی قیس سے عثمان بن قیس ، قبیلہ دوس سے غریہ دوسی اور لاحق بن علافہ کھڑے ہوئے اور مسجد النبی میں لوگوں کو دیکھنا شروع کیا اور حضرت علی کا ہاتھ پکڑکر خدمت رسولۖ میں آئے اور کہا: یا رسول اللہ ۖ !ہمارا دل ان کی جانب کھنچتاجارہا ہے ، رسول اکرم ۖ نے فرمایا : خدا کا شکر ہے تم نے پیغمبر ۖکے وصی کو پہچان لیا شاید اس کے پہلے تم نے انہیں دیکھا ہو یمنی لوگ رونے لگے کہا :یا رسول اللہ ۖ !ہم کسی چیز کی بنا پر نہیں رورہے ہیں بلکہ ہمارے دل رو رہے ہیں ہم نے جیسے ہی انہیں دیکھا ہمیں سکون حاصل ہوگیا ایسا لگا جیسے ہم نے اپنے باپ کو پا لیا ہے۔ ( مظفر ، محمد حسین ، تاریخ الشیعہ مکتبة بصیرتی ، قم ، ص ١٢٤۔١٢٥

پیغمبر ۖکی وفا ت کے بعد انہوں نے مدینہ کی حکومت کو رسمیت نہیں دی اور خلیفہ وقت ابو بکر کو زکوٰة دینے سے انکار کیا جیسا کہ ان کے اشعار میں آیا ہے:

اطعنارسول اللّہ ما دام وسطنا

فیا قوم شأنی وشان ابی بکر
أیورثھا بکراً اذا کان بعدہ
فتلکٔ لعمر اللّہ قاصمة الظھر

جس وقت تک رسولۖخدا ہمارے درمیان تھے ہم ان کی اطاعت کرتے تھے اے لوگو !ہم کہاں اور ابو بکر کہاں؟! اگر ابو بکر کے پاس بکر نام کا فرزند ہو تاتوکیا وہ اس کے بعد خلافت کا وارث ہوتا؟میری جان کی قسم یہ سوال کمر شکن ہے ۔(١)

حضرت علی کے دور خلافت میں یمن کے رہنے والے لاکھوں افراد عراق میں رہتے تھے(٢)

اور ہزاروں آدمی حضر ت کے لشکر میںتھے ،یمن میں رہنے والے، اکثر شیعہ تھے عثمانی اور بنی امیہ کے طرفداروں کی تعداد بہت کم تھی اس کے لئے بطور شاہد معاویہ کا وہ رویہ ہے کہ جو اس نے بسرابن ارطاة کو جس کے بار ے میں تاکید کی تھی ،(٣)کہ جس علاقہ میں لوگ قریش اور بنی امیہ کے طرف دارہوں ان سے کوئی سرو کار نہیں رکھناچنانچہ جب وہ مکہ اور طائف کے نزدیک سے گذرا تو ان دو شہروں کو ہاتھ تک نہیں لگایا ۔(٤)

لیکن جس وقت یمن کے شہر ارحب ، صنعا اور حضر موت پہنچا توقتل و غارت گری شروع کردی ،صنعا میں تقریبا سو افراد کہ جن کا شمار ایرانی بزرگوں میں ہوتا تھا ان کا سر قلم کردیا اور مأرب کے نمائند ہ جو امان لینے کے لئے آئے تھے ان پر رحم نہیں کیا اور سب کو قتل کردیا اور جس وقت حضر موت پہنچا تو اس نے کہا :میں چاہتا ہوں کہ اس شہر کے ایک چو تھائی لوگوں کو قتل کردوں۔(٥) ............

(١)یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبداللہ ، معجم البلدان ، احیاء التراث العربی ، بیروت ، طبع اوّل ، ١٤١٧ھ ، ج٣ ، ص ١٥٨ (٢)یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبداللہ ، معجم البلدان ، احیاء التراث العربی ، بیروت ، طبع اوّل ، ١٤١٧ھ ، ج ٧ ، ص ١٦١ (٣) ابن واضح ، تاریخ یعقوبی ،ص ١٩٧ (٤) ابن واضح ، تاریخ یعقوبی ،ص :١٩٧ (٥) ثقفی کوفی، ابراھیم بن محمد ،الغارات،محمد باقر کمرہ ای کا ترجمہ ، فرہنگ اسلام ص ٣٢٥ ۔ ٣٣١

خصوصاًجیشان میں یعقوبی کے کہنے کے مطابق وہاں کے تمام افراد شیعہ تھے اس نے وہاںپر بہت زیادہ قتل وغارت کیا۔(1)

ابن ابی الحدید نے بسربن ارطاة کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کی تعداد تیس ہزار بیان کی ہے، ان میں سے زیادہ تر یمن کے رہنے والے تھے ،(2) یہ بات اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس زمانے میںوہاں پر شیعوں کی آبادی قابل ملاحظہ تھی بہر حال بسر نے جو ہنگامہ کر رکھا تھا اسے کچلنے کے لئے امیر المومنین نے جاریہ بن قدامہ کو بھیجا یہ سنکر بسر یمن سے بھا گ کھڑا ہوا یمن کے لوگ اور وہاں کے شیعہ جہاں بھی عثمانیوں اور بنی امیہ کے طرفداروں کو پاتے تھے قتل کر دیتے تھے۔(3)

حضرت علی کی شہادت کے بعد بھی یمن شیعوں کا عظیم مرکز تھا اور جس وقت امام حسین علیہ السلام نے مکہ سے کوفہ کی جانب کوچ کیا توابن عباس نے امام حسین کو مشورہ دیاکہ وہ عراق نہ جائیں بلکہ یمن کی طرف روانہ ہوں کیونکہ وہاں آپ کے والد کے شیعہ ہیں۔(4)

البتہ اس بات کو ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ ابتدائی کامیابی اور اسلامی سرزمین کی سر حدوں کے پھیلنے کے ساتھ یمن اور پوری طرح سے جزیرئہ عرب کا علاقہ ٹھپ نظر آیا یہی وجہ ہے کہ سپاہی اورفوجی لحاظ سے وہاں کا کوئی نقش نظر نہیں آتا اگر چہ دو شہر مکہ،اور مدینہ مذہبی وجہ سے ایک اجتماعی حیثیت رکھتے تھے لیکن یمن جو پیمبرۖ کے زمانے میں ایک مہم ترین اسلامی ............

(١)ابن واضح ، تاریخ یعقوبی،ص١٩٩ (٢)شرح نہج البلاغہ ، دارالکتاب العربیہ ، قاہرہ ، ج ٢ ، ص ١٧ (٣)ثقفی کوفی ،ابراھیم بن محمد ،الغارت،ص ٣٣٣ ( ٤)بلاذری، انساب الاشراف، منشورات الا علمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٣٩٤ھ ق، ج ٣ ،ص ١٦١

حکومت شمارہوتاتھا مسلمانوں کے وسیلہ سے قریب کے ملکوں پر فتح حاصلکرنے کے بعد تقریباً اسلامی سر زمینوں کے ایک گوشہ میںواقع ہوگیا تھا اوروہ جنوب کا آخری نقطہ شمار ہوتا ہے اس کے با وجود روح تشیع وہاں پر حاکم تھی دوسری صدی کے اختتام پر ابو سرایا ابراہیم بن موسیٰ وہاں پربغیر مزاحمت کے داخل ہوگیا اور اس نے اس علاقہ کو اپنے کنٹرول میں لے لیا،(١)آخرکار مذہب زیدیہ کو سر زمین یمن میں کامیابی حاصل ہوئی آج بھی وہاں کے رہنے والے اکثر زیدی ہیں۔(٢)

کوفہ[لکھو]

کو فہ وہ شہر ہے جو اسلام کے بعد وجود میں آیا اور مسلمانوں نے اس کی بنیاد رکھی کوفہ سے قریب قدیمی شہر حیرہ تھا جو لخمیوں کی حکومت کا مرکز تھا۔(٣) ١٧ھ میں سعد بن وقاص جو ایران محاذ کا کمانڈر تھا اس نے خلیفۂ دوّم کے حکم پر اس شہر کی بنیادرکھی اس کے بعد اصحاب میں سے اسّی لوگ وہاں پر ساکن ہو گئے، (٤) ابتدامیں شہر کوفہ میں زیادہ تر فوجی چھاونی تھی جو شرقی محاذپر فوجیوں کی دیکھ ریکھ کرتی تھی اس شہر کے اکثر رہنے والے مجاہدین اسلام تھے جس میں اکثر قحطانی اور یمن کے قبائل تھے، اس و جہ سے کوفہ میں قحطانی اور یمنی ماحول زیادہ تھا ،(٥) اصحاب پیغمبرۖ میں سے اکثر ............

(١)ابو الفرج اصفہانی،علی بن حسین،مقاتل الطالبین،منشورات الشریف الرضی،قم ١٤١٦ہجری، ص٤٣٥ (٢)مظفر ،محمد حسین،تاریخ شیعہ ،ص١٣٢ (٣) یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبداللہ ، معجم البلدان،دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، طبع اوّل ، ١٤١٧ھ، ص ١٦٢ (٤)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی، منشورات شریف الرضی ، قم ، ١٤١٤ھ ،ج ٢ ، ص ١٥٠ (٥) یاقوت حموی ،شہاب الدین ابی عبداللہ، معجم البلدان ،ص ١٦١

انصار وہاںرہنے لگے جودر اصلیمنی تھے، انصار کے دو قبیلوں میں سے ایک خزرج تھا جن کا کوفہ میں اپنا مخصوص محلہ تھا ،یا قوت حموی کا بیان ہے: زیاد کے زمانے میں زیادہ تر جو گھر اینٹ کے بنے ہوئے تھے وہ خزرج ا و رمرادکے تھے ،(١)البتہ کچھ موالی اور ایرانی بھی کوفہ میں زندگی بسر کرتے تھے جو امیر المومنین علیہ السلام کے دور خلافت میں کوفہ کے بازار میںخرید و فروخت کیا کرتے تھے،(٢) جناب مختارکے قیام کے وقت ان کی فوج میں زیادہ تر یہی موالی تھے۔(٣) کوفہ کی فضیلت کے بارے میں اہل بیت سے کافی احادیث وارد ہوئی ہیں کہ جن میں سے بعض یہ ہیں : حضرت علی نے فرمایا: کوفہ کتنا اچھا شہر ہے کہ یہاں کی خاک ہم کو دوست رکھتی ہے اور ہم بھی اس کو دوست رکھتے ہیں، کوفہ کے باہر قبرستان (وہ قبرستان کوفہ جو شہر سے باہر واقع تھا ) سے روز قیامت ستّر ہزار افراد ایسے محشور ہوں گے جن کے چہرے چاند کی طرح چمک رہے ہوںگے، کوفہ ہمارا شہر اور ہمارے شیعوں کے رہنے کی جگہ ہے ۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خُدایا !جو شخص بھی کوفہ سے دشمنی رکھے توبھی اسے دشمن قرار دے،(٤) کوفہ میں شیعیت حضرت علی کی ہجرت سے بھی پہلے موجود تھی ............

(١)یاقوت حموی ،شہاب الدین ابی عبداللہ، معجم البلدان ،ص ١٦١ (٢)بلاذری، انساب الاشراف، منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات، بیروت، ١٣٩٤ھ ،ج٢ ص١٢٦ (٣)جعفریان ،رسول،تاریخ تشیع در ایران از آغاز تا ہفتم ہجری، شرکت چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی ، ١٣٧٧ھ ، ص٧١ (٤)ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ،دار الاحیاء کتب العربیہ،طبع قاہرہ ،ج٣،ص١٩٨

جس کے دوعوامل بیان کئے جاتے ہیں ۔ ایک یمنی قبائل کا وہاں پر ساکنہونا جیسا کہ پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ زیادہ تر افراد وہاںخاندان پیغمبر ۖکو دوست رکھنے والے تھے۔ دوسرے بزرگ شیعہ اصحاب کا وجود جیسے عبداللہ بن مسعود ، عمّار یاسر،عمر نے عمّار کووہاں کا حاکم بناکر اور ابن مسعود کو معلّم قرآن کے عنوان سے بھیجا تھاابن مسعود نے برسوں وہاں لوگوں کو فقہ او رقرآن کی تعلیم دی۔(١) ان دو بزرگو ں کی تعلیمات کے اثرات حضرت علی کی خلافت کے آغاز میں قابل مشاہدہ ہیں،آنحضرت کی بیعت کے وقت مالک اشتر کا وہ خطبہ جو کوفہ کے لوگوں کے درمیان روح تشیع کی حکایت کرتا ہے ا س وقت مالک اشتر کہہ رہے تھے: اے لوگو! وصی ا وصیاء اوروارث علم انبیا وہ شخص ہے جس کے ایمان کی گواہی کتاب خُدا نے دی ہے اور اس کے جنّتی ہونے کی گواہی پیغمبرۖ نے دی ہے تمام فضائل اس پر ختم ہوجاتے ہیں، اس کے سابقہ علمی اور فضل و شرف کے سلسلہ میں اولین اور آخرین میں کسی نے شک نہیں کیاہے۔(٢) جس وقت حضرت علی نے اپنے بیٹے امام حسن اور عمار کواہل کوفہ کے پاس ناکثین کے مقابلہ میں جنگ کرنے کے حوالے سے بھیجا تو ابو موسیٰ اشعری وہاں کا حاکم تھا اور لوگوں کو حضرت علی کا ساتھ دینے سے منع کر رہاتھا ،اس کے باوجود نو ہزار افراد حضر ت ............

(١)ابن اثیر ، ابی الحسن علی بن ابی کرم، اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ ، دار الاحیاء التراث العربی بیروت ، ج٣ ، ص ٢٥٨ (٢) ابن واضح، تاریخ یعقوبی،ص١٧٩

علی سے ملحق ہوگئے۔(١) حضرت علی کی ہجرت کے وقت سے تیسر ی صدی ہجری کے آخر تک کوفہ شیعوںکا اہم ترین شہر تھا ،ڈاکٹر حسین جعفری اس سلسلے میں کہتے ہیں: جس وقت حضرت علی سن ٣٦ھ میںکوفہ منتقل ہوئے اس وقت سے بلکہ اس سے بھی پہلے یہ شہر در واقع بہت سی تحریکوں، آرزؤں، الہامات اوربسا اوقات شیعوں کی ہم آہنگ کوششوں کا مرکز تھا اور کوفہ کے اندر اور باہر بہت سے نا گوار حادثات رونما ہوئے جو تشیع کے آغاز کے لئے تاریخ ساز تھے ،ان حوادث میں جیسے جنگ جمل وصفّین کے لئے حضرت علی کا فوج کو آراستہ کرنا، امام حسن علیہ السّلام کا خلافت سے دورہونا ۔حجر بن عدی کندی کا قیام ، امام حسین اور ان کے ساتھیوںکی در ناک شہادت ،انقلاب توابین اور قیام مختارمنجملہ انہیں حوادث میں سے ہیں، اس کے باوجود کوفہ نا امّیدی و محرومیت کا مرکز تھا،حتی کہ شیعوں کے ساتھ خیانت، اور ان کی آرزوں کی پامالی ان لوگوں کی طرف سے تھی جو خاندان علی کواسلامی سماج میں قیادت کے عنوان سے دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔(٢) اگر چہ امام حسین کو قتل کرنے والے اہل کوفہ تھے،(٣)شیعوں کی بزرگ ہستیاں اس وقت ابن زیادکے زندان میںمقید تھیں،(٤) دوسری طرف حضرت مسلم اور ہانی کی ............

(١) بلاذری ،انساب الاشراف،ص ٢٦٢ (٢) ڈاکٹر سید حسین جعفری ،تشیع در مسیر تاریخ، ترجمہ ڈاکٹر سید محمد تقی آیت اللھی، دفتر نشر فر ہنگ اسلامی، طبع قم ، ١٣٧٨ھ، ص ١٢٥ (٣) مسعودی ، علی بن حسین، مروج الذھب،منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ١٤١١ھ، ج٣، ص٧٣ (٤) مظفر محمد حسین تاریخ الشیعہ،منشورات مکتب بصیرتی ، ص٦٧

شہادت سے شیعہ ابن زیاد جیسے قوی خونخوار دشمن کے مقابلے میں بغیررہبر کے سر گردان و پریشان تھے لیکن امام حسین کی شہادت کے بعدوہ خواب غفلت سے بیدار ہوئے، توابین اور مختارکا قیام عمل میں آیا ،کوفہ اہل بیت کے ساتھ دوستی اور بنی امیہ کے ساتھ دشمنی میں مشہور تھا یہاں تک کہ مصعب بن زبیر نے اہل کوفہ کے دلوں کو اپنی طرف موڑنے کے لئے محبت اہل بیت کا اظہار کیا اور اسی وجہ سے امام حسین کی بیٹی سے شادی کی۔(١) پہلی صدی ہجری کے تمام ہونے تک اگر چہ نئے شیعہ نشین علاقے قائم ہوچکے تھے پھر بھی کوفہ شیعوں کا اہم ترین شہرشمار کیا جاتا تھا ۔ جیسا کہ عباسی قیام کے رہنما محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس نے دوسری صدی کی ابتدا اور بنی امیہ کے خِلاف قیام کے شروع میںبطور شفارش اپنی طرف دعوت دینے والوں سے کہا:یادرہے کوفہ اور اس کے اطراف میں شیعیان علی ابن ابی طالب رہتے ہیں۔(٢) ............

(١) ابن قتیبہ ، ابی محمد عبداللہ بن مسلم ، المعارف ، منشورات الشریف الرضی ، قم ، طبع اوّل ، ص ٢١٤ (٢) فخری نقل کرتا ہے: محمد بن علی نے اپنے چاہنے والوں اور مبلغوں سے کہا : کوفہ اور اس کے اطراف میں علی بن ابی طالب کے شیعہ رہتے ہیں ،بصرہ کے لوگوں نے عُثمانی جماعت کے ہاتھوں پر بیعت کی ہے لیکن جزیرہ کے لوگ حروری مسلک اور دین سے خارج ہیں، شام کے لوگ آلِ ابوسُفیان کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے اور بنی مروان کے علاوہ دوسرے کی اطاعت نہیں کرتے لیکن مدینہ اور مکہ کے لوگ ابو بکر اورعمر کی سیرت پر ہیں اس بنا پر خُراسان کے لوگوںسے غفلت نہ کرو کیونکہ وہاں کے لوگ بہت ہوشیار ، پاک دل اور آسودہ خاطر ہیں ، انہیں کسی چیز کی فکر نہیں ہے نہ تو مختلف مذاہب میں بٹے ہوئے ہیں اور نہ ہی دین و دیانت کے پابند ہیں ۔( ابن طباطبا ،الفخری فی اٰداب السُلطانیہ،طبع مصر ،ص ١٠٤

دوسری اور تیسری صدی ہجری میں بھی طالبیوں کے چند افراد نے کوفہ میں قیام کیا تھا ، عباسیوں کے دور میں عراق میں بغداد ایک اہم شہر بن چکا تھا اس کے باوجود بھی کوفہ نے اپنی سیاسی اہمیت کو ہاتھوں سے نہ جانے دیا اوردوسری صدی ہجری کے آخری نصف میں ابوالسرایا کی سپہ سالاری میں ابن طبا طبا کا قیام اس شہر میں عمل میں آیا ۔(١) اسی وجہ سے بنی امیہ کی طرف سے کوفہ کی سخت نگرانی ہونے لگی اور سفّاک و ظالم افراد جیسے زیاد، ابن زیاداور حجّاج بن یوسف اس شہر کے حاکم بنادیئے گئے وہاں کے حکاّم علویوں کے مخالف تھے اور اگر اتفاق سے کوئی حاکم مثل خالد بن عبداللہ قسری اگر تھوڑاسا شیعوں پر رحم بھی کرتا تھا تو فوراً اس کو ہٹا دیا جاتاتھا حتیٰ کہ اس کو زندان میں ڈال دیا جاتا تھا۔(٢) کوفہ سیاسی حیثیت کے علاوہ علمی اعتبار سے بھی ایک اہم شہر شمار ہوتا تھا اور شیعہ تہذیب وہاںپرحاکم تھی، اس شہر کاعظیم حصّہ ائمہ کے شیعہ شاگردوں پر مشتمل تھا ، شیعوں کے بہت سے بزرگ خاندان اس شہر کوفہ میں زندگی گذارتے تھے کہ جنہوں نے شیعہ تہذیب کی بے حد خدمت کی ،جیسے آل اعین امام سجاد کے زمانے سے غیبت صغریٰ تک اس خاندان کے افراد ائمہ طاہرین کے اصحاب میں سے تھے، اس خاندان سے ساٹھ جلیل القدر محدثین پیدا ہوئے جن میں زرارہ بن اعین،حمران بن اعین ، بکیر بن اعین ، حمزہ بن حمران ،محمد بن حمران ،عبید بن زُرارہ کہ یہی عبید امام صادق کی شہادت کے بعد ............

(١)ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین، منشورات شریف الرضی ، قم، ١٤١٦ ھ ق ، ص٤٢٤ ۔ ٤٣١ (٢) بلاذری ، ، انساب الاشراف، دار التعارف للمطبوعات ، بیروت ، ٣٩٧ ھ ج ٣، ص ٢٣٣

اہل کوفہ کی طرف سے نمائندہ بن کر مدینہ آئے تھے تاکہ امامت کے متعلق پیدا ہونے والے شبہات کو دور کریں اور کوفہ پلٹ جائیں۔( ١) آل ابی شعبہ بھی کوفہ میں شیعوں کا ایک بڑا خاندان تھا کہ ان کے جد ابو شعبہ نے امام حسن اور امام حسین سے حدیثیں نقل کی ہیں ،نجّاشی کا بیان ہے کہ وہ سب کے سب قابل اطمینان ا ور موثق ہیں۔(٢) اسی طرح آل نہیک جیسے شیعوں کے بڑے خاندان کوفہ میں رہتے تھے ،عبداللہ بن محمد اور عبد الرّحمن سمری انہیں میں سے ہیں ۔(٣) کوفہ کی مساجد بالخصوص وہاں کی جامع مسجد میں ائمہ طاہرین کی احادیث کی تدریس ہوتی تھی ،امام رضا علیہ السلام کے صحابی حسن بن علی وشّا کہتے ہیں: کوفہ کی مسجد میں میں نے نوسو افراددیکھے کہ وہ سب امام صادق سے حدیث نقل کر رہے تھے۔(٤) ............

(١) بلاذری،ابو غالب ، رسا لة فی آل اعین،مطبعہ ربانی، اصفہانی ، ص ٢ ۔١٨ (٢) نجاشی ، ابو العباس احمد بن علی ، فہرست اسمأ مصنفی شیعہ،دفتر نشر اسلامی ،وابستہ جامعہ مدرسین ، قم ١٤٠٧ھ ، ص ٢٣٠ (٣) نجاشی ، ابو العباس احمد بن علی ، فہرست اسمأ مصنفی شیعہ،دفتر نشر اسلامی ،وابستہ جامعہ مدرسین ، قم ، ٠٧ ١٤ھ ، ص٢٣٢ (٤) نجاشی ، ابو العباس احمد بن علی ، فہرست اسمأ مصنفی شیعہ،دفتر نشر اسلامی ،وابستہ جامعہ مدرسین ، قم ، ٠٧ ١٤ھ ، ص ٣٩ ۔ ٤٠ ) ۔


بصرہ[لکھو]

بصر ہ و ہ شہر ہے کہ جس کی مسلمانو ں نے کوفہ کے ساتھ ہی ١٧ ھ میںبنیاد رکھی ،(١) اگر چہ بصرہ کے لوگ عائشہ،طلحہ وزبیر کی حمایت کی وجہ سے عثمانی حوالے سے شہرت رکھتے تھے جس زمانے میں جمل کی فوج بصرہ میںمقیم تھی شیعیان امیر المومنین بھی وہاں زندگی بسر کرتے تھے اور امیر مومنین کے بصرہ پہنچنے سے پہلے ان کے شیعوں نے دشمنوں سے جنگ بھی کی کہ جس میں کافی تعداد میں لوگ شہید ہوئے جیسا کہ شیخ مفید نے نقل کیا ہے کہ فقط عبدالقیس قبیلہ سے پانچ سو شیعہ افراد شہید ہوئے۔(٢) بلاذری کے نقل کے مطابق ربیعہ قبیلہ کے تین ہزار شیعہ محل ذی قار میں حضرت سے ملحق ہوئے ۔(٣) جنگ جمل کے بعد بصرہ میں عثمانی رجحان بڑھنے کے باوجود کافی تعداد میں شیعہ وہاں زندگی بسر کر تے تھے ،اسی وجہ سے جب معاویہ نے ابن حضرمی کو فتنہ ایجاد کرنے کے لئے وہاں بھیجا تو اس کواس بات کی تاکید کی کہ بصرہ میں رہنے والے کچھ لوگ شیعہ ہیںبعض قبائل جیسے ربیعہ سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی، بہر حال عثمانی خیال وہاں پر زیادہ تھے اور اگرحضرت علی علیہ السّلام کوفہ سے فوج نہیں بھیجتے تو ابن حضرمی کی فتنہ پردازیوں سے بصرہ عثمانیوں کے ذریعہ ان کے کنٹرول سے نکل جاتا ۔(٤) ............

(١) یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبداللہ ، معجم البلدان،دار احیا ء التراث العربی ، بیروت طبع اوّل ، ١٤١٧ ھ، ج ٢ ، ص ٣٤٠ (٢) شیخ مفید، الجمل، مکتب الاعلام الا سلامی ،مر کز نشر ، قم ، ١٤١٦ھ،ص٢٧٩ (٣)انساب الاشراف،منشورات موسسئہ الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٣٩٤ ھ ، ج ٢ ، ص ٢٣٧ (٤) ثقفی کوفی ، ابراھیم بن محمد ، الغارت ،ترجمہ محمد باقر کمرہ ای ، فرہنگ اسلامی ،ص١٦٦

واقعہ کربلا کے وقت بھی امام حسین نے بصرہ کے چند بزرگوں کو خط لکھا ان میں سے یزید بن مسعود نہشلی نے امام کی دعوت کو قبول کیااور لبیک کہا اورکچھ قبائل بنی تمیم ، بنی سعد، اور بنی حنظلہ کو جمع کرکے ان کو امام حسین کی مدد کے لئے دعوت دی ، اس وقت ان قبیلوں نے اپنی آمادگی کا خط امام کو لکھا ،لیکن جب امام حسین سے ملحق ہونے کے لئے آمادہ ہوئے توان کو حضرت کی خبر شہادت ملی۔( ١) مسعودی کے نقل کے مطابق توابین کے قیام میں بھی بصرہ کے کچھ شیعہ مدائن کے شیعوں کے ساتھ فوج میں ملحق ہوئے لیکن جس وقت وہاں پہنچے جنگ تمام ہو چکی تھی۔ (٢) بنی امیہ کے دور میں بصرہ کے شیعہ زیاد اور سمرہ بن جندب جیسے ظالموں کے ظلم کا شکار تھے، زیاد ٤٥ھ میں بصرہ آیا اور خطبہ بتراء پڑھا ،(٣) کیونکہ زیاد نے اس خُطبہ کو بغیر نام خدا کے شروع کیا اس لئے اس کو بتراء کہا جانے لگا اس نے اس طرح کہا: خدا کی قسم میںغلام کوآقا، حاضر کو مسافر ، تندرست کو بیمار کے گناہ کی سزا د وں گا یہاں تک کہ تم ایک دوسرے کا منھ دیکھو گے اور کہو گے سعد خود کو بچائو کہ سعید تباہ ہو گیا،آگاہ ہو جائواس کے بعد اگر کوئی بھی رات میں باہر نکلاتومیں اس کا خون بہادوں گا اپنے ہاتھوں اور ............

(١)امین ، سید محسن ، اعیان الشیعہ ،دارالتعارف للمطبوعات ، بیروت ،( بی تا ) ج ١ ،ص ٥٩٠ (٢)مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذھب، منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ ج٣ ، ص ١٠٩ (٣) بتراء ابتر کا مؤنث ہے جس کے معنی بریدہ اور ناقص کے ہیں حدیث میں ہر وہ گفتگو جو خُدا کے نام سے شروع نہ ہو اس کو ابتر کہا جاتا ہے۔

زبان کو بند رکھنا تاکہ میرے ہاتھ اور زبان سے امان میں رہو،(١)بعد میں کوفہ بھی زیادکے کنٹرول میں آگیا، زیاد چھ ماہ کوفہ میں رہتاتھا اور چھ ماہ بصرہ میں جس وقت کوفہ جاتا تھا سمرة بن جندب کو بصرہ میں اپنی جگہ معین کر دیتا تھا، سمرہ ایک ظالم شخص تھا جو خون بہانے میں ذرہ برابر بھی اعتنانہیں کرتا تھا اس نے زیاد کی غیر موجود گی میں آٹھ ہزار افراد کو قتل کیا (٢)وقت کے ساتھ ساتھ بصرہ میں شیعیت بڑھتی گئی یہاں تک کہ حکومت عباسی کے آغاز میں دوسرا علوی قیام جو محمد نفس زکیہ کے بھائی ابراہیم کانے کیا بصرہ میں واقع ہوا ۔(٣)

مدائن[لکھو]

کوفہ اور بصر ہ کے بر خلاف مدائن ایساشہر ہے کہ جو اسلام سے پہلے بھی موجود تھا اور سعد بن ابی وقاص نے ١٦ھ میںعمر بن خطاب کی خلافت کے زمانہ میں اس کو فتح کیا، ایک قول کے مطابق نوشیرواں نے اس شہر کی بنا رکھی اور فارسی میں اس کانام تیسفون تھا جو ساسانیان کے پائے تخت میں شمار ہوتا تھا طاق کسریٰ بھی اسی شہر میں واقع ہے اس شہر میںسات بڑے محلے تھے ہر محلہ ایک شہر کے برابر تھا اسی بنا پر عربوں نے اسے مدائن کہا جو مدینے کی جمع ہے البتہ کوفہ بصرہ ،بغداد ،واسط اور سامرہ جیسے جدید شہروںکی بناکے بعد یہ شہر ویران ہوتاگیا۔ (٤) ............

(١) شہیدی ڈاکٹر سید جعفر ، تاریخ تحلیل اسلام تا پایان امویان،مر کز نشر دانشگاہ علمی ، تہران ، ص ١٥٦ (٢)طبری ، محمد بن جریر ، تاریخ الامم والملوک،دار القاموس الحدیث ، بیروت ، ج ٦ ، ص ١٣٢ (٣)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ، منشورات شریف الرضی ، قم ١٤١٦ ھ ، ص٢٩٢ (٤)یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبد اللہ ،معجم البلدان، طبع اول ، ١٤١٧ھ ، ج٧ ص ٢٢١۔٢٢٢، مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذہب ، ج١ ص ٢٦٧

پہلی دوسری وتیسری صدی ہجری تک مدائن شیعہ نشین شہروں میں شمار ہوتا تھا اور یہ جلیل القدرشیعہ اصحاب جیسے سلمان فارسی ،حذیفہ بن یمان کی حکمرانی کی وجہ سے تھا اسی وجہ سے مدائن کے لوگوں نے اسلام کوشروع میں شیعہ اصحاب سے قبول کیا تھا قیام توابین میں شیعیان مدائن کے نام واضح و روشن ہیں ،مسعودی کا بیان ہے سلیمان بن صرد خزاعی اور مسیب بن نجبہ فزاری کی شہادت کے بعد توابین کی قیادت کی ذمہ داری عبداللہ بن سعد بن نفیل نے اپنے ذمہ لے لی ،اس وقت مدائن و بصرہ کے شیعوں کی تعداد تقریباً پانچ سو افرادتھی اور مثنیٰ بن مخرمہ اور سعد بن حذیفہ ان کے سردار تھے ، تیزی سے آگے آئے اور اپنے کو توابین تک پہنچانے کی کوشش کی لیکن نہیں پہنچ سکے،(١)یاقوت حموی کے قول کے مطابق اکثر اہل مدائن شیعہ تھے ۔(٢)

جبل عامل[لکھو]

پہلی صدی ہجری میں شیعہ نشین مناطق میں سے ایک جبل عامل تھا یہاں شیعیت اس وقت سے وجودمیں آئی جب عثمان نے جناب ابوذرکو ملک شام شہربدرکیا مرحوم سید محسن امین کہتے ہیں : معاویہ نے بھی ابوذر کو جبل عامل کے دیہاتوں میں شہر بدرکردیا ابوذر وہاں لوگوں کی ہدایت اور تبلیغ کرتے رہے، لہذا وہاں کے لوگوں نے مذہب تشیع اختیار کر لیا جبل عامل کے دو گائوں صرفند ،اور میس میں دو مسجدیں ہیں، جو ابوذر سے منسوب ہیں یہاں تککہ امیر المومنین کے زمانے میں اسعار نام کے گائوں میں شیعہ مذہب کے ............

(١)مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذھب ، ج٣ص ١٠٩ (٢)یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبد اللہ ،معجم البلدان، طبع اول ، ١٤١٧ھ ، ج٧ ص٢٢٢

لوگ تھے۔(١) مرحوم مظفر نے بھی وہاں کے تشیع کے بارے میں کہا ہے جبل عامل میں تشیع کی ابتدا ابوذر غفاری کے فضل سے ہے ،(٢) کرد علی کا بھی کہنا ہے :دمشق ،جبل عامل اور شمال لبنان میں تشیع کا آغازپہلی صدی ہجری سے ہی ہے۔(٣) ............

(١)اعیان الشیعہ،دار التعارف للمطبوعات ، بیروت ،ج١، ص ٢٥ (٢)تاریخ الشیعہ، منشورات مکتبة بصیرتی ، ص ١٤٩ (٣)خطط الشام ، مکتبة النوری ، دمشق ،طبع سوم ،١٤٠٣ھ ١٩٨٣ ج ٦ ص ٢٤٦


دوسری صدی ہجری میں شیعہ نشین علاقے[لکھو]

دوسری صدی ہجری کی ابتدا میں تشیع جزیرةالعرب اور عراق کی سرحدوں سے عبور کر کے تمام اسلامی مناطق میںپھیل گیا ،شیعوں اور علویوں کے اسلامی سرزمینوں میںپھیلنے سے یہ مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ حجاج بن یوسف کے زمانہ سے شیعوںاور علویوںکی مہاجرت شروع ہوئی دوسری صدی ہجری کے شروع میںعلویوں کی تبلیغ اور قیام سے اس ہجرت میں تیزی آ گئی کوفہ میںقیام زید کے شکست کھانے کے بعد ان کے بیٹے یحییٰ نے اپنے چند چاہنے والوں کے ساتھ خراسان ہجرت کی،(1)اس کے بعد عبد اللہ بن معاویہ کاقیام عمل میں آیا،یہ جعفر طیار کے بیٹوں میں سے ہیںانہوں نے ہمدان ،قم، ری،قرمس،اصفہان اورفارس جیسے مناطق کو اپنے قبضہ میںکیا اور خود اصفہان میںزندگی گذاری۔ ............

(1)ابوالفرج اصفھانی ،مقاتل الطالبین ،منشورات شریف الرضی ،قم ،١٤١٦ھ ص١٤٦

ابوالفرج اصفہانی کا بیان ہے : بنی ہاشم کے بزرگ اس کے پاس جاتے تھے اور وہ ہر ایک کے لئے کو اطراف میں حکومت فراہم کرتا تھایہاں تک کہ منصور اور سفاح عباسی نے بھی اس کا ساتھ دیا ،مروان حمار اورابو مسلم کے زمانہ تک وہ اپنی جگہ پر مستحکم تھا۔(١) عباسیوں کے دور میںمسلسل علوی قیام وجود میںآتے رہے ان قیام کا ایک حتمی نتیجہ یہ نکلا کہ مختلف علاقہ میںعلوی افرادپھیل گئے جیسا کہ منصور کی حکومت میں محمد نفس زکیہ کے قیام کی شکست کے بعد امام حسن کی اولاد مختلف منا طق میں پھیل گئی، مسعودی کا اس بارے میں کہنا ہے : محمد بن عبداللہ (نفس زکیہ )کے بھائی مختلف ملکوں میںپھیل گئے علی بن محمد مصر چلے گئے اور وہیں پر قتل کر دیئے گئے دوسرے بیٹے عبداللہ بن محمد نے خراسان اور وہاں سے سندھ مہاجرت کی اور وہاں مار دیئے گئے تیسرے بیٹے حسن بن محمدنے یمن کا سفر کیا وہاں زندان میںڈال دئے گئے اور زندان ہی میں دنیا سے رخصت ہوگئے ا ن کے بھائی موسیٰ نے جزیرہ کا رخ کیا اور دوسرے بھائی یحٰ نے ری اور وہاںسے طبرستان کا سفر کیا، ان کے تیسرے بھائی مراقش چلے گئے اور چوتھے بھائی ابراہیم نے بصرہ کا رخ کیا اور نے وہاں پر اہواز ،فارس اور دوسرے شہروں کے لوگوں کے ساتھ ملکرلشکر بنایا لیکن ان کاقیام شکست کھاگیا۔(٢) اگر چہ ان میں سے زیادہ تر عباسی مامورین کی نگرانی میںتھے اور ایک جگہ ............

(١)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ،منشورات شریف الرضی ،قم ،١٤١٦ھ،ص :١٥٧ (٢)مسعودی ،علی بن حسین، مروج الذھب،منشورات مؤسسةالاعلمی للمطبوعات ،بیروت ١٤١١ھ، ج٣،ص٣٢٦

قیام نہیں کر سکتے تھے اورقتل ہوجاتے تھے لیکن اپنے اثرات چھوڑ جاتے تھے کبھی ان کے بیٹے ان علاقوںمیں رہتے تھے، جیسا کہ عبداللہ نفس زکیہ کا بیٹا ،مسعودی کے نقل کے مطابق وہ خراسان میںنہیں رہ سکے اور سندھ کی طرف چلے گئے،( ١)لیکن صاحب کتاب منتقلة الطالبیین کے نقل کے مطابق عبداللہ بن ابراہیم خراسان میںرہتے تھے اور ان کے قاسم اور محمد نام کے دو بیٹے تھے،(٢)اسی طرح ماوراء النہرمیںکچھ ایسے گروہ تھے کہ جو اپنے کو ابراہیم بن محمد نفس زکیہ سے نسبت دیتے تھے۔(٣) اب ہم ان شہراورعلاقوں کے حالات کی تحقیق کریں گے جہاں دوسری صدی ہجری میں شیعہ کثیر تعداد میں زندگی بسر کررہے تھے۔

خراسا ن[لکھو]

دوسری صدی کے شروع ہو نے کے ساتھ ساتھ بنی ہا شم کے مبلغین کی تحریک اور کوشش سے خراسا ن کے اکثرلوگ شیعہ ہوگئے ۔(٤) ............

(١)مسعودی ،علی بن حسین، مروج الذھب،منشورات مؤسسةالاعلمی للمطبوعات ،بیروت ١٤١١ھ،ج٣،ص٣٢٦ (٢)ابن طباطبا،ابو اسماعیل بن ناصر ،منتقلةالطالبیین ،ترجمہ محمد رضا عطائی انتشارات آستانہ قدس رضوی ۔طبع اول١٣٧٢ش ھ،ص٢٠٧ (٣)ابن طباطبا،ابو اسماعیل بن ناصر ،منتقلةالطالبیین ،ترجمہ محمد رضا عطائی انتشارات آستانہ قدس رضوی ۔طبع اول١٣٧٢ش ھ:ص٤٠٣ (٤) اس بات پر توجہ رہے کہ بنی ہاشم کی اصطلاح اس زمانہ میں عباسیوں کو بھی شامل تھی کیونکہ ہاشم ان کے بھی جد تھے۔

یعقوبی نقل کرتا ہے: زید کی شہا دت کے بعد خراسان کے شیعہ جوش و خروش میں آگئے اور اپنے شیعہ ہونے کابرملہ ا ظہارکرنے لگے نیزمبلغوں اور خطیبوں نے بنی امیہ کی جانب سے خا ندان پیغمبر ۖپر ہونے والے مظالم کا کھلم کھلا اعلان کرنا شروع کردیا۔(١) یحییٰ بن زید خراسا ن چلے گئے اور اور چند دنوں تک مخفی زندگی گزاری جس وقت خروج کیا کافی لوگ ان کے ارد گر دجمع ہو گئے ،(٢) مسعودی کے نقل کے مطابق جس سال یحٰ کا قتل ہو ا اس سال جوبچہ بھی خراسان میں پیدا ہوا اس کا نا م یحٰ رکھا گیا۔ (٣) البتہ خراسان کے شیعوں پر زیدیوں اور عباسیوں کے مبلغین کے سبب زیدیت اور کیسانیت کارنگ چڑھا ہو اتھاخاص کر عباسیوں نے اپنی خلافت کے آغاز میں محمد حنفیہ کے بیٹے محمد بن علی ابو ہاشم کی جانشینی کا اعلان کیا ،جیسا کہ ابو الفرج اصفہانی نے عبد اللہ بن محمد حنفیہ کے حالات کے ذیل میں لکھا ہے : یہ وہی ہیں جن کے بارے میں خراسان کے لوگوں کا گمان تھا کہ ان کے والد امام تھے اور یہ ان کے وارث ہیں اور ان کے وارث محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس ہیں اور محمد بن علی نے ابراہیم کو اپنا وصی بنایا ہے اس طرح سے عباسیوں میں جانشینی استوار ہوئی ،(٤)خراسانی مسلسل عباسیوں کے طرفدار تھے علویوں او ر عباسیوں کے درمیان ہونے والے نزاع کے دوران عباسیوں کی طرفداری ............

(١)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی ،منشورات شریف الرضی ،قم ، ١٤١٤ھ، ج٢ ص ٣٢٦ (٢)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ،منشورات شریف الرضی ،قم ،١٤١٦ھ،ص ١٤٩ (٣)مسعودی ، علی بن حسین ،مروج الذھب، ص٣٣٦ (٤) ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، ص ١٢٣

کرتے تھے چنانچہ محمد نفس زکیہ کے ساتھ جنگ میں اکثر عباسی سپاہی خراسانی تھے اور فارسی میں گفتگو کرتے تھے، ابوالفرج اصفہا نی نقل کرتے ہیں: جس وقت محمد نفس زکیہ کے سرداروں میں سے ایک سردار بنام خضیر زبیری مدینہ سے فوجی چھائونی کی طرف آرہا تھاخراسانی فارسی میں کہہ رہے تھے : خضیرآمدخضیر آمد۔(١)

قم[لکھو]

دوسری صدی ہجری کے بعد قم اہم ترین شیعہ نشین شہرشمار ہوتا تھا اور اس شہرکی بنیاد نہ صرف یہ کہ اسلامی ہے بلکہ شیعوں کے ہاتھوں سے رکھی گئی ہے اور اس میںشروع سے ہی شیعہ آباد تھے اور ہمیشہ شیعہ اثنا عشری رہے کہ جو کبھی راستہ سے منحرف نہیں ہوئے ،نہ صرف یہ کہ سنیوںنے اس شہر میں کبھی سکونت نہیںکی بلکہ غالیوں کے لئے بھی یہاں آنا ممکن نہیں ہوااور اگرکبھی اس شہر میں آبھی جاتے تھے تو قم کے لوگ ان کو بھگادیتے تھے۔(٢) یہاں کے بہت سے لوگوںنے ائمہ اطہار کی خد مت میں حاضری دی ہے اور ان بزرگوں سے کسب فیض کیا ہے اور مسلسل ائمہ سے رابطہ میں رہے ہیں ٨٢ ھ میں ابن اشعث کی شورش حجاج کے مقابلہ میں ناکام ہوگئی اور وہ کابل کی جانب فرار کر گیا ، (٣) ا س کی ............

(١) ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، ص ٢٣٨ (٢) رجال بن داؤد ،منشورات الرضی ، ص ٢٤٠۔٢٧٠ (٣)مسعودی علی بن حسین ،مروج الذھب ، منشورات موسسہ الاعلمی مطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ھ ، ج٣ص ١٤٩

فوج میں بعض شیعہ بھی موجود تھے ،منجملہ عبداللہ ،احوص،نعیم ،عبدالرحمٰن اوراسحاق ،سعد بن مالک بن عامر اشعری جو ابن اشعث کی شکست کے بعد قم کی طرف آگئے ،وہاں سات گاؤں تھے ان میں ایک گاؤں کا نام کمندان تھا یہ سارے بھائی اس گاؤں میں ساکن ہو گئے اور ان کے رشتہ داراور رفقا ان سے ملحق ہوتے گئے اور رفتہ رفتہ یہ تمام دہات آپس میں مل گئے اور سات محلوں کی طرح ہو گئے ان سب کو کمندان کہا جانے لگا آہستہ آہستہ آگے کے حروف کم ہوتے گئے اورترخیم ہوکر عربی میں قم ہو گیا۔ (١) اس کے بعد قم شیعوں کا ایک اہم مرکز ہو گیا اور شیعہ خصوصاًعلوی ہر جگہ سے یہاں آئے اور قم میں ساکن ہوگئے ،(٢)دوسری صدی ہجری کے آخر میں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی تشریف آوری سے اس شہر کی تاریخی عظمت بڑھ گئی اور معصومہ(س)کے آنے کی برکت سے اس شہر کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ۔

بغداد[لکھو]

دوسری صدی ہجری ١٤٥ ھ میں خلیفہ عباسی کے دوسرے خلیفہ منصور کے ذریعہ اس شہر کی بنا رکھی گئی اور بہت جلدی شیعوںکا مرکز ہو گیا ،(٣)اس چیز کو امام کاظم کی تشییع جنازہ میںپوری طرح ملاحظہ کیا جاسکتا ہے،شیعوں کے ازدہام اور جم غفیر کی ............

(١)یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبد اللہ ، معجم البلدان ،دار احیاء التراث العربی ، بیروت، طبع اول ، ١٤١٧ھ، ج٧ ص ٨٨ (٢)ابن طبا طبا ، ابو اسماعیل بن ناصر ، منتقلةالطالبین ،ترجمہ ، محمد رضا عطائی ، انتشارات آستان قدس رضوی ، طبع اول ، ١٣٧٢ھ ص ٣٣٣۔٣٣٩ (٣)حموی ،یاقوت بن عبد اللہ ،معجم البلدان،دار احیاء التراث ، بیروت ج ٢ ص ٣٦١

بناپر عباسی خوف زدہ ہو گئے،سلیمان بن منصور، ہارون کا چچا لوگوں کے غصہ کو کم کرنے کے لئے پا برہنہ تشییع جنازہ میں شریک ہوا ۔(١) بغدادکی بنیاد عراق میں رکھی گئی اور عراق کے اکثر لوگ شیعہ تھے اگر چہ ابتدا میں یہ ایک فوجی و سیاسی شہر تھا ،مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ جہان اسلام کی علمی مرکز یت یہاں منتقل ہوگئی اور کوفہ بصرہ مدائن کے شیعہ یہاں ساکن ہو گئے، اور مختصر سا زمانہ گزرنے کے بعد یہاں کی آبادی بہت زیادہ ہو گئی رفتہ رفتہ غیبت صغریٰ کے بعد شیعہ مذہب کی علمی مرکزیت بھی یہاں منتقل ہو گئی اور آل بویہ کی شیعہ حکومت کے سائے میں وہاں تشیع نے مزیدرونق حاصل کی، اس کے بعد شیخ طوسی نے شیعی مرکزیت کو نجف منتقل کیا ۔

تیسری صدی ہجری میں شیعہ نشین علاقے[لکھو]

تیسری صدی ہجری میں شیعوںکی جغرافیائی صورت حال کو دو طریقہ سے مورد بحث قرار دیا جا سکتا ہے : اسلامی سر زمین میں شیعہ حکومتوں کی تشکیل،٢٥٠ھمیں علویوں نے طبرستان میں حکومت تشکیل دی،(٢)تیسری صدی ہجری کے اواخر میں سادات حسنی نے یمن میںزیدیوں کی حکومت تشکیل دی،٢٩٦ھمیں فاطمی حکومت شمال افریقہ میںتشکیل پائی،(٣)اگرچہ یہ حکومتیں شیعہ اثنا عشری کے مبانی اور اصولوں پر استوار نہیں تھیںاس ............

(١)امین سید محسن ،اعیان الشیعہ، دار التعارف للمطبوعات ، بیروت ،ج١ ص ٢٩ (٢) ابی محمد بن جریر طبری ،تاریخ طبری، دار الکتب العلمیہ ، بیروت، طبع دوم ، ١٤٠٨ھ ج٥ ص ٣٦٥ (٣) جلال الدین سیوطی ، تاریخ الخلفائ،منشورات الرضی ، طبع اول ، ١٤١١ھ ،ج ص ٥٢٤

کے باوجود ان حکومتوںکا وجود ان علاقوں اور سر زمینوںپر فروغ شیعیت کے لئے ایک سنگ میل قرار پایا،زیدیوں اور اسماعیلیوں نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا ۔ دوسرا راستہ ان مناطق کی فہرست ہے جہاں ائمہ اطہار کے وکیل تھے، وکالت کا نظام امام صادق کے دور سے شروع ہوا اور امام ہادی و امام حسن عسکری کے زمانے میں یہ نظام اپنے عروج پر تھا اور پوری طرح سے اس کی فعالیت جاری و ساری تھی جن مناطق میں ائمہ کے وکلاتھے وہ حسب ذیل ہیں: اہواز، ہمدان، سیستان، بست،ری، بصرہ،واسط، بغداد ،مصر، یمن،حجاز،مدائن۔(١) البتہ تیسری صدی ہجری کے آخر میں کوفہ،قم ،سامرہ اور نیشاپور اہم ترین شیعہ شہروں میں شمار ہونے لگے، ان جگہوں پر شیعہ فقہ کی تدریس ائمہ معصومین کی احادیث کی بنیاد پر ہوتی تھی، ہاں تیسری صدی ہجری کے بعد کوفہ کی رونق کم ہو گئی اور آہستہ آہستہ بغداد نے اس کی جگہ لے لی آل بویہ کے وہاں آنے سے نیز بزر گان شیعہ جیسے شیخ مفید سید مرتضیٰ،سید رضی ،شیخ طوسی کے وجود سے بغداد کے حوزۂ علمیہ کو مزید فروغ ملا۔ بغداد میں شیعہ نفود کے بارے میں آدام متزچوتھی صدی ہجری کے حوالہ سے لکھتا ہے : بغداد جو تمام جہت سے اسلام کا پایہ تخت تھا اورہر طرح کے فکری نظریات کا دریا وہاں موجزن تھا ،تمام مذاہب کے طرفدار وہاں موجود تھے جن میں دو گروہ سب سے زیادہ قوی اور حد سے زیادہ متعصب تھے، ایک حنبلی دوسرے شیعہ، طرفداران تشیع بازار کرخ کے اطراف میںمنظم طریقہ سے مقیم تھے اور چوتھی صدی ہجری کے آخر میں پل ............

(١)پور طباطبائی ، مجید،تاریخ عصر غیبت، مرکز جہانی علوم اسلامی ، ص ١١٩

کے اس طرف باب الطاق میںبھی آباد ہوگئے دجلہ کے غرب میں خصوصاًباب بصرہ میںہاشمیوں(سادات عباسی) نے ایک طاقتور اور قوی دستہ تشکیل دیا تھا، جو شیعوںسے شدید دشمنی رکھتا تھا یاقوت لکھتا ہے : باب البصرہ کے محلے میں رہنے والے کرخ و قبلہ کے درمیان سب سنی حنبلی ہیں بائیں ہاتھ اور جنوب کے محلے میں بھی سبھی سنی ہیں لیکن کرخ کے تمام افراد شیعہ امامیہ ہیں اور ان کے در میان سنیوں کا وجود نہیں ہے۔ مؤرخین کے مطابق بغداد کے شیعوں نے ٣١٣ھ میں سب سے پہلے مسجد براثا میں اجتماع کیا وہاں کے خلیفہ کو یہ خبر ہوگئی کہ ایک گروہ خلفا پر لعنت کرنے کے لئے وہاں جمع ہوا ہے حاکم کے حکم کے مطابق روز جمعہ نماز کے وقت اس جگہ کا محاصرہ کرلیا گیا اور تیس نمازیوں کو گرفتار کرکے ان کے بارے میںچھان بین کی گئی ،ان کے پاس ایک سفید مٹی کی سجدگاہ برآمد ہوئی کہ جس پر امام کا نام منقوش تھا ،٣٢١ھ سردار ترک میں علی بن یلبق نے حکم دیا کہ معاویہ اور یزیدپر منبروں سے لعنت کی جائے، سنیوں نے اس کے خلاف شورش برپا کی، جن کی عنان حنبلیوں کے پیشوا اور ان کے دوستوںکے ہاتھ میں تھی، حنبلیوں کی فتنہ انگیزی کی وجہ سے ٣٢٣ھ میںبغداد میں یہ قانون پاس کیا گیا کہ دوحنبلی ایک جگہ جمع نہ ہوسکتے اور خلیفہ نے ایک خط لکھا جس میں حنبلیوں کی غلطیوں کی سزا معین کی(١)اور یہ چیز مشہور ہو گئی۔ ............

(١)آدم متزتمدن اسلامی درقرن چہارم ہجری،ترجمہ علی رضا ذکاوتی قرا گز لو، انتشارات امیر کبیر،تہران،طبع دوم ،١٣٦٤ہجری،ص٨٥،٨٦


قبائل کے درمیان تشیّع[لکھو]

اصولی طور پر عدنانیوں کے مقابلہ میں قحطانی قبائل میں حضرت علی کے چاہنے والے اور ان کے شیعہ زیادہ تھے اور قحطانیوں کے درمیان تشیع کو زیادہ فروغ ملا امیرالمؤمنین کے دور خلافت میں آنحضرت کے سر کردہ افراد اور سپاہی نیزاہل شیعہجنوب عرب کے قبائل اور قحطانی تشکیل دیتے تھے، جیسا کہ حضرت نے ایک رجز میں صفین کے میدان میں اس طرح فر مایا :

انا الغلام القرشی المؤتمن
الماجد الابیض لیث کالشطن

میں امین اور بزرگوار قریش کا ایک جوان ہوں سفید رو اور مثل شیر ہوں۔

یرضی بہ السادة من اہل الیمن
من ساکنی نجد ومن اہل عدن

(١)

اہل یمن کے بزرگ اور عدن کے رہنے والے اس سے راضی ہیں۔

اسی طرح پیغمبر اسلامۖ کی رحلت کے بعد اصحاب پیغمبرۖکے درمیان علی کے طرفداروں میں سب سے زیادہ انصار تھے جو اصل میں قحطانی تھے اور علی کے ساتھی مدینہ سے جمل تک انصار ہی تھے۔(٢) ابن عباس نے بھی امام حسین سے کوفہ کی جانب کوچ کرتے وقت کہاتھا: اگر اہل عراق آپ کے خوا ہاں ہیں اور آپ کی مدد کے لئے آمادہ ہیں تو ان کو لکھ بھیجے کہ میرے دشمن ............

(١)ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب ،موسسہ انتشارات علا مہ ،قم ،ج٣،ص١٧٨ (٢)بلاذری ،انساب الاشراف،ج٣،ص١٦١

کو باہر نکال دیں، اس کے بعد آپ وہاں جائیں ورنہ آپ یمن کی جانب رحلت کریں کیونکہ وہاں ایسے پہاڑ اور قلعے ہیں جو عراق میں نہیں ہیں یمن ایک بزرگ سر زمین ہے اوروہاں آپ کے والد کے شیعہ موجود ہیں ،اس جگہ آپ اپنے مبلغین کو اطراف میں بھیجئے تاکہ لوگ آپ کی طرف آئیںامام حسین کے اصحاب بھی بنی ہاشم اورچند غفاریوں کے علاوہ سب یمنی قبائل میں سے تھے۔ (١)

جیساکہ مسعودی کا بیان ہے:

اصحاب پیغمبر ۖ میں صرف چار افراد حضرت امام حسین کے ساتھ شہید ہوئے اور یہ چاروںافرادانصارمیں سے تھے۔(٢) انصار کا انتساب بھی قبائل یمن کے ساتھ معلوم ہے اس کے برخلاف اشراف قریش، علی اور خاندان علی کے دشمن تھے (جس طرحسے پیغمبر ۖکے دشمن تھے )ان کے درمیان دوست بہت کم تھے یہاں تک وہ قبائل جن کاقریش کے ساتھ نزدیکی رابطہ تھا وہ بھی ہمیشہ علی کے مخالفین کی صف میں کھڑے ہوتے تھے مثل قبیلۂ ثقیف اور اہل طائف کہ جو جنگ صفین میں اور اس کے بعد معاویہ کے طرفدار تھے ، جس وقت معاویہ نے بسر بن ارطاة کو حجاز اور یمن کی غارت گری کے لئے بھیجا اور جس وقت وہ طائف کے نزدیک پہنچا تو مغیرہ بن شعبہ اس کے استقبال کے لئے آیا اور کہا : خدا تجھے جزائے خیر دے، تو دشمن کے ساتھ سخت گیر اور دوستوں کے ساتھ احسان کرنے والا ہے اس کی خبر مجھ کو ملی ہے بسر نے کہا : اے مغیرہ !میں چاہتا ہوں کہ اہل طائف پردبائوڈالوں تاکہ معاویہ کی بیعت ............

(١)کلبی،جمہرة النسب،عالم الکتب ،بیروت ،ص٨٨ (٢)مسعودی،علی بن الحسین،مروج الذھب ، بیروت،١١١٤ھ ج :٣، ص ٧٤

کریں،مغیرہ نے کہا : جو برتائو تو نے دشمنوں کے ساتھ کیا وہی برتائو تو دوستوں کے ساتھ کیوں کرنا چاہتا ہے ایسا کام انجا م نہ دے ورنہ سب تیرے دشمن ہو جائیں گے۔ (١) بنی ہاشم کے علاوہ قریش کے معدودے چند افراد حضرت علی کے ساتھ تھے جیسے محمد بن ابی بکر اور ہاشم مرقال اگر چہ قریش کے ان اندھیروں اور ظلمتوں کے درمیان کچھ لوگ حضرت علی کے ساتھ تھے۔ مثلاًخالد بن ولید جو دشمن امیرالمومنین میں سے تھا اس کابیٹا مہاجر بن خالد صفین میں حضرت کے سپاہیوں میں تھا، یا عبداللہ بن ابو حذیفہ معاویہ کے ماموں کا بیٹا حضرت علی کے مخلص شیعوں میںسے تھا اور آخر میں معاویہ کے سپاہیوںکے ہاتھوں شہید ہو گیا،یمن کے تمام قبیلوں میںعلی کے دوست اور طرفدار موجود تھے مثلاً قبائل کندہ ، نخع ،ازد جہینہ ،حمیر بجیلہ، خثعم، خزاعہ، حضرموت ،مذحج ،اشعر ،طی،سدوس،حمدان اور ربیعہ، (٢) لیکن ان میں دو قبیلہ حمدان اور ربیعہ سب سے آگے تھے ۔(٣) حمدانی زمانہ پیغمبر ۖ میں ہی حضرت علی کے ذریعے اسلام لائے اور مسلمان ہوگئے تھے اور حضرت کے دوست نیز ان کے مخلص شیعوں میں شمار ہوتے تھے ،مسعودی کہتا ہے: صفین میں ان میں سے ایک آدمی بھی معاویہ کی فوج میں نہیں تھا۔ (٤) حضرت علی نے حمدان کے بارے میں فرمایا: ............

(١)شہیدی ، دکتر سید جعفر ،تاریخ تحلیل اسلام تا پایان امویان ،مرکز نشر دانش گاہی ، تہران ١٣٦٣ھ، ص١٣٧ (٢)احمد بن محمد بن خالد البرقی،رجال برقی،موسسہ القیوم ص٣٧ج٤٠ ، ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ،دار احیاء الکتب العربیة،قاہرہ ،ج ٣،ص١٩٣ (٣)ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب،موسسہء انتشارات علامہ، قم ،ج٣،ص١٧٨ (٤)مسعودی مروج الذھب،منشورات موئسسة الاعلمی للمطبوعات، بیروت،ج٣، ص٩٩

و لوکنت بواً باًعلیٰ باب الجنة
لقلت لحمدان ادخلوا بسلام ( ١)
اگر میں بہشت کا دربان رہا تو قبیلہء حمدان سے کہوں گا کہ سلامتی کے ساتھ داخل ہو جائیں ۔
معاویہ حمدانیوں سے دلی دشمنی رکھتا تھا وہ صفین میں ایک دن میدان میں آیا اور یہ اشعار پڑھے :
لاعیش الا فلق الہام
من ارحب ویشکر شبام
زندگی نہیں چاہئے مگراس لئے کہ حمدان کے قبیلوں میں سے یشکر و شبام اور ارحب کے سروں کو جدا نہ کر دوں ۔
قوم ھم اعداء اہل الشام
کم من کریم بطل ھمام
وہ لوگ جو شام والوں کے دشمن ہیں ان میں بہت سے لوگ کریم النفس بلند مرتبہ نیز شجاع و بہادرہیں۔
و کم قتیل و جر یح ذام
کذلکٔ حرب السادة الکرام

اگر چہ ان میں سے کتنے مر گئے ہیں اور مجروح و معلول ہو گئے ہیں لیکن ............

(١)بلاذری ،انساب الاشراف،منشورات موئسسة الاعلمی بیروت،ج٢،ص٣٢٢

ہاںبہادروں کی جنگ اسی طرح ہوتی ہے۔ اس وقت سعد بن قیس نے اس رجز کو پڑھتے ہوئے کہا:

لا ھم رب الحل والحرام
لا تجعل الملکٔ لأہل الشام
اے حل و حرام کے پرور دگار !حکومت کو اہل شام کے لئے قرار نہ دے

ہاتھ میں نیزہ لئے آگے بڑھے اور معاویہ پر حملہ کیا معاویہ وہاں سے فرار ہوکر لشکر شام میں داخل ہو گیااور ذوالکلاع (جو شام کے لشکر کا ایک کمانڈر تھا)کو سعد بن قیس کے مقابلہ کے لئے بھیجا ،تمام شب ان کے درمیان جنگ جاری رہی، آخر میں اہل شام نے اپنی شکست قبول کرلی اور فرار ہو گئے اس وقت امیرالمؤمنین نے ان کی تشویق کے لئے یہ اشعار پڑھے:
فوارس من حمدان لیسوا بعزل
غداة الوغیٰ من شاکر وشبام
حمدان کے شہ سوار جو شاکر و شبام کے قبائل میں سے تھے وہ جنگ کی صبح تک سست نہیں ہوئے ۔

یقودھم حامی الحقیقة ماجد
سعید بن قیس والکریم محام
حقیقت کے حامی و طرفدار عظیم شخص سعد بن قیس ان کی کمانڈری کرتے ہیں اور شریف لوگوں کی انہیںحمایت حاصل ہوتی ہے۔

جزی اللہ حمدان الجنان فانھم
سھام العدی فی کل یوم حمام (١)
خدا قبیلۂ حمدان کو بہشت عطا کرے اس لئے کہ جنگ کے دنوںمیںیہ دشمنوں کے قلب کے لئے نیزہ و تیر ہیں۔

اس طرح فوج شام کی جانب سے حمدان کے خلاف جنگ صفین میں پڑھے جانے والے اشعار کوملاحظہ کریں، مثلاًعمرو عاص صفین کے دن قبیلہء حمدان کو مخاطب کرکے کہتا ہے:
الموت یغشاہ من القوم الانف
یوم لحمدان ویوم للصدف
موت کواس قوم کے ذریعہ دعوت دینا ہے ایک روز قبیلہء حمدان کامیاب ہیں اور ایک روز صدف۔

و فی سدوس نحوہ ماینحرف
نضربھا بالسیف حتیٰ ینصرف
قبیلہ سدوس بھی انہیں کی طرح ہیں جب تک وہ بوڑھے نہ ہوجائیں ہم ان کو تلوار سے قتل کرتے رہیں گے یہاںتک کہ حالات بدل جائیں ۔

............

(١)ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب، موسسۂ انتشارات علامہ،قم،ج٣،ص١٧٠ ،١٧١

و لتمیم مثلھا اویعترف(١)
تمیم کے ساتھ بھی ایسا برتائو کریں گے مگر یہ کہ وہ اطاعت قبول کرلیں۔
قبیلہ حمدان کی چند عورتوں نے بھی صفین میںامیرالمومنین کے سپاہیوں کو معاویہ کے مقابلہ میں جوش دلایا،جیسے سودہ حمدانیہ ،زرقاء حمدانیہ جو عدی بن قیس کی بیٹیاں ہیں۔(٢)
سودہ نے اپنے باپ کومخاطب قرار دے کر کہا :
شمرکفعل ابیکٔ یابن عمارة
یوم الطعان و ملتقی الاقران
اے عمارہ کے فرزند! میدان کار زاراور جنگ کے دنوں میں اپنے باپ کے مانند آستین ہمت چڑھا اور اپنے دشمن سے جنگ کر۔

وانصر علیاًوالحسین و رھطہ
واقصد لھندوابنھا بھوان
علی اورحسین نیز ان کی قوم کی مدد ونصرت کر ،ہنداورا س کے بیٹوں کوذلت اور اہانت کا مزا چکھا۔

انّ الامام اخاالنبی محمد
علم الھدیٰ و منارةالایمان
بیشک حضرت علی نبی محمدۖ کے بھائی ہیں جو ہدایت کی علامت اور ایمان کے روشن منارہ ہیں۔

............

(١)بلاذری ،انساب الاشراف ، ج٢، ص٣٢٣ (٢) ابن عبدریہ العقد الفرید ،دار احیاء التراث العربی ،بیروت،١٤٠٩ھ ج١ ص١٣٥۔٣٣٧

فقدم الجیوش و سر امامھم لوائہ
قدماًبابیض صارم وسنان (١)
لشکر کے آگے بڑھو اورآگے بڑھ کر چمکتے نیزوں اور خون آشام تلواروںکے پرچم لہرائو۔

معاویہ ان سے دشمنی رکھتا تھا حضرت علی کی شہادت کے بعد معاویہ نے ان کو شام بلایا اور ان کے اشعار کی وضاحت چاہی اور ان کی سر زنش کی۔(٢)
دوسرا یمنی قبیلہ کہ جس میں شیعیان علی بہت زیادہ تھے قبیلہ ربیعہ تھا جیسا کہ برقی نے یاران و شیعیان علی کو شمار کیا ہے اور بعض اصحاب علی کو قبیلہ ربیعہ سے مخصوص کیا ہے جبکہ باقی یمنی شیعوںکو ایک دوسر ے حصہ میںذکر کیا ہے۔(٣)
حضرت علی نے جس وقت سناکہ قبیلۂ ربیعہ کے چند افراد عائشہ کے سپاہیوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے تو آپ نے فرمایا:
یالھف نفسی علیٰ ربیعة
ربیعةالسّامعةالمطیعة (٤)
ربیعہ پر افسوس کہ ربیعہ فرمانبر دار اور مطیع ہیں۔

............

(١)ابن عبدریہ العقد الفرید ،دار احیاء التراث العربی ،بیروت،١٤٠٩ھ ج١ ص ٣٣٢ (٢)ابن عبدربہ العقد الفرید ،دار احیاء التراث العربی ،بیروت،١٤٠٩ھ ج١ ص ٣٣٥ (٣) احمد بن محمد بن خالد البرقی ،رجال برقی ،موسسة القیوم،ص ٣٧ (٤)زبیر بن بکار الاخبار الموفقیات ،منشورات شریف الرضی ،قم ،١٤٦١ھ ص ١٥٩

مسعودی کا بھی بیان ہے کہ ربیعہ کی تعریف کے بارے میں حضرت علی کی بہت سی تقریریں ہیں کیونکہ وہ حضرت علی کے انصار ،مددگار ، اور ان کے ارکان میں شامل تھے جنگ صفین میں ربیعہ کے بارے میں حضرت نے فرمایا :

لمن رایة سوداء یخفق ظلھا
اذا قیل قدمھا حضین تقدماً
اگر کوئی سیاہ پرچم لہرارہا ہو توان سے کہا جاتاہے کہ پرچم لیکر آگے بڑھو ۔

فیوردھا فی الصف حتیٰ یعلھا
حیاض المنا یا تقطر الموت والدما
پھروہ اس کوصف میں شامل کرتے ہیں تاکہ وہ نیزوں سے آگے بڑھ جائیں کہ جس سے موت اورخون کے قطرے ٹپکتے ہیں ۔

جزی اللّٰہ قوماًقاتلوا فی لقا ئہ
لدی الموت قدماًما اعروا کرما
خدا س قوم کو جزا دے جو جنگ کے وقت لڑتی ہے اور موت کا سامنا کرتی ہے، اور کبھی بھی نیکیوں سے منھ نہیں موڑتی۔

واطیب اخباراًو اکرم شیمة
اذا کان اصوات الرجال تغمغما
لباس کے اعتبار سے، اچھی علامت کے اعتبار سے خوب صورت ہیں جب میدان جنگ میںان کی للکار گونجتی ہے۔

ربیعہ اعنی انھم اہل نجدة
وبأس اذا لاقو ا خمیساًعر مر ما (١)
میری مراد ربیعہ ہے وہ لوگ طاقتور پہلوان کے مقابلہ میں شجاع اور بہادر ہیں ۔

ربیعہ کے بزرگان میں سے ایک جمیل بن کعب ثعلبی تھے جن کا علی کے شیعوں میں شما ر ہوتا تھا ،جب معاویہ نے ان کواسیر کیا تو ان سے کہا کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ خدانے مجھ کو ایسے انسان پر مسلط کیا کہ جس نے ایک گھنٹہ کے اندر میرے بہت سے ساتھیوں کو قتل کیا تھا۔(٢)

شقیق بن ثور سدوسی نے بھی قبیلۂ ربیعہ کو صفین میں اس طرح سے خطاب کیا۔

اے گروہ ربیعہ !تمہارے لئے کوئی عذر نہیں ہے اگر علی قتل کردیئے جائیں اور تم میں سے ایک شخص زندہ رہ جائے۔(٣) یزید کی موت کے بعد بھی اہل کوفہ نے عاملین بنی امیہ کو شہرسے نکا ل دیا، انہوں نے چاہا کہ کسی کو اپنا قائد اور امیر معین کریں ،بعض نے مشورہ دیا کہ عمر بن سعدکو امیر قرار دیا جائے ، مسعودی نقل کرتا ہے : اس موقع پر حمدان ،کہلان ،انصار ،ربیعہ اور نخع کی عورتیں آئیں اور مسجدجامع میں داخل ہوگئیںوہ امام حسین پر گریہ کر رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں: ............

(١) مسعودی ، مروج الذھب ، ج٣ ص ٥٩ (٢)مسعودی ، مروج الذھب ، ج٣ ص ٦٠ (٣)بلاذری ،انساب الاشراف ،منشورات موسسة الاعلمی للمطبو عات ،ج٢ ص٣٠٦

کیا یہ کافی نہیں ہے کہ عمر بن سعد نے امام حسین کوقتل کیا ہے اور اب وہ ہما را امیر بننا چاہتا ہے یہ باتیںبین کرکے لوگوں کو رلا رہی تھیںاورمردوں کو اس بات پر آمادہ کررہی تھیں کہ عمر بن سعد کی حمایت نہ کریں۔(١) ............

(١)بلاذری ،انساب الاشراف ، ج٢، ص٣٠٦

تشیع کے اندر مختلف فرقے[لکھو]

شیعوں کے اہم ترین گروہ پہلی اور دوسری صدی ہجری میں پیدا ہوئے ہیں اور دوسری صدی ہجری کے تمام ہونے تک کوئی خاص تفریق نظر نہیں آتی اسی وجہ سے صاحبان ملل ونحل نے واقفیہ کے مقابلہ میں شیعہ امامیہ کو کہ جو امام رضا کی امامت کے قائل ہیں انہیں قطعیہ اور اثنا عشری کانام دیا ہے نیز وہ امام رضا کے بعد امام زمانہ تک کی امامت کے قائل ہیں ۔(١) البتہ پہلی صدی ہجری میں بھی ٦١ھ تک یعنی امام حسین کی شہادت تک کوئی بھی نیا فرقہ تشیع میں پیدا نہیںہوا،اگرچہ شہرستانی نے فرقہ غلات سبئیہ کو شیعہ فرقہ کی ایک شاخ جانا ہے کہ جو امام امیر المومنین کے زمانہ میں پیداہو ا ہے(٢)جبکہ خود ابن سبا نام کے شخص کے بارے میں شک و تردید کا اظہار کیا گیا۔ (٣) ............

(١)شہرستانی ،کتاب ملل ونحل ،منشورات الشریف الرضی قم،١٣٦٤ھ ش، ج١ص١٥٠ (٢) شہرستانی ،کتاب ملل ونحل ،منشورات الشریف الرضی قم،١٣٦٤ھ ش، ج١ص١٥٥ (٣)عسکری ، سید مرتضی ،عبد اللہ بن سباء و اساطیر اخری ، طبع ہشتم١٤١٣ھ ج ٢، ص ٣٢٨۔٣٧٥

جب کہ خود رجال کشی نے کہا ہے: کچھ غالی افراد حضرت علی کے زمانہ میں بھی موجود تھے امام نے انہیں توبہ کرنے کا حکم دیاجب انہوںنے توبہ نہیں کی توآپ نے ان کوپھانسی دے دی[۲۲]

امام حسن اور امام حسین مسلمانوںکے درمیان ایک خاص مقام ومنزلت رکھتے تھے اور پیغمبرۖ کی یکتا ذریت شمار ہوتے تھے ، شیعوں کے علاوہ عام مسلمان بھی انہیں خلافت کا سزاوار جانتے تھے ،اس وجہ سے ان دو بزرگ شخصیتوں کے زمانہ میں امر امامت سے متعلق کوئی شبہ پیش نہیں آیا اور کسی قسم کا فرقہ بھی وجود میںنہیں امام حسین کی شہادت کے بعد شیعوں کے درمیان ہم بہت سے فرقوں کا مشاہدہ کرتے ہیں اور جو فرقہ نکلے ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔

  1. کیسانیہ:یہ فرقہ محمد حنفیہ کی امامت کا معتقدہے ۔
  2. زیدیہ :یہ فرقہ زید بن علی کی امامت کامعتقد ہے۔
  3. ناووسیہ :یہ فرقہ امام صادق کی غیبت اوران کی مہدویت کا قائل ہے ۔
  4. فطحیہ:امام صادق کے فرزند عبداللہ افطح کی امامت کا قائل ہے ۔
  5. اسماعیلیہ:امام صادق کے فرزند اسماعیل کی امامت کا قائل ہے۔
  6. طفیہ :یہ لوگ معتقد ہیں کہ امام صادق نے موسیٰ بن طفیّ کی امامت کی تاکیدو سفارش کی ہے۔
  7. اقمصیہ :یہ لوگ قائل ہیں کہ امام صادق نے موسیٰ بن عمران اقمص کی امامت کی تاکید کی ہے ۔
  8. یرمعیہ:یہ لوگ کہتے ہیں کہ امام صادق نے یرمع بن موسیٰ کی امامت تاکید کی ہے۔
  9. تمیمیہ: یہ لوگ قائل ہیں کہ امام صادق نے عبد اللہ بن سعد تمیمی کی امامت کی تاکید فرمائی ہے ۔
  10. جعدیہ :یہ لوگ کہتے ہیں کہ امام صادق کاجانشین ابی جعدہ نامی شخص تھا ۔
  11. یعقوبیہ:یہ لوگ موسیٰ بن جعفر کی امامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ فرزندان امام صادق کے علاوہ بھی امامت کا پایا جانا ممکن ہے ا ن کے بڑے لیڈر کانام ابویعقوب تھا ۔
  12. ممطورہ:یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے امام کاظم پرتوقف کیا اور کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ حضرت دنیاسے گئے یا نہیں؟۔ [۲۳]
  13. واقفیہ :یہ لوگ قائل ہیں کہ امام کا ظم با حیات ہیں اور قیامت تک با حیات رہیں گے۔ [۲۴]

البتہ ان فرقوں میں سے بعض چھوٹے فرقے اور بھی نکلے ہیں مثلاًکیسانیہ کہ جو محمد حنفیہکی امامت کے قائل تھے ان میں دو گروہ تھے ،کچھ قائل ہیں کہ محمد حنفیہ امام حسین کی امامت کے بعدامام ہو ئے اور کچھ کہتے ہیںمحمد حنفیہ اپنے والد حضرت علی کے بعد امام تھے ، ان کے بعد امامت کو ان کے بیٹے ابو ہاشم کی طرف نسبت دیتے ہیں، اس میں بھی چند گروہ ہیں ،ایک گروہ معتقد تھا کہ ابو ہاشم نے محمد بن علی عباسی کی امامت کی تاکید کی تھی، دوسراگروہ یہ کہتاہے کہ ابو ہاشم نے اپنے بھائی علی بن محمد حنفیہ کی امامت کی تاکید کی تھی، تیسرے گروہ کا کہنا ہے کہ ابو ہاشم نے اپنے بھتیجے حسن بن علی کو اپنا جانشین بنایا تھا،چوتھا گروہ معتقد تھا کہ ابو ہاشم نے عبداللہ بن عمرو کندی کی امامت کے بار ے میں تاکیدکی تھی۔ (١)

زیدیہ بھی تین بنیادی گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں: (٢)

  1. جارودیہ :یہ لوگ حضرت رسول ۖ اکرم کے بعد حضرت علی کو خلافت کا مستحق جانتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ پیغمبرۖ نے حضرت علی کو ان کے اوصاف کے ساتھ لو گوں کو پہچنوایا نہ کہ نام کے ساتھ لوگوں نے ان کو پہچاننے میں کو تاہی کی اور ابو بکر کو اپنے اختیار سے چنا اور کفر اختیار کیا۔
  2. سلیمانیہ:یہ لوگ قائل ہیں کہ امام کا انتخاب شوری کے ذریعہ ہوتا ہے یہ لوگ فاضل کے ہوتے ہوئے مفضول کی امامت کو جائز جانتے ہیں، اسی بنا پر ابو بکر و عمر کی خلافت کو جائز جانتے ہیںان کا خیال ہے کہ امت نے حضرت علی کا انتخاب نہ کر کے خطا کی ہے لیکن فسق کی مرتکب نہیں ہوئی یہ لوگ عثمان کو بھی کافر جانتے ہیں۔(٣)

............

(١)شہرستانی ،کتاب ملل ونحل ،منشورات الشریف الرضی قم،١٣٦٤ھ ش، ج١ص١٣١۔ ١٣٥ (٢)وہ ابی جارود کے اصحاب زیاد بن ابی زیاد تھے اس وجہ سے ان کو جارودیہ کہتے ہیں (٣)ان کا رہنما ایک شخص سلیمان بن جریر تھا ، اس وجہ سے اس فرقہ کو سلیمانیہ کہا گیا۔

  1. بتریہ:ان کے عقائد بھی سلیمانیہ کی طرح ہیں، صرف اس فرق کے ساتھ کہ عثمان کے بارے میں یہ توقف کے قائل ہیں ۔(١)

فرقۂ اسماعیلیہ بھی تین گروہ میں تقسیم ہوگیا:

  • ایک فرقہ قائل ہے کہ امام صادق کے بعد ان کے فرزنداسماعیل امام ہیں اور وہ ابھی تک زندہ ہیں اور وہی مہدی موعود ہیں۔
  • دوسرا فرقہ قائل ہے کہ اسماعیل دنیا سے جا چکے ہیں ان کے بیٹے محمد امام ہیں اور وہ غائب ہیں ایک دن ظاہر ہوں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
  • تیسرا فرقہ بھی دوسرے فرقہ کی طرح محمد بن اسماعیل کی امامت کا قائل ہے فرق صرف یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ محمد دنیا سے رخصت ہوگئے اور امامت ان کی نسل میں باقی ہے۔(٢)

ان میں سے بہت سے فرقے زیادہ دنوں تک باقی نہیں رہے بلکہ ان پر فرقہ ہونے کا اطلاق بھی مشکل سے ہوگا جو اپنے قائد کی موت کے بعد نابود ہوگئے اور انہیں سیاسی و اجتماعی میدانوں میں ان کا کوئی خاص کردار نہیں رہا ان فرقوں میں سے تین فرقہ کیسانیہ زیدیہ،اسماعیلیہ پہلی دوسری اور تیسری صدی ہجری میں پائدار تھے البتہ فرقہ اسماعیلیہ اگرچہ دوسری صدی میں امام صادق کی شہادت کے بعد پیکر تشیع سے جدا ہو گیا تھا لیکن تیسری صدی ہجری کے نصف تک ان میں کوئی خاص ترقی نہیں ہوئی تھی ان ............

(١)کثیر النویٰ ابتر نام کا شخص ہے اس وجہ سے یہ ابتریہ کہلائے(شہرستانی ،کتاب ملل ونحل منشورات الشریف الرضی قم،١٣٦٤ھ ش، ج١،ص١٤٠۔١٤٢) (٢)خراسانی،تاریخ و عقائد فر قہ آقا خانیہ:ص ٢۔٣

کیپیشوا خفیہ زندگی بسر کر رہے تھے۔(١) پہلی صدی ہجری میں شیعہ امامیہ کے بعد زید کے خروج تک کیسانیہ ایک موثر ترین شیعہ فرقہ شمار ہوتا تھا، کیسانیہ فرقہ کا قیام مختار میںاہم کردار رہا ہے اگر مختار کو کیسانیہ سے وابستہ نہ بھی جانیں تو بھی ان کی فوج میں بہت سے افراد کیسانیہ فرقہ پرقائم تھے۔(٢) اس فرقہ نے پہلی صدی ہجری کے آخر تک اپنی سیاسی کوشش کو جاری رکھا اور ابوہاشم عبد اللہ بن محمد نفس زکیہ جو اس فرقہ کے قائد تھے انہوں نے پہلی مرتبہ لفظ داعی اور حجت کے لفظ کا اطلاق اپنے مبلغین کے لئے کیا اور بعد میں دوسرے فرقوں نے ان الفاظ سے فائدہ اٹھا یاجیسے عباسی، زیدی، اسماعیلی اسی طرح سب سے پہلے انہوں نے ہی خفیہ تبلیغ و مبلغین کا نظام قائم کیااس کے بعد عباسیوں نے اس سے بھر پور فائدہ اٹھایا ۔(٣) اموی خلیفہ سلیمان بن عبد الملک نے جس وقت اس کی طرف سے خطرہ کا احساس کیااس کو شام بلاکر زہر دے دیا جب ابو ہاشم کو معلوم ہوا کہ ان کی زندگی کا خاتمہ ہونے والا ہے تو خفیہ طور پر بنی عباس میں سے اپنے چچازاد بھائیوں کی رہائش (مقام حمیمہ) پر گئے اوراپنے چچا زاد بھائی محمد بن علی عباسی کو اپنا جانشین بنادیا اور اپنے مبلغین اور فوج سے ان کی شناسائی کرائی۔(٤) ............

(١)خراسانی ، محمد کریم ،تاریخ و عقائد فرقہ آقا خانیہ، تلخیص و تنظیم ، حسین حسنی ، نشر الہادی ، ص٤٣ (٢) مسعودی علی بن الحسین ، مروج الذھب ، منشورات لاعلمی ،للمطبوعات ،بیروت ١٤١١ھ ج٣ ص ٩١ (٣)مختار لیثی ڈاکٹرسمیرة ،جہاد الشیعہ،دار الجبل ، بیروت ، ١٣٩٦ھ ،ص ٨٧ (٤)مقاتل الطالبین،ابو الفرج اصفہانی، منشورات شریف الرضی ، قم ١٤١٦ھ ،ص ١٢٤، ابن عبدربہ اندلسی، احمد بن محمد ، العقد الفرید ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت،١٤٠٩ھ ج ٤ ص ٤٣٨

اس کے بعد بنی عباس نے کیسانیہ کی قیادت کو اپنے کاندھوں پر لے لیا اور اپنی فعالیت وسرگرمی کو خراسان میں متمرکز کر دیا جیسا کہ ابوالفرج اصفہانی کا بیان ہے : اہل خراسان معتقد ہیں کہ ابو ہاشم اپنے باپ کاجانشین تھا اور اس کے باپ نے وصایت کو اپنے باپ (حضرت علی )سے ارث کے طور پر لیا تھااورانہوں نے بھی محمد بن علی عباس کو اپناجانشین قرار دیا تھا اور محمد بن علی نے اپنے بیٹے ابراہیم کو امام بنایااس طرح سے وہ بنی عباس میں اپنی جانشینی کو ثابت کرتے ہیں۔(١) شہرستانی یہاں تک معتقد ہے کہ ابو مسلم خراسانی ابتدا میں کیسانی تھا لیکن بعد میںجب عباسی کامیاب ہوگئے تو اپنی مشروعیت کویعنی اپنے جد عباس کی جانشینی کورسول خداۖ سے وابستہ اورمنسلک کردیا ،کیسانیوں کی سیاسی اور اجتماعی فعالیت کو عبد اللہ بن معاویہ (کہ جو جعفر طیار کی نسل سے تھے)کے قیام میں تلاش کیا جاسکتا ہے شہرستانی کاکہنا ہے: کیسانیوں میں سے کچھ عبداللہ بن عمرو کندی کی جانشینی کے معتقد تھے اور جب لوگوں نے اس کی خیانت اور جھوٹ کودیکھ لیا تو عبد اللہ بن معاویہ بن عبداللہ بن جعفر طیار کی امامت کے قائل ہوگئے عبد اللہ بن معاویہ اور محمد بن علی کے ماننے والوں کے درمیان امامت کے سلسلے میںشدید اختلاف تھا ۔(٢) فرقہ کیسانیہ کے بعد جو فرقہ سیاسی اور اجتماعی میدان میں بہت زیادہ فعال و سرگرم تھا وہ فرقہ زیدیہ ہے کہ جو قیام زید کے بعدوجو د میں آیا یہ فرقہ شیعہ فرقوں میں سب سے زیادہ سیاسی رہا ہے اور تمام شیعہ فرقوں کی بہ نسبت اہل سنت کے اصول سے ............

(١)ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین ، ص١٢٥ (٢)شہرستانی، کتاب ملل و نحل ، ج١،ص١٣٥

بہت زیادہ نزدیک تھا چنانچہ فرقہ زیدیہ بتریہ ابو بکر و عمر و عثمان کی خلافت کو قبول کرنے کے ساتھ ساتھ عائشہ ،طلحہ ،زبیر کی تکفیر بھینہیں کرتے تھے۔(١) اسی وجہ سے فقہائے اہل سنت کی کافی تعداد نے محمد نفس زکیہ (کہ جو زیدی تھے) کے قیام کی تائید کی ہے ۔(٢) فرقہ مرجئہ کے بزرگ مسعر بن کدام نے محمد نفس زکیہ کے بھائی ابراہیم کو کوفہ آنے کے لئے خط بھی لکھا تھا۔(٣) ابو حنیفہ مذہب حنفی کے امام محمد نفس زکیہ کے قیام میں شریک تھے اور لوگوں کو ان کی مدد کرنے کی تشویق کرتے تھے۔(٤) سعد بن عبداللہ اشعری قمی فرقہ زیدیہ بتریہ کے بارے میں کہتا ہے: انہوں نے ولایت علی ـ کو ولایت ابو بکر و عمر کے ساتھ مخلوط کردیا ہے،(٥)خاص کر اصول دین میں معتزلہ کے پیرو ہیں اور فروع دین میں ابو حنیفہ اور کچھ حد تک شافعی کی پیروی کرتے ہیں۔(٦) مذہب زیدی یعنی تشیع بمعنی اعم بہت زیادہ، سنی عقائد سے معارض نہیں تھا اسی ............

(١)شہرستانی، کتاب ملل والنحل ، ج١،ص١٤٢ (٢)ابوالفرج اصفہانی،مقاتل الطالبین،ص ٢٤٧ (٣)ابوالفرج اصفہانی،مقاتل الطالبین،ص ٣١٤ (٤)ابوالفرج اصفہانی،مقاتل الطالبین،ص ٣١٤ (٥)اشعری سعد بن عبد اللہ ،المقالات والفرق،مرکز انتشارات علمی و فرھنگی ، تہران ، طبع دوم ١٣٦٠ھ ص١٠ (٦)شہرستانی کتاب ملل و نحل ،منشورات الشریف الرضی ،قم ١٣٦٤ھ ،ج١ص١٤٣

بناپر زیدیوں کے بعض قیام جیسے محمد نفس زکیہ اور ان کے بھائی ابراہیم کے قیام میں بہت سے علماء اہل سنت بھی شریک تھے اور جو شیعہ ان کے قیام میں ساتھ تھے ان کا خیال تھا کہ منجملہ سبھی علوی قیام کے قائد و رہنماامام معصوم کی طرف سے منصوب ہیں، شاید شیعوں کے ان کے ارد گرد سے منتشر ہونے کی علت یہی ہو خلاصہ یہ کہ صرف زیدی پوری طرح ان رہبروں کے ساتھ باقی رہ گئے تھے مثلاً محمد نفس زکیہ کے بھائی براہیم بن عبد اللہ نے مسعودی کے بقول زیدیوں کے چارسو افراد ہمراہ جنگ کی اور یہ چند لوگ ان کے ساتھ قتل ہوئے۔(١) تیسرا فرقہ جو اجتماعی اورسیاسی میدان میں فعال و سرگرم تھا وہ فرقہ اسماعیلیہ ہے یہ فرقہ دوسری صدی کے دوسرے نصف میں پیکر تشیع سے جدا ہوگیا لیکن تیسری صدی ہجری کے آخر تک اسے معاشرے میں کوئی خاص اہمیت ومقبولیت حاصل نہیں ہوتی اور اس کے قائدین ٢٩٦ھ یعنی مراقش میںپہلے فاطمی خلیفہ عبید اللہ مہدی تک خفیہ زندگی بسر کرتے رہے اس وجہ سے اس فرقہ کے تشکل کے مراحل کا پوری طرح سے علم نہیںہے نو بختی جو تیسری صدی ہجری میں موجود تھا اس نے ان کی پہلی فعالیت اور سرگرمیوں کو غلات اور ابن الخطاب کی پیروی سے ربط دیا ہے۔(٢) ان کے عقائد بھی ابہام کی شکل میں باقی رہ گئے۔ مسعودی اس بارے میں لکھتا ہے مختلف فرقوں کے متکلمین مثلاًشیعہ،معتزلہ ............

(١)مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذھب ، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ١٤١١ھ، ج٣ ص ٣٢٦ (٢)فرق الشیعہ المطبعةالحیدریہ ،نجف ١٣٥٥ ١٩٣٦ھ ص٧١

مرجئہ او رخوارج نے اپنے فرقوں کی موافق میں اوراپنے مخالفین کی رد میں کتابیں لکھی ہیں… لیکن ان میں سے کسی نے بھی فرقہ قرامطہ کے عقائدکے بارے میں کچھ نہیں لکھا اور جنہوں نے ان کی ردبھی کی ہے جیسے قدامہ بن یزید النعمانی ،ابن عبد الجرجانی،ابی الحسن زکریا الجرجانی ،ابی عبداللہ محمد بن علی بن الرزام الطائی الکوفی اور ابی جعفر الکلابی ،ان میں سے ہر ایک اہل باطن کے عقائد کی شرح کرتا ہے کہ جس کودوسرے بیان نہیں کرتے ہیںاور خود اس فرقہ والوں نے ان مطالب سے انکار کیا ہے اور ان کی تائید نہیں کی ہے،(١)یہ چیز علت بنی کہ یہ لوگ مختلف مناطق میںمتفاوت ناموں سے یاد کئے گئے۔ خواجہ نظام الملک نے اس بارے میں لکھا :ان کو ہر شہر میں ایک الگ نام سے یاد کیا جاتا تھا ،حلب و مصر میں اسماعیلی ،قم ،کاشان ،طبرستان اور سبزوار میں سبعی، بغداد اور ماوراء النہر میں قرمطی، ری میں خلفی اوراصفہان میں…(٢) فاطمی حکومت بننے سے پہلے اسماعیلیوں نے سیا سی کو ششیں کم کردیںزیادہ تر توجہ تبلیغ و تر بیت پر مرکوز رکھی اسی وجہ سے اسماعیلی قائدین منجملہ محمد بن اسماعیل، عبد اللہ بن محمد، احمد بن عبد اللہ و حسین بن احمدنے ان علاقوں میں جیسے ری،نہاوند، دماوند،سوریہ ،جبال، قندھار، نیشاپور،دیلم ،یمن،ہمدان،استانبول ،اور آذر بائیجان گئے انہوں نے ان مناطق میں اپنے چاہنے والوں اور مبلغین کو بھیجا(٣)یہ وہ جگہیں تھیں جس کی بنا پر قرمطیو ں اپنے کوفرقہ اسماعیلیہ سے منسوب کیا اور اتنی وسعت اختیار کی کہ عباسیوں کا لشکر بھی ان کے آشوب کو خاموش نہیںکر سکا ۔(4) ٢٩٦ھ میں فاطمی حکومت مراقش میں اسماعیلی مذہب کی بنیاد پر وجود میں آئی اور بہت سی اسلامی سر زمینوں کوعباسیوںکے ہاتھوں سے چھین لیا۔ ............

(١)التنبیہ والاشراف ،دار الصاوی لطبع والنشر والتالیف،قاہرہ ،ص٣٤١ (٢)سیاست نامہ،انتشارات علمی و فرہنگی تہران ١٣٦٤ھ ص٣١١ (٣)جعفریان،رسول،تاریخ تشیع در ایران از آغاز تا قرن ہفتم ہجری،سازمان تبلیغات اسلامی، طبع٥،١٣٧٧ہجری،ص٢٠٧،٢٠٩ (4)مسعودی ، علی ابن الحسین ، مروج الذہب ،منشورات موسسہ الاعلمی مطبوعات ، بیروت ، طبع اول ، ١٤١١ھ ، ١٩٩١ج٤ ص ٢٩٧


شیعہ فرقوں کے وجود میں آنے کے اسباب[لکھو]

بارہ اماموں کے اسماء مبارک احادیث نبوی میں وارد ہوئے ہیں اورپہلے دور کے شیعہ ان حضرات کو دیکھنے سے پہلے ان کے نا م جانتے تھے ،جیسا کہ پیغمبرۖکے وفا دار صحابی جابر بن عبداللہ انصاری نقل کرتے ہیںکہ جس وقت قرآن مجید کی یہ آیت: (یا ایّھاالّذین آمنوااطیعوااللّٰہ و اطیعوا الرّسول و اولی الامر منکم )(1) اے ایمان لانے والو! اللہ کی ، اس کے رسول کی اور صاحبان امر کی اطاعت کرو۔ ناز ل ہوئی تو میں نے عرض کی: یارسولۖ اللہ! میں خدا اور اس کے رسول ۖ کو پہچانتا ہوں اور ان کی اطاعت بھی کرتا ہوں لیکن اولی الامرسے مراد کون لوگ ہیں جن کی اطاعت کو خدا وند عالم نے اپنی اور آپ کی اطاعت کے ساتھ ذکر کیا ہے؟ حضرت نے ............

(1) سورہ نساء ،٤آیت٥٩

فرمایا: اولی الامرسے مراد میرے جانشین اور میرے بعدکے پیشوا ہیں، ان میں سب سے پہلے علی بن ابی طالب اور ان کے بعدحسن ان کے بعد حسین ان کے بعد علی بن حسین ان کے بعد محمد بن علی جو توریت میںباقر کے نام سے معروف ہیںتم ان کی زیارت بھی کرو گے جس وقت تم ان کو دیکھنا میراسلام کہنا ، ان کے بعد جعفربن محمد ان کے بعد موسیٰ بن جعفر ان کے بعدعلی بن موسی ان کے بعد محمد بن علی ان کے بعد علی بن محمدپھران کے بعد حسن بن علی اور ان کے بعدان کا فرزندجو میرا ہمنام اورجس کی کنیت میری کنیت ہوگی وہ امام ہو گا، اسی کے ذریعہ شرق وغرب فتح ہوں گے وہ لوگوں کی آنکھوں سے غائب ہو گا اس کی غیبت اتنی طولانی ہوگی جس کی وجہ سے لوگ اس کی امامت میںشک کریں گے سوائے ان لوگوں کے جن کے دلوں کو خدا وندعالم نے ایمان کے ذریعہ پاک کیا ہے۔(١) یہی جابر مسجد نبوی کے دروازے پر بیٹھ کر کہتے تھے اے باقرالعلم !آپ کہاںہیں ؟ لوگ کہتے تھے: جابر ہذیان بک رہا ہے۔ جابر کہتے تھے کہ میں ہذ یان نہیں بک رہا ہوں بلکہ مجھ کو رسولۖ اکرم نے خبر دی ہے کہ میرے خاندان میں سے ایک شخص جو میرا ہم نام اور میرا ہم شکل ہو گا تم اس کی زیارت کرو گے وہ علم کو شگافتہ کرے گا۔(٢) ائمہ معصومین نے بھی دلیلوں اور معجزوں کے ذریعہ اپنی حقا نیت ثابت کی ہے اس کے باوجودبعض اسباب و وعوامل اس بات کا باعث بنے کہ بعض شیعوںپر حقیقت مشتبہ ہوگئی اور وہ راہ (حق )سے منحرف ہوگئے ان عوامل کو ہم ذیل میںذکر کرتے ہیں ۔ ............

(١)پیشوائی ،مہدی ،شخصیت ہای اسلامی،انتشارات توحید۔قم١٣٥٩ ص٦٣،تفسیر صافی سے نقل کیا ہے ، ج١،ص٣٦٦،کمال الدین وتمام النعمة،ج١،ص٣٦٥،طبع تہران،فارسی ترجمہ (٢)شیخ طوسی اختیارمعرفةالرّجال،(رجال کشی)موسسہ آل البیت لاحیا التراث قم،١٤٠٤ھ ج :١، ص٢١٨


(١) اختناق(گھٹن، اضطراب)

٤٠ھ کے بعد خاندان پیغمبرۖاور ان کے چاہنے والوں پراس قدرگھٹن کا ماحول چھایا ہواتھا کہ شیعہ کے لئے ممکن نہیں ہوسکا کہ وہ ا پنے اماموں سے رابطہ برقرار کریں اورا ن کی ضروری معرفت حاصل کر تے پہلی صدی میں ٧٢ ھ اور ابن زبیر(جو شیعوں کا دشمن تھا) کی شکست کے بعد حجاج بن یوسف بیس سال تک عراق و حجازپر حاکم رہا اور شیعوں کو بہت زدو کوب کیا ان کو قتل کیا زندان میں ڈالااور عراق و حجاز سے انہیں فرار ہونے پر مجبورکیا۔(١) امام سجاد تقیہ میں تھے اورشیعہ معارف کو دعائوں کی شکل میںبیان کرتے تھے فرقہ کیسانیہ اسی زمانہ میں رونما ہوا ،امام باقراور امام صادق کواگرچہ نسبتاًآزادی ملی تھی، انہوںنے شیعہ معارف کو وسعت بخشی لیکن جب منصور عباسی کوحکومت ملی تو شیعوں کی طرف متوجہ ہوا اور جس وقت اس کوامام صادق کی خبر شہادت ملی تو اس نے مدینہ میں اپنے والی کو خط لکھا کہ امام صادق کے جانشین کی شناسائی کرکے ان کی گردن اڑادے، امام جعفر صادق نے پانچ لوگوںکو اپنا جانشین بنایا تھا، ان میں ابو جعفرمنصور (خلیفہ)محمد بن سلیمان، عبداللہ، موسیٰ اور حمیدہ تھے۔(٢) ............

(١)زین عاملی ، محمد حسین، شیعہ در تاریخ، ترجمہ محمد رضا عطائی، انتشارات آستانہ قدس رضوی،طبع دوم،١٣٧٥ھ ش،ص١٢٠ (٢)طبرسی،بو علی فضل بن حسن، اعلام الوریٰ،موسسہ آل البیت، لاحیاء التراث، قم ١٤١٧ھ ج٢ ص١٣

امام کاظم کی عمر کا زیادہ حصہ زندان میں گذرا سب سے پہلے موسیٰ ہادی عباسی نے حضرت کو زندان میں ڈالا اور کچھ مدت کے بعد آزاد کر دیا ہارون نے چار بار امام کو گرفتارکیا اور شیعوں کوآپ کے پاس آنے جانے اور دیدار سے منع کیا ۔(١) شیعہ حیران وسرگردان اور بغیر سرپرست کے رہ گئے ، اسماعیلیہ اور فطحیہ کے مبلغین کے لئے راستہ ہموار ہو گیا ،اس زمانہ میں کوئی ایسا نہیں تھا جو شیعوںکو ان کے شبہ کا جواب دیتا،عباسی حکومت اور اس کے جاسوسوںکی نظرامام کاظم کی کوششوں کے بارے میں اس حد تک تھی کہ علی بن اسماعیل جو آپ کے بھتیجے تھے وہ بھی اپنے چچا کی مخالفت میںچغلخوری کرتے تھے(٢) اکثر شیعہ اس وقت یہ نہیں جانتے تھے کہ امام موسیٰ کاظم زندہ ہیں یا نہیں؟ چنانچہ یحییٰ بن خالد برمکی کا بیان ہے: میںنے رافضیوں کے دین کو ختم کر دیا اس لئے کہ انکا خیال ہے کہ دین بغیر امام کے زندہ اور استوار نہیں ر ہ سکتاآج وہ نہیں جانتے کہ ان کے امام زندہ ہیںیا مردہ۔ (٣) حضرت کی شہادت کے وقت ایک بھی شیعہ حاضر نہیں تھا اسی لئے واقفیہ نے آپ کی موت( شہادت )سے انکار کردیا اگرچہ مالی مسائل واقفیہ کے وجود میں زیادہ مؤثر تھے ،ائمہ معصومین مسلسل عباسی حکومت کے زیر نظر تھے ،یہاں تک کہ امام ہادی اور ............

(١) مظفر،محمد حسین ،تاریخ شیعہ،منشورات مکتب بصیرتی،قم،(بی تا) ص٤٧ (٢)ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ، منشورات الشریف الرضی ،قم ١٤١٦ھص ٤١٤ (٣)زین عاملی(،محمد حسین)شیعہ در تاریخ: ج ١، ص٢٣

امام عسکری کوسامرہ کی فوجی چھاونی میں رکھاگیاتا کہ ان دو نوںاماموں پرکڑی نظر رکھ سکیں،امام حسن عسکری کی شہادت کے بعد آپ کے جانشین ( حضرت ولی عصر)کو پہچاننے کے لئے امام حسن عسکری کی کنیزوں اور بیویوں کوقید خانوںمیں ڈال دیا، یہاںتک کہ جعفر بن علی (جو جعفر کذاب کے نام سے مشہور ہیں )نے اپنے بھائی امام حسن عسکری کے خلاف جد و جہد کی اسی وجہ سے غلات کے عقائدنصیری یعنی محمد ابن نصیر فہری کے ذریعہ پھیل گئے چند لوگ جعفر کے ارد گرد جمع ہوگئے اورانہوں نے امامت کا دعویٰ کردیا۔(١)

(٢)تقیہ

یعنی جب جان کا خوف ہو تو حقیقت کے خلاف اظہار کرنا، شیعوں نے اس طریقہ کار کو گذشتہ شریعتوں اور شریعت اسلام کی پیروی میںعقل وشرع سے اخذ کیا ہے جیسا کہ مومن آل فرعون نے فرعو ن اور فرعونیوں کے خوف سے اپنے ایمان کو چھپایا ،اصحاب رسول ۖمیں سے عمار یاسر نے بھی مشرکین کے شکنجہ اور آزار کی وجہ سے تقیہ کیا اور کفر کا اقرار کیا اور روتے ہوئے پیغمبرۖ کے پاس آئے تو حضرت نے فرمایا : اگرد وبارہ تم کو شکنجہ کی اذیت دیں تو پھر ا س کام کو انجام دینا۔(٢) شیعہ چونکہ بہت ہی کم مقدار میںتھے اس لئے اپنی حفاظت کے لئے تقیہ ............

(١)شیخ طوسی،اخبار معرفت الرجال(رجال کشی)موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، قم ١٤٠٤ھ ج ٢ (٢)امین ،سید محمد،اعیان الشیعہ،دارالتعارف للمطبوعات،بیروت(بی تا)ج١،ص١٩٩

کرتے تھے اور اس روش کی بنا پر مکتب تشیع باقی رہاجیسا کہ ڈاکٹر سمیرہ مختار اللیثی نے لکھا ہے: شیعہ تحریک جاری رہنے کے عوامل میںسے ایک عامل تقیہ اور مخفی دعوت ہے کہ جس نے یہ فر صت دی کہ شیعوں کی نئی تحریک خلفائے عباسی اور ان کے حاکموں کی آنکھوں سے دور رہ کر ترقی کرے ۔(١) لیکن دوسری طرف تقیہ شیعو ں کے مختلف گروہوں میں تقسیم ہونے کا سبب بنا کیونکہ شیعہ وقت کے ظالموں کے خوف سے اپنے عقائد کو مخفی رکھتے تھے اور ہمارے ائمہ بھی ایسا کرتے تھے چنانچہ اس دور کی خفقانی کیفیت اور گھٹن اور سختی کی وجہ سے اپنی امامت کو ظاہر نہیں کرتے تھے یہ بات امام رضا اور واقفیوںکے درمیان ہونے والی گفتگو سے روشن ہوجاتی ہے۔ علی بن ابی حمزہ کہ جس کا تعلق واقفی مذہب سے تھا اس نے امام علی رضا سے سوال کیا کہ آپ کے والد کیا ہوئے؟امام نے فرمایا: انتقال کرگئے، ابن ابی حمزہ نے کہا:انہوں نے اپنے بعد کس کو اپنا جانشین قرار دیا؟ امام نے فرمایا : مجھ کو، اس نے کہا :تو پس آپ واجب الاطاعت ہیں ؟ امام نے فرمایا: ہاں، واقفیوںکے دو افراد ، ابن سراج اور ابن مکاری نے کہا : کیاآپ کے والد نے امامت کے لئے آپ کو معین کیا ہے؟ امام رضا نے فرمایا : وای ہو تم پریہ لازم نہیں ہے کہ میں خود کہوں کہ مجھے معین کیا ہے، کیا تم چاہتے ہوکہ میں بغداد جائوں اور ہارون سے کہوں کہ میں اما م واجب الاطاعت ہوں؟ خدا کی قسم یہ میرا وظیفہ نہیں ہے ،ابن ابی حمزہ نے کہا :آپ نے ایسی چیز کا اظہار ............

(١)جھادالشیعہ،دارالجیل،بیروت ،١٣٩٦ھ،ص٣٩٤

کیا کہ آپ کے آبائو اجدا دمیں سے کسی نے بھی ایسی چیز کا اظہار نہیں کیا ،امام نے فرمایا: خدا کی قسم میں ان کا بہترین جانشین ہوںیعنی پیغمبرۖ پر جس وقت آیت یہ نازل ہوئی اور خدا وند متعال نے حکم دیاکہ تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائو تو آپ نے اس کا اظہار کیا۔(١) امام محمد باقر نے اپنے زمانہ میں کئی مسئلہ کے جواب میں تقیہ سے کام لیا جس کی وجہ سے کچھ شیعہ آپ کی امامت سے منحرف ہو کر فرقۂ زیدیہ بتریہ کے پیروں ہوگئے۔(٢) دوسری طرف بعض افراد تقیہ کی مصلحت کو نہیںسمجھ سکے اور ائمہ اطہارکا اپنی امامت کے بارے میںکھل کر اظہار نہ کرنے کو خطا سے تعبیر کیا یعنی وہ لوگ تند خو اور افراطی تھے یہ بات بھی زیدیہ مذہب کے وجود میں آنے کا سبب بنی ،جس وقت فشار و گھٹن کا ماحول کم ہوا اور حالات کچھ بہتر ہوئے اور ائمہ نے اپنی حجت تمام کی تو شیعوں کے اندر فرقہ بندی بھی کم ہوگئی امام صادق کے زمانہ میں امویوں اور عباسیوں کے درمیان کشمکش کی وجہ سے ایک بہترین موقع فراہم ہوگیا تھا اور امام صاد ق کو عملی اعتبار سے آزادی حاصل تھی اس بنا پر شیعہ فرقہ بندی میں کمی واقع ہوگئی تھی، لیکن آپ کی شہادت کے بعد منصور خلیفہ مقتدر عباسی کادبائو بہت زیادہ تھا،فرقۂ ناؤسیہ،اسماعیلیہ ، خطابیہ ،قرامطہ، سمطیہ اور فطحیہ وجود میں آئے ۔(٣) ............

(١)جہادالشیعہ،دارالجیل،بیروت ،١٣٩٦ھ، ص ٧٦٣ (٢)اشعر ی قمی،سعد بن عبداللہ،مقالات والفرق،مرکز انتشارات علمی فرہنگی،تہران ص٧٥ (٣)اشعر ی ،قمی ، سعد بن عبد اللہ المقالات والفرق،مرکز انتشارات علمی و فرھنگی تہران، ص٧٩

امام رضا کے زمانہ میں حالات بہتر ہو گئے یہاں تک کہ ہارون کے زمانہ میں حضرت نسبتاًعمل میں آزاد تھے اور اس زمانہ میں واقفیہ کے چند بزرگ مثلاًعبدالرحمٰن بن حجاج ،رفاعةبن موسیٰ،یونس بن یعقوب ،جمیل بن دراج،حماد بن عیسیٰ،وغیرہ اپنے باطل عقیدہ سے پھر گئے اور حضرت کی امامت کے قائل ہو گئے، اسی طرح امام رضا کی شہادت کے بعد باوجود اس کے کہ امام جواد سن میں چھوٹے تھے لیکن امام رضا کی کوششوں اور اپنے فرزند کو جانشین کے عنوان سے پہچنوانے کی بنا پر شیعوں کے اندر فرقہ بندی میں کمی آگئی تھی۔

(٣)ریاست طلبی اورحب دنیا :

جس وقت گھٹن کا ماحول ہوتاتھاتو ائمہ اطہار اساس تشیع کے تحفظ نیز شیعوں کی جان کی حفاظت کے لئے تقیہ کرتے تھے، اس وقت مطلب پرست اور ریاست طلب افراد جوشیعوں کی صفوں میںشامل ہوتے تھے لیکن دیانت پر بالکل اعتقاد نہیں رکھتے تھے وہ اس وضعیت سے غلط فائدہ اٹھاتے تھے جیسا کہ امام جعفرصادق نے ایک صحابی کے جواب میں کہ جس نے احادیث کے اختلاف کے بارے میں پوچھا تھاتو آپ نے فرمایا :کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہماری حدیثوں کی تاویل کرکے دنیا اور ریاست تک پہنچنا چاہتے ہیں۔(١) اس بنیاد پر دوسری صدی ہجری میں اور اس کے بعد جب شیعیت پھیل گئی تھی امام صادق،امام کاظم اور امام عسکری کی شہادت کے بعد مطلب پرست اور ریاست طلب افراد شیعوں کے درمیان کچھ زیادہ پیدا ہوگئے تھے، مال ا ور ریاست کی بنیاد پر ............

(١) شیخ طوسی ،اختیار معرفة الرجال، رجال کشی،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، قم ١٤٠٤ ج ١ ص ٣٧٤

فرقوں کو ایجاد کرتے تھے امام باقرکی شہادت کے بعد مغیرہ بن سعید نے اپنی امامت کادعویٰ کیا اور کہا : امام سجاد اور امام باقرنے میرے بارے میں تاکید کی ہے اس وجہ سے اس کے طرفدار مغیریہ کہلائے ۔ امام صادق کی شہادت کے بعد نائوسیہ اور خطابیہ فرقے پیدا ہوئے جن کے رہبروں نے لوگوںکو اپنی طرف جذب کرنے کے لئے امام صادق اور ان کے فرزند اسماعیل کے نام سے فائدہ اٹھایا ،فرقۂ نائوسیہ کا رہبر ابن نائوس ہے اس نے امام صادق کی رحلت کا انکار کیا اور ان کو مہدی مانا ہے او ر خطابیہ امام صادق کے فرزند اسماعیل کی موت کے منکر ہیںاور ان کے رہبروں نے ان دو بزرگوں کے بعد خود کو امام کے عنوان سے مشہور کیا ۔(١) امام موسیٰ کاظم کی شہادت کے بعدمال کی وجہ سے کثرت سے فرقے وجود میں آئے یونس جو امام کاظم کے صحا بی ہیں نقل کرتے ہیں: جس وقت امام موسیٰ کاظم دنیا سے گئے ان کے نوابین ووکلا کے پاس بہت سے مال اور رقوم شرعیہ موجودتھی اسی وجہ سے انہوںنے حضرت پر توقف کیا اور حضرت کی شہادت کے منکر ہوگئے، نمونہ کے طور پر زیاد قندی انباری کے پاس ستر ہزار دینار اور علی بن حمزہ کے پاس تیس ہزار دینار تھے یونس کا بیان ہے : جس وقت میں نے ان کی اس وضعیت کو دیکھا تو میرے لئے حقیقت روشن ہوگئی اور حضرت امام رضا کی امامت کا قضیہ بھی مرے لئے واضح ہو گیا تھا،میں نے حقائق بیان کرنا شروع کردیئے اورلوگوں کو حضرت کی جانب دعوت دی، ان دونوں نے میرے پاس پیغام کہلوایا کہ تم کیوںلوگوں کو امام رضا کی امامت کی طرف دعوت دیتے ............

(١)شیخ طوسی ،رجال کشی ،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث ، قم ، ١٤٠٤ھ ج١،ص٨٠

ہواگر تمہارا مقصد مال حاصل کرنا ہے تو ہم تم کو بے نیاز کردیں گے اورانہوں نے دس ہزار دینار کی مجھے پیش کش کی لیکن میں نے قبول نہیں کیا لہذاوہ غصہ ہوئے اورانہوں نے مجھ سے دشمنی اور عداوت کا اظہار کیا ۔(١) سعد بن عبداللہ اشعری کا بیان ہے : امام کاظم کی شہادت کے بعد فرقۂ ہسمویہ کا یہ عقیدہ تھاکہ امام موسیٰ کاظم کی وفات نہیں ہوئی ہے اور وہ زندان میںبھی نہیں رہے ہیں بلکہ وہ غائب ہو گئے ہیں اور وہی مہدی ہیں، محمد بن بشیر ان کا رہبر تھا اس نے دعوٰی کیا کہ ساتویںامام نے خوداس کواپنا جانشین بنایا ہے، انگوٹھی اور وہ تمام چیزیں جن کی دینی او ردنیوی امور میں احتیاج ہوتی ہے اسے میرے حوالے کیا ہے اور اپنے اختیارات بھی مجھے دیئے ہیں اور مجھے اپنی جگہ بٹھایا ہے لہذا میں امام کاظم کے بعد امام ہوں محمد بن بشیر نے اپنی موت کے وقت اپنے فرزند سمیع بن محمد کو اپنی جگہ بٹھایا اور اس کی اطاعت کو امام موسیٰ کاظم کے ظہور تک واجب قرار دیا اور لوگوں سے کہا کہ جوبھی خدا کی راہ میںکچھ دیناچاہتا ہے وہ سمیع بن محمد کو عطا کرے ان لوگوںکانام ممطورہ پڑا۔(٢) ............

(١)زین عاملی ،محمد حسین ،شیعہ در تاریخ ،ص١٢٣،شیخ طوسی کی غیبت سے نقل کی ہے ص٤٦ (٢)اشعری قمی،سعد بن عبد اللہ،المقالات والفرق،ص٩١


(٤)ضعیف النفس افراد کا وجود :

شیعوں میں کچھ ضعیف النفس افراد موجود تھے جس وقت امام سے کوئی کرامت دیکھتے تھے تو ان کی عقلیں اس کو تحمل نہیں کرپاتی تھیں اور وہ غلو کر نے لگتے تھے اگرچہ خود ائمہ طاہرین نے شدت سے اس طرح کے عقائد کا مقابلہ کیا ہے ،رجال کشی کے نقل کے مطابق بصرہ کے سیاہ نام لوگوں میں سے ستّر لوگوں نے جنگ جمل کے بعد حضرت علی کے بارے میں غلو کیا۔( ١) مفاد پرست اور ریاست طلب افرادان لوگوں کے عقید ے سے سو ء استفادہ کرتے تھے ایسا عقیدہ رکھنے والوں کو منحرف کرتے تھے اور اپنے مفاد میں ان سے کام لیتے تھے جیسا کہ ابی خطاب نے فرقۂ خطابیہ کو ایجاد کیا اور امام صادق کو مقام پیغمبری میں قرار دیا اورکہا : خدا ا ن میں حلول کر گیا ہے اور خود کو ان کا جانشین بتایا۔(٢) امام زمانہ کی غیبت صغریٰ میں بھی ابن نصیر نے خود کو پہلا باب اور احکام کے نشر کرنے اور اموال جمع کرنے میں خود کوامام کا وکیل مشہور کیا ، اس کے بعد پیغمبری کا دعویٰ کیا اور آخر میں خدائی کا دعویٰ کیا،(٣) اس کے چاہنے والوں نے اس کو قبول بھی کرلیا بلکہ اپنے چاہنے والوں کے ایمان کی بنا پر ہی اس نے یہ دعوے کئے تھے اور اسی طرح فرقہ غلات وجود میں آئے ۔ ............

(١)جب امیر المومنین جنگ جمل سے فارغ ہوئے ٧٠لوگ جو سیاہ پوست جوبصرہ میں رہتے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے نے اپنی زبان میں علی سے بات کرنا شروع کی علی نے ان کی زبان میں ان کو جواب دیا انہوںنے آپ کے بارے میں غلو کیا علی نے فر مایا: میں خدا کی مخلوق اور اس کا بندہ ہوں انہوں نے قبول نہیں کیاانہوں نے کہا: آپ ہی خدا ہیں، آپ نے ان سے توبہ کرنے کی در خواست کی لیکنانہوںنے توبہ نہیں کی اس وجہ سے آپ نے ان کو پھانسی دی،شیخ طوسی،اختیار معرفة الرجال، رجال کشی،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث،قم،١٤٠٤ھ،ج١، ص ٣٢٥ (٢)شہرستانی ،کتاب ملل ونحل،منشورات شریف رضی،قم ،ج١،ص١٦٠ (٣)شیخ طوسی، رجال کشی،ج٢،ص٨٠٥

غالیوں کے خلاف ائمہ کا مبارزہ[لکھو]

اہم ترین خطروں میں ایک خطرہ جو طول تاریخ میں شیعوں کے لئے چیلنج کا سبب بنا رہا وہ غالیوں کامسئلہ اور عقائد کا شیعوں کی ظرف نسبت دیناہے ہمیشہ شیعوں کے دشمن شیعوں کو ان کے اماموں کے متعلق غلو اور زیادہ روی سے متہم کرتے تھے ہم یہاں غلات کے مختلف فرقوں اور ان کے عقائد کو بیان نہیں کریں گے لیکن قابل توجہ مطلب یہ ہے کہ اہم ترین خصوصیت اور غلات کے تمام فرقوں کے درمیان نقطئہ اشتراک ائمہ اطہار کے بارے میں غلو کرنا ہے اور ان کوخدا کے مرتبہ تک پہنچانا ہے مسلمانوں کے درمیان غلات کاوجود داخلی عوامل سے زیادہ خارجی عوامل کی بنیاد پر ہے جب دشمنان اسلام براہ راست مقابلہ نہیں کرسکے اوروہ تمام تر کوششوں کے باوجود اسلام کو خاطر خواہ نقصان نہ پہنچاسکے تو انہیں یہ حربہ اپنایا ،چونکہ اسلام ان کی سر زمینوں میںداخل ہوچکا تھا اور ان کی پوری طرح سے شکست ہوچکی تھی لہٰذا ان کی یہ کوشش یہ رہی کہ اسلام کو داخلی طریقہ سے نقصان پہنچایا جائے اسی وجہ سے انہوںنے اسلام کے پہلے اصول کو مورد ہد ف قرار دیا، سیاسی حکومتیںبھی اس جانب مائل تھیں کہ اہل بیت پیغمبر ۖکے چاہنے والوں اور ان کے شیعوںکے درمیا ن ایسے افراد پیدا ہوںجن کے عقائد کی نسبت شیعوں کی طرف دی جائے اور اس طریقہ سے اہل بیت کے چاہنے والوں کو غالی اور مسلمانوں کے زمروں سے علیحدہ کردیا جائے ،اگر چہ یہ سلسلۂ خلافت امیرالمومنین کے دور سے شروع ہو گیا تھااور کچھ غیر فعّال لوگ آپ کے بارے میںافراطی عقیدہ رکھنے لگے تھے جب وہ اپنے عقیدہ سے نہیںپلٹے توحضرت نے ان کو ختم کر دیا۔(١) ............

(١)شیخ طوسی ،رجال کشی ،ج١،ص٣٢٥

عبداللہ بن سبا جو ایک موہوم اور خیالی شخص ہے جس نے سب سے پہلے اس کا نام لیا وہ طبری ہے اس نے ابن سبا کی داستان کو سیف ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ تمام علمائے رجال ابن سیف کے کذاب ہونے پر متفق ہیں،(١)ائمہ اطہار مسلسل اس طرح کے مسائل سے دوچار تھے اورانہوںنے شدت سے اس کا مقابلہ کیا ہے اور ہمیشہ ان پر لعنت کی ہے اور لوگوں کو ان کے خطرات سے آگاہ کیا ہے اور شیعوں کو حکم دیا ہے کہ ان کے پاس نہ بیٹھیںاور ان سے رابطہ برقرار نہ کریں۔(٢) امام صادق نے چندغالی لیڈروں کا نام لیا ہے، جیسے مغیرہ بن سعید ،بیان، صائدنہدی ،حارث شامی ،عبداللہ بن حارث، حمزہ بن عمار بربری، اور ابوالخطاب وغیرہ اور ان افراد پر لعنت بھی کی ہے ۔(٣) یہ لوگ ائمہ طاہرین کی نفرین اور لعنت کی وجہ سے سخت عذاب میں مبتلا ہوتے تھے اور بری حالت میں مارے جاتے تھے جیسا کہ امام رضا نے فرمایا :بنان نے امام سجاد پر جھوٹ کا الزام لگایا خدا نے اس کوتیز تلوار کا مزہ چکھایا ،مغیرہ بن سعید نے امام باقر پر جھوٹ کا الزام لگایا کہ اس کو بھی خدا نے تیز تلوار کا مزہ چکھایا ،محمد بن بشیر نے امام کاظم کی طرف جھوٹی نسبت دی اس کو بھی خدانے تلوار کے ذریعہ ختم کر دیا ابوالخطاب نے امام صادق کی نسبت جھوٹ الزام لگایا وہ بھی شمشیر کی زد میں آیا اور جو مجھ پر جھوٹ کا الزام لگاتاہے وہ محمد بن فرات ہے۔(٤) ............

(١)رجوع کیا جائے ،عسکری ،سید مرتضیٰ، عبداللہ بن سبا و اساطیر اخریٰ،طبع ششم،١٤١٣ ھ ١٩٩٢ ج٢ ص ٣٢٨۔٣٧٥ (٢)شیخ طوسی،رجال کشی ،ج٢،ص٥٨٦ (٣)شیخ طوسی،رجال کشی ،ص٥٧٧ (٤)شیخ طوسی،رجال کشی ،ص٥٩١

امام حسن عسکری کے دور میں غلات کاسلسلہ بہت زیادہ وسیع ہوگیاتھا اس وجہ سے امام نے قاسم یقطینی ،علی بن حسکہ قمی ،ابن باباقمی فہری،محمد بن نصیر نمیری و فارس بن حاتم قزوینی وغیرہ غلات کے رہبر اور سردار تھے ان لوگو ں پرآپ نے لعنت بھیجی ہے ۔(١) شیعہ نشین علاقہ جیسے قم کہ جوہمیشہ غالیوں کا مخا لف تھا اور غالیوں کو یہاں سکونت کی اجازت نہیں تھی اس بنا پر ابن دائود نے حسین بن عبداللہ محررکی سوانح حیات کے ضمن میں یہ تحریر کیا ہے :روایت میں ہے کہ اس کو کسی غالی کے ساتھ ہونے کی بنا پر قم سے نکال دیا گیاتھا ۔(٢) ابن جزم کے نقل کے مطابق ابوالحسن محمد بن احمد جو امام کاظم کے فرزند وں میں سے ہیں اورجنہوں نے تیسری صدی ہجری میں آذر بائیجان میں زندگی بسرکی ہے، وہاں ان کا ایک بلندمقام تھاانہوں نے غلات کے مبلغین پر بہت سختی کی یہاں تک کہ ان کے قتل کے اسباب فراہم کئے اور آذر بائیجان کے حاکم ابن ابی ساج کے غلام مفلح کواس بات پر وارد کیا کہ وہ تمام مبلغینِ غلاف کو قتل کردے۔(٣) ............

(١)شیخ طوسی،رجال کشی ،ص٨٠٥ (٢)رجال ابن دائود،منشوارت رضی،قم، ص٢٤٠ (٣)جمہرة انساب العرب،بیروت،طبع اول،١٤٠٣ھ،ص٦٣



شیعوں کی علمی میراث[لکھو]

شرع مقدس اسلام میں تالیف وتصنیف کی اہمیت کسی پر مخفی نہیں ہے کیونکہ علم وآگاہی کے منتقل کرنے کے راستوں میں ایک راستہ لکھنا ہے، عرب کے معاشر ے میں اسلام سے پہلے اس نعمت سے بہت کم لوگ بہرہ مند تھے اور صرف چند افراد لکھنے اور پڑھنے کی توانائی رکھتے تھے۔( ١) لیکن بعثت پیغمبر ۖاور نزول وحی کے بعدتعلیمات اسلامی سے واقفیت کے لئے قرآنی آیات کے لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی ،جیسا کہ ابن ہشام نے نقل کیا ہے کہ عمر بن الخطاب کے مسلمان ہونے سے پہلے ان کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور ا ن کے شوہر سعید بن زید مسلمان ہوئے،خباب ابن ارث نے ایک نوشتہ کے ذریعہ کہ جسے صحیفہ کہتے ، عمر کی نظروں سے مخفی ہوکر انہیںسورہ طہ کی تعلیم دی۔ (٢) مدینہ میں بھی رسول خدا ۖنے مسلمانوںمیں سے بعض افراد کو کہ جو لکھنے پر قادتھے وحی لکھنے کے لئے انتخاب کیا اس کے علاوہ پیغمبرۖ امیرالمومنین کو کہ جو دائمی وحی لکھنے والے تھے ............

(١)ابن خلدون،عبد الرحمن بن محمد،(مقدمہ)دار احیاء التراث، بیروت، ١٤٠٨ھ ص ٤١٧ (٢)ابن ہشام ،سیرة النبوة،دار المعرفة ،بیروت،(بی تا) ج١ ،ص٣٣٤

مسلسل آیات محکمات ومتشابہات اور ناسخ ومنسوخ آیات کے بارے میںوضاحت پیش کرتے تھے جس کی بنا پر صحیفۂ جامعہ کے نام سے ایک کتاب رسول خدا ۖنے املا کرایا جو حلال و حرام ، احکام و سنن اور وہ احکام جن کی دنیا و آخرت میں لوگوں کو ضرورت ہے ان سب کو شامل تھی۔(١) دوسری دو کتابیں جن میں سے ایک دیات کے بارے میں تھی جس کا نام صحیفہ تھا اور دوسری کتاب جس کا نام فریضہ تھا اس کی نسبت بھی حضرت کی طرف دی گئی ہے۔(٢) بعض دوسرے صحابہ نے بھی رسولۖ خداکی تقاریر اور احادیث کو جمع کیا تھا اس کو بھی صحیفہ کہتے تھے جیسا کہ بخاری نے ابو ہریرہ سے نقل کیا ہے: اصحاب پیغمبر میں سے سب سے زیادہ میں احادیث رسول ۖکو نقل کرتا ہوں سوائے عبد اللہ بن عمر کے کیونکہ وہ جوچیز بھی پیغمبرۖ سے سنتے تھے اس کو لکھ لیتے تھے لیکن میں نہیں لکھتا تھا۔(٣) ............

(١)نجاشی احمد بن علی ، فہرست اسماء مصنفی الشیعہ ، موسسة النشر الاسلامی التابع لجماعة المدرسین ، قم ١٤٠٧ھ ص ٣٦٠، اور طبرسی ، اعلام الوری باعلام الھدی ، موسسة آل البیت لاحیاء التراث، قم طبع اول ، ١٤١٧ھ ج١ ص ٥٣٦ (٢) شیخ طوسی ، محمد بن حسن،تہذیب الاحکام،مکتبة الصدوق،طبع اول،٣٧٦ ھ ق ١٤١٨ھ ج١ ، ص٣٣٨۔٣٤٢ (٣) صحیح بخاری،دارالفکر،للطباعة والنشر والتوزیع،بیروت،ج١،ص٣٦

لیکن وفات پیغمبرۖ کے بعد دوسرے خلیفہ ،عمر نے احادیث رسول ۖ کو لکھنے سے منع کر دیا۔(١) عمر بن عبدالعزیز نے پہلی صدی ہجری کے آخر میں اس ممانعت کو ختم کر دیا اور ابو بکر بن حزم کو احادیث لکھنے کے لئے خط لکھا۔(٢) لیکن دوسری صدی ہجری کے شروع تک یہ کام عملی طور پر نہیں ہو سکا کیونکہ غزالی کے نقل کی بنا پر جن لوگوں نے اہل سنت کے درمیان حدیث کی کتاب کو سب سے پہلے تالیف کیا ہے وہ یہ ہیں : ابن جریح ،معمر بن راشد ،مالک بن انس اور سفیان ثوری،(٣)یہ لوگ دوسری صدی ہجری کے نصف دوم میں تھے، ان کی وفات کے سال ان کے نام کی ترتیب کے ساتھ اس طرح ہیں١٥٠ھ، ١٥٢ھ،١٧٩ھ،١٦١ھ لیکن خلیفہ دوم کی طرف سے کتابت احادیث پر پابندی اور روک ٹوک شیعوں کے درمیان مؤثر نہ ہوئی اور شیعوں کے بزرگ اصحاب جیسے سلمان فارسی ،ابو ذر غفاری،ابو رافع قبطی نے تالیف و تصنیف کی راہ میں پہلے قدم بڑھائے، ابن شہر آشوب کا بیان ہے ،غزالی معتقد ہے کہ سب سے پہلی کتاب جو جہان اسلام میں لکھی گئی وہ ابن جریح کی کتاب ہے جو تفاسیر کے حروف اور آثار کے بارے میں ہے کہ جس کو مجاہد اور عطا نے مکہ میں نقل کیا ہے، اس کی کتاب کے بعد یمن میںمعمر بن راشد صنعانی کی کتاب ہے اس کے بعد مدینہ میں موطا مالک بن انس کی کتا ب ہے نیز اس کتا ب کے بعدسفیان ثور ی کی کتاب جامع ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ عالم اسلام میں سب سے پہلی کتاب ............

(١)حیدر،اسد ، امام صادق و مذاہب اربعہ، دارالکتاب عربی، بیروت،١٤٠٣ھ،ج١ ص٥٤٤ (٢) صحیح بخاری ،دار الفکر ،للطباعة والنشر والتوزیع،بیروت،ج١،ص٢ (٣) ابن شہر آشوب ،معالم العلمائ،منشورات المطبعة الحیدریہ،نجف ١٣٨٠ھ،ص٢

امیرالمومنین نے لکھی ہے کہ جس میں قرآن کو جمع کیا ہے حضرت کے بعد سلمان فارسی ، ابو ذر غفاری اصبغ بن نباتہ عبیداللہ بن ابی رافع نے تصنیف و تالیف کی راہ میں قدم اٹھایا اور ان کے بعد امام زین العابدین نے صحیفۂ کاملہ تالیف کی۔(١) ابن ندیم نے بھی شیعی تالیفات کو پہلی صدی سے مربوط جانتا ہے۔(٢) شیعو ں کی تالیف و تصنیف اور آثار نبوی کی جمع آوری میںمقدم ہونے کی وجہ سے ذہبی نے ابان بن تغلب کی سوانح حیات میں کہاہے: اگر ابان جیسے شخص کی وثاقت تشیع کی طرف جھکائو اور میلان کی وجہ سے ختم ہو جائے تو نبی اکرم ۖ کی بہت سی حدیثیں اور آثار ہمارے درمیان سے ختم ہو جائیں گے۔(٣) اہل سنت کے گذشتہ فقہا اور محدثین خصوصاً ائمہ اربعہ نے امام صادق سے بلا واسطہ یا با لواسطہ استفا دہ کیا ہے نیز اس کے علاوہ مستقل طور پر شیعہ محدثین کی شاگردی بھی کی ہے اور ان سے احادیث دریافت کی ہیں۔(٤) ............

(١)ابن شہر آشوب ،معالم العلمائ، ص ٢ (٢)الفہرست،دار المعرفة،للطباعة والنشر،بیروت، ص٣٠٧ (٣)ذہبی ، میزان الاعتدال، دار الفکر للطباعة والنشرو التوزیع، بیروت ، ج١ ص ٤ (٤)ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغة،دار الاحیاء التراث العربی،بیروت ،ج١، ص١٨

لیکن ان کتا بوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے جو شیعوں کے درمیان تیسری صدی ہجری تک لکھی گئی ہیں، صاحب وسائل نے کہا ہے : ائمہ اطہار کے ہم عصر دانشمندوں اور محدثوں نے امام امیر المومنین کے زمانہ سے لے کر امام حسن عسکری کے زمانہ تک چھ ہزار چھ سو کتابیں تحریر فر مائی ہیں۔(١) شیعوں نے اس دور میں روز مرّہ کے مختلف علوم جیسے ادبیات، لغت ،شعر ،علوم قرآن ،تفسیر ،حدیث، اصول فقہ ،کلام ،تاریخ، سیرت،رجال ، اخلاق کے بارے میں بے حد کوششیں کی ہیں اور کثیر تعداد میں اپنی تالیفات چھوڑی ہیں نیز بیشترعلوم میں وہ سبقت رکھتے ہیں ۔ ابوالاسود دوئلی نے علم نحو کی بنیاد رکھی ،(٢)انہوں نے ہی سب سے پہلی مرتبہ قرآن پر نقطہ گذاری کی۔(٣) مسلمانوں کی سب سے پہلی لغت کی کتاب، کتاب العین ہے جس کو خلیل بن احمد نے مرتب کیا ہے(٤) ان کا شمار شیعہ دانشوروں میں ہوتا ہے ۔(٥) پیغمبر ۖ کی جنگوں اور سیرت کے بارے میں سب سے پہلی کتاب ابن اسحاق نے لکھی اور ابن حجر نے اس کے شیعہ ہونے کی گواہی دی ہے۔(٦) اس مختصر سی روشنی ڈالنے کے بعد ہم یہاں علم فقہ و حدیث اور کلام کی مختصر وضاحت پیش کرتے ہیں جن کو مکتب تشیع نے اپنے مبانی اور اصول کی بنیاد پر اپنے سے مخصوص کیا ہے ۔

............

(١)شیخ حرعاملی،محمد بن حسن،وسائل الشیعہ،مکتبةالاسلامیہ ، تہران، طبع ششم ج ٢٠، ص ٤٩ (٢)ابن ندیم،وہی کتاب ص٦١ (٣)بستانی،دائرةالمعارف،دار المعرفة،بیروت،ج١،ص٧٨٨ (٤)ابن ندیم،وہی کتاب،ص٦٣ (٥)اردبیلی الغربی الحائری ،محمد بن علی ،جامع الرواة،منشورات مکتبة آیةاللہ مرعشی نجفی،قم، ١٤٠٣ھ قمری،ج١،ص٢٩٨ (٦)ابن حجر عسقلانی، تحریر تقریب التہذیب ،موسسة الرسالة ،بیروت ،طبع اول ،١٤١٧ھ ١٩٩٧ئ، ج٣،ص٢١١۔٢١٢

علم حدیث:

حدیث یا سنت: قرآن کے بعد اسلامی فقہ کا دوسرا منبع و ماخذہے یعنی معصوم کا قول،فعل اور تقریر،(تقریر یعنی معصوم کے سامنے کوئی کام انجام دیا جائے اور معصوم خاموش رہیں اس کی رد میں کچھ نہ کہیں) اہل سنت حضرات سنّت یاحدیث کوپیغمبرۖ کے قول و فعل و تقریر میں منحصرجانتے ہیں لیکن شیعہ اما م معصوم کے قول،فعل اور تقریر کو بھی حجت قراردیتے ہیں اور حدیث کا حصہ شمار کرتے ہیں(١)اب ہم ائمہ کے زما نے میں حدیثوں کی تحقیق کے چار طبقہ جو چار مرحلوں کو شامل ہے انجام دیںگے :

پہلا طبقہ :

نجاشی کے مطابق پہلے حدیث لکھنے والے حسب ذیل ہیں : ابو رافع قطبی ، علی ابن ابی رافع ، ربیعہ بن سمیع ، سلیم بن قیس ہلالی، اصبغ بن نباتہ مجا شعی ، عبید اللہ بن حر جعفی یہ افراد امیرالمومنین علیہ السّلام اور امام حسن و امام حسین کے اصحاب میں سے ہیں۔(٢) ............

(١)شہید ثانی،شیخ زین الدین،ذکری الشیعہ فی احکام الشریعہ،طبع سنگی،ص٤،اور الرعایة فی علم الدرایة،شہید ثانی،مکتبة آیةاللہ مرعشی نجفی،طبع اول ١٤٠٨،ص٥٠۔٥٢ (2)رجال نجاشی،موسسہ نشر اسلامی التابعہ لجامعة المدرسین ، قم ، ١٤٠٧ھ ، قم ، ١٤٠٧ھ ق ص ٤۔ ٩


دوسراطبقہ :

بعض محققین کے مطابق امام سجّاد اور امام باقر کے اصحاب کے درمیان بارہ افرادصاحب تالیف ا ورصاحب کتاب تھے۔(١) ان میںابان بن تغلب کا نام لیا جا سکتا ہے کہ جن کو ائمہ کے نزدیک ایک خاص مقام و مرتبہ تھا امام باقر نے ان سے فرمایا : مسجد نبی ۖ میں بیٹھ کر لوگوں کو فتوی دوکیونکہ میںتم جیسے افرد کو اپنے شیعوں کے درمیان دیکھنا چاہتا ہوں۔(٢) نجاشی کا بیان ہے :ابان بن تغلب مختلف فنون و علوم میں ماہر تھے ، ابان نے ان فنون کے بارے میں کتابیں تحریر کی ہیں ،ان میں سے تفسیر غریب القرآن اور کتاب الفضائل وغیرہ ہیں ۔(٣) اسی طرح ابو حمزہ ثمالی جن کے بارے میں امام صادق علیہ السّلام نے فرمایا: ابوحمزہ اپنے زمانے میں سلمان کی طرح تھے،(٤) ان کی تالیف کردہ کتابیں درج ذیل ہیں کتاب نوادر ، کتاب زھد اور تفسیر قرآن ۔(٥) ............

(١)ان بارہ افراد کے نام یہ ہیں ، برد الاسکاف ، ثابت بن ابی صفیہ ابو حمزہ ثمالی ، ثابت بن ہرمز ، بسام بن عبد اللہ صیرفی ، محمد بن قیس بجلی ، حجر بن زائد حضرمی ، زکریا بن عبد اللہ فیاض، ابو جہم کوفی ، حسین بن ثویر ، عبد المومن بن قاسم انصاری ، عبد الغفار بن قاسم انصاری ،اور ابان بن تغلب ،رجوع کریں مقدمۂ وسائل الشیعہ، مکتبة الاسلامیہ ، طبع تہران ،ج ٦ ،١٤٠٣ھ ق ص (٢) نجاشی ، فہرست اسماء مصنفی الشیعة، ص ١٠ (٣) نجاشی ،احمد بن علی ، فہرست اسماء مصنفی الشیعة،موسسہ النشر الاسلامی لجماعة المدرسین،قم، ص ١١ (٤)احمد بن علی ، نجّاشی ، فہرست اسماء مصنفی الشیعة، ص١٥ (٥)ابن شہر آشوب ،معالم العلماء ،منشورات مطبعة الحیدریہ، نجف ،١٣٨٠ھ ص ٣٠


تیسرا طبقہ :

امام صادق کا زمانہ اسلامی معاشرہ میں علوم کی پیشرفت اور رشد کا زمانہ تھا اور شیعہ بھی نسبتاً آزاد تھے ،شیخ مفید کے مطابق امام صادق کے موثق اورمعتبر شاگردوں کی تعداد چار ہزارسے زائد ہے ۔(١) امام رضا کے صحابی حسن بن علی وشاکا بیان ہے میں نے مسجد کوفہ میں نو سو افراد کو دیکھا جو امام صادق سے حدیث نقل کر رہے تھے ،(٢) اس وجہ سے حضرت سے کئے گئے سوالات کے جوابات میں چارسو کتابیں تالیف کی گئیں،(٣)کہ جن کو اصل کہتے ہیں ان کتابوں کے علاوہ بھی دوسری کتابیں مختلف علوم و فنون میں امام صادق کے اصحاب اور شاگردوں کے ذریعہ تحریر میں آئی ہیں ۔

چوتھا طبقہ :

یہ دور امام صادق کے بعد کا دور ہے اس دور میںبہت سی حدیثوں کی کتابیں لکھی گئیں مثلاً امام رضا کے صحابی حسین بن سعید کوفی نے تیس کتابیں حدیث میں لکھی ہیں۔(٤) امام رضا کے دوسرے صحابی محمدبن ابی عمیر نے چورانوے( ٩٤)کتابیںلکھی ہیں اور امام رضا و امام جواد کے صحابی صفوان بن بجلی نے تیس٣٠ کتابیں تالیف کی ہیںان کتابوں میں اکثر پرجامع کا عنوا ن منطبق ہوتا ہے محدّ ثین جیسے ثقة الاسلام کلینی شیخ صدوق، شیخ طوسی نے اپنی کتابوں کی تالیف میں ان لوگوں کی کتابوں سے استفادہ کیا ہے ۔ ............

(١)شیخ مفید،الارشاد،ترجمہ ، محمد باقر ساعدی ، خراسانی ، کتاب فروشی اسلامی ، تہران ، ١٣٧٦ھ ش، ص ٥٢٥ (٢) نجاشی ، فہرست اسماء مصنفی الشیعة، ص ٣٩۔٤٠ (٣) اعلام الوریٰ با علام الہدیٰ ،موسسة آل البیت الاحیاء التراث ، قم طبع اول ج١ ص ٥٣٥ (٤)معالم العلماء ، ص ٤٠

علم فقہ :

مجموعی طور پر انسان کے اعمال کا رابطہ خُدا اور اس کی مخلوق سے ہے کہ جس کے لئے کچھ اصول اورقوانین کی ضرورت ہے اسی اصول اورقوانین کا نام علم فقہ ہے اسلامی قوانین خُدا کی جانب سے ہیں اور خُدا کے ارادے سے ظاہر ہوتے ہیں، البتہ ارادئہ خُدا کہیں بھی فقط قرار دادی اور اعتباری نہیں ہیں بلکہ مصالح و مفاسد تکوینی کی بنیاد پر استوارہوتے ہیں رسول اکرم ۖخُدا کے بھیجے ہوئے نبی ہیں ان کا حکم خُدا کا حکم ہے : ( ما ینطق عن الھویٰ اِن ھواِلّا وحی یوحی)(١) اور آیۂ( اطیعوا اللّٰہ و اطیعوا الرّسول و اولی الأمر منکم )(٢) کی بنیاد پر خُدا نے ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت کے ساتھ ذکر کیا ہے، ائمہ معصومین علیہم السلام کی باتیں وحی کے سوا کچھ نہیں ہیں اور پیغمبر ۖکی طرح ان کی بھی اطاعت واجب ہے۔ ............

(١)سورہ نجم ،٥٣، آیت ٣۔٤ (٢)سورہ نسائ، آیت ٥٩

عصر صحابہ و تابعین میں فقہ کی موقعیت و وضعیت

رسول ۖاکرم کی وفات کے بعدحقیقی اسلام کا راستہ متغیرو منحرف ہو گیا اور لوگ بر حق جانشین پیغمبرۖ سے دور ہو گئے، مسائل شرعی میں اصحاب پیغمبر ۖ کی طرف رجوع کرنے لگے البتہ چنداصحاب ان میں سے پیش قدم تھے، جیسا کہ ابن سعد کا بیان ہے کہ ابوبکر، عمر، عثمان کے دور خلافت میں حضرت علی علیہ السلام، عبد الرّحمن بن عوف ،معاذ بن جبل ابی بن کعب اور زید بن ثابت فتویٰ دیتے تھے ۔(١) اگر چہ ائمہ اطہار اور کچھ بزرگان شیعہ جیسے ابن عبّاس، ابو سعید خدری بھی فقیہ اور قانون شریعت سے واقف ہونے کی وجہ سے عامہ اور اہل سنّت کے لئے مورد توجہ قرار پائے اور ان کی طرف لوگ رجوع بھی کرتے تھے ۔(٢) البتہ اس دور میں شیعہ افراد فقہی مسائل اور اسلامی معارف کے بارے میں اپنے معصوم امام نیز اہل بیت رسول ۖکی جانب مراجعہ کرتے تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں فقہی اصول آج کی طرح بیان نہیںہوئے تھے لیکن صحابہ کا دور ختم ہونے کے بعد تابعین کی کچھ تعداد نے جدیدفقہی مسائل کے لئے فقہ میں کاوش کی اور فقیہ کا عنوان ان پرمنطبق ہوا منجملہ ا نہیں میں سے وہ سات فقہائے مدینہ ہیں ۔ (٣) ............

(١)ابن سعد، طبقات الکبری، دار احیاء التراث ، العربی ، بیروت ، طبع اول ،ج ٢ ص ٢٦٧ (٢)ابن سعد،طبقات الکبری، ج ٢ ص ٢٧٩۔٢٨٥ (٣) ابن سعد کہتا ہے : مدینہ میں جو لوگوں کے فقہی مسائل کا جواب دیتے تھے اور ان کا قول قابل اعتماد تھا وہ یہ ہیں: سعید بن مسیّب، ابو بکر بن عبد الرحمن ، عروة بن زبیر ، عبد اللہ بن عبد اللہ بن عتبة، قاسم بن محمد، خارجة بن زید اور سلیمان بن سیّار ،طبقات الکبری، ج ٢ ص ٢٩٣




شیعو ں کے درمیان فقہ کی وضعیت وحیثیت[لکھو]

فقہ کی وضعیت شیعوں کے درمیان حضور ِمعصوم کے سبب فرق کر تی ہے اور اس طرح کا اجتہاد جو اہل سنّت کے درمیان رائج تھا وہ شیعوں کے درمیان معنی نہیں رکھتا ہے بلکہ کلّی طور پرکہا جا سکتا ہے کہ فقہ شیعہ اماموں کے حضور کے دوران غیبت صغریٰ کے ختم ہونے تک ایک فرعی چیز تھی جو اجتہاد کے لئے راستہ ہموار کر رہی تھی۔(١) ............

(١)آیة اللہ ابراہیم جنّاتی معتقد ہیں کہ ابتدائے اسلام سے اب تک فقہ شیعہ آٹھ دور گذار چکی ہے :

(١) اجتہاد کی ابتدا رسول اکرم ۖ کی ہجرت سے ١١ھ تک ہوتی ہے ۔
(٢)تمہیدی دور یا اجتہادی مقدمات کا دور رسول اکرم ۖکی رحلت سے غیبت صغریٰ تک ہے
(٣) اصول قوانین کی تدوین یا مشترک عناصر اجتہادی کی تدوین کا دور جو ابن ابی عقیل ٣٢٩ھ سے شروع ہوتا ہے اور شیخ طوسی ٤٦٠ھ پر ختم ہوتا ہے ۔
(٤) اجتہاد کے مشترک عناصر کے یاد کرنے کا دور جو شیخ طوسی سے شروع ہوتا ہے اور ان کے پوتے ابن ادریس ٥٩٨ھ پر ختم ہوتا ہے ۔
(٥) اجتہادی مسائل کے استدلال کے پھیلنے کا دور جو ابن ادریس سے شروع ہو کر وحید بہبہائی ١٢٠٥ھ پر ختم ہوتا ہے ۔
(٦) اجتہاد کے تکامل وارتقا کا دور جو وحید بہبہائی سے شروع ہوتا ہے اور شیخ انصاری ١٢٨١ھ پر ختم ہوتا ہے ۔
(٧) اجتہادی مباحث میں عمیق غور و فکر کا دور جو شیخ انصاری سے شروع ہوتا ہے اور آقای خمینی پر ختم ہوتا ہے ۔
(٨) جدید طرزو روش سے اجتہاد سے فائدہ اٹھانے کا دور جس کے موجد آقای خمینی ہیں ۔

(ادوار اجتہاد ، سازمان انتشارات کیہان ، طبع اول ، ١٣٧٢ھ ش،فصل دوم کے بعد سے) معصوم کے ہوتے ہوئے اور علم کا دروازہ کھلا رہنے کے ساتھ نیز نص تک دسترسی کی بنا پر اجتہادجو اکثر دلائلی ظنّی سے وابستہ ہے اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ،فقہ شیعہ میں اجتہاد کی بنیاد سب سے پہلے ابن ابی عقیل عمانی کے ذریعہ قرن چہارم کے اوائل میں رکھی گئی ،جو شیخ کلینی کے ہم عصر تھے، ان کے بعد محمد بن جنید اس کافی نے ان کے مقصد کوجاری رکھااور اجتہاد و فقہ کی بنیادوں کو مستحکم کیا یہ لوگ قد یمین سے معروف ہیں ،شیخ مفید متوفی ٤١٣ ھ ، اورسید مرتضیٰ علم الھدیٰ متوفی ٤٣٦ھ ان لوگوں نے بھی اجتہاد کے راستہ کو ہموار کیا پھر نوبت شیخ طوسی ٤٦٠ھتک پہنچی ، شیعہ فقہ کو اس فقیہ بزرگ کے ذریعہ رونق اورترقی ملی انہوں نے حدیث کی دو معتبر کتا ب، تہذیب و استبصار کے علاوہ فقہی کتابیں بھی تالیف کی ہیںاور نہایہ، مبسوط اور خلاف جیسی کتا بیںانہیں کی قلم سے معرض وجود میں آئی ہیں ۔ البتہ ایسا نہیں ہے کہ اجتہاد، فقہ و اصول حضورائمہ میں اصلاًرائج ہی نہیںہوئے تھے بلکہ بُعد مکانی کی وجہ سے ائمہ تک لوگوں کی رسائی نہیں تھی اس وجہ سے ائمہ معصومین ان موارد میں ان افراد کے ساتھ تعاون کر تے تھے اور فقہا کی شناسائی اورمعیار کو جن کے ذریعہ ان تک رسائی ہوسکے ان کی نشاندہی کر تے تھے اور وہ اجتہاد کے ذریعہ لوگوں کے سوالات کے جوابات دیتے تھے ۔ جیسا کہ مقبو لہ عمر بن حنظلہ میں ہے کہ امام صادق سے سوال کیا گیا اگر شیعوں میں سے دو افراد کے درمیان کسی مسئلہ شرعی سلسلہسے متعلق مثلاً قرض او رمیراث میں اختلاف ہوجائے توکیا کہا جائے،امام نے فرمایا: اس کی طرف رجوع کرو جو ہماری احادیث کو نقل کر تا ہے اور ہمارے حلال و حرام پر نظر رکھتا ہے اور ہمارے احکام سے واقف ہے کہ میں نے ایسے شخص کو تمہارے لئے قاضی اور حاکم قرار دیا ہے۔(١) ائمہ طاہرین بھی کبھی کبھی بعض اشخاص کو شیعو ں کے مسائل شرعی کا جواب دینے کے لئے منتخب کرتے تھے جیسا کہ شیخ طوسی نے کہا: علی بن مسیب نے امام رضا سے عرض کی راستہ بہت دور ہے اور میں جب چاہوںا پ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتا ایسی حالت میں میں احکام دین خُدا کے بارے میں کس سے سوال کروں؟ امام نے فرمایا: زکریا بن آدم قمی سے کیونکہ وہ دین و دنیا میں امین ہیں ۔(٢) اسی طرح امام محمد باقر نے ابان بن تغلب کو حکم دیا کہ مسجد نبی ۖ میںبیٹھ کر لوگوں کو فتویٰ دیں ۔(٣)

آغاز اجتہاد[لکھو]

اس دور میں أئمہ طاہر ین علیہم السلام اصول فقہ اور استنباط کے قواعد اپنے شاگردوں کو سکھاتے تھے، اسی وجہ سے وہ کتابیں جو شیعہ دانشمندوں کے ذریعہ لکھی گئی ہیں ،ان کی نسبت اماموں کی جانب دی جاتی ہے ، مثلاً کتاب آل الرسول ہاشم خوانساری کی تالیف ہے اصول اصلیہ، سیّدعبداللہ بن محمد رضا حسین کی تالیف ہے، کتاب فصول المہمہ در اصول ائمہ محمد بن حسن حر عاملی کی تالیف ہے۔(٤) ............

(١)حر عاملی ، وسائل الشیعہ، ج ١٨، ص ٩٩، کتاب القضا ابواب صفات قاضی ، باب ١١، حدیث ١ (٢) شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث ، قم ج٢ ،ص ٨٥٧ (٣)احمد بن علی ، رجال نجاشی ،النشر الاسلامی، الطابعة جامعة المدرسین، قم ، ١٤٠٧،ص١٠ (٤)صدر سید حسین، تاسیس الشیعہ لعلوم الاسلام،منشورات، الاعلمی ، تہران، ٣١٠

رجال کی کتابوں میںائمہ طاہرین کے بعض بزرگ اصحاب، فقہا میں شمار کئے گئے ہیں جیسا کہ فضل بن شاذان کے بارے میں نجاشی کا بیان ہے، کا ن ثقة احد اصحابنا الفقھا والمتکلمین ۔(١) ............

(١)رجال نجاشی،ص ٣٠٧۔


فقہاء اصحاب ائمہ[لکھو]

شیخ طوسی نے امام باقر ـ،امام صادق ـ، امام کاظم ـاور امام رضا ـکے اصحاب میں سے اٹھارہ اصحاب کو فقیہ بزرگ کے عنوان سے پہچنوایاہے اورانہیں فقہائے اصحاب ابی جعفر فقہائے اصحاب ابی عبداللہ اور فقہائے اصحاب ابی ابراہیم اور ابی الحسن الرضا سے تعبیر کیا ہے،پھر مزیدفرماتے ہیں کہ شیعہ ان حضرات کی روایات کی صحت پر اجماع رکھتے ہیں اور اصحاب أئمہ کے درمیان ان کے افقہ ہونے کا اعتراف کرتے ہیں، شیخ نے ان کو تین طبقوں میں تقسیم کیا ہے:

پہلاطبقہ :

فقہائے اصحاب امام باقر،جیسے زرارہ ،معروف بن خربود ،بریدہ ابوبصیر اسدی ، فضیل بن یسارا ور محمد بن مسلم طائفی کہ زرارہ ان سب میں افقہ تھے یعنی سب سے بڑے فقیہ تھے ان لوگوں کا اصحاب امام صادق علیہ السلام میں بھی شمار ہو تا ہے

دوسرا طبقہ:

فقہائے امام صادق علیہ السلام ،جمیل بن درّاج ،عبداللہ بن مسکان، عبداللہ بن بکیر ، حماد بن عیسیٰ ا و رحماد بن عثمان ۔

تیسرا طبقہ:

فقہائے امام کاظم اور امام رضا علیہما السلام ،یو نس بن عبدالرحمن، صفوان بن یحٰ ، بیاع السابری، محمد بن ابی عمیر ، عبداللہ بن مغیرہ ،حسن بن محبوب، احمد بن محمد بن ابی نصر۔(١) ابن ندیم نے بھی چند شیعہ فقہا اور ان کی تالیف کردہ کتابوں کا تذکرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ وہ بزرگان ہیںکہ جنہوں نے فقہ کو امامو ں سے نقل کیا ہے کہ اس کے بعدابن ندیم نے ان کے نامو ں کا تذکرہ کیا ہے جو حسب ذیل ہیں :

صالح بن ابی الاسود ،علی بن غرّاب ، ابی یحییٰ لیث مرادی ، زریق بن زبیر، ابی سلمہ بصری ،اسماعیل بن زیاد ، ابی احمد عمربن الرّضیع ،دائود بن فرقد ، علی بن رئاب ، علی بن ابراھیم معلی،ہشام بن سالم ، محمد بن حسن عطار، عبدالمومن بن قاسم انصاری سیف بن عمیرہ نخعی ، ابراھیم بن عمر صنعانی ، عبداللہ بن میمون قداح، ربیع بن ا بی مدرک، عمر بن ابی زیاد ابزاری، زیکار بن یحیی واسطی، ابی خالد بن عمرو بن خالد واسطی ، حریزبن عبدللہ ازدی سجستانی ، عبداللہ حلبی، زکریا ی مومن ثابت ضرری ، مثنیٰ بن اسد خیاط، عمر بن اذینہ، عمّار بن معاویہ دہنی عبدی کوفی ، معاویہ بن عمّار دہنی، حسن بن محبوب سراد، ان بزرگوں میں سے ہر ایک نے فقہ میںکتاب تحریر کی ہے۔(٢) ............

(١)شیخ طوسی، رجال کشی،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، قم، ج ٢ ص ٥٠٧۔ ٣٧٦۔٨٣٠ (٢) طوسی، ابی جعفر محمد بن حسن ، بن علی،الفہرست ،دار المعرفة للجماعة والنشر ، بیروت، ص ٣٠٨

علم کلام[لکھو]

ان اعتقاد کے مجموعہ کا نام علم کلام ہے جن پر ہر مسلمان کو یقین رکھناضروری ہے،دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ علم کلام ایک ایسا علم ہے جو اصول دین میں تحقیق و گفتگو کا متکفل ہوتا ہے اصول دین میں پہلا اختلاف مسئلہ امامت میں پیغمبر ۖکی وفات کے فوراً بعد وجود میں آیا ، شہر ستانی کاکہناہے: اسلام میں اہم ترین اختلاف امامت کے سلسلہ میں ہے امامت کی طرح کسی دوسرے دینی مسئلہ میں تلواریں نہیں کھینچی گئی۔(١) نوبختی کا بھی بیان ہے:رسول ۖخُداربیع الاوّل ١٠ ھ (١)میں دنیا سے گئے آپ کی عمر ترسٹھ سال تھی ا ور مدّت نبوت تیئس سال تھی ، اس وقت امّت اسلام تین فرقوں میں تقسیم ہو گئی ، ایک فرقہ کا نام شیعہ یعنی شیعان علی ابن ابی طالب تھا،شیعوں کی تمام قسمیں ان سے وجود میں آئی ہیں ،دوسرا فرقہ جس نے حکومت وامارت کا دعویٰ کیا وہ انصار تھے ، تیسرا فرقہ ابو بکر بن ابی قحافہ کی طرف مائل ہو گیا اور کہا: پیغمبرۖ نے کسی کو اپنا جانشین نہیں بنایا ہے اور اس کا اختیار امت کو دے دیا ہے۔(٣) اس بناپراس وقت سے مسلسل شیعوں اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان امر امامت کے سلسلہ میںاحتجاج بحث و مباحث نیز گفتگو کا سلسلہ جاری ہے لیکن دوسرے اصول اور مبانی میں اختلاف پہلی صدی کے آخر اور دوسری صدی کے اوائل ............

(١) ملل ونحل، شہرستانی ، منشورات الشریف الرضی قم ، طبع دوم ١٣٦٤ھ ج ١ ص ٣٠ (٢) مشہور یہ ہے کہ رسول خدا نے اٹھائیس صفر کو رحلت فرمائی (٣)نو بختی ابن ابی محمد حسن بن موسیٰ، فرق الشیعہ، مطبع حیدریہ نجف ١٣٥٥ ، ١٩٣٦ ص ٢۔ ٣

میں وجود میں آیا ہے ، جیسا کہ شہرستانی کا بیان ہے: اصول میں اختلاف صحابہ کے آخری ایّام میں ہوا ،معبد جہنی، غیلان دمشقی اور یونس اسواری نے خیر و شر کے سلسلہ میں قدر جیسے قول کی بدعت جاری کی ہے اورو اصل بن عطا جوحسن بصری کا شاگرد ہے اور عمر بن عبید نے قدر میں کچھ چیزوں کا اضافہ کیا ہے۔ (١) وہ کلامی فرقے جو اس دور میں تھے حسب ذیل ہیں: وعیدیہ ، خوارج،مرجئہ اور جبریہ، البتہ کلامی بحث اس وقت عروج پر پہنچی جب واصل بن عطا، حسن بصری سے علیحدہ ہوگیااور مذہب معتزلہ کی بنیاد رکھی ، (٢) مکتب معتزلہ کہ جو زیادہ تر عقلی استدلال پر مبنی تھا اہل حدیث کے مقابلہ میں قرار پایا کہ جسے حشویہ کہا جاتا ہے ابوالحسن اشعری تیسری صدی ہجری کے آخر میں مکتب معتزلہ سے جدا ہو گیا اور مذہب اہل حدیث کا عقلی بنیادوں پردفاع کیا اور اس کا مذہب ،مذہب اشعری کے نام سے موسوم ہو گا ۔(٣) اس کے بعد معتزلی مذہب نے پیشرفت نہیں کی اور اہل حدیث کے مقابلے میں عقب نشینی اختیار کی اس حد تک کہ اس وقت اہل سنّت کے درمیا ن رائج کلام اشعری کاکلام ہے، کلام شیعہ مسلمانوں کے درمیان سابق ترین کلامی مکتب ہے، شیعوں کے پہلے امام معصوم حضرت علی نے اعتقادی مسائل جیسے توحید قضاو قدر ، جبرو اختیار کے بارے میں گفتگو کی اور اس طریقے کے مطالب حضرت کی زبان سے نہج البلا غہ میں جمع ہوئے ............

(١) شہرستانی، ملل و نحل ، منشورات الشریف الرضی ، قم طبع دوم ١٣٦٤ ھ ج ١ ص ٣٥ (٢)ملل ونحل، شہرستانی ، ص ٥٠٠ (٣)شہرستانی، ملل و نحل ، ص ٨٥۔٨٦

ہیں، لیکن شیعوں کے درمیان امامت کے سلسلہ میں کلامی گفتگو پیغمبر ۖ کی وفات کے فوراًبعد حضرت علی کی حقانیت کے دفاع میںشروع ہو گئی تھی ،شیخ صدوق کے مطابق جنہوںنے سب سے پہلے سقیفہ کے مقابلہ میں حضرت علی کے حق سے دفاع کیا وہ پیغمبرۖ کے بزرگ اصحاب میں سے بارہ افراد ہیںکہ جنہوںنے سقیفہ کے چند روز بعد مسجد نبیۖ میں ابو بکر کے خلاف احتجا ج کیا اور ابو بکر ان کے جواب میںعاجز و نا تواں نظرآئے۔(١) ان کے بعد بھی ابوذر غفّاری جیسے شخص، امیرالمومنین کے حق کے غاصبوں کے مقابلہ میں خاموش نہیں بیٹھے، عثمان نے خوف کی وجہ سے ان کو شام اور ربذہ شہر بدر کردیا ، پیغمبرۖ کے ابن عم حضرت علی کے شاگرد ابن عباس (مفسر قرآن، عظیم دانشور اوربر جستہ ہاشمی سیاست مدار)مکتب تشیع کے مدافعین میںسے تھے اور مستقل حقانیت علی کی جانبداری کرتے تھے یہاں تک کہ عمر نے ان پر اشکال واعتراض کیا کیوں آپ کہتے رہتے ہیں کہ ہمارا حق غصب ہوا ہے ؟وہ آخر عُمر میں نا بینا ہوگئے تھے، ایک روز سنا کہ کچھ لوگ کہیں پر علی کو برا کہہ رہے ہیں اپنے بیٹے علی سے کہا میر ا ہاتھ پکڑ کر وہاں لے چلو ،جس وقت وہاں پہنچے ان کو مخاطب کر کے کہا تم میں سے کون خُدا کو بُرا کہہ رہا تھا: سب نے کہا: کوئی نہیں، پھر سوال کیا تم میںسے کون رسول خدا ۖکو برا کہہ رہا تھا ؟سب نے کہا:کوئی نہیں پھر کہا :تم میں سے کون علی کو بُرا کہہ رہا تھا؟اس بار ان لوگوں نے کہا : ہم کہہ رہے تھے، ابن عباس نے کہا گواہ رہنا میں نے رسولۖ خُدا سے سنا ہے کہ جس نے ............

(١)شیخ صدوق، الخصال، منشورات جماعة المدرسین ، فی الحوزہ العلمیہ قم ١٤٠٣ ص ٤٦١، ٤٦٥

علی کو برا کہا اس نے مجھ کو برا کہا اور جس نے مجھ کو برا کہا اس نے خُدا کو برا کہا اور خُدا کو برا کہنے والا جہنّم میں جائے گا، وہاں سے پلٹتے وقت راستے میں بیٹے سے کہا ان کو کس حال میں دیکھ رہے ہو،بیٹے نے یہ شعر پڑھا :

نظروا الیکٔ بأ عین محمرہ
نظرا لیتو س الیٰ شفار الجارز
آپ کو سُرخ آنکھوں سے دیکھ رہے تھے جیسے قربانی کے جانورکی نگاہ قصّا ب کی چھری پر ہو تی ہے، ابن عبّاس نے کہا :آگے پڑھو ، کہا:

خزر الحواجب نا کسی اذقا نھم
نظرالذلیل الیٰ العزیز القادر
ان ابرواوران کی بھویں چڑھی ہوئی تھیں منہ پچکا ہوا تھا، اس طرح آپ کو دیکھ رہے تھے جیسے ذلیل قدرتمند کودیکھتا ہے ۔

ابن عبّاس نے کہا: مزید کہو،بیٹے نے جواب دیا: دوسری چیزیں بیان نہیں کرسکتا، ابن عبّاس نے خود یہ شعر پڑھے:
احیا ؤ ھم خزی علیٰ امواتھم
والمیّتون فضیحة للغابر (١)

ان کے زندہ ان کے مرنے والوں کے لئے ذلت کا باعث ہیں اور ان کے مرنے والے گزشتہ لوگوں کے لئے توہینکا سبب ہیں ۔ ............

(١)شیرازی سید علی خان ، الدرجات الرفیعہ، منشورات مکتبہ بصیرتی ،قم ، (بی تا)ص ١٢٧

اصحاب امیر المو منین میں سے بعض بزرگان جیسے صعصعة بن صوحان، میثم تمّار،کمیل بن زیاد ، اویس قرنی ، سلیم بن قیس ،حارث حمدانی اور اصبغ بن نباتہ نے بھی امیرالمومنین کے حق کا دفاع کیا اور اس بارے میں حضرت کے دشمنوں سے احتجاج کیا ، لیکن شیعوں میں سب سے پہلے علم کلام میں کس نے کتاب لکھی یہ تحقیقی موضوع ہے، ابن ندیم و ابن شہر آشوب کے مطابق علی بن اسماعیل بن میثم تمّار کلام شیعہ کے پہلے مصنف ہیں،انہوں نے اس بارے میں کتاب امامت اور کتاب استحقاق لکھی ہے۔ (١) لیکن مرحوم سیّد حسن صدر علم کلام میں پہلے مصنف عیسیٰ بن روضہ کو جانتے ہیں۔(٢) البتہ کلام شیعہ کی قدیم ترین کتاب جوآج بھی دسترس میں ہے، کتاب الایضاح ہے جس کے مصنف فضل بن شاذان متوفی ٢٦٠ھ ہیں جو امام ہادی اور امام حسن عسکری کے صحابی تھے ،امام صادق کے دور میں علم کلام نے بھی دوسرے تمام علوم کی طرح ترقی پائی اور حضرت کے چند شاگرد جیسے ہشام بن حکم ،ہشام بن سالم، مومن طاق ، فضال بن حسن ، جابر بن یزید جعفی وغیرہ اس موضوع میںسب زیادہ برجستہ اورنمایاں تھے اور اس سلسلہ انہوں نے میں اپنی کتابیں چھوڑی ہیں ان کا دوسرے مکاتب کے دانشمندوں سے مناظرہ ہوتا تھا ، فضل بن شاذان نیشاپوری متوفی ٢٦٠ھ ممتاز ترین شیعہ متکلم تھے، انہوں نے امام رضا امام جواد اور امام ہادی کے زمانے کو درک کیا ہے اور کلام و عقائد اور منحرف مذاہب ............

(١) ابن ندیم گزشتہ حوالہ ، ص ٢٤٩، اور ابن شہر آشوب ، معالم العلماء ، منشورات مکتبة الحیدریہ ، نجف ١٣٨٠ھ ١٩٦١م ص ٦٢ (٢)تاسیس الشیعہ لعلوم الاسلام، منشورات الاعلمی ، تہران ص ٣٥٠

کے خلاف کافی کتابیں لکھی ہیں۔ (١) حسن بن نو بختی متوفی ٣١٠ ھ شیعہ متکلمین میں سے تھے ان کی جملہ کتابوں میں سے ایک فرق الشیعہ ہے ۔ (٢) ............

(١)نجاشی، فہرست اسماء مصنفی الشیعہ، نجاشی موسسة الاسلامی تابعة لجماعة المدرسین ، قم ١٤٠٧ھ ، ص٣٠٦ (٢) فہرست اسماء مصنفی الشیعہ، نجاشی موسسة الاسلامی التابعة لجماعة المدرسین ، قم ١٤٠٧ھ ص ٦٣


شیعیت کے فروغ میں شیعہ شاعروں کا کردار[لکھو]

گزشتہ زمانے میں شعر کو ایک خاص اہمیت حاصل تھی اشعار اپنے ادبی اور فنی پہلوئوں سے قطع نظر تبلیغی امور کا اہم ترین ذریعہ ہوا کرتے تھے اورجو کام آج اخبار ریڈیو ٹیلی ویژن انجام دیتے ہیںوہ کام اشعار کے ذریعہ لیا جاتا تھا، زمانۂ جاہلیت میں عرب قوموں کے درمیان یہ چیز بہت زیادہ قابل اعتناء تھی کیونکہ وہ فصاحت و بلاغت اورحُسن کلام کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے،یہی وجہ ہے کہ قرآن کے اہم ترین اعجاز کا ایک پہلو اس کی فصاحت و بلاغت ہے، اسی وجہ سے عربوں کے درمیان شعرکو ایک خاص اہمیت حاصل تھی ،جیسا کہ یعقوبی کا اس بارے میں کہنا ہے :

عرب لوگ شعر کو علم وحکمت کے برابر اور ہم پلہ جانتے تھے جس وقت کسی قبیلہ میں کوئی نکتہ سنح شاعر اورسخنور ظاہر ہوتا تھاتو اس کے لئے سالانہ کے بازاروں اور مراسم حج جیسے اجتماعات میںشرکت کا موقع فراہم کرتے تھے تاکہ وہ شعر پڑھے اور اس کے شعر کو دوسرے قبیلہ والے سنیں اور اس پر فخر کریں، عرب اپنے تمام امور کے لئے شعر کا سہارا لیتے تھے شعر کے ذریعہ دشمنی کرتے تھے شعر کے ذریعہ مثال پیش کرتے تھے شعر کے ذریعہ ایک دوسرے پر افتخار کر تے تھے،ایک دوسرے کی عیب جوئی کرتے تھے اور ایک دوسرے کی مدح وثنا کرتے تھے۔(١)

سقیفہ کی تشکیل اور تشیع کی صف علیحدہ ہونے کے بعد عربی اشعار نے اپنی حیثیت محفوظ کر لی اور شیعیان علی نے اپنے امر امامت وولایت میںاپنے نظریات کی وسعت کے لئے اس سے فائدہ اٹھایا اور شیعہ مدافعین ولایت مکتب تشیع کی حقانیت میں کہ جس کا اصلی مقصد خلافت کے باب میں امیر المومنین کی حقانیت کوثابت کرنا ہے، اشعار کہااور اس نے تشیع کی وسعت اورفروغ میں اہم رول ادا کیا،زبیر بن بکار جوشیعہ مخالف رجحان رکھتا تھااس کے باوجود اس نے کچھ اشعار کو ذکر کیا ہے منجملہ اشعار میںسے عتبہ بن ابی لہب کے اشعار ہیں : ما کنت احسب ان الامر منصرف عن ہاشم ثم منھا عن ابی حسن میں نے سو چا بھی نہیں تھا کہ خلافت کو بنی ہاشم سے اور ان کے درمیان ابوالحسن(علی )سے چھین لیا جائے گا۔

الیس او لیٰ من صلّی لقبلتکم واعلم الناس بالقرآن والسّنن کیا وہ پہلا شخص نہیں ہے کہ جس نے تمہارے قبلہ کی طرف نماز پڑھی اور قرآن و سنت کو سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ ............

(١)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی،منشورات شریف الرضی،قم،ج١،ص٢٦٢

واقرب الناس عھداًبالنبی ومن
جبریل عون لہ فی الغسل والکفن
کیا وہ آخری فرد نہیں ہے جس نے پیغمبر ۖکو دیکھا؟کیا وہ شخص وہ نہیں ہے کہ جبرئیل نے پیغمبرۖ کے غسل و کفن میں جس کی مدد کی ہے؟

ما فیہ وما فیھم لا یمترون بہ
ولیس فی القوم مافیہ من الحسن
کیوں نہیںاپنے اور علی کے درمیان فرق قائل ہوتے لوگو ں کے درمیان کوئی ایسا نہیں ہے جوعلی کے مانند فضائل رکھتا ہو۔

ماذا الذی ردھم عنہ فتعلمہ
ھا ان ذاغبنا من اعظم الغبن (١)
اس سے منصرف ہونے کی علت کیا ہے؟ ان کو اس مطلب سے آگاہ کرو کہ یہ ہمارا بہت بڑا نقصان ہے۔

ائمہ طاہرین بھی شعر کے استعمال کی ضرورت اوراس کے نفوذ سے کاملاً آگاہ تھے اور شیعہ شعراء کا بے حد احترام و اکرام کرتے تھے، ایک روز کمیت اسدی امام باقرکی خدمت میں حاضر ہوئے اور قصیدہ میمیّہ پڑھنا شروع کیا جس وقت اس شعر پر پہنچے :
وقتیل با لطف غودر منھم
بین غوعاء امة وطغام
سر زمین طف (کربلا)میں ذلیل اور پست صفت لوگوں کے درمیان انہیں شہیدکردیا گیا جو عظیم تھے۔

............

(١)زبیر بن بکار،الاخبار الموفقیات،منشورات الشریف الرضی،قم،١٤١٦ھ ،ص ٥٨١

امام باقرعلیہ السلام نے گریہ کیا اور فرمایا ،اے کمیت! اگر ہمارے پاس ثروت ہوتی ہم تمہیں عطا کرتے لیکن جو رسول خداۖ نے حسان بن ثابت کے لئے فر مایاتھا وہی میں تم سے کہتا ہوںجب تک تم ہم اہل بیت کا دفاع کرو گے اس وقت تک روح القدس کے ذریعہ تمہاری تائید ہوتی رہے گی ۔(١) اسی طرح امام صادق فرماتے ہیں : اے شیعو! اپنی اولاد کو عبدی(٢)کے اشعار سکھائو کیونکہ وہ خدا کے دین پر ہیں۔(٣) اسی وجہ سے حقیقت گو شعراء شیعوں اور دوستداران پیغمبرۖ کے نزدیک قابل احترام و اعتبار تھے جیسا کہ ابن المعتز نے نقل کیا ہے قم کے لوگ پچاس ہزار درہم سا لانہ شیعہ شاعر دعبل خزاعی کو ا دا کرتے تھے۔ (٤) ............

(١)مسعودی علی بن الحسین،مروج الذہب،منشورات مو سسہ الاعلمی للمطبوعات بیروت، ج٣، ص٢٥٤ (٢)عبدی امام صادق کے اصحاب میں سے تھے ان کا نام رجال کشی میں سفیان بن مصعب اور ان کی کنیت ابو محمدذکر ہوتی ہے ،شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال ،مئوسسة الآل البیت لاحیاء التراث قم، ١٤٠٤ھ، ج٢،ص٧٠٤،ابن شہرآشوب نے صفیان بن مصعب کو اہل بیت کے شعرا ء کے طبقہ میں ذکر کیا ہے اور شعرا کے طبقہ میں (مجاہر)اس کے نام کوغلطی سے علی بن حماد عبدی کے نام سے ذکرکیاہے) (معالم العلما،منشورات المطبعةالحیدریہ،النجف،١٣٠٨ہجری،١٩٦١م،ص١٤٧و١٥١) (٣)ابن شہرآشوب ، گزشتہ حوالہ ،ص١٤٧ (٤)ڈاکٹر شوقی ،ضیف تاریخ الادب العربی العصر العباسی الاول،دارالمعارف ،مصر،ص٣٢١

اسی بنا پر شیعہ شعرا ء بنی عباس اور بنی امیہ جیسے دشمن حاکموںکی طرف سے مستقل آزارو اذیت کا شکارتھے ،کمیت بن زیدی اسدی نے جو اشعار اہل بیت کی مدح اور ان کے غم میں کہے تھے اس کی بنا پر بنی امیہ نے ان کوزندان میں ڈال دیا(١) سدیف بن میمون(٢)نے محمد نفس زکیہ کی مدح میں اشعار کہے تھے۔(٣)جس کی بنا پر منصور عباسی کے غضب کانشانہ بنے مدینہ کے حاکم عبد الصمد بن علی نے منصور کے حکم سے سدیف کو زندہ در گور کر دیا۔(٤) اسی طرح ابراہیم بن ہرمہ جو شیعوںکے شیرین سخن شعرا ء میں سے تھے اور اہلبیت کی مدح میں کافی اچھے اشعارکہے تھے جس وقت وہ منصور عباسی کے در بار میں داخل ہوئے منصور نے ان سے تند لہجہ میں کہا :اگر اس کے بعد ایسے اشعار کہے جو ہماری پسندکے نہ ہوئے تو تم کو قتل کردوں گا۔(٥) ............

(١)ابو الفرج اصفہانی ،الاغانی،دار احیاء التراث العربی،بیروت،ج١٧،ص١۔٨ (٢)سدیف بن میمون امام سجاد کے مدّاح اور ماننے والوں میں سے تھے، ابن شہر آشوب نے آپ کو اہلبیت کا چاہنے والا اورمیانہ رو لوگوں کی فہرست میںقرار دیا ہے انہوں ہی نے پہلے عباسی خلیفہ سفاح کو بنی امیہ کے باقی افراد کے قتل پراپنے اشعار کے ذریعہ تحریک کیا تھا ،امین ،سید محسن ، اعیان الشیعہ دارالتعارف للمطبوعات، بیروت، ج١ ص١٦٩ (٣)یہ امام حسن کے پوتوں میں سے تھے اور آپ کے باپ عبد اللہ بن حسن مثنیٰ تھے بنی امیہ کے آخری دور میں بنی ہاشم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی لیکن امام صادق کاخیال یہ تھا کہ ان کا کام انجام کو نہیں پہنچے گا ،عباسیوں کے خلافت پر آنے کے بعد عباسی خلیفہ کے دوسرے دور میں منصور نے مدینہ میں قیام کیا لیکن عباسی طاقت کے سامنے وہ شکست کھا گئے اور قتل ہو گئے ) (٤) ابن عبدربہ اندلسی،العقدالفرید،دار احیاء التراث العربی ،بیروت،ج٥،ص ٧٢۔٧٣ (٥)اسد حیدر ،امام صادق و مذاہب اربعہ،دار الکتاب عربی بیروت ، طبع سوم ،١٤٠٣ ھ ج١،ص٤٥٢

ہاں بہت سے شاعر ایسے بھی تھے جو جان کی پراوا نہیں کرتے تھے جان کو خطرے میں ڈال کر اشعار کہتیتھے،جیسے دعبل کہتے ہیں پچاس سال سے پھانسی کے پھندے کو گلے میں ڈالے پھر رہا ہوں کوئی نہیں ہے جو مجھے پھانسی دے۔(١)

غیبت صغریٰ تک کے شیعہ شعراء[لکھو]

جیسا کہ پہلے اشارہ کر چکے ہیں کہ سقیفہ کی تشکیل کے پہلے ہی روز سے شعراء کے درمیان ایسے حقیقت گو شعرا ء پیدا ہوئے کہ جنہوں نے اپنی نوک زبان کے ذریعہ مکتب تشیع کا دفاع کیاامیرالمو منین کے دور حکومت میں جنگ جمل و صفین میںان عراقی شعرا کے علاوہ کہ جوپیروان علی میں سے تھے حضرت کے بہت زیادہ اصحاب جیسے ،عمار یاسر،خزیمہ بن ثابت،ابو ایوب انصاری،ابن عباس وغیرہ نے امیرالمومنین کے حق کے دفاع میں اشعار پڑھے۔

بنی امیہ کے دور میں بھی چند شعرا نے خاندان پیغمبرۖسے اپنی وا بستگی کا ثبوت دیا لیکن بنی امیہ کے زمانے میں بنی عباس کے زمانے کی بہ نسبت کم شعراء تھے کیونکہ بنی امیہ کے زمانہ میں شیعہ معاشرہ پر شدیدگھٹن کاچھایا ہوا حاکم تھا جیسا کہ ابوالفرج اصفہانی کا بیان ہے:وہ شعراء جو بنی امیہ کے دور میںتھے انہوںنے امام حسین کے مرثیہ میں کم اشعار کہے ہیں۔(٢) ............

(١)الشکعة ،ڈاکٹرمصطفیٰ ،الادب فی موکب الحضارةالاسلامیہ کتاب الشعراء،دار الکتاب اللبنانیہ، ص ١٦٢۔٣٦٣ (٢)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین،منشورات شریف الرضی ،قم ص١٢١

جس وقت کمیت اسدی نے قبیلۂ بنی ہاشمکی مدح و ثنا کی تو عبداللہ بن معاویہ نے کہ جو جعفر طیّار کی اولاد میںسے تھے بنی ہاشم کو مخاطب کر کے کہا: اے بنی ہا شم !جس وقت لوگ تمہاری فضیلت بیان کرنے سے سکوت اختیار کئے ہوئے تھے اس وقت کمیت نے تمہارے بارے میں اشعار کہے اور بنی امیہ کے مقابلہ میںاپنی جان کی بازی لگا دی یہی اشعار ان کے گرفتاری کا باعث بنے اور انہیں شہید کر دیا گیا ۔(١) ان سے پہلے فرزدق بھی امام سجادکی مدح و ثنا کرنے کی بنا پر بنی امیہ کے زندان میں گرفتار ہو چکے تھے۔ ( ٢) بنی عباس کا دور میں حقیقت گو شعراء کے لئے بہت زیاد ہ حساس تھا لیکن چونکہ شیعہ معاشرہ بنی عباس کے دور میں وسیع ہو چکا تھالہذا بنی امیہ کے زمانہ کی بہ نسبت ان پر کم کنٹرول ہوسکا آہستہ آہستہ جب بنی عباس کمزور ہوگئے تومکتب تشیع کے دفاع میں بہت سے شعرا ئظاہر ہوئے جیسا کہ ڈاکٹر شوقی ضیف کا کہنا ہے:عباسیوں کے دوسرے دور میںبہت سے شیعی اشعار کہے گئے، اور شیعہ شعراء اس دور میں دو گروہ میں بٹے ہوئے تھے ایک علوی شعرا ء دوسرے غیر علوی شعراء۔(٣) شیعہ شعراء کی تعداد کے بارے میںبزرگ دانشور ابن شہر آشوب ،علی خان شیرازی اور مرحوم علامہ امینی نے تحریرکیا ہے،لیکن اس سلسلے میں جامع ترین کارنامہ سید محسن ............

(١) ابو الفرج اصفہانی ،الاغانی،دا راحیاء التراث العربی ،بیروت،ج١٧،ص١۔٨ (٢)قطب الدین راوندی الخرائج والجرائح مؤسسہ امام المہدی ،قم،طبع ١،١٤٠٩ھ ،ج١ ص٢٦٧ (٣) ضیف ،شوقی ،تاریخ الادب العربی العصرالعباسی الثانی ،دار المعارف بمصر،ص٣٨٦

امین نے انجام دیا ہے کہ شیعہ شعرا ء کو ان کے سال وفات کے ساتھ ٣٢٩ ھ یعنی غیبت صغریٰ کے خاتمہ تک ایک ایک کاذکر کیا ہے۔ شیعہ شعراء مرحوم سید محسن امین کے مطابق درج ذیل ہیں ۔

برجستہ شیعہ شعراء

حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام
حضرت فاطمہ زہرا بنت رسول اللہ ۖ
فضل بن عباس ، م ، ١٢، یا ١٥ ھ
ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب
حضرت عباس بن عبد المطلب ،م ٣٢
حضرت حسن بن علی ـ
حضرت حسین بن علی علیہ السلام
عبد اللہ بن عباس ، ٦٨ ھ
عبد اللہ بن ابی سفیان بن حارث بن عبد المطلب ، ش ، ٦١ھ
ام حکیم بنت عبد المطلب ، پہلی صدی
عمار بن یاسر ٣٧ھ
نابغة جعدی قیس بن عبد اللہ ، پہلی صدی
ابو الہیثم بن تیّھان انصاری ٣٧ھ
خذیمہ بن ثابت ذو الشہادتین ٣٧ھ
اروی بنت عبد المطلب
عبد اللہ بن بدیل بن ورقا الخزاعی
خزیم بن فاتک اسدی
صعصعة بن صوحان العبدی ، پہلی صدی
لبید بن ربیعة عامری ،م ٤١ھ
کعب بن زہیر اسلمی ، م ٤٥ھ
حجر بن عدی کندی ، م،٥١ھ
کعب بن مالک انصاری ، پہلی صدی
قیس بن سعد انصاری ، م، ٦٠
منذر بن جارود عبدی ، م ٦١ یا ٦٢ھ
سلیمان بن صرد خزاعی ، ش ٦٥ھ
احنف بن قیس تمیمی ،م، ٦٧ یا ٦٨ھ
عدی بن حاتم طائی ، م ٦٨ھ
ابو الطفیل عامر بن واثلة کنانی
ہاشم مرقال ، ش، ٣٧
مالک اشتر ، ش، ٣٨، یا ٣٩ھ
ثابت بن عجلان انصاری
نجاشی قیس بن عمرو حاثی ، شاعر اہل عراق
قیس بن فہدان کندی ، م ٥١ھ
شریک بن حارث اعور ، م، ٦٠ھ
سعیة بن عریض ، پہلی صدی
جریر بن عبد اللہ بجلی ، پہلی صدی
رباب زوجہ امام حسین
ام البنین فاطمہ کلابیہ زوجۂ امیر المومنین
عبید اللہ بن حر جعفی ، پہلی صدی
مثنی بن مخرمة عبدی ، پہلی صدی
ابو دہبل جمحی ، پہلی صدی
ابو الاسود الدؤلی ، م ٦٩ھ
عقبة بن عمر و سھمی
عبد اللہ بن عوف بن احمر
مسیب بن نجبة الفزاری ش، ٦٥
عبد اللہ بن سعد بن نفیل ، ٦٥ھ
عبد اللہ ابن خضل طائی
عبد اللہ بن وال تمیمی ،ش، ٦٥ھ
رفاعة بن شداد بجلی ،ش، ٦٦ھ
اعشی حمدان ، پہلی صدی
ابراہیم اشتر ، ش، ٦٦ھ
ایمن بن خریم اسدی ، م ٩٠ھ
فضل بن عباس بن عقبة بن ابی لہب
ابو الرمیح خزاعی ، م١٠٠ھ
خالد بن معدان الطائی ، م ١٠٣ھ
کثیر عزہ ، م ،١٠٥ھ
فرزدق ھمام بن غالب تمیمی ،م ١١٠ھ
سفیان بن مصعب عبدی ،م١٢٠ھ
زید بن علی ابن الحسین ش، ١٢٢ھ
سلیمان بن قتیبہ عدوی ،م ١٢٦ھ
کمیت بن زید اسدی ، م ١٢٦ھ
مستحل بن کمیت ، دوسری صدی
یحی بن یعمر،م ١٢٧ھ
فضل بن عبد الرحمن بن عباس بن ربیعة بن حارث بن عبد المطلب ،م ١٢٩ھ
مالک بن اعین جھنی ، دوسری صدی کے درمیان
وردبن زیدبرادر کمیت ،م ١٤٠ھ
ابراہیم بن حسن ، ١٤٥ھ
قاضی عبد اللہ بن شبر مہ کوفی ،م١٤٤ھ
موسی بن عبد اللہ ، دوسری صدی
سدیف بن میمون ، ١٤٧ھ
زرارةبن اعین ،م ١٥٠ھ
محمد بن غالب بن حزیل کوفی ،دوسری صدی
ابراہیم بن حرمت ،١٥٠ھ
عبد اللہ بن معاویہ از نسل جعفر طیار
ابو ہریرہ اجلی ،دوسری صدی
ابو ہریرة الابرار ،م دوسری صدی
قدامت سعدی
جعفر بن عفان طائی ، م١٥٠ھ
ابو جعفر مومن طاق دوسری صدی ہجری
شریک بن عبداللہ نخعی ، دوسری صدی
علی بن حمزہ نحوی کسائی ،م ١٨٩ھ
منصور نمری ، دوسری صدی ہجری
معاذ بن مسلم ہرہ ،م ١٨٨ھ عبد اللہ بن غالب اسدی
مسلم بن ولید انصاری ، دوسری صدی ہجری
،ابو نواس ، مستولد ،م١٩٨ھ
سید حمیری ،م ١٩٩ھ
علی بن عبد اللہ خوافی ،تیسری صدی
عبد اللہ علی مرانی تیسری صدی ہجری
عبد اللہ بن ایوب حریبی
مشیع مانی ، تیسری صدی ہجری
قاسم بن یوسف کاتب ،تیسری صدی
اشجع بن عمر و سلمی ،٢١٠ھ
محمد بن وہب حمیری ،تیسری صدی
ابو دلف عجلی ، م ٢٥٥ھ
ابو طالب قمی ، تیسری صدی ہجری
ابو تمام حبیب بن اوس طائی
دیک الجن تیسری صدی ہجری
ابراہیم بن عباس صولی ،م ٢٣٤ھ
ابن سکیت یعقوب بن اسحاق
ابو محمد عبد اللہ بن عمار برقی ،م ٢٤٥ھ
دعبل بن علی خزاعی ، م ٢٤٦ھ
محمد بن عبد اللہ خزاعی
عبد اللہ بن محمد خزاعی ،تیسری صدی
حسین بن دعبل خزاعی ، تیسری صدی
موسی بن عبد الملک ،م ٢٤٦ھ
احمد بن خلاد اشروی ، تیسری صدی ہجری
احمد بن ابراہیم، تیسری صدی
بکر بن محمد نحوی م ٢٤٨ھ
احمد بن عمران اخفش
ابو علی حسین بن ضحاک ،م ٢٥٠ھ
محمد بن اسماعیل صمیری ، م٢٥٥ھ
فضل بن محمد تیسری صدی کے درمیان حمانی علی بن محمد ،م ٢٦٠ھ
دائود بن قاسم جعفری ،م ٢٦١ھ
ابن رومی علی بن عباس ،م ٢٨٣ھ
بحتری ، ولید بن عبید طائی ،م ٢٨٤ھ
شریف محمد بن صالح ،تیسری صدی
نصر بن نصیر حلوانی ، تیسری صدی
علی بن محمد بن منصور بن بسام
احمد بن عبید اللہ ،م ٣٤١ھ
خُبزارزی بصری نصر بن احمد
خباز البلدی محمد بن احمد چوتھی صدی
احمد بن علویہ اصفہانی ،م ٣٢٠ھ
ابو بکر محمد بن حسن درید ،م ٣٢١ھ
محمد بن احمد بن ابراہیم طباطبائی حسنی
محمد بن مزید بو شنجی ،م ٣٢٥ھ علی بن عباس نوبختی ، م، ٣٢٩ھ
مفجع بصری محمد بن احمد ،م ،یا، ش٣٢٧ھ



شیعوں کے ممتاز اور نمائندہ شعراء[لکھو]

ہر دور میں چند معروف شعراء شیعہ کے نام سے مشہور تھے جو شیعی اشعا رکے زرین دور کے نمائندے تھے اور انہوں نے خود کو خاندان پیغمبر ۖکی ولایت و دوستی میں محو کر دیا تھا من جملہ ان شعرا میں کمیت بن زید اسدی ، کثیر عزہ، فرزدق اور سید حمیری کہ جو بنی امیہ کے دور میں تھے، ابن عبدربہ کا کہنا ہے:کمیت ا و رکثیر تند وغالی شیعوں میں سے تھے ۔(١) کمیت کے فرزند مستہل نے کہاہے:(میرے باپ) کمیت نے موت کے وقت آخری بارآنکھ کھولی توتین بار کہا :الٰلھم آل محمدۖ(٢) ابن معتزکا بیان ہے :سید حمیری نے علی کے تما م معروف فضائل کو شعر میں جمع کیا ہے۔(٣) ابوالفرج اصفہانی کہتے ہیں:سید حمیری کے اکثر اشعار بنی ہا شم کی مدح اور ان کے دشمنوں کی سر زنش میں ہیں ،بنی ہاشم کی مدح میں تئیس سو قصیدہ ان سے نقل ہوئے ہیں۔ (٤) اسی وجہ سے شیعوںکے نزدیک سید حمیری کا مقام بہت بلند تھا اور مسجد کوفہ میں ان کے لئے ایک خاص مسند تھی ۔(٥) پہلے عباسی دور میں دو بزرگ شاعر منصور نمری اور دعبل خزاعی شیعوں کے دوزودگو ............

(١)ابن عبد ربہ اندلسی، عقد الفرید، ج ٥،ص٢٩٠ (٢)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ،ج١٧،ص٤٠ (٣) ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین،ج١٧،ص ٢٤١ (٤)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ،ج١٧،ص ٢٤١ (٥) ابن عبدربہ اندلسی ،عقد الفرید ،ج٤ ص٣٢٠

اور برجستہ شاعر تھے ہارون رشید نے نمری کے قتل کرنے کا دستور دیا تھالیکن وہ ان کی موت سے پہلے انہیں نہیں پکڑ سکا۔(١) ڈاکٹر مصطفیٰ شکعہ کا دعبل کے بارے میں کہنا ہے: دعبل اہل بیت پیغمبرۖ کی مدح کرتے تھے اور اہل بیت اطہار جن صفات کے اہل تھے ویسے وہ اشعار میں توصیف کرتے تھے نیز،بنی امیہ و بنی عباس کی سر زنش و مذمت کرتے تھے اور اگر وہ ان کو موت سے ڈراتے تھے تو کہتے تھے کہ میں پچاس سال سے پھانسی کے پھندے کو گردن میں ڈالے پھر رہا ہوں مگرکوئی نہیں ہے جو مجھے پھانسی دے ۔(٢) ڈاکٹر شوقی ضیف کا اس بارے میں کہناہے :عباسیوں کے دوسرے دور(٣) میں بہت زیادہ شیعہ شعرا ء نے اشعارکہے ہیں ان میں سے بعض اشعار علوی شعرا ء کی جانب سے کہے گئے ہیں اور بعض کو تمام شیعہ شعراء نے کہاہے اس دور میں اہم ترین علوی شعرا ء محمد بن صالح علوی حمانی اور محمد بن علی کہ جو عباس بن علی کے پوتوں میں سے تھے محمد بن علی نے متوکل کے زمانے میں اپنے اشعار میں اپنے باپ دادا پر افتخار کیا ہے اور شیعہ نظریوں کو اپنے اشعار میں پیش کیا۔ (٤) ............

(١)اسد حیدر،الامام الصادق المذاہب الاربعہ، دارالکتاب العربی،بیروت، طبع سوم،١٤٠٣ھ ج١ ص٢٥٤،ذہر الآداب کے نقل کی بنا پر، ج٣ ص٧٠ (٢)الادب فی موکب الحضارةالاسلامیہ ،کتاب الشعر ١، دارالکتاب اللبنانیہ ،ص ١٦٢۔١٦٣ (٣)عباسیوں کا دوسرا دورمعتصم کے زمانہ میں تیسری صدی ہجری کے آغازسے ترکوں کے عباسیوں کے دربار میں آنے سے شروع ہوا ہے (٤)تاریخ العرب العربی العصر العباسی الثانی، دارالمعارف ،مصر،ص٣٨٦


شیعہ شعراء کا میدان[لکھو]

شیعہ شعرا نے مختلف میدانوں میں اشعار کہے ہیں ان عناوین کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے :

(١) غاصبین حقوق اہل بیت کے مقابلہ میں احتجاج

شیعہ شعرا ء اور اہل سخن ،سقیفہ کی تشکیل سے ہی حضرت علی اور ان کی اولاد کی ولایت کے معتقد تھے، ان کی مظلومیت کا نوحہ پڑھتے تھے، ان کے حق کا دفاع کرتے تھے ان کی کوشش تھی کہ جس راستے کو رسول اکرم ۖ نے دکھایاہے اسے لوگوں کے سامنے نمایاں کریں اس بارے میں مشہور ہے کہ سب سے پہلے شیعہ شاعروں کے لئے کمیت اسدی نے راستہ کھولا ،علامہ امینی نے اس بات کی نسبت جاحظ کی طرف دیتے ہوئے فرمایا ہے : کمیت اسدی کا نطفہ منعقد ہونے سے بھی پہلے شیعہ صحابہ اور تابعین جیسے خزیمہ بن ثابت ، ذو الشہادتین، عبد اللہ بن عباس ، فضل بن عباس ، عمار یاسر ، ابوذر غفاری ، قیس بن سعد انصاری ، ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب ، عبد اللہ بن ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب ، زفر بن زید بن حذیفہ ، نجاشی بن حارث بن کعب ، جریر بن عبد اللہ بجلی ، عبد اللہ بن حنبل نے اپنے اشعار کے ذریعہ حق امیر المومنین کا دفاع کیا ہے(١)جن لوگوں نے سب سے پہلے امیر المومنین کے دفاع میں شعر کہے ہیں ان میں عبد اللہ بن ابی سفیان بن حارث بن عبد المطلب ہیں ۔ شیخ مفید نقل فرماتے ہیں : جس وقت رسول اکرم ۖکی وفات ہوئی عبد اللہ ............

(١) الغدیر ، دار الکتب الاسلامیہ ، تہران ، ج١ ص ١٩١

بن ابی سفیان مدینہ میں نہ تھے جب مدینہ آئے دیکھاکہ لوگوں نے ابو بکر کی بیعت کر لی ہے تو آپ نے مسجد کے وسط میں کھڑے ہوکریہ اشعار پڑھے :

ما کنت احسب ان الا امر منتقل
عن ہاشم ثم منھا عن ابی الحسن
میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ خلافت کو بنی ہاشم سے اور وہ بھی ابو الحسن علی سے چھین لیا جائے گا۔

الیس اول من صلّی لقبلتھم
و اعرف الناس بالآثار والسنن (١)
کیا وہ تمہارے قبلہ کی طرف رخ کرے نماز پڑھنے والے پہلے شخص نہیں ہیں اور آثار و سنن کو سب سے زیادہ جاننے والے نہیں ہیں۔

............

(١)کتاب الجمل ، شیخ مفید ، مکتب الاعلام الاسلامی مرکز نشر ، ص ١١٨ اس شعر کے شاعر کے بارے میں مؤرخوں کے درمیان اختلاف ہے شیخ مفید نے اس شعر کو عبداللہ بن ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب سے منسوب کیاہے ،ابن جحرنے کہا ہے کہ یہ اشعار الاصابہ فضل بن عباس بن عتبہ بن ابی الہب کے ہیں ،موید الدین خوارزمی نے اپنی کتاب مناقب میں ان اشعار کو عباس بن عبد المطلب جو پیمبرۖ کے چچا ہیں،ان سے نسبت دی ہے، شریف رضی نے اپنی کتاب المجالس میںربیعہ بن حارث بن عبد المطب کی طرف نسبت دی ہے قاضی بیضاوی اور نیشاپوری نے اپنی تفسیر میں ان کی نسبت حسان بن ثابت کی طرف دی ہے زبیر بن بکار نے کہا ہے کہ یہ اشعار ابو لہب کے بیٹوں کے ہیں، قاضی نور اللہ نے ابن حجر کے نظریہ کو رد کیا ہے اور کہاہے : ان اشعار کو سقیفہ سے پہلے کہا گیا ہے اور وہ فضل بن عباس بن عتبہ نہیں ہے کیونکہ وہ بعد میں پیدا ہوا تھا لہذا ان اشعار کو کہنے والا فضل تھالیکن وہ فضل بن عتبہ بن ابی الہب ہے بہر حال یہ اختلاف نظر ہماری بحث میں کوئی اثر نہیں رکھتاکیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ ان اشعار کا پڑھنے والا شیعہ تھا ۔ سید علی خان شیرازی،الدرجا ت الرفیعہ فی طبقات الشیعہ ،منشورات مکتبة بصیرتی،قم،ص١٩٣

اسی طرح چند دوسرے شعرا ء نے بھی حقانیت علی کے دفاع میں اشعار کہے ہیں فضل بن عباس اپنے اشعار کے ضمن میں اس طرح کہتے ہیں:

الا ان خیر الناس بعد محمد
وصی النبی المصطفیٰۖ عند ذی الذکر
آگاہ ہو جائو کہ خدا کے نزدیک محمد مصطفی ۖکے بعد ان کے جانشین (حضرت علی)سب سے بہتر ہیں۔

واول من صلّیٰ وصنو نبییہ
واول من اردی الغوا ہ لدی بدر (١)
وہ سب سے پہلا نماز گذار اور پیغمبر ۖکے بھائی ہیںانہوںنے بدر میں ستمگاروں کو عقب نشینی پر مجبور کردیا تھا۔

مغیرہ بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب نے جنگ صفین میں اصحاب علی کو خطاب کرتے ہوئے کہا :
فیکم وصی رسول اللّٰہ قائدکم
وصھرہ و کتاب اللّٰہ قد نشرا (٢)
تمہارے درمیان رسول خداۖ کاجانشین تمہار اقائدو فرمانرواہے جو رسول کا داماد بھی ہے اور کتاب خدا کی تفسیر کرنے والا بھی۔

............

(١)سید علی خان شیرازی ، الدرجات الرفیعہ فی طقات الشیعہ، ص ١٤٣ (٢)سید علی خان شیرازی ، الدرجات الرفیعہ فی طقات الشیعہ ،ص١٨٧

فضل بن عباس بن عتبہ بن ابی الہب پہلی صدی ہجری کے آخر ی مشہور شعراء میں سے تھے ،ابن عبدربہ نے نقل کیا ہے:جس وقت ولید بن عبد الملک کعبہ کا طواف کر رہاتھا توفضل بن عباس زمزم کے کنویں سے پانی کھینچ رہے تھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے:

یا ایھاالسائل عن علیّ
تسال عن بدرلنا بدریّ
اے علی کے بارے میں سوال کرنے والے کیا توجنگ بدر میں شریک ہونے والے بنی ہاشم کے ماہ کامل بار ے میں پوچھ رہا ہے؟

مردّ دٍ فی المجد ابطحی
سائلةٍغرتہ مضیی (١)
ایک با فضیلت مرد کے شرف میں تم شک کررہے ہو یا اس کے سابقہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟!

جنہوں نے حقانیت امیر المومنین کے دفاع میں سب سے پہلے اشعار کہے ہیں ان میں ایک عورت بھی ہے جس کا نام( ام مسطح بن اثاثہ ہے)مورخین نے نقل کیاہے کہ ابوبکر و عمر نے علی سے زبر دستی بیعت لینے پر سختی کا مظاہرہ کیا تو ام مسطح مسجد میں آئی

............

(١)ابن عبد ربہ اندلسی،العقد الفرید ،دار احیاء التراث العربی،بیروت،ج٥،ص٧٥

اورقبرپیغمبر ۖکی جانب رخ کرکے یہ اشعار پڑھے :

قد کان بعدک انبائ وھینمة
لوکنت شاھد ھا لم تکثر الخطب
آپ کے بعد وہ حوادث واختلافات وجود میں آئے اگر آپ ہوتے تو ایسا نہ ہوتا

انا فقدناک فقد الارض وابلھا
فاختل قومکٔ فاشھد ھم ولا تغب(١)
ہم نے آپ کوہاتھ سے کھو دیا جیسے پانی زمین کی تہوں میں غائب ہوجاتا ہے آپ کی قوم نے رخنہ ایجاد کیا، گواہ رہیے گا اور غافل نہ ہویئے گا۔

وہ شعرا ء جنہوں نے علی کے دفاع میں زبانِ احتجاج کھولی، ان میںایک عظیم شاعر اور ادیب ابو الا سود دوئلی بھی تھے جو بصرہ کے محلہ قبیلہ بنی قیشر میں زندگی بسر کرتے تھے اس محلہ میں عثمانی رہتے تھے جوابو الا سود دوئلی کے ہم خیال نہیں تھے اسی وجہ سے وہ ان کواذیت دیتے تھے اور رات میں ان کے گھر پر پتھر مارتے تھے انہوںنے اس طریقہ سے لو گوں کا جواب دیا ہے :
یقول الارذلون بنو قشیر
طوال الدھر لا تنسی علیا
بنی قشیرجیسے پست لوگ کہتے ہیںکہ زمانے کے گذرنے کے ساتھ علی کو کیوں فراموش نہیں کرتے؟!

............

(١)ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ،دارالکتب العربیہ ، مصر،ج٦،ص٤٣

فقلت لھم وکیف یکون ترکی
من الأعمال مفروضاً علیاًّ
میں نے ان سے کہا جو اعمال مجھ پرعلی کے حوالے سے واجب ہیں، ان کو کیسے ترک کردوں۔

احب محمد اًحباً شد یدا
و عباساً و حمز ة وا لوصیا
میں محمد ۖ کو بے حد دوست رکھتا ہوں، اسی طرح عباس ،حمزہ اور ان کے وصی علی کو۔

بنی عم النبی واقر بیہ
احب الناس کلھم اِلینا
پیغمبرۖ کے چچاکی اولادیں اور ان کے قرابتدار تمام لوگوں میں سب سے زیادہ میرے لئے عزیز و محبوب ہیں۔

فان یکٔ حُبُّھم رشدااًصبہ
ولست بمخطی ء ان کان غیاًّ
اگر ان کی دوستی ہدایت ہے تو میں حاصل کر چکا ہوں اور اگر یہ دوستی بے فائدہ ہے تو بھی میں نے کوئی ضرر نہیںکیا۔

ھم اھل النصیحة غیر الشکٔ
واھل مودتی مادمت حیاًّ
بے شک وہ لوگ اہل نصیحت ہیں اور جب تک زندہ ہوں وہ میرے دوست ہیں۔

رایت اللّہ خالق کل شئی
ھداھم واجتبی منھم نبیاّ
خدا کو تمام چیزوں کا خالق جانتا ہوں، اس نے ان کی ہدایت کی ہے اور ان کے درمیان سے محمد ۖ کو منتخب کیا ہے۔

ولم یخصص بھا احداً سوا ھم
ھنیاًما اصطفاہ لھم مرّیاًّ (١)
ان کے علاوہ کسی کواس سے مخصوص نہیں کیا یہ انتخاب خدا کاانہیںکو مبارک ہو۔
یہاں تک کہ بنی امیہ کے آخری زمانے میںبہت سے بزرگ اور معروف شاعر جیسے کمیت اسدی ،کثیرعزہ اور سید حمیری جو علی کی ولایت میں ڈوبے ہوئے تھے حضرت کی حقانیت اور دفاع میں اشعار کہے ہیں :

............

(١)ابو الفرج اصفہانی ،الاغانی ،دار احیاء التراث العربی،بیروت ،ج١٢،ص


شیعہ شعراء کا بنی امیہ اور بنی عباس کے شعراء سے مقابلہ[لکھو]

دوسرا موضوع کہ جس پر شیعہ شعرا ء نے اشعار کہے ہیں وہ بنی عباس اور بنی امیہ کے شعرا ء کے جواب میںہیں ٣٥ھکے بعد عثمان کا قتل ہوا،بنی امیہ نے اپنے برے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے اور امیر المو منین کے خلاف لو گوں کو بھڑکانے کے لئے بطور اسلحہ اشعار کا سے استفادہ کیا سب سے پہلے جس نے حضرت کے خلاف شعر کہا وہ عثمان کاماموں ولید بن عقبہ ہے کہ جس کو قرآ ن نے فاسق کہاہے ،اس نے بنی ہاشم خصوصاً حضرت علی کو عثمان کا قاتل اور اموال کی غارت گری سے متہم کیا ہے اور کہا ہے:

بنی ھاشم ردواسلاح ابن اختکم
ولا تنھبوہ لا تحل نھائبہ
بنی ہاشم اپنے بھانجوں کے اسلحہ واپس کردو ان کے مال کو غارت نہ کرو کیونکہ ان کا مال تم پر حلال نہیں ہے۔

بنی ہاشم کیف الھوادة بیننا
وعند علی درعہ ونجائبہ
بنی ہاشم ہمارے اور تمہارے درمیان کیسے دوستی ہو سکتی ہے؟ جبکہ عثمان کا اونٹ اور زرہ علی کے پاس ہے۔

بنی ہاشم کیف التودد منکم
ابن اروی فیکم وحرائبہ(١)
ا یبنی ہاشم ہم کیسے تم سے دوستی کریں؟ جب کہ ابن اروی(عثمان ) کے نیزے تمہارے پاس ہیں ۔

اس موقع پر عبداللہ بن ابی سفیان بن حارث بن عبد المطلب نے اس کا جواب دیا اور اپنے اشعار میں اس طرح کہا :
فلا تسألون سیفکم ان سیفکم
اضیع والقا ہ لدی الروع صاحبہ
ہم سے اپنی تلواروں کو نہ مانگو کیونکہ جب اس کا مالک ڈرگیا تو اس کوپھینک کر بھاگ کھڑا ہوا۔

وشبھتہ کسریٰ وقد کان مثلہ
شبیھاً بکسریٰ ھدیہ وضرائبہ
تم نے ان کو کسری ٰسے تشبیہ دی ہے وہ واقعاًاس کے مثل تھے اور ان کی سواری اور مال کسریٰ سے مشابہ تھے۔

منا علیّ الخیرصاحب خیبر
وصاحب بدر یوم سالت کتائبہ
علی سراسر خیر ہیں اور ہم میں سے ہیں اور فاتح بدرو خیبر ہیںجب دشمن کے سپاہی ان کے مقابلہ میں آئیں۔

وکان ولی الامر بعد محمدۖ
علیّ وفی کل المواطن صاحبہ
محمدۖ کے بعد ولی امر علی ہیں جوتمام جنگوں میں پیغمبرۖ کے ہمراہ تھے۔

وصی النبی المصطفی وابن عمہ
واول من صلی ومن لان جانبہ(١)
وہ مصطفیٰۖ کے جانشین اور ان کے چچا کے بیٹے ہیںنیز وہ سب سے پہلے نماز گذار ہیں اور بہت خوش اخلاق ہیں۔
............

(١) سید علی خان شیرازی ، الدرجات الرفیعہ فی طقات الشیعہ ، ص ١٨٨

دوسری مرتبہ جب اس نے حضرت امیر المومنین کے خلاف شعر کہے اوراپنے بھائی عمارہ بن ولید کو کوفہ میں خط لکھا تو حضرت علی کے خلاف تحریک چلانے کے لئے اس طرح کہا : ............

ان یکٔ ظنی فی عمارہ صادقا
ینم ولا یطلب بذحل ولا وتر
اگر میرا گمان عمار ہ کے بارے میں سچ ہے تو وہ سورہا ہے اور(عثمان کی) خون خواہی کے بارے میں سعی نہیں کررہا ہے۔

یبیت واوتاد ابن عفان عندہ
مخیمةبین الخورنق والقصر
وہ آرام سے سو رہا ہے حالانکہ عثمان کے قاتل اس کے نزد یک خورنق اور قصر کے درمیان خیمہ لگائے ہیں۔

تمشی رخی البال متشزر القوی
کانکٔ لم تسمع بقتل ابی عمر
آسودہ خاطر اور جسمانی صحت و سلامتی کے ساتھ راستہ چل رہے ہو جیسا کہ تم نے قتل ابوعمرو(عثمان)کو سنا ہی نہیں۔

الا ان خیر الناس بعد ثلاثہ
قتبل التجیبی الذی جاء من مصر(٢)
آگاہ ہو جائوتین افراد کے بعد بہترین شخص وہی ہے کہ جس کو تجیبی نے مصر سے آکر قتل کیا ہے۔
............

(١) سید علی خان شیرازی الدرجات الرفیعہ فی طقات الشیعہ ،ص١٨٩
(٢)ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ، ج ٢،ص١١٤

ا س موقع پر ان اشعار کا جواب فضل بن عباس بن عبدالمطلب نے اس طرح دیا:
اتطلب ثاراًلست منہ ولا لہ
وما لابن ذکر ان الصفوری والوتر
کیا تم اس کے خوں خواہ ہو جس کے ساتھ تمہاری کوئی رشتہ داری نہیں ہے ابن ذکران صفوری کہاں؟ اور خوں خواہی عثمان کہاں؟!

کما افتخرت بنت الحمار بامّھا
وتنسی اباھا اذا تسامی اولو الفخر
تمہاری مثال اس خچر کی طرح ہے جو مقام فخر میں اپنے باپ گدھے کوتو بھول گیا ہے مگر اپنی ماں گھوڑی پر افتخار کرتا ہے۔

الا ان خیرالناس بعد نبیھم
وصی النبی المصطفی ٰعند ذی الذکر
آگاہ ہو جائو!پیغمبرۖ کے بعد خدا کے نزدیک نبی اکرم ۖکے جانشین سب سے افضل ہیں۔

واول من صلی وصفو نبیہ
واول من اردی ا لغواہ لدی بدر(١)
وہ پہلا نماز گزار اور نبی کا بھائی ہے اور اسی نے سب سے پہلے بدر میں ظالموں کو بھگایا۔
............

(١)ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ، ج ٢،ص١١٤

جنگ جمل میں بنی امیہ کے طرفدار اور عثمانی افراد اپنی تحریک کی تائید میں اور اپنے دوستوں کو جوش دلانے کے لئے رجز پڑھتے تھے اصحاب امیرالمومنین بھی ان کے مقابلہ میں جواب دیتے تھے جواب دینے والوں میں عمار یاسر اور مالک اشتر تھے ، مثلاً قبیلۂ بنی ضبہ کے چند افرادجو عائشہ کے اونٹ کو گھیرے میں لئے ہوئے اونٹ کی لگام پکڑے تھے اور قتل ہورہے تھے آخری آدمی نے جب اونٹ کی لگام پکڑی تو اس طرح کہا:
نحن بنو ضبہ اصحاب الجمل
ننعی ابن عفان باطراف الاسل
ہم بنی ضبہ یاران جمل ہیں اور اپنے نیزوں کے ذریعہ عثمان کے خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔

ردوّا علینا شیخنا ثم بجل (١)
ہمارے بزرگ کوہماری طرف صحیح و سالم پلٹادو۔

مالک اشتر اس کی طرف دوڑے اور اس طرح کہا:
کیف نردّ نعثلاً وقد قخل
سارت بہ ام المنایا ورحل(٢)

ہم کس طرح نعثل کو پلٹائیں جب کہ وہ سڑ گیاہے اور بدن پر تلواریں لگنے کی وجہ سے مرگیا ہے یہ کہہ کر اس کو ضربت لگائی اور اس کو قتل کر دیا۔ ............

(١)کتاب الجمل ، شیخ مفید ، مکتب الاعلام الاسلامی مرکز نشر ، ص ١١٨، (٢)کتاب الجمل ، شیخ مفید ، مکتب الاعلام الاسلامی مرکز نشر ، ص ١١٨

جنگ صفین میں جنگ کی مدت طولانی ہونے کی وجہ سے فوجی تصادم و پیکار کے علاوہ دونوں فوجوں میں شعری مقابلہ بر قرار تھا،نصر بن مزاحم نے مالک اشتر،خزیمہ بن ثابت، فضل بن عباس، قیس بن سعد ،عدی بن حاتم ،عمرو بن حمق خزاعی،حجر بن عدی کندی،نعمان بن عجلان انصاری،محمد بن ابی سبرہ قریشی،مغیرہ بن حارث بن عبد المطلب جندب بن زہیر ابو زبید طائی،احمر شاعر عراق،ابو حبة بن غزیہ انصاری وغیرہ جیسے بزرگوںکے اشعار کو نقل کیا ہے کہ جنہوں نے اہل شام کے شعرا ء کے مقابلہ میں شعرکہے: خود امیر المومنین نے عمرو عاص جیسے افراد کے جواب میں شعر کہا ہے،ابن ابی الحدید کا کہنا ہے ،صفین میںاہل عراق کے منجملہ شاعروں میںسے ایک نجاشی تھا کہ جس کو حضرت علی نے حکم دیا تھا کہ اہل شام کے شعراء مثل کعب بن جعیل اور اسی کے مانند دوسروں کا مقابلہ کرے۔(١) ............

(١)ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ ،ج ٤،ص٨٧



مرثیہ گوئی[لکھو]

دوسرے اہم ترین موضوعات جس پر شیعہ شعرانے اپنی سخنوری میں بہت ہی وسیع پیمانہ پر طبع آزمائی کی ہے اور شعر کہے ہیں وہ خاندان پیغمبر کی مصیبت کویاد دلانا اور شہداء کے لئے مرثیہ ہے یہ موضوع ٦١ ھ امام حسین کی شہادت کے بعد وجود میں آیا اسسلسلہ میں دو حصہ میں گفتگو کی گئی ہے ۔

(الف) امام حسین اور شہدائے کربلا کے مراثی

آغاز اسلام سے آج تک تا ریخ اسلام میں واقعہ کربلا سے زیادہ درد ناک واقعہ پیش نہیں آیا چودہ سو سال گذرنے کے بعد بھی ابھی تک مومنین کے دلوں میں اس کی تاثیر موجودہے اس زمانے سے اہل بیت کے چاہنے والوں نے اپنی توا نائی کے مطابق اس سلسلے میں اشعار کہے ہیں۔ حادثۂ کربلا کے بارے میں بہت زیادہ اشعار پہلی صدی ہجری کے اختتام بعد اور بنی امیہ کا زوال کے دور میں کہے گئے ہیں جیساکہ ابو الفرج اصفہانی کا بیان ہے کہ بہت سے متاخرین شعراء نے امام حسین کے لئے مرثیہ کہے ہیں ، بحث کے طویل ہونے کی وجہ سے ہم ان اشعارکوذکر نہیں کرسکتے، لیکن بنی امیہ کے دور میں بنی امیہ کی طرف سے سختی کی بنا پراس وقت کے شعراء نے امام حسین کے بارے میںبہت کم مرثیے کہے ہیں ۔(١) جیسے عبیداللہ بن حربہ امام حسین کا مرثیہ کہنے کی وجہ سے ابن زیاد کی زیادتی کا نشانہ بنے اور فرار کرنے پر مجبور ہوئے۔(٢) اگر چہ پہلی صدی ہجری ہی میں امام حسین کے بارے میں کافی اشعار کہے گئے ............

(١)مقاتل الطالبین،منشورات الشریف الرضی،طبع دوم،١٤١٦ھ،١٣٧٤ ھ ش،ص١٢١ (٢)ابی مخنف ،مقتل الحسین ،تحقیق حسن غفاری ،قم،طبع دوم ،١٣٦٤ھ،ش،ص٢٤٥

ہیںلیکن ان کا حجم دوسری صدی ہجری میں کہے گئے اشعار کی بہ نسبت بہت کم ہے ، سب سے پہلے بنی ہاشم کی داغ دیدہ خواتین نے اپنے عزیزوں کے بارے میں مرثیہ کہے ہیں،جس وقت امام حسین کی خبر شہادت مدینہ پہنچی بنی ہاشم زینب بنت عقیل سے نالہ و شیون کرتی ہوئی باہرنکل آئیں ان کی زبان پر یہ اشعار تھے : .

ماذا تقو لون اذ قال النبی لکم
ماذا فعلتم وانتم آخر الامم
پیغمبر ۖ کو کیا جواب دوگے جب تم سے پوچھیں گے کہ اے آخری امت! تم نے کیا کیا؟

بعترتی وباھلی بعد مفتقدی
نصف اساری و نصف ضرٍّوجوابدم
میرے مرنے کے بعد میرے اہل بیت کے ساتھ تم نے کیاسلوک کیا؟ ان میں سے نصف کو اسیر کیا اور نصف کو خون میںنہلا یا۔

ما کان ھذا جزائی اذ نصحت لکم
ان تخلفونی بشر فی ذوی رحمی(١)

کیا میری یہی جزا تھی؟! کہ میں تمہاری ہدایت کروں اور تم میرے اہل بیت کے ساتھ بد رفتاری کرو۔

............

(١) مقتل الحسین،ص٢٢٧۔٢٢٨ (٢)ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین،منشورات شریف الرضی ، قم ، طبع دوم ، ١٤١٦ھ ١٣٧٤ھ ش، ص٩٠

من جملہ دل خراش مراثی میں سے شہدائے کربلا کے بارے میں سب سے زیادہ دل خراش مرثیہ جناب ابو الفضل العباس کی والدہ ٔگرامی جناب ام البنین کا مرثیہ ہے ابوالفرج اصفہانی نقل کرتے ہیں : حضرت عباس کے فرزند عبید اللہ کا ہاتھ پکڑ کر جناب ام البنین بقیع جاتی تھیں،مدینہ کے لوگ ان کے ارد گرد جمع ہو جاتے تھے اور ان کے مرثیہ پڑھنے سے رو تے تھے ،مروان بن حکم جیسا شخص بھی اس بانو کے مرثیہ پر رو پڑا۔(٢)

جناب ام البنین کے مرثیہ کے اشعار یہ تھے:

یامن رای العباس کر
علی جماھیر النقد
اے وہ لوگو! کہ جس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ میرا عباس کس طرح پست صفت لوگوں پر حملہ کرتا تھا۔

و کل لیث ذی لبد
ورائہ من ابناء حیدر
اس کے پیچھے فرزندان حیدر شیر کے مثل کھڑے رہتے تھے ۔

انبئت ان ابنی اصیب
براسہ مقطوع ید
مجھے خبر دی گئی ہے کہ جب اس کے ہاتھ قلم ہوگئے تب سر پر گرز لگا ۔
ویل علیٰ شبلی اما
لبراسہ ضر ب العمد
افسوس میرے بیٹے کے سر پر گرزگراںپڑا۔

لوکان سیفکٔ فی ید
یکٔ لمادنا منکٔ احد(١)
(اے عباس! )اگر تیرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو تیرے پاس کوئی نہیں آتا۔
............

(١)غفاری،حسن ،ذیل کتاب مقتل الحسین ابی مخنف،قم،١٣٦٤،ص١٨١

جس وقت کربلا کے اسیروں کا کارواں مدینہ کی جانب چلا اور مدینہ کینزدیک پہنچا تو امام زین العابدین نے پہلے بشیر بن جذلم کو مدینہ بھیجا اور بشیر نے ان اشعار کے ساتھ اسیران اہل بیت علیہم السلام کے مدینہ میں داخلہ کی خبردی :

یا اھل یثرب لا مقام لکم بھا
قتل الحسین فاد معی مدرار
اے اہل مدینہ! اب یہ جگہ تمہارے رہنے کے قابل نہیں رہی حسین قتل کردئیے گئے ان پر آنسو بہاؤ ۔

ا لجسم منہ بکربلامضرّج
والرأس منہ علیٰ ا لقناة یدار(1)
ان کا جسم کربلا کی زمین پر خون میں غلطاں اور ان کا سر نیزہ کے اوپر بلند تھا۔

شاعروں کے درمیان خالدبن معدان،عقبہ بن عمرو،ابو الرمیح خزاعی،سلیمان بن قتہ عدوی ،عوف بن عبد اللہ احمر ازدی اور عبید اللہ بن حرّ پہلی صدی ہجری کے شعرا ء ہیں جنہوںنے مرثیہ گوئی کی ہے اور امام حسین کی مصیبت میں اشعار کہے ہیں جس وقت خالد بن معدان نے شام میں حضرت کاسر نیزہ پر دیکھا تو یہ اشعارپڑھے:
جائو ا براسک یا ابن بنت محمّد
مترملاً بد ما ئہ تر میلا
اے نواسہ رسولۖ ! آپ کے سر کو خون میں ڈوبا ہوا لائے۔
............

(1)ابن طائوس ،لھوف،ترجمہ محمد دز فولی،موسسہ فرہنگی وانتشاراتی انصاری،قم،طبع اول ١٣٧٨،ص٢٨٤

و کانّمابک یا ابن بنت محمّد
قتلوا جھاراًعامدین رسولا
اے محمدۖکے نواسے! تمہیں علی الاعلان قتل کرکے چاہتے ہیں کہ پیغمبرۖسے انتقام لیں۔

قتلوک عطشاناًو لم یترقبوا
فی قتلک التنزیل والتاویلا
آپ کو پیاسا قتل کیا اور آپ کے قتل میں قرآن کی تاویل و تنزیل کی رعایت نہیں کی ۔

ویکبرون بان قتلت وانّما
قتلو بک التکبیر و التھلیلا (١)
جب آپ قتل ہوئے تو تکبیریں بلند کیں حالانکہ آپ کے قتل ساتھ تکبیرو تہلیل کو بھی قتل کر دیا۔

گزشتہ شعرا ء میں عبید اللہ بن حر ہیں کہ جنہوں نے امام حسین کی مصیبت میں مرثیہ کہا ان کے مرثیہ کا پہلا شعر یہ ہے :

یقو ل امیرغادر ای غادر
ألا کنت قاتلت الشھید بن فاطمہ
خائن کاامیر ،خائن کا بیٹا مجھ سے کہتا ہے کہ تم نے کیوں فاطمہ کے شہید فرزند کے ساتھ جنگ نہیں کی؟
............

(١)الامین،سیدمحسن،اعیان الشیعہ،دارالتعار ف للمطبوعات،بیروت ( بی تا) ج١ ص ٦٠٢٣

ابن زیاد نے جس وقت ان اشعار کو سنا عبید اللہ کے پیچھے بھاگااس نے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنی جان بچائی۔(١)
............

(١)ابی مخنف،مقتل الحسین ،ص٢٤٥

سلیمان بن قتة من جملہ اہم ترین مرثیہ کہنے والوں میں سے تھے ان کے اشعار یہ ہیں :
مررت علیٰ ابیات آل محمّد
فلم أرھاکعھدھایوم حلّّت
میں آل محمدۖ کے گھروں کی جانب سے گزرا اور ان کو پہلے کی طرح بھرا ہوا نہیں پایا۔

و کانوا رجائً ثمّ صاروا رزیّة
و قد عظمت تلکٔ الرّزایا وجلّت
آل محمد ۖ امید کا گھر تھے اور بعد میں مصیبت کا محل بن گئے اور وہ بھی بزرگ اورعظیم مصیبتیں۔

الم ترانّ الشمس اضحت مریضہ
لفقد حسین والبلاد اقشعرّت
کیا تم نہیں دیکھتے سورج شہادت حسین سے مریض ہو گیا ہے اور شہرافسر دہ ہوگئے ہیں۔

و قد اعولت تبکی السماء لفقدہ
وانجمھا ناحت علیہ و صلّت(١)
کیا تم نہیں دیکھتے آسمان نے امام حسین پر گریہ ونالہ کیا اور ستاروں نے نوحہ پڑھااور درود بھیجا ۔

پہلی صدی ہجری کے بعد اموی حُکّام کادبائو عبّاسیوں کے ساتھ اختلاف و ٹکرائو کی وجہ سے کم ہوا اور آخر کارامیوںکا عباسیوں کے ہاتھوں خاتمہ ہوا ائمّہ اطہار نے امام حسین کی مرثیہ گوئی کو زندہ کیا اور بزرگ شعرا جیسے کمیت اسدی،سید حمیری،سفیان بن مصعب عبدی،منصور نمری اوردعبل خزاعی ائمہ کے حضور میں امام حسین کی مصیبت میں اشعار پڑھتے تھے ۔
جیسا کہ سفیان بن مصعب عبدی نے نقل کیا ہے کہ میں امام صادق کی خدمت میں حاضر ہو اامام نے خادموں سے فرمایا: امّ فروہ سے کہو وہ آئیں اور سنیں ان کے جدامجد پر کیاگزری، امّ فروہ آئیں اور پشت پردہ بیٹھ گئیں، اس وقت امام صادق نے مجھ سے فرمایا:پڑھو میںنے قصیدہ پڑھنا شروع کیاقصیدہ اس بیت سے شروع ہوتا ہے:

فرو جودی بدمعکٔ المسکوب
اے فروہ اپنی آنکھوں سے آنسو بہاؤ

اس موقع پر ام فروہ اور تمام عورتوں کی آواز گریہ بلند ہو گئی ۔(2)
............

(١) ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین، ص ١٢١
(2)علامہ امینی ، عبد الحسین ، الغدیر، دار الکتب الاسلامیہ ، تہران ، ج٢ ص ٢٩٤۔٢٩٥

اسی طرح ابوالفرج اصفہانی،اسماعیل تمیمی سے نقل کرتے ہیں کہ میں امام صادق کی خدمت میں تھا کہ سید حمیری امام سے اجازت لے کر داخل ہو ئے امام نے اہل خانہ سے فرمایا: پشت پردہ بیٹھ جائیں، اس کے بعد سید حمیری سے امام حسین کی مصیبت میں مرثیہ پڑھنے کو کہا، سید نے ان اشعار کو پڑھا :

امرر علیٰ جدث الحسین
فقل لا عظمہ الزکیہ
امام حسین کی قبر کی طرف سے گذروتوان کی پاک ہڈیوں سے کہو ۔

یا اعظماًلازلت من
وظفاًوساکبہ رویّہ
اے ہڈیو سلامت رہو اور مسلسل سیراب ہوتی رہو۔

فاذا مررت بقبرہ
فاطل بہ وقف المطیّہ
جس وقت ان کی قبرکے پاس سے گذرنا اونٹوں کے مانند دیر تک ٹھہرنا ۔

وابکٔ المطھرللمطھر
والمطھرة النقیہ
امام مطہّر کو حسین مطہّرپر گریہ کراؤ ۔

کبکاء معولہ اتت
یوماًلواحدھا المنیة
اور تمہاراگریہ ایسا ہو جیسے ماںاپنے فرزند کی لاش پر روتی ہے۔

راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ امام کی آنکھ سے آنسو جاری ہیں اور گھر سے بھی
رونے کی آوازیں بلند ہیں۔(١)

کبھی کبھی دوسرے لوگ بھی جیسے فضیل رسان،ابو ہارون مکنوف وغیرہ سیدحمیری کے اشعار امام جعفر صادق کی خدمت میں پڑھتے تھے اور حضرت کو رلاتے تھے،ابن قولویہ کے مطابق امام صادق نے اپنے صحابی ابو عمار سے کہا: عبدی کے مرثیہ کے اشعار جو امام حسین کے بارے میں ہیںمیرے سامنے پڑھو۔(٢) دعبل خزاعی نے امام حسین کے لئے بہت سے مرثیہ کے اشعار کہے ہیں امام رضا علیہ السلام اپنے جد کا مرثیہ پڑھنے کے لئے ان کو بلاتے تھے۔(٣) ............

(١)علامہ امینی ، عبد الحسین ، الغدیر، دار الکتب الاسلامیہ ، تہران ، ج٢ ص٢٣٥ (٢)علامہ امینی ، عبد الحسین ، الغدیر، دار الکتب الاسلامیہ ، تہران ، ج٢ ص٢٩٥ (٣) مسعودی ، علی ابن الحسین ،مروج الذہب،منشورات لاعلمی للمطبوعات ، طبع اول ١٤١١ھ، ج٣ ص ٣٢٧، رجال ابن دائود ، منشورات رضی ، قم ، ص ٩٢

اولاد پیغمبر ۖ اور دیگر تمام شہداء کے لئے مراثی[لکھو]

دل سوختہ شیعہ شاعر جس وقت جناب مسلم بن عقیل اور ھانی بن عروہ کے حالات کا مشاہدہ کرتا ہے تو یہ اشعار اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے:

اذا کنت لا تدرین ما الموت فانظری
الیٰ ھانی فی السوق وابن عقیل
اگر نہیںجانتے کہ موت کیا ہے تو ابن عقیل اور ھانی کے ساتھ بازار کی سیر کرواور دیکھو۔

الیٰ بطل قد ھشّم السیف وجہہ
وآخریھوی فی طمارقتیل
ایک جوان مرد کی صورت کو تلواروں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اوردوسرے کو بالاخانہ سے گرا کرشہید کردیاگیا۔

اصابھا امر الامیر فاصبھا
احادیث من یسعیٰ بکل سبیل
امیر کے حکم سے وہ ان مصیبتوں میں مبتلا ہیں اور ان کی خبریں مسافروں کی زبان پر جاری ہے۔

تریٰ جسداًوقد غیّر الموت لونہ
ونضج دم قد سال کل مسیل
تم جس جسم کودیکھ رہے ہو موت نے ان کا رنگ بدل دیا ہے اور ہر طرف سے خون بہہ رہا ہے

ایترک اسماء المھایج آمناً
وقد طلبتہ مذ حج بذحول(١)
کیاقبیلۂ اسما ء مہاج امان میں رہ سکتے ہیں؟ حالانکہ قبیلہ مذحج قصاص کے درپے ہیں۔
............

(١) مسعودی ، علی بن الحسین ،مروج الذھب، ج٣ ص ٧١

شاعر ا عشی حمدان نے طولانی قصیدہ کے ضمن میں شہدا ء توابین کے بارے میں اس طرح کہا ہے:
توجہ من دون ثنیة سائرا
الیٰ ابن زیاد فی الجموع الکتائب
تمام فوجی دستہ ثنیہ کی طرف سے ابن زیاد کی طرف روانہ ہوئے ۔

فیاخیر جیش للعراق واھلہ
سقیتم روایا کل اسحم ساکب(١)
اے عراق کے بہترین سپاہ! تم نے ہر ابرباراں کو سیراب کیا ہے ۔

اسی طرح شیعہ شعراء نے زید بن علی کے بیٹے یحٰ اور امام حسن کے فرزند کہ جنہوںنے عباسیوں کے دور میں قیام کیا تھا اور شہید ہو گئے تھے،ان کے بارے میں شعر کہے ہیں، اسی طرح علی بن عبداللہ خوافی،مشیع مدنی،اشجع بن عمر وسلمی اور ابو طالب قمی جیسے شعرا ء نے امام رضا کے بارے میں مرثیہ لکھا ہے۔(٢)
لیکن امام حسین کے بعد آل ابو طالب کے شہدا ء میں سب سے زیادہ اشعار یحٰ بن عمر طالبی کے بارے میں کہے گئے ہیں انہوںنے ٢٤٨ھ میں قیام کیا اور محمد بن عبداللہ ابن طاہر کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔(٣)
مسعودی کا بیان ہے : دور اور نزدیک والوں نے ان کے حال میں مرثیہ کہا ہے چھوٹے اور بڑے ان پر روئے ہیں۔(٤)
............

(١)مسعودی ، علی بن الحسین ،مروج الذھب، ج٣ ص ١١٠
(٢)الامین، سید محسن ،اعیان الشیعہ، ص ١٧٠
(٣)مسعودی ، علی بن الحسین ،مروج الذہب، ج٤ ص ١٥٩۔١٦٠
(٤)مسعودی ، علی بن الحسین ،مروج الذہب، ج٤ ص ١٦٢

ابو الفرج اصفہانی کا بیان ہے کہ آل ابی طالب کے فرزندوں میں کہ جو عباسیوں کے دور میں قتل ہوئے ہیں یحٰ بن عمر طالبی سے سے زیادہ کسی کے بارے میںاشعار ومرثیہ نہیں کہے گئے ہیں۔(١)

(٤) خاندان پیغمبرۖ کے فضائل و مناقب

دوسری صدی ہجری کے بعد شیعہ شعرا ء زیادہ تر فضائل امیر المومنین میں شعر کہتے تھے اور اس کے ذریعہ مذہب تشیع کی ترویج اور حضرت علی کی جانشینی اور امامت سے لوگوں کو آگاہ کرتے تھے،اس سلسلہ میں فر زدق ،کمیت اسدی ،حمیری،سفیان بن مصعب عبدی اور دعبل خزاعی سب سے آگے تھے ۔
سید حمیری نے اپنی زندگی کو فضائل علی بیان کرنے لئے وقف کردیا تھایہ اپنے دور میں مکتب تشیع کے بزرگ ترین مبلغ تھے ،اسی وجہ سے شیعوں کے نزدیک ان کا بہت زیادہ احترام ہے،ابو الفرج اصفہانی کے بقول انہوں نے تئیس سو، ٢٣٠٠ قصید ے بنی ہاشم کی مدح میں کہے ہیں اورکوئی بھی شعر اہل بیت کی مدح اور دشمنوں کی سر زنش سے خالی نہیں ہے، اسی طرح ابو الفرج اصفہانی کہتے ہیں : سیدحمیری کوفہ میں سلیمان بن مہران معروف بہ اعمش کے گھر جاتے تھے اور ان سے فضائل علی سنتے تھے اور ان کو لکھنے کے بعد شعر میںقلم بند کرتے تھے ۔
ابن معتزکا بیان ہے:سید حمیری نے حضرت علی کے تمام فضائل کو شعر میں تبدیل
............

(1) ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، ص ٥١١

کردیا ہے اور جس مجلس میں آل محمدۖ کا ذکر نہیں ہوتا تھاوہاں جلدی خستہ ہوجاتے تھے ، چنانچہ ایک شخص نے نقل کیا ہے کہ میں عمرو بن علاء کے پاس بیٹھا تھا کہ سید حمیری تشریف لائے ہم لوگ روز مرہ کی گفتگو میں سر گرم تھے سید اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اورجانے لگے اور جب ان سے اس کا سبب معلوم کیا گیا تو اس طرح جواب دیا :
انی لأکرہ ان اطیل بمجلس
لا ذکر فیہ لفضل آل محمد
میںجس مجلس میں رہوں اس میں اگر آل نبیۖ کا ذکر نہ ہو تو وہاں میرے لئے بیٹھناباعث کراہت ہے ۔

لا ذکر فیہ لأحمد و وصیہ
و بنیہ ذلکٔ مجلس نطف ردی
جس مجلس میں احمدۖ اوران کے جانشین نیزان کی اولاد کا ذکر نہ ہو وہ مجلس بے ارزش ہے ۔

ان الذی ینساھم فی مجلس
حتی یفارقہ لغیر مسدد(١)
جس نے ان کو اپنی مجلس میںبھلا دیا ہے وہ بغیر فائدہ کے اس مجلس سے جائے گا۔

اسی طرح ایک روز کوفہ کے امرا ء میں سے کسی نے ان کو گھوڑا اور کچھ تحفہ عطا کیا انہوں نے ہدیہ لیا اور گھوڑے پر سوار ہوئے اور کوفہ کے محلہ کنا سہ آئے اور شیعوں کو مخاطب
............

(١)ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ، ص ٢٤٢

کرکے کہا: اے علی والو! اگر کوئی علی کے فضائل میں سے ایسی فضیلت پیش کرے کہ جس کے بارے میں میں نے شعر نہ کہا ہو تومیں یہ گھوڑا اور یہ تحفہ اس کو بخش دوں گا لوگوںنے ہر طرف سے مولا علی کی فضیلت کوبیان کرنا شروع کیا اورانہوںنے اس فضیلت کے بارے میں جو شعر کہا تھااسے پڑھ کر سنایا ان میں سے کسی نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ایک روز علی نے چاہااپنی نعلین پہن کر گھر سے با ہر تشریف لے جا ئیں ایک نعلین پہنی تھی کہ عقاب(ایک پرندہ)آیا اور اپنی منقار(چونچ )سے دوسرے پیر کی نعلینلے کر آسمان کی طرف چلاگیا اور دوبارہ وہاں سے اس نعلین کو نیچے گرایا کہ جس ایک کالا سانپ نکلا اور سوراخ میں چلا گیا ،پھر حضرت نے اس نعلین کو پہنا،اس وقت سید حمیری نے تھوڑی دیر سوچا اور کہا: میںنے اس کے متعلق ابھی تک کوئی شعر نہیں کہا ہے اس وقت اس شخص کو گھوڑا اورتحفہ بخش دیا اور یہ اشعار کہے:
الا یا قوم للعجب العجاب
لخفّ ابی الحسن وللحباب
اے لوگو! آ گاہ ہوجائو ابو الحسن کی نعلین کا یہ عجیب و غریب کارنامہ ہے۔

عدوّمن عدا ة الجن وغد
بعید فی المراد ہ من صواب
کہ علی دشمنوں میں سے ایک جن نے کہ جو کم عقل اور راستے سے منحرف ہے۔

اتی خفاًلہ انساب فیہ
لینھش رجلہ منہ بناب
علی کی نعلین میں خود کو چھپایا تاکہ انہیں گزندپہنچائے۔

لینھش خیر من رکب المطایا
امیر المؤمنین ابا تراب
اس بہترین شخص کو گز ند پہنچائے جو چار پایوں پر سوار ہوتا ہے یعنی امیر المومنین ابو تراب کو۔

فخرّمن السما لہ عقاب
من العقبان او شبہ العقاب
اس وقت آسمان سے ایک عقاب یا عقاب کی شبیہ کوئی پرندہ نیچے آیا۔

ودوفع عن ابی حسن علی
نقیع سمامہ بعد انسیاب (١)
اور اس پر حملہ آور ہوااس طرح سے ابوالحسن علی سے زہرا ورشر دفع ہوگیا۔

سفیان بن مصعب عبدی کا شمار منجملہ ان شعراء میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے اپنی عمر کو ذکر علی میں صرف کر دیا ،علامہ امینی ان کے بارے میں کہتے ہیں:آل محمدۖ کے علاوہ کسی کی مدح میں میں نے ان کے ایک شعر بھی نہیں دیکھے، خاندان پیغمبرۖکے فضائل و مناقب کی حدیثیں امام صادق سے یاد کرتے تھے اور فوراً ان کو شعر کے قالب میں ڈھال لیتے تھے۔(١)
ابن شہر آشوب نقل کرتے ہیں: امام صادق نے فرمایا :اے گروہ شیعہ! اپنی اولاد کو عبدی کے اشعار کی تعلیم دو کیونکہ وہ دین خدا پر ہیں۔
............

(١)ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین، ص ٢٤١۔٢٤٢
(٢)ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین، ص ٢٩٥

 

(٥)خاندان پیغمبرۖ کے دشمن کی ہجو

دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک راستہ تبلیغ ہے جو آج کی دنیا میں ارتباط کی صورت میں پورے طور پر رائج اور معمول ہے،گذشتہ زمانے میں بھی شعر کے دائرے میں تبلیغ کے سلسلہ میں مہم ترین تاثیر قائم تھی ،شیعہ شعرانے بھی اپنے اشعار کے ذریعہ اصل تشیع کا دفاع کیا ہے اور دشمنان اہل بیت کی ہجو کی ہے نیز موقع و مناسبت سے کچھ شعر کہہ کر اپنے دشمن کو ذلیل کیا اور ان کی کمر توڑ دی ہے ،معاویہ،ولید بن عقبہ و عمرو بن عاص جیسے لوگ جو دشمن خدا ورسول ۖتھے بارہشعراءے بنی ہاشم کی طرف سے مورد ہجو قرار پائے ہیں، ایسے شعراء کہ جو نہیں چاہتے تھے کہ ان کے نام آئیں کہ جس کی وجہ سے منظر عام پربنی امیہ انہیں نقصان پہنچائیںانہوںنے یزید کی موت کے بعد یزید کی ہجواور مذمت کر کے شیعوں کے دل کو ٹھنڈا کیا اور اس طرح کہا:
یا ایھا القبر بحوّارینا
ضممت شرّ الناس اجمعینا(١)
اے وہ قبر! جو حوارین میں ہے! دنیا کے سب سے بد ترین آدمی کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے،(حوارین ایک شہر ہے جہاں یزید کی قبر ہے)
............

(١)مسعودی ، علی بن الحسین ،مروج الذھب، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات بیروت طبع اول ، ١٤١١ھ ،ج٣ ص ٦٥

منجملہ بنی امیہ کی مذمت اورہجو میں بہترین اشعار کمیت بن زید اسدی کے ہیں
جوانہوںنے بنی امیہ کے بارے میں کہے ہیں:
فقل لبنی امیہ حیث حلوّا
وان خفت المھندّوالقطیعا
بنی امیہ جہاںکہیں بھی ہوں ان سے کہوکہ تلوار، تازیانہ سے ڈریں۔

اجاع اللّٰہ من اشبعتموہ
واشبع من بجورکم اجیعا
خدا اسے بھوکا رکھے جسے تو نے سیر کیا ہے اور خدا انہیں اسیر کرے جو تمہارے ظلم کی وجہ سے بھوکے رہے ہیں۔

مبرضیّ السیاسة ھاشمی
یکون حیالأمّتہ ربیعاً(١)
بنی ہاشم کی پسندیدہ سیاست امت کے لئے بہار زندگی فراہم کرنا ہے ۔

ڈاکٹر شوقی ضیف کا بیان ہے:شیعہ عراق، خراسان اور حجاز میں کمیت کے اشعار کو ایک دوسرے تک منتقل کرتے تھے اسی سبب سے امویوں اور ان کے حاکم یوسف بن عمر ثقفی نے کمیت کی جانب سے شدید خطرہ کا احساس کیا۔(٢)
ابو الفرج اصفہانی نے کمیت کے بارے میں کہا ہے:بنی امیہ کے طرف سے سختی اورپابندی کے دور میں ہر لحاظ سے کمیت اسدی شیعوں میںبہت بڑے شاعر تھے، وہ شعرا ء
............

(١)حافظ ابی عثمان عمر وبن بحر،البیان والتبیین،مطبعةلجنة التالیف والترجمة والنشر ، قاہرہ، طبع اول ، ١٣٦٧ھ،ق ١٩٤٨ ج٣ ص ٣٦٥
(٢)الشعر و طوابعہ الشبعیہ علی مرّ العصور، دار المعارف ، قاہرہ ،ص٣٦

جو علی کے دشمن تھے اور بنی امیہ کے طرفدار تھے اور خاندان پیغمبرۖ کے خلاف شعر کہتے تھے، ان کا جواب دینے سے باز نہیں آتے تھے ۔
حکیم بن عباس کلبی جس نے علی کی ہجو کی تھی ا ور قحطانیوں میں اس کا شمار ہوتا تھا، کمیت نے اس پر شدت سے حملہ کیا اور اس کے اشعار کو بزرگان قریش اور عدنانیوں کے مدمقابل قرار دیااور اس طرح اس کی ہجو کی اور اس کو مغلوب کیا۔(١)
کبھی کبھی شعراء بغیر نام لئے حکومتی شعراکا جواب دیتے تھے اور ان کو ذلیل ورسوا کرتے تھے ،سعید بن حمید جو مستعین کے دور حکومت میں تھا اور حضرت علی و خاندان پیغمبرۖکا دشمن تھا مختلف مواقع پر شیعہ شعراء کی جانب سے مورد ہجو قرار پا یا ۔
اسی طرح شاعری کے اس دور میںعلی بن جہم جو ناصبی اور امیر المومنین کا دشمن تھا، علی بن محمد بن جعفر علوی جو شیعہ شاعر تھے، انہوںنے اس کی ہجو کی اور اس کے نسب سے انکار کیا اور کہا: سامة بن لوی کی جانب اس کی نسبت صحیح نہیں ہے ۔
ابن زیاد کی ہجو میں ابو الاسود دوئلی کہتے ہیں:
اقول وذاک من جزع و و جد
ازل اللّٰہ ملکٔ بنی زیاد
غم واندوہ کی بنیاد پر کہتا ہوں خدا ابن زیاد کی حکومت کو نیست و نابود کرے ۔

وابعدھم بما غدروا و خانوا
کما بعدت ثمود و قوم عاد(٢)
اور ان کو ان کی حیلہ و خیانت کی وجہ سے اس طرح ہلاک کرے جس طرح قوم عاد و ثمود ہلاک ہو گئی ۔
............

(١)ابو الفرج اصفہانی ،الا غانی،ج١٧، ص ٣٦
(٢)مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذہب ، ج٣ ص ٨١

بنی عباس کے ایک قاضی نے سید حمیری کی گواہی فقط شیعہ ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کی تو سید حمیری نے اس کی ہجو میں اس طرح کہا:
ابوکٔ ابن سارق عنز النبی
وانت ابن بنت ابی جحدر
تیرا باپ پیغمبر ۖ کی بھیڑوںکا چرانے والا ہے اور تو جحدر کی بیٹی کا بیٹا ہے۔

ونحن علیٰ رغمکٔ الرافضون
لأھل الضلا لہ والمنکر(١)
اور ہم تیرے خیال اورنظریہ کے مطابق رافضی ہیں یعنی اہل ضلالت و گمراہی کو ترک کرنے والے ہیں ۔

ابو نعامہ دقیقی کوفی تیسری صدی ہجری کے ان شعرا ء میں سے ہیںکہ جنہوں نے اپنے اشعار کے ذریعہ بنی عباس کے بزرگان کی ہجو کی ہے اور ان کی طرف برے کاموں کے ارتکاب کی نسبت دی ہے آخر میںوہ عباسی حکومت کے ایک ترک سردار کے ذریعہ جس کانام مفلح تھا قتل کردئے گئے۔(٢)


............

(١) علامہ امینی ، عبد الحسین ، الغدیر ، ص ٢٥٦ (٢)تاریخ الادب العربی العصر العباسی الثانی،دار المعارف، مصر، ص ٣٨٨.

شیعاں دی تریخ اُتے اک نظر[لکھو]

دوسری صدی ھجری کے دوران شیعوں کی حالت[لکھو]

دوسری صدی ھجری کی پھلی تھائی کے آخر میں تمام اسلامی ممالک میں بنی امیہ حکومت کے ظلم وستم اور بدسلوکی کی وجہ سے جوانقلابات او ر خونی جنگیں ھوئیں ، ان میں پیغمبر اکرم (ص) کے اھلبیت(ع) کے نام پر ایران کے مشرقی صوبے خراسان میں بھی ایک تحریک نے جنم لیا ۔ اس تحریک کا رھنما ایک ایرانی سپہ سالار ابومسلم مروزی تھا جس نے اموی خلافت کے خاتمے کی تحریک شروع کی تھی اور اپنی اس انقلابی تحریک میں کافی ترقی اور کامیابی حاصل کرلی تھی یھاں تک کہ اموی خلافت کا خاتمہ کردیا ۔(۱)یہ تحریک او رانقلاب اگرچہ زیادہ تر شیعہ مذھب کے پروپیگنڈوں پرمنحصر تھا اور تقریبا ً اھلبیت(ع) کے شھیدوں کے انتقام کے عنوان سے اھلبیت(ع) کے ایک پسندیدہ شخص کےلئے بیعت لیا کرتا تھالیکن اس کے باوجود شیعہ اماموں کا نہ تو اس کے لئے کوئی حکم تھا اور نہ ھی انھوں نے اس کے لئے کوئی اشارہ کیا تھا ۔اس کا ثبوت یہ ھے کہ جب ابو مسلم نے امام ششم کانام مدینہ میں بیعت کے لئے پیش کیا تو انھوں نے سختی سے اس تجویز کورد کردیا تھا اورفرمایا تھا : ” تو میرے آدمیوں (پیروکاروں )میں سے نھیں ھے اور یہ زمانہ بھی میرا زمانہ نھیں ھے “ ۔[۲۵]

آخر کا ر بنی عباس خاندان نے اھلبیت(ع) کے نام پر خلافت پرقبضہ کرلیا ۔شروع شروع میں اس خاندان کے خلفا ء ، شیعہ اور علوی خاندان کے ساتھ مھربانی سے پیش آئے حتیٰ کہ علوی شھدا ء کے انتقام کے نام سے انھوں نے بنی امیہ کا قتل عام بھی کیا اور خلفائے بنی امیہ کی قبروں کو کھود کر ان کی ھڈیاں بھی جلا دیں لیکن زیادہ عرصہ نھیں گزرا تھا کہ انھوں نے بھی بنی امیہ جیساظالمانہ طریقہ اختیار کرلیا اور اس طرح ظلم وستم اور لاقانونیت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

ابوحنیفہ جو اھلسنت کے چار اماموں میں سے ایک ھیں ،کو خلیفہ عباسی منصور نے قید میں ڈال دیا (۲) اور ان کو سخت اذیتیں اورتکلیفیں دی گئیں ۔ امام احمد حنبل جواھلسنت کے دوسرے امام تھے کو سرعام کوڑے لگائے گئے (۳)اور اسی طرح شیعوں کے چھٹے امام جعفر صادق علیہ السلام کو سخت ترین شکنجوں ،اذیتوں اور تکلیفوں کے بعد زھر دے کر شھید کردیا گیا ۔(۴) اس حکومت کے دوران علوی خاندان کے افراد کو اکٹھا کرکے ان کی گردنیں اڑادی جاتی تھیں یا ان کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا اور کبھی کبھی بعض افراد کو دیواروں میں چنوا دیاجاتا تھا یا سرکاری عمارتوں کے نیچے دفن کردیا جاتا تھا ۔

عباسی خلیفہ ھارون الرشید کے زمانے میں اسلامی سلطنت اپنے عروج پر پھونچ چکی تھی اور بھت زیادہ وسعت اختیار کرگئی تھی یھاں تک کہ کبھی کبھی خلیفہ سورج کو دیکہ کر کھا کرتا تھا : ”اے سورج جھاں بھی تیرا دل چاھے اپنی شعاعیں زمین پر پھینک لیکن میرے ملک سے باھر ھرگز نھیں چمکے گا (یعنی جھاں تک سورج چمکتا ھے وھاں تک میرا ملک ھے )۔“ایک طرف تو اس کی فوجیں مشرق ومغرب کی طرف آگے بڑھتی چلی جارھی تھیں اور دوسری طرف بغداد کے پل پرجو خلیفہ کے محل سے چند قدم کے فاصلے پر واقع تھا خلیفہ کی اجازت کے بغیر اس کے گماشتے پل سے گزرنے والوں سے ٹیکس وصول کیا کرتے تھے یھاں تک کہ جب ایک دن خود خلیفہ نے اس پل سے گزرناچاھا تھا تو انھوں نے اس کا راستہ روک کر اس سے ٹیکس ادا کرنے کامطالبہ کیا تھا ۔

قصۂ جسر بغداد

ایک گانے والے شخص نے چند شھوت انگیز شعر پڑھ کر عباسی خلیفہ امین کی شھوت کو ابھارا تو امین نے اسے تیس لاکھ چاندی کے درھم انعام میں دئے وہ گانے والااس قدر خوش ھوا کہ خلیفہ کے قدموں میں گرپڑا اورکھنے لگا : ”اے امیرالمومنین ! کیا آپ نے یہ ساری رقم مجھے عطا فرمادی ھے ؟ “خلیفہ نے جواب دیا : ” اس رقم کی کوئی اھمیت نھیں ھے کیونکہ یہ ساری رقم ھمیں ملک کے ایک ایسے حصے سے ملی ھے جس کو ھم جانتے بھی نھیں “۔[۲۶]

وہ بے اندازہ اور بے شما ر دولت جواسلامی ممالک سے بیت المال کے عنوان سے ھر سال دارالخلافہ میں پھنچتی تھی ، سب کی سب خلیفۂ وقت کی شھوت پرستی ، ھوس رانی ، عیاشی اور عوام کی حق تلفی پر خرچ ھوتی تھی ۔ ان خوبصورت کنیزوں ، لڑکیوں اور لڑکوں کی تعداد ھزاروں تک پھنچتی تھی جو ھر وقت خلیفہ کے دربار میں خدمت پر مامور تھے ۔ اموی حکومت کے خاتمے اور بنی عباس کے اقتدار سے شیعوں کی حالت میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا سوائے اس کے کہ ان ظالم او ربیداد گر دشمنوں نے صرف اپنا نام تبدیل کرلیا تھا ۔[۲۷] [۲۸] [۲۹] [۳۰]

تیسری صدی ھجری کے دوران شیعوں کی حالت[لکھو]

تیسری صدی ھجری کے آغاز سے شیعوں نے سکون کی سانس لی۔ اس کا پھلا سبب یہ تھا کہ یونانی ، سریانی او ردوسری زبانوں سے بھت زیادہ علمی اور فلسفی کتابیں عربی زبان میں ترجمہ ھوگئی تھیں اورلوگ استدلالی و عقلی علوم کوحاصل کرنے کے لئے جمع ھوگئے تھے ۔ اس کے علاوہ عباسی خلیفہ مامون الرشید خود(۱۹۵ تا۲۱۸ ھجری قمری )معتزلہ مذھب کاپیرو تھا اورمذھب میں عقلی استدلال کی طرف مائل تھا لھذا اس نے مختلف ادیان اورمذاھب میں لفظی استدلال کے رواج کی عام آزادی دے رکھی تھی ۔ یھی وجہ تھی کہ علماء اور شیعہ متکلمین نے اس آزادی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اورانھوں نے علمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مذھب اھلبیت کی تبلیغ میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا ۔ [۳۱] دوسرے یہ کہ خلیفہ مامون الرشید نے سیاسی حالات کے پیش نظر آٹھویں امام حضرت امام رضا علیہ السلام کو اپنا ولی عھد اور جانشین بھی مقررکررکھا تھا جس کے نتیجے میں علوی خاندان اوراھلبیت(ع)کے دوست اورطرفدار ایک حد تک سرکاری عھدیداروں کے ظلم وتشدد سے محفوظ ھوچکے تھے اورکم وبیش آزاد تھے لیکن زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ دوبارہ تلوار کی تیز دھار شیعوں کی طرف پھرگئی اوران کے اسلاف کے حالات ان کے لئے بھی پیدا ھوگئے خصوصا ً عباسی خلیفہ متوکل باللہ(۲۳۲ تا ۲۴۷ ھجری قمری)کے زمانے میں جو حضرت علی(ع)اور آپ کے پیروکاروں سے خصوصی دشمنی رکھتا تھا اوراسی کے حکم سے امام حسین علیہ السلام کا مزار مقدس مٹی میں ملادیا گیاتھا ۔ [۳۲]

=چوتھی صدی ھجری کے دوران شیعوں کی حالت[لکھو]

چوتھی صدی ھجری کے دوران کچھ ایسے عناصر اورحالات پیدا ھوگئے تھے جوخود بخود مذھب شیعہ کی ترقی اور شیعوں کے طاقتور او ر مضبوط بننے میں مدد کررھے تھے ۔ ان حالات میںسے خلافت بنی عباس کی کمزوری اور آل بویہ بادشاہ کا ان کے مقابلے میں سراٹھانا تھا۔

آل بویہ کے بادشاہ مذھبی طور پر شیعہ تھے اور خلافت کے مرکز(دارالخلافہ ) بغداد اور خلیفہ کے دربار میں ان کا بھت اثر و رسوخ تھا۔(۱) یہ شیعوں کے لئے ایک قابل توجہ طاقت تھی جو دن بدن ان کو زیادہ سے زیادہ جراٴت مند اور طاقتور بنارھی تھی تاکہ وہ اپنے مذھبی مخالفوں کے سامنے جو ھمیشہ خلافت کی طاقت پر بھروسہ اور تکیہ رکھتے ھوئے ان کو نیچا دکھانے کی فکر میں تھے ، کھڑے ھوجائیں اوران کا مقابلہ کریں اوراس کے ساتھ ساتھ پوری آزادی کے ساتھ اپنے (شیعہ ) مذھب کی تبلیغ کریں ۔

جیسا کہ مورخین نے لکھا ھے کہ اس صدی کے دوران سارے جزیرة العرب یا اس کے زیادہ حصے میں بڑے بڑے شھروں کے علاوہ ھرطرف شیعہ آباد تھے لیکن ان کے علاوہ کچھ بڑے شھربھی مثلا ً ھجر ، عمان او رصعدہ وغیرہ شیعوں کے شھر شمار ھوتے تھے ، شھر بصرہ میں شیعوں کی قابل قدرتعداد موجود تھی حالانکہ وہ شھر ھمیشہ سے اھلسنت کا مرکز تھا اور شھر کوفہ کے ساتھ جو شیعوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا مذھبی رقابت اور برابری رکھتا تھا ۔اسی طرح دوسرے شھروں مثلا ً ابلس ، نابلس ، طبریہ ، حلب اور ھرات میں بھی اچھے خاصے شیعہ زندگی گزارتے تھے۔ اھواز ، خلیج فارس کے کنارے (ایرانی ساحل )پر بھی شیعوں کی تعداد قابل ملاحظہ تھی ۔(۲) اسی صدی کے آغاز میں ناصراطروش جوکئی سال تک ایران کے شمالی حصوں میں مذھب شیعہ کی تبلیغ کرتارھا تھا طبرستان کے علاقے پربھی قابض ھوگیا تھا اور وھاں اس نے سلطنت کی داغ بیل ڈالی تھی جو کئی پشتوں تک جاری رھی ، اطروش سے پھلے بھی ایک شخص بنام حسن بن زید علوی نے کئی سال تک طبرستان میں حکومت کی تھی ۔(۳) اس صدی کے دوران فاطمیوں نے جواسماعیلی فرقے سے تعلق رکھتے تھے مصر میں اقتدار حکومت سنبھال لیا اور ۲۹۶ ھ سے ۵۲۷ ھ تک حکومت کرتے رھے ۔ اسی زمانے میں عام طور پر ایسے حالات پیش آتے رھے کہ بڑے بڑے اسلامی شھروں مثلا ً بغداد ، بصرہ او رنیشاپور میں شیعہ ۔سنی فرقوں کے درمیان کبھی کبھی کشمکش اور جنگ شروع ھوجاتی تھی اوران جنگوں میں سے بعض میں شیعوں کوکامیابی ھوتی تھی ۔[۳۳][۳۴][۳۵]


پانچویں صدی ھجری سے نویں صدی ھجری کے دوران شیعوں کی حالت[لکھو]

پانچویں صدی ھجری سے نویں صدی ھجری تک شیعوں کی تعداد میں مسلسل خاطر خواہ اضافہ ھوتارھا جیسا کہ چوتھی صدی ھجری کے دوران بھی ان کی افزائش جاری رھی اس دوران بعض ایسے بادشاھوں نے بھی حکومت کی جو شیعہ تھے اور مذھب شیعہ کو رواج دیتے تھے ۔

پانچویں صدی ھجری کے آخر میں اسماعیلیہ کی تحریک او ردعوت نے ”الموت “ کے علاقوں میں اپنی حکومت کو مضبوط کرلیا تھا اور اس طرح اسماعیلی فرقہ کے بادشاہ تقریبا ً ڈیڑھ صدی تک ایران کے بالکل درمیانی حصے میں مکمل آزادی کے ساتھ اپنی مذھبی رسومات کے مطابق زندگی گزارتے رھے (۱) ۔مرعشی سادات نے بھی کئی سالوں تک مازندران کے علاقوں پرحکومت کی تھی ۔(۲) مغلوں کے ایک بادشاہ خدابندہ لونے مذھب شیعہ اختیار کرلیا تھا اور اس کی اولاد میں سے بھی بھت سے بادشاھوں نے ایران میں حکومت کی تھی اور چونکہ یہ سب لوگ شیعہ تھے اسلئے وہ سب مذھب شیعہ کی ترویج اورترقی کے لئے کوشاں رھے تھے ۔ اسی طرح آق قو یونلو اور قرہ قویونلو خاندان کے سلاطین جو تبریز میں حکومت کیا کرتے تھے (۳)اور ان کی حکمرانی اور بادشاھت کی وسعت فارس (شیراز ) اور کرمان تک پھنچ چکی تھی ، مذھب شیعہ کے پیرو تھے ۔ مصر میں بھی سالھا سال تک فاطمیوں کی حکومت قائم رھی تھی۔ البتہ مذھبی طاقت مختلف بادشاھوں کے زمانے میں مختلف رھی ھے جیسا کہ فاطمی حکومت کے خاتمے اورسلاطین آل ایوب کے اقتدار سنبھالنے سے حالات بالکل پھرگئے تھے ۔ مصر اور شام کے شیعوں کی آزادی چھن گئی تھی اور بھت سے شیعہ افرادکو قتل کردیا گیاتھا ۔(۴) انھی شھید ھونے والوں میں سے شھید اول محمد بن محمدمکی بھی تھے جو شیعہ فقہ کے ذھین ترین افراد میں سے تھے اور ۷۸۶ ھ میں دمشق میں مذھب شیعہ رکھنے کے جرم میں شھید کردئے گئے تھے (۵) اور اسی طرح شیخ اشراق شھاب الدین سھروردی کو حلب میںفلسفہ کے جرم میں شھید کردیاگیا تھا ۔ (۶) مجموعی اور کلی طور پر ان پانچ صدیوں میں شیعہ آبادی کے لحاظ سے مسلسل بڑھتے رھے اور طاقت اور آزادی کے لحاظ سے اپنے وقت کے بادشاھوں کی مرضی یا مخالفت کے ماتحت رھے ۔ اس تمام مدت اور عرصے میں اسلامی ممالک میں سے ایک ملک میں بھی مذھب شیعہ کو سرکاری اور ملکی مذھب ھونے کا موقع نہ ملا اورنہ ھی کسی نے اس کااعلان کیا یا اسے سرکاری مذھب کے طور پر تسلیم کیا۔ [۳۶] [۳۷][۳۸][۳۹][۴۰][۴۱]

دسویں اور گیارھویں صدی ھجری کے دوران شیعوں کی حالت[لکھو]

۹۰۶ ھ میں شیخ صفی الدین اردبیلی (متوفی ۷۳۵ ھ )کے خاندان میں سے ایک تیرہ سالہ نوجوان نے جو مذھب کے لحاظ سے شیعہ تھا ،اپنے آباء واجداد کے تین سو مریدوں اور درویشوں کو ساتھ لے کر حکومت وقت کے خلاف سر اٹھایا تاکہ ایک مستقل ، خود مختار اور آزاد شیعہ ریاست کومعرض وجود میں لائے۔ اس کے لئے وہ اردبیل،ایران سے اٹھا اورکشور کشائی کرتے ھوئے طوائف الملوکی کوایران سے ختم کردیا ۔ اس نے علاقائی بادشاھوں اور خصوصا ً آل عثمان خاندان کے بادشاھوں کے ساتھ خونریزجنگیں کیں ۔ یھاں تک کہ ایران کو جو اس وقت حصوں بخروں میں تقسیم ھوچکا تھا ، ایک متحدہ اورآزاد ملک بنا دیا اورمذھب شیعہ کو اپنی حکومت اورقلمرو میں سرکاری مذھب کا درجہ دے کر رواج دیا ۔ شاہ اسماعیل صفوی کی وفات کے بعد صفوی خاندان کے دوسرے بادشاھوں نے بارھویںصدی ھجری تک ایران میں اپنی حکومت جاری رکھی اور سب نے یکے بعد دیگرے شیعہ امامیہ مذھب کوسرکاری مذھب کے طور پرتصدیق اور تسلیم کیا اور اس کو مضبوط بنانے کے لئے کسی کوشش اور جد وجھد حتیٰ جنگو ں سے بھی دریغ نہ کیا ۔ یھاں تک کہ یہ خاندان جب اپنے عروج پر تھا (یعنی شاہ عباس صفوی کے زمانے میں ) اس نے ملکی آبادی اور وسعت کو موجودہ ایران سے دوگنا کردیاتھا ۔


بارھویں صدی ھجری سے پند رھویں صدی ھجری کے دوران شیعوں کی حالت[لکھو]

آخری تین صدیوں کے دوران شیعوں کی مذھبی ترقی اپنی سابقہ حالت اور شکل میں جاری رھی ھے اوراب جبکہ پندرھویں صدی کاپھلا حصہ ختم ھورھا ھے، مذھب شیعہ ایران میں سرکاری اور عوامی مذھب کے طور پر پھچانا جاتا ھے اور اسی طر ح دوسرے بھت سے اسلامی ممالک مثلا ً یمن ، عراق وغیرہ میں شیعوں کی اکثریت ھے ۔ اس کے علاوہ تمام اسلامی ممالک میں بھی کم و بیش شیعہ افراد زندگی گزاررھے ھیں ۔ مجموعی طور پر دنیا کے مختلف ممالک اور علاقوں میں شیعہ آبادی تقریبا ً دس کروڑ نفوس پر مشتمل ھے ۔


پاکستان میں شیعہ =[لکھو]

شیعہ اسلام کا برصغیر سے تعلق اسلام کے اوائل میں ہی پیدا ہو گیا تھا۔ چنانچہ اسلامی تاریخ میں حضرت علیؑ کی اجازت سے حارث بن مرہ عبدی ؓکا 656 ء (36 ہجری) [1] یا658 ء ( 38 ہجری) کے آخر میں آنا اور فوجی کامیابیوں کی بدولت مکران قندابیل اور قیقان کے علاقوں تک چلے جانا، نیز662 ء ( 42 ہجری )میں ان کا قتل مذکور ہے [2] ۔

اسلام کے ابتدائی سالوں میں ہی عراق اور ایران شیعہ نشین علاقے بن چکے تھے۔ حضرت علی ؑنے کوفہ کو اپنا دار الخلافہ بنایا تھا جسکی وجہ سے اس علاقے میں شیعیت کو رواج ملا۔ 680 ء میں یزید ابن معاویہ کی بیعت سے انکار کرنے کے بعد امام حسین ؑ نے چار ماہ مکہ میں ٹھہر کر مصر سے آذربائیجان اور شام سے یمن تک پھیلی امت مسلمہ تک اپنا پیغام پہنچایا تو صرف کوفہ کے لوگوں نے ہی آپؑ کا ساتھ دینے کی حامی بھری۔ اگرچہ بعد میں باقی تمام شہروں کے یزید کی جبری بیعت کو قبول کرنے کے بعد خود کو اکیلا پا کر اکثر کوفہ والے خوفزدہ ہو گئے لیکن کربلا کےشہداءمیں اہل بیتؑ کے شہداء کے بعد سب سے زیادہ تعداد کوفہ کے لوگوں کی ہی تھی۔ کربلا کے بعد ایران اور عراق کا علاقہ ہمیشہ بنی امیہ کی بادشاہت کے خلاف انقلاب کا مرکز بنا رہا، توابین اور ان کے بعد مختار نے یا لَثاراتِ الحسینؑکے نعرے کو مرکزی خیال بنا کر بنی امیہ کے خلاف قیام کیا ۔

736ء میں امام حسین ؑ کے پوتے زید بن علی ؑ نے بنی امیہ کے خلاف قیام کیا تو کوفہ کو ہی اپنا مرکز بنایا اور وہاں چار سال کیلئے حکومت بھی قائم کی۔ ان کے پیروکار زیدی کہلائےاور یہاں سے زیدی شیعہ اور اثنا عشری شیعوں کا راستہ جدا ہوا۔ 740 ء میں بنی امیہ کے ہاتھوں زیدی حکومت کو شکست ہوئی اور کچھ مزید شیعہ ایران اور وادئ سندھ کی طرف ہجرت کر گئے۔ 743 ء میں بنی عبّاس نے ایران کے صوبے خراسان سے ایک مرتبہ پھر یا لَثاراتِ الحسینؑ کا نعرہ لگایا اور ابو مسلم خراسانی نامی ایرانی شیعہ کی قیادت میں ایران اور عراق کے شیعوں اور عجمی سنیوں کا لشکر بنا کر 750 ء میں بنی امیہ کی بادشاہت کا خاتمہ کر دیا۔ بنی عبّاس نے اقتدار اہل بیت ؑکے نام پر حاصل کیا تھا لیکن وہ اپنی خاندانی بادشاہت کو برقرار کرنا چاہتے تھے۔ اپنا مطلب نکل جانے کے بعد دوسرے عبّاسی خلیفہ منصور نے 755 ء میں ابو مسلم خراسانی کو قتل کر کے اسکی لاش دریائے دجلہ میں بہا دی۔768 ء میں امام جعفر صادق ؑ کو زہر سے شہید کیا اور شیعوں میں ایک اور گروہ، اسماعیلیہ، نمودار ہوا۔

ابن خلدون کے بقول منصور ہی کے زمانے میں سندھ کا عامل عمر بن حفص تشیع کی جانب میلان رکھتا تھا۔ محمد نفس ذکیہؒ کے فرزند عبد اللہ اشترؒ، جن کو عبد اللہ شاہ غازیؒ[3] کے نام سے جانا جاتا ہے،400 افراد پر مشتمل زیدیوں کی ایک جماعت کے ساتھ اس کے پاس آئے تو اس نے انہیں خاصے احترام سے نوازا۔ منصور کو جب اس کی خبر پہنچی تو اس نے ہشام بن عمر ثعلبی کو ان کے قلع قمع کرنے کے لیے سندھ روانہ کیا جہاں ہشام کے بھائی اور ان کے درمیان قتال ہوا جس کے نتیجے میں عبد اللہ شاہ غازیؒ شہید ہوئے اور ان کے ساتھی اس علاقے میں بکھرگئے[4] ذہبی اور ابو الفرج اصفہانی نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے[5] ۔ طبری نے یہ واقعات 768 ء (151 ہجری)میں نقل کیے ہیں [6] ۔ ان واقعات کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ 768 ء میں یا اس کے آس پاس زیدیوں کی موجودگی وادئ سندھ میں شیعیت کے رواج کا باعث بنی۔

جب نویں اور دسویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں مبلغین اور صوفیوں کی آمد کا سلسلہ بڑھنا شروع ہوا تب تک سنیوں کے چار فقہی مکاتب ( حنفی، حنبلی، مالکی، شافعی ) تشکیل پا چکے تھے اور اہلِ تشیع تین شاخوں ( زیدی، اثنا عشری، اسماعیلی ) میں بٹ چکے تھے۔ شیعوں میں چھٹے امام جعفر صادق ؑکے مرتب کردہ فقہ جعفریہ کے اثنا عشری پیروکار زیادہ تھے۔ نویں صدی عیسوی کے آخر(893 ء ) میں یمن کے شمال میں زیدی شیعوں کی حکومت قائم ہوئی جو مختلف نشیب و فراز سے گذرتے ہوئے 1962 ء میں گیارہ سو سال بعد ایک فوجی بغاوت کے نتیجے میں ختم ہوئی۔ اس حکومت کے ہوتے ہوئے زیدی شیعوں کی وادئ سندھ کی طرف ہجرت رک گئی۔

دسویں صدی عیسوی میں ایران اور عراق میں اثناء عشری شیعہ خاندان آل بویہ (934 ء –1062 ء )اور مصر، شام اور حجاز میں اسماعیلی شیعہ فاطمیوں ( 909 ء –1171 ء )کی حکومت قائم ہوئی ۔ یوں رسول اللهؐ اور حضرت علی ؑ کے دور حکومت کے بعد پہلی مرتبہ شیعوں کو اجتماعی اور علمی فعالیت کیلئے آزاد فضا میسر آئ ۔ آل بویہ کی حکومت کم و بیش سو سال تک قائم رہی اور اس دوران بو علی سینا ؒ، فارابیؒ، البیرونی ؒاور ابن الہیثم ؒجیسے عظیم شیعہ سائنس دان اور فلسفی پیدا ہوئے۔ اس دوران اثنا عشری شیعہ مسلک کو ایران اور عراق جبکہ اسماعیلی شیعہ مسلک کو شام اور مصر اور وادئ سندھ میں فروغ ملا۔ بو علی سینا ؒنے اپنی معروف کتابیں " الشفاء" اور "القانون" اور دسیوں مقالے اسی دوران لکھے۔ بو علی سیناؒ نے اپنی کتب میں شیعہ عقیدۂ امامت کے فلسفے کو بھی واضح کیا۔ ابن الہیثم ؒکی "کتاب المناظر "بھی آل بویہ کی علم پروری کا ایک پھل ہے، جسکی پہلی اشاعت کے ہزار سال مکمل ہونے پر 2015 ء کو اقوام متحدہ نے روشنی پر تحقیق کا سال قرار دیا تھا ۔ اسی عرصے میں اسماعیلی شیعہ مبلغین ملتان تک پھیل گئے چنانچہ دسویں صدی کے وسط میں وہاں اسماعیلی قرامطہ حکومت قائم ہوئی جو مصر کی فاطمی حکومت سے ملحق تھی۔ مصر میں فاطمیوں نے جامعہ الزہرا ؑکے نام سے اسلامی دنیا کی پہلی یونیورسٹی قائم کی جس کو آج کل جامعہ الازہر کہا جاتا ہے۔ انہی دو شیعہ حکومتوں کے ادوار میں عزاداری اور تعزیہ کے جلوسوں کو فروغ حاصل ہوا۔

گیارہویں صدی کے شروع میں محمود غزنوی نے ایران پر حملہ کر کے رے کو آل بویہ سے چھین لیا اور شیعوں کا قتل عام کیا۔ اس دوران بہت سے شیعہ وادئ سندھ کی طرف ہجرت کے گئے۔ محمود غزنوی نے شیعہ سائنس دانوں کو زبردستی اپنے لشکر کا حصہ بنایا چنانچہ البیرونی نے زمین کا قطر ماپنے کیلئے شروع کی گئی تحقیق کو پوٹھوہار کے قصبے پنڈ دادن خان کے قریب مقام پر پایۂ تکمیل تک پہنچایا جبکہ وہ بادشاہ محمود غزنوی کی حملہ آور فوج میں طبیب کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔انہی حملوں کے دوران البیرونیؒ نے "کتاب الہند" بھی لکھی۔ محمود غزنوی کے دو حملوں میں ملتان سے سہون تک پھیلی اسماعیلی شیعوں کی قرامطہ حکومت ختم ہو گئی[7]۔ ان حملوں میں ملتان کی اسماعیلی آبادی کا قتلِ عام ہوا۔ قرامطہ حکمران ابوفتح داؤد کو قیدی بنایا گیا۔ ملتان کے شہریوں سے لگ بھگ دو کروڑ دینار تاوان وصول کیا گیا اور بچے کچھے اسماعیلی بالائی پنجاب اور زیریں سندھ کے مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ دوسری طرف 1060 ء میں سلجوقیوں نے عراق پر حملہ کر کے آل بویہ کی حکومت کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعدوسیع پیمانے پر شیعوں کا قتل عام ہوا اور متعدد شیعہ تقیے کی حالت میں چلے گئے۔

گیارہویں صدی عیسوی کے آخری سالوں میں ہی معروف سنی عالم امام غزالی نے "تہافۃ الفلاسفۃ" نامی کتاب لکھی اور فلسفے اور سائنس کے کفر کا فتویٰ دیا جس کے نتیجے میں آنے والی کئی صدیوں تک سائنس دان اور فلسفی تکفیریوں کے ہاتھوں قتل ہوتے رہے۔ فلسفے کے اٹھائے گئے بنیادی سوالات پر تحقیق نہ کرنے کی بدولت سائنسی ترقی کے دروازے بند ہو گئے۔ آج بھی یہی سوچ نائجیریا سے سوات تک تکفیریوں کو سائنسی تعلیم دینے والے سکول تباہ کرنے پر اکسا رہی ہے۔

محمود غزنوی کے بعد قرامطہ حکومت پھرمختصر عرصے کے لیے قائم ہوئی تاہم بارہویں صدی میں شہاب الدین غوری نے اس کا مستقل خاتمہ کر دیا اور بعد ازاں صوبہ ملتان دہلی سلطنت کا حصہ بن گیا۔ گیارہویں صدی عیسوی میں ہی مصر اور شام کی فاطمی سلطنت داخلی شکست و ریخت زوال کا شکار ہوگئی تھی اور اسماعیلی بھی اہل سنت کی طرح متعدد فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ اس دوران موقع غنیمت جان کر یورپ سے فلسطین پر صلیبی حملوں کا آغاز ہو گیا اور دوسری طرف ترکوں نے شام پر حملے شروع کئے۔ با الاخر بارہویں صدی عیسوی میں صلاح الدین ایوبی نامی ایک سنی وزیر نے اس حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ صلاح الدین ایوبی نے عباسی خلافت کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا اور داخلی استحکام پیدا کرنے کے بعد صلیبی حملہ آوروں کو شکست دی۔ البتہ یہاں سے مصر اور شام کے شیعوں پر ظلم کے طویل سلسلے کا آغاز ہو گیا جو ترکوں کی خلافت عثمانیہ کے زوال تک جاری رہا۔ اس ظلم کے نتیجے میں شیعہ لبنان اور شام کے پہاڑی علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور کچھ ہجرت کر کے ہندوستان چلے آ ئے۔1191 ء میں شام کے شہر حلب میں صلاح الدین ایوبی کے بیٹے کے حکم پر معروف شیعہ فلسفی شیخ شہاب الدین سہروردی ؒکو فلسفہ پڑھانے کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی۔

تیرہویں صدی عیسوی میں چنگیز خان کے حملوں کے نتیجے میں بادشاہ خوارزم شاہ کی شکست کے بعدکچھ شیعہ وادئ سندھ کی طرف اور کچھ ایران میں شہروں سے دور قائم اسماعیلی قلعوں میں چلے گئے۔ وہاں انہوں نے کامیاب مزاحمت کی البتہ چنگیز کے بیٹے ہلاکو خان نے اسماعیلی مزاحمت کو شکست سے دوچار کیا۔ چونکہ منگولوں نے چین کی فتح کے بعد وہاں کے سائنس دانوں کے علم سے بہت فائدہ اٹھایا تھا اس لیے انہوں نے شیعہ علماء کو قتل کرنے کے بجائے یرغمال بنا لیا۔ ان علماء میں خواجہ نصیر الدین طوسی ؒ(1201 ء –1274 ء)سب سے اہم تھے۔ انہوں نے منگولوں میں اثر و رسوخ پیدا کر کے ایک بڑی رصد گاہ اور کتب خانہ تعمیر کرایا۔ انہوں نے جغرافیہ، فلسفہ، فلکیات ، منطق، اخلاق اور ریاضی پر بیش قیمت کتابیں لکھیں۔ خواجہ نصیر الدین طوسی ؒکی وجہ سے ہی اسلامی تہذیب کے آثار مکمل تباہی سے بچ گئے۔ آپ کی علمی عظمت سے متاثر ہو کر ہلاکو خان کے بیٹے تکودار نے اسلام قبول کر لیا۔ افغانستان اور پاکستان میں مقیم ہزارہ شیعہ انہی منگول شیعوں کی نسل سے ہیں ۔ آپؒ کے شاگرد علامہ حلیؒ نے شیعہ فقہ میں انقلابی نظریات پیش کئے۔ ان کے دور میں ایران و عراق میں شیعیت کو مزید فروغ ملا، جس سے خوفزدہ ہو کرتکفیری عالم ابن تیمیہ نے شیعوں کے خلاف ایک کتاب "منہاج السنۃ "لکھی۔

1347 ء میں جنوبی ہندوستان کے علاقے دکن میں پہلی شیعہ سلطنت قائم ہوئی جس نے شیعہ علماء کو ہندوستان کی طرف دعوت دی۔ دکن میں شیعہ اقتدار کسی نہ کسی شکل میں 1687 ء تک قائم رہا۔

چودہویں صدی عیسوی میں ہی سید علی ہمدانی ؒاور شمس الدین عراقی ؒاور ان کے پیروکاروں نے کشمیر میں قدم رکھا اور اثنا عشری شیعہ اسلام کی تبلیغ شروع کی۔ 1528 ء میں بلتستان اور کشمیر میں چک سلطنت قائم ہوئی جس نے ہزاروں ہندوؤں کو شیعہ اسلام میں داخل کیا۔یہ لوگ نوربخشی صوفی سلسلے کے پیروکار تھے، ان میں سے اکثر بعد میں اصولی شیعہ بن گئے۔ ایک ترک جنگجو سردار مرزا حیدر دگلت نے پندرہ سو چالیس میں کشمیر پر حملہ کیا اور شیعہ مسلمانوں کا قتلِ عام کیا۔ مرزا دگلت کی واپسی کے بعد چک خاندان کا اقتدار پھر سے بحال ہو گیا۔ 1586 ء میں مغلوں کے ہاتھوں چک سلطنت کے زوال کے بعد کشمیر یوں کو سنی کرنے کی مہم چلائی گئی جس کی وجہ سے آج شمالی علاقہ جات میں صرف کارگل ، بلتستان اور گلگت ہی وہ علاقے ہیں جہاں شیعہ اکثریت ہے۔

سولہویں صدی عیسوی کا آغاز ایران میں صفوی سلطنت( 1501 ء –1736 ء ) کے قیام سے ہوا ۔ صفوی اس زمانے کے باقی بادشاہوں کی طرح ظالم حکمران تھے۔اس سلطنت نے آل بویہ کی حکومت اور فاطمی سلطنت کے برعکس شیعہ اسلام کے پھیلاؤ میں سنی حکمرانوں کی طرح جبر کا سہارا لیا۔ اسی دوران ایران دوبارہ شیعہ اکثریتی ملک میں تبدیل ہو گیا۔ لبنان ، شام اور حجاز میں سینکڑوں سالوں سے سنی بادشاہوں کے جبر کا شکار رہنے والے شیعہ علماء کو ایران کی طرف ہجرت کی دعوت دی گئی اور ایران دوبارہ علم و فلسفے کا مرکز بن گیا۔ ملا صدراؒ، میر دامادؒ، شیخ بہائیؒ، میر فندرسکیؒ اور ملا محسن فیض کاشانی ؒجیسے علماء پیدا ہوئے اور امام غزالی کے تکفیری فتوے کا اثر ختم ہونے لگا۔ البتہ اس وقت تک یورپ نے امریکا دریافت کر لیا تھا اور دولت کے بل بوتے پر افریقہ اور اسلامی دنیا پر قبضہ جما رہا تھا۔ایران عثمانی خلیفہ کے ساتھ پے در پے جنگوں اور صفوی بادشاہوں کی فرقہ وارانہ ذہنیت کی بدولت یورپ کے مقابلے کیلئے اسلامی دنیا کی کوئی مدد نہ کر سکا۔

سولہویں صدی عیسوی میں پنجاب میں شیعہ اسلام تیزی سے پھیلا۔ اس سلسلے میں نمایاں ترین کردار ملتان کے سید جمال الدین یوسف شاہ گردیزی ؒاور اچ شریف کے سید جلال الدین حیدر نقوی ؒکے گدی نشینوں اور جھنگ کے سید محب عالم شاہ جیونہؒ اور راجن پور کے سید محمد راجو شاہ بخاری ؒنے ادا کیا۔ البتہ پنجاب میں شیعہ انگریزوں کی آمد تک ہمیشہ حکومتی عتاب کا شکار رہے، جسکی شدت میں کمی بیشی ہوتی رہی۔


مغلیہ دور[لکھو]

1526 ء میں بابر نے شمالی ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔ بابر اور ہمایوں ایرانی صفوی بادشاہوں کے رہینِ منّت ہونے کی وجہ سے شیعہ سنی منافرت سے دور رہے۔ شروع شروع میں اکبر کا مذہبی رویہ خاصا سخت گیر رہا۔ اس نے بااثر تکفیری عالم شیخ عبدالنبی کے مشورے پر حضرت امیر خسرو ؒکے پہلو میں دفن ایک شیعہ عالم میر مرتضی شیرازی ؒکی قبر اکھڑوا دی۔ اکبر کے زمانے میں بعض تکفیری علماء کی سفارش پر متعدد شیعہ رہنما قتل بھی ہوئے، جن میں لاہور کےملا احمد ٹھٹھویؒ خاص طور پر قابل ذکر ہیں[8] ۔ بعد ازاں یہی اکبر مذہبی و فرقہ وارانہ لحاظ سے غیر جانبدار ہوگیا، چنانچہ اسی دور میں ہمیں شاہ حسینؒ، گرو نانک اور بھگت کبیر ملتے ہیں۔

اکبر دور میں ایک شیعہ عالم آیت الله   سیدنور الله شوستریؒ [9] نے ہر فقہ کے ماننے والے کے لیے اس کی فقہ کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت کے سبب بادشاہ کا اعتماد حاصل کر لیا۔ اکبر نے سید نور الله شوستری ؒکوقاضی القضاۃ   کا درجہ دیا۔  اس زمانے میں سنی علماء میں شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ  نمایاں  علمی شخصیت تھے جن کو اکبر کے دربار میں عزت و احترام حاصل تھا۔   شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒکی کتاب "تکمیل الایمان"مکتب اہل سنت کے بنیادی عقائد کیلئے حوالے کی حیثیت رکھتی  ہے۔   دوسری طرف   شیخ احمد سرہندی جیسے کم علم اور متعصب مولوی   اکبر کے  حکیمانہ طرز حکومت سے خوش نہیں تھے اور اپنی تنگ نظری کی تسکین کے مواقع تلاش کرتے رہتے تھے۔ ان جاہ طلب اور  تنگ نظر  مولویوں نے اکبر پر اپنی پرستش کروانے کا الزام عائد کیا اور کفر کے فتوے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔اس کے بعد سے  اب تک کفر اور تنسیخ نکاح کے فتوے ایسے مولویوں کے ہاتھوں اتنی مرتبہ جاری ہوئے ہیں کہ ایک مذاق بن چکے ہیں۔  آج  کل تکفیری ٹولے کی طرف سے شیخ احمد سرہندی کو مجدد الف ثانی کہا جاتا ہے۔

اکبر کے زمانے میں شیخ احمد سرہندی نے شیعوں کے خلاف "رسالہ ردِ روافض "نامی ایک کتاب لکھی جس کا جواب قاضی نور الله شوستری ؒنے 1605 ء میں "احقاق الحق " لکھ کر دیا ۔ اس سے شیخ احمد سرہندی کی دشمنی دو آتشہ ہو گئی۔ اسی زمانے میں ایک اور شیعہ عالم میر یوسف علی استر آبادی اخباری روش کے پیروتھے۔اخباری شیعہ بدلتے زمانے کے تقاضوں کے مطابق آیات و احادیث کی روشنی میں عقل کے استعمال سے اجتہاد کرنے والی اصولی روش کے خلاف تھے۔قاضی نور الله شوستری ؒنے شیعوں میں تنگ نظری اور جمود کی اس لہر کے خلاف بھی کام کیا اور میر یوسف علی استر آبادی کی الجھنوں کا جواب "رسالہ اسئلہ یوسفیہ" کے عنوان سے کتاب لکھ کر دیا۔ اخباری دراصل شیعہ سلفی تھے، مگر شیعہ کتب میں عقل کے حق میں ملنے والی احادیث اور زمانے کے بدلتے تقاضوں کی بدولت یہ گروہ شکست کھا گیا۔

اکبر کی وفات کے بعد شیخ احمد سرہندی [10] اور دوسرے سنی علماء کے مطالبے پر جہانگیر نے قاضی نور الله شوستریؒ کو کوڑے لگانے کی سزا سنائی جس کے نتیجے میں ستر سال کی عمر میں انکا انتقال ہو گیا[11] ۔ اپنے والد کے برعکس شاہجہاں نے شیعوں کے خلاف کوئی تعصب نہیں برتا البتہ اورنگزیب نے اپنے بھائی داراشکوہ اور دکن کی شیعہ ریاست کے خلاف لشکر کشی کے لیے مذہبی منافرت کو کامیابی سے استعمال کیا۔ اسی زمانے میں مرحوم شیخ احمد سرہندی کے شاگردوں کو سرکاری سرپرستی میسر آئ۔ اس خطرناک حکمت عملی نے معاشرے پر جو اثرات چھوڑے ان کا اندازہ اس واقعے سے ہو جاتا ہے کہ1707ء میں اورنگزیب کی وفات کی خبر سن کر لاہور میں مشتعل افراد نے شیعہ امام بارگاہوں اور مساجد کو آگ لگا دی [12] ۔ اورنگزیب کے زمانے میں تینتیس جلدوں پر مشتمل جو مجموعہ بعنوان "فتاویِ عالمگیری" مرتب کیا گیا اس میں شیعہ عقیدے کو گمراہانہ بتایا گیا ۔ اورنگ زیب ہی کے دور میں تعزیے اور ماتمی جلوس پر پابندی لگانے کی کوشش بھی ہوئی۔

شمالی ہند پر اورنگزیب عالمگیر کی حکومت کے زمانے میں وادئ کرم میں افغانستان سے طوری شیعہ قبائل کی آمد ہوئی جنکی تبلیغ کی وجہ سے بہت سے مقامی بنگش اور اورکزئی پختون شیعہ اسلام کی طرف مائل ہوئے۔ بہادری اور سوجھ بوجھ کے اعتبار سے پختون شیعہ وادئ سندھ کے شیعوں میں سب سے آگے رہے ہیں۔

 اورنگزیب کی وفات کے بعدشاہ ولی الله محدث دہلوی ؒنے  شیعہ سنی نفرتوں کو کم کرنے کی کوشش کی مگر ان کے بیٹے شاہ عبد العزیز  دہلوی نے  شیعہ اعتقادات کے خلاف "تحفۃ اثنا عشریۃ"  نامی کتاب لکھی ۔اس طرح شیعہ مخالف کتب لکھنے کے سلسلے کا آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔ اس کے جواب میں شیعہ علماء میں سے علامہ سید محمد قلی موسوی ؒنے "الأجناد الإثنا عشريۃ المحمديۃ"،   آیت الله میر سید حامد حسینؒ نے "عبقات الانوار فی امامۃ الائمۃ الاطہار" اور علامہ سید محمّد کمال دہلوی ؒنے" نزھۃ اثنا عشریۃ" کے عنوان سے کتابیں لکھیں [13] ۔ ان کتابوں کا جواب تو نہ بن پڑا البتہ  ریاست جھاجھڑ کے راجہ نے علامہ سید  محمّد کمال دہلویؒ کو  بطور طبیب علاج کروانے کے بہانے سے  بلوایا اور دھوکے سے زہر پلا  کر قتل کر دیا۔
تزک بابری میں [14]بابر نے اپنے ولی عہد ہمایوں کے لئے وصیت کی تھی کہ: ۔

٭ تم مذہبی تعصب کو اپنے دل میں ہرگز جگہ نہ دو اور لوگوں کے مذہبی جذبات اور مذہبی رسوم کا خیال رکھتے ہوئے اور رعایت کے بغیر سب لوگوں کے ساتھ پورا انصاف کرنا۔

٭ شیعہ سنی اختلافات کو ہمیشہ نظر انداز کرتے رہو، کیونکہ ان سے اسلام کمزور ہوجائے گا۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بابر سے لے کر شاہ جہاں تک مغلوں کا طرزِ حکومت کم و بیش اسی حکمت عملی کے محور پر رہا۔ جب اورنگ زیب نے اس حکمت عملی سے روگردانی کی تو نتیجہ شورش اور ٹوٹ پھوٹ کی شکل میں نکلا۔ اورنگ زیب کی وفات کے بعد مغلیہ اقتدار تیزی سے مٹتا چلا گیا۔

سلطنتِ اودھ[لکھو]

دہلی کی مغلیہ سلطنت کی شکست و ریخت کے دوران جو نیم آزاد اور خود مختار حکومتیں قائم ہوئیں ان میں سے ایک ریاست اودھ (1722ء تا 1857ء)بھی تھی۔ اودھ کی ریاست بھی سلطنت دہلی کی بالادستی تسلیم کرتی تھی اور اس کے کئی حکمران مغل بادشاہ کے عہدیدار تھے۔ آصف الدولہ کے زمانے (1775ء تا 1797ء) میں ایران و عراق سے اصولی شیعہ علماء کی آمد ہوئی جنہوں نے لکھنؤ میں علمی مرکز قائم کیا۔ آصف الدولہ کے وزیرِ اعظم حسن رضا خان نے نہ صرف شیعہ علماء کی خصوصی سرپرستی کی بلکہ عراق میں نجف اور کربلا کی دیکھ بھال کے لیے بھی اودھی خزانے سے لگ بھگ دس لاکھ روپے سالانہ بجھوائے جانے لگے جبکہ پانچ لاکھ کے صرفے سے دریائے فرات سے نہرِ ہندی نکلوائی گئی جس نے نجف تا کربلا کا علاقہ سرسبز کر دیا۔

1818ء سے 1821ء کے دوران سید احمد بریلوی نے شمالی ہندوستان میں مسلمانوں کے عقائد کی تبدیلی کی مہم چلائی، وہ لکھنؤ اور اودھ بھی گئے۔ وہ ان مہمات کے دوران مقامی صوفی مسلک کے اہلسنت اور اہل تشیع کے عقائد پر تندوتیز تنقید کیا کرتے تھے [15] [16] ، جس پر سلطنت اودھ کی حکومت نے کوئی روک نہ لگائی۔ چنانچہ لکھنؤ میں آیت الله سید دلدار علی نقوی ؒ[17] نے ان سے ایک مناظرہ بھی کیا۔ اس قسم کے بین المسالک مکالمے مسلمانوں کی تہذیبی زندگی کا خاصہ رہے ہیں۔ اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی میں انگریزوں کی حمایت نہ کرنے کی وجہ سے اس سلطنت کا خاتمہ ہو گیا[18]، اور اس کے ساتھ ہی لکھنؤ کے علمی مراکز زوال کا شکار ہوگئے۔

تالپور سلطنت[لکھو]

1783 ء میں سندھ میں بلوچ شیعہ سردار میر فتح علی شاہ تالپور نے تالپور سلطنت کوقائم کیا، جس نے مرہٹوں اور سکھوں کے خلاف کامیابی سے سندھ کا دفاع کیا۔ میر خاندان نے متعدد مساجد اور امام بارگاہیں قائم کیں ۔ یہ سلطنت 1843 ء میں انگریزوں کے ساتھ پے در پے جنگوں کے نتیجے میں ختم ہو گئی ۔ البتہ خیرپور کے میر علی مراد انگریزوں کے ساتھ معاہدہ کرنے کے نتیجے میں ایک چھوٹی سی ریاست بچانے میں کامیاب ہو گئے جس کو 1953 ء میں باقی ریاستوں کی طرح پاکستان میں ضم کر لیا گیا۔اس ریاست میں پختہ صوفی روایات کی وجہ سے شیعہ سنی تعلقات مثالی رہے۔ شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ اور سچل سرمست ؒنے عزاداری کیلئے مرثیے بھی لکھے۔


سکھ دور[لکھو]

پنجاب میں سکھوں کے پچاس سالہ دور میں تمام مسلمانوں بشمول شیعوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کی وجہ سے مجالس اور عزاداری کا سلسلہ بھی متاثر ہوا تھا البتہ وقت کے ساتھ ساتھ اس انتقام کی شدت میں کمی آتی گئی تھی جس کی ایک وجہ شیعوں کی جانب سے عزاداری پر پابندی کی کوشش کے خلاف مزاحمت تھی۔ اس زمانے میں پیر سید لال شاہ ؒنے پنجاب بھر میں عزاداری کی بقا کیلئے جدوجہد کی ۔ آگے چل کر لاہور کے فقیر خاندان اور جھنگ کے شاہ جیونہ خاندان نے حکومت میں اثر و رسوخ پیدا کر لیا۔


انگریز دور[لکھو]

انگریزوں کی طرف سے بنگال میں مغلوں کے شیعہ گورنر، سلطنت اودھ اور تالپور سلطنت کا خاتمہ شیعیت کیلئے بڑا دھچکا ثابت ہوا۔ علامہ سید محمد باقر دہلوی ؒسمیت متعدد شیعہ علماء 1857 ء کی جنگ آزادی میں کردار ادا کرنے کی وجہ سے توپوں کے آگے باندھ کر شہید کر دئیے گئے۔ 1849 ء میں سکھ سلطنت کے زوال میں پنجاب کے مسلمانوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا اور اس کے آٹھ سال بعد ہونے والی جنگ آزادی میں بھی پنجاب پر سکون رہا تھا۔ اس وجہ سے پنجاب میں مسلمانوں کو انگریز حکومت کی طرف سے نوازا گیا ۔ اس طرح پنجاب میں پہلی بار شیعوں کو حکومتی مداخلت سے نجات ملی اور انہوں نے آزادی سے اپنی رسومات بجا لانا شروع کیں۔پنجاب بھر میں متعدد امامبارگاہوں کا قیام عمل میں آیا۔ اس دوران افغانستان سے نواب علی رضا خان قزلباش نے لاہور کی طرف ہجرت کی اور موچی دروازہ لاہور میں علامہ سید ابو القاسم الحائری ؒکی زیر سرپرستی ایک شیعہ مدرسہ قائم کیا۔اسی دوران لاہور میں عزاداری کو عروج ملا۔ قزلباش خاندان نے پشاور میں بھی عزاداری کو فروغ دیا۔

انگریز دور میں شیعہ سنی کشیدگی زیادہ تر زبانی حد تک ہی رہی، نیز حکومت نے امن و امان کی غرض سے  غیر جانبداری کا رویہ اپنائےرکھا ۔ دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے مغربی تعلیم یافتہ سیاسی رہنماؤں نے بھی اس مسئلے کو اپنی سیاست اور انا کا محور بنانے سے گریز کیا۔ اس دور میں کانگریس اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاست دانوں، عام لوگوں اور بڑے علماء کی زیادہ توجہ انگریزی اقتدار کے خلاف بڑی لڑائی پر ہی مرکوز رہی۔ البتہ انگریز دور میں شمالی ہند میں متعصب مدرسہ دیوبند کا قیام عمل میں آیا جس نے شیعہ سنی اختلافات کی بنیاد پر  عام مسلمانوں میں کشیدگی  کا آغاز کیا ۔ پنجاب کے قصبے قادیان میں مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت ، مہدویت اور مسیح موعود ہونے کا دعوا کیا۔    وادی کرم کے شیعوں نے چالیس سال انگریزوں کے حملوں کے خلاف کامیاب مزاحمت کی البتہ 1893 ء    میں افغانستان کے شاہ امیر عبد الرحمن  کی شیعہ نسل کشی کی مہم کی وجہ سے  ہندوستان سے الحاق کر لیا اور کرم ملیشیا کا قیام عمل میں آیا۔ اسی دوران افغانستان کے کچھ ہزارہ شیعہ کوئٹہ آ گئے۔ انگریز دور میں ہی لکھنؤ میں فسادات ہوئے جن کے اثرات پورے ہندوستان میں پھیل گئے۔ 


تحریک پاکستان اور شیعہ[لکھو]

یوں تو تحریک پاکستان میں سبھی اہل تشیع نے حصہ لیا لیکن کچھ شخصیات ایسی ہیں جن کے بغیر پاکستان کی تاریخ نامکمل رہتی ہے۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح ؒجنہیں قائد اعظم اور بابائے قوم کے لقب سے نوازا گیا،25 دسمبر 1876ء کو وزیر مینشن، کراچی، سندھ کے اسماعیلی شیعہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بعد میں آپ نے اثنا عشری مکتب کو قبول کیا [19] [20][21] ۔

دوسری اہم ترین شخصیت اسماعیلی شیعوں کے رہنما سر آغا خان سوم کی ہے جو 1906ء سے 1912ء تک مسلم لیگ کے پہلے صدر رہے۔1906ء میں انہوں نے 35 نامور مسلمانوں کے ایک ممتاز وفد کی شملہ میں قیادت کی اور برصغیر کے مسلمانوں کی جانب سے ایک یادداشت پیش کی۔ اپنے تاریخی خطاب میں انہوں نے برطانوی وائسرائے پر زور دیا کہ مسلمانوں کو ایک جداگانہ قوم کے طور پر تسلیم کیا جائے اور ان کی تکریم کی جائے نیز انہیں لوکل باڈیز اور قانون ساز کونسل دونوں میں نمائندگی دی جائے۔ 1930ء اور1931ء میں گول میز کانفرنس میں مسلمانوں کی نمائندگی کی۔

تیسری اہم ترین شخصیت راجہ امیر حسن خان آف ریاست محمود آباد(جن کی آمدنی کا اندازہ ان دنوں ماہانہ 40لاکھ روپیہ تھا) کی ہے جن کی بھر پور مالی مدد سے آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی ۔ ان کی وفات کے بعد ان کے فرزند امیر احمد خان راجہ بنے اور مسلم لیگ کے کم عمر ترین ممبر بنے۔ سن 1937 ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ لکھنؤ اجلاس اوربعدکی رابطہ عوام مہم کا خرچہ راجہ صاحب نے اٹھایا۔ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی اور اس کے صدر رہے نیز اسی فیڈریشن کی کاوشوں کی بدولت 1946 ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی۔

مرزا ابوالحسن اصفہانی بھی تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما تھے۔ حبیب بینک والے سیٹھ محمد علی نے بھی متعدد موقعوں پر تحریک پاکستان کی مالی مدد کی۔ انہوں نے 1948 ء میں نو زائیدہ ریاست کے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے 80 ملین روپے کا چیک قائد اعظم کو دیا۔ پی آیٔ اے کی بنیاد رکھنے والے مرزا احمد اصفہانی؛ مسلم کمرشل بینک کے بانی سر آدم جی؛ راجہ غضنفر علی خان ؛ نواب فتح علی خان قزلباش؛ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی اور چودھری رحمت علی تک شیعہ رہنماؤں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے پاکستان کے قیام اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی طرح خواتین میں سے فاطمۂ جناح مادر ملتؒ، ملکۂ اوَدھ، صغریٰ بیگم،لیڈی نصرت ہارون اور لاہور کے سیکریٹریٹ کی عمارت پر پاکستان کا پرچم لہرانے والی شیر دل خاتون فا طمۂ صغریٰ قابل ذکر ہیں۔

پاکستان میں شیعہ کشی[لکھو]

وادئ سندھ میں دہشتگردی کا آغاز[لکھو]

پاکستان میں فرقہ واریت کی تاریخ پر صحیح طرح توجہ نہ دینے کی وجہ سے تجویز کیے جانے والے حل عملی نتائج دینے میں ناکام رہتے ہیں۔ وادئ سندھ میں قیام پاکستان سے پہلے ہی کئی طرح کی مذہبی ثقافتیں پائی جاتی تھیں۔ یہاں اکثریت مسلمانوں کی تھی جو اختلافات کے باوجود صدیوں سے ساتھ ساتھ رہ رہے تھے۔ عوام کو دہشت زدہ کر کے صرف ایک قسم کی مذہبی ثقافت میں ڈھالنے کی کوشش سب سے پہلے 1826ء میں سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی نے کی [22] ۔ ان دو حضرات کا کردار اس خطے کی مذہبی تاریخ میں بہت اہم ہے، جس کا اثر آج بھی بھارت کے صوبوں اترپردیش،اور ہریانہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پختون اور مہاجر اکثریت والے علاقوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پورے ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت قائم ہو چکی تھی مگر پنجاب اور پختون خواہ کے علاقوں میں سکھوں کا دور چل رہا تھا۔ سکھ مغل بادشاہوں کے دور میں زیادتیوں کا شکار رہے تھے اور اس وجہ سے وہ مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے تھے۔ سید احمد بریلوی حج کے دوران شیخ محمد بن عبدالوہاب کی تحریک توحید والعدل ،جو وہابیت کے نام سے معروف تھی، سے متاثر ہوئے اور حجاز کے سفر سے واپس آتے ہوئے شیخ محمد بن عبد الوہاب کی کتاب، کتاب التوحیدساتھ لیکر آئے[23] [24]۔ اس کتاب کا تصور خدا شیعی تصور خدا کے بالکل برعکس تھا[25] اور سوچ کے اس فرق نے ان حضرات کی تحریک کے شیعوں کے ساتھ تعلقات پر گہرا اثر ڈالا۔ مولانا محمد ابن عبد الوہاب کی کتاب التوحید کے مفاہیم کو ان حضرات نے اپنی کتابوں تقویۃ الایمان اور صراط مستقیم میں پیش کیا۔ ان کتابوں کو انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی نے شایع اور تقسیم کرنے میں مدد دی نیز انگریزوں نے مسلمانوں میں پائی جانے والی محرومیوں کو سکھوں کے خلاف استعمال کر نے کے لیے سید احمد بریلوی اورشاہ اسماعیل دہلوی کو اپنے زیر انتظام علاقوں میں لشکر سازی کی مکمل آزادی دی [26] [27] [28] ۔ متعدد حنفی اہلسنت علماء نے سید احمد اور شاہ اسماعیل دھلوی کے انحراف کے خلاف کتب تحریر کیں جن میں مولانا فضل حق خیر آبادی،مولانا عبدالمجید بدایونی،فضل رسول بدایونی، مفتی صدر الدین آزردہ، مولانا محمد موسیٰ اورابوالخیر سعید مجددی نمایاں تھے ۔

دار العلوم دیوبند کا قیام اور ذہن سازی[لکھو]

1831 ء میں سید احمد بریلوی اور ان کے ساتھیوں کی طالبانی  حکومت سے اکتائے ہوئے مسلمانوں اور سکھوں کے اشتراک عمل کے نتیجے میں بالاکوٹ کے مقام پر ان کے قتل کے بعد ان حضرات کی تحریک کا دوبارہ ظہور 30 مئی 1867ء میں دار العلوم دیوبند کے قیام کی شکل میں ہوا۔ دیوبندی مکتب فکر میں شاہ اسماعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی کے خیالات کو اپنانے اور ان کی طرفداری کرنے کا رجحان اس کی تشکیل کے ابتدائی دنوں سے موجود تھا۔ ان  کے نظریات کے ساتھ وابستگی دار العلوم دیوبند کے بانیوں کی تحریروں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ دیوبندی مسلک   فقہ کے اعتبار سے حنفی اور عقائد اور طرز عمل کے اعتبار سے وہابی ہے۔اگرچہ یہ تحریک بھی شرک کے سخت گیر مفہوم کی پرچارک اور صوفی سنی اور شیعوں کے خلاف تھی، لیکن عوام میں مقبولیت پانے کے لیے علما ئے دیوبند کے لیے کرامات کی  خصوصی گنجائش رکھی گئی تھی۔ مثال کے طور پر مولانا قاسم نانوتوی کی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ انہیں خواب آیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی گود میں بیٹھے ہیں [29] ۔  ایک اور خواب کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا جسم مبارک مولانا قاسم نانوتوی کے جسم میں سما گیا[30] ۔ مولانا عطاء اللہ بخاری کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جب قرآن پڑھتے تھے تو پرندے اور جانور رک جاتے تھے۔ مولانا احمد علی لاہوری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چیزوں کو دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ ان کو حلال مال سے خریدا گیا ہے یا حرام مال سے، اسی طرح لوگوں کو دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ یہ جنتی ہے یا جہنمی؟[31] یہاں تک کہ لال مسجد کے مولانا عبد العزیز نے مسلح افراد کو اعتماد میں لینے کے لیے کہا تھا کہ مجھے رسول اللہ ؐنے خواب میں آ کر بشارت دی ہے کہ میرے شہید ہونے کے بعد پاکستان میں میرے خون کی برکت سے اسلامی انقلاب آ جائے گا۔ بہت سے حضرات یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مولانا عبد العزیز لوگوں کو رسول ؐکی زیارت کرواتے ہیں۔  دیوبندی علماء اکثر  اس قسم کے خواب سنا کر کام نکالتے رہے ہیں ۔گویا اس تحریک میں ایک طرح کا کرامات کا سلسلہ بھی رہا ہے مگر ان  جعلی معجزات  کی نشر و اشاعت کا مقصد صوفیا کے مسلک کی طرف مائل کرنا نہیں تھا۔ اس کا مقصد دیوبندی علماء  کو  عوام کے عقائد کا حصہ بنانا تھا تاکہ ان کے اذہان کو ماؤف کر کے   گروہی مفادات کیلئے استعمال کیا جا سکے ۔ جب اللہ تعالیٰ اور رسول  اکرمؐ سے خوابوں میں قریبی رابطوں کے قصے سنانے کے بعد خودکش جیکٹ پہنائی جاتی ہے تو دہشتگرد کو جنت میں جانے کے وعدے سچے معلوم ہوتے ہیں۔

شیعہ ثقافت پر حملوں کا آغاز[لکھو]

بانی دار العلوم دیوبند مولانا رشیداحمد  گنگوہی نے فتویٰ دیا کہ :۔

"محرم میں ذکر شہادت حسینؑ کرنا اگر چہ بروایات صحیح ہو یا سبیل لگانا ،شربت پلانا چندہ سبیل اور شربت میں دینا یا دودھ پلانا سب ناجائز اور حرام ہے" [32] ۔


اسی دوران مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے بھی عزاداری پر شرک کا فتویٰ لگایا اور شیعوں کو اسلام کے آنگن میں پڑا پاخانہ قرار دیا [33][34] ۔ علامہ سید ابو القاسم الحائریؒ کے فرزند آیت الله سید علی الحائریؒ نے "وسیلۃ المبتلا"،"تبصرۃ العقلا"، "مہدی موعود" اور "مسیح موعود" کے عنوان سے مختصر اردو کتابچے اور ایک چار جلدوں پر مشتمل فارسی کتاب "غایۃ المقصود" لکھ کر مرزا غلام احمد قادیانی کو جواب دیا۔ دوسری طرف شیعہ علماء نے متعصب مولویوں کے ساتھ متعدد مناظرے کئے جس کے نتیجے میں شیعہ مکتب فکر کو اپنا پیغام لوگوں تک پہنچا نے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کا موقعہ ملا اور اس طرح شمالی ہند میں شیعیت کو مزید فروغ حاصل ہوا۔ اس سلسلے میں علامہ سید محمد باقر چکڑالویؒ کا نام خصوصی طور پر قابل ذکر ہے۔


عزاداری پر سب سے پہلا حملہ مولانا قاسم نانوتوی کی قیادت میں دار العلوم دیوبند کے طلبہ نے کیا۔ دیوبند قصبے کے رہائشی اہل سنت محرم میں کربلا کا ذکر کیا کرتے تھے۔ مولانا قاسم نانوتوی نے طلبہ کا جتھہ بنا کر دیوبند کے رہائشی اہل سنت کو دہشت زدہ کیا اور کربلا کی یاد منانے سے روک دیا [35] ۔ دیوبند مکتب کی اس سوچ کاپہلا نتیجہ افغانستان کے شاہ امیر عبد الرحمن کی طرف سے 1891ء سے 1893ء تک کی جانے والی ہزارہ قبائل کی نسل کشی اور انکی جائداد کی پشتونوں میں تقسیم اورانکو غلام اورلونڈیاں بناکر فروخت کرنے کا عمل تھا جس کے نتیجے میں افغانستان کے ہزارہ قبیلے کی آبادی میں 60فیصد تک کمی آ گئی [36] ۔ امیر عبد الرحمن خان نے اپنی حکومت کا نظام چلانے کے لیے ہندوستان سے دیوبندی علماء منگوائے تھے جنہوں نے شیعوں کے کافر ہونے اور ان کی جان و مال کے حلال ہونے کا فتویٰ دیا۔ یہ جدید انسانی تاریخ کی پہلی نسل کشی تھی جس کے نتیجے میں پانچ لاکھ انسان لقمۂ اجل بنے۔ اسی دوران میں کچھ ہزارہ خاندان ہجرت کر کے کوئٹہ میں آ گئے ۔ وادئ کرم کے شیعہ قبائل افغان شاہ کی ایسی فرقہ وارانہ کاروائیوں کی وجہ سے الگ ہو کر ہندوستان سے ملحق ہو گئے اور یوں فاٹا کی پہلی ایجنسی قائم ہوئی ۔ ان علماء نے پختون قبائل میں دیوبندیت کو فروغ دیا جس کے بطن سے ہمارے زمانے میں طالبان کا جنم ہوا ۔

لکھنؤ میں اشتعال انگیزی[لکھو]

1906 ء میں لکھنؤ کے عزاداری کے جلوسوں مقابلے میں دیوبندی علماء کی طرف سے مدح صحابہ کے نام سے جلوس نکالنے کا سلسلہ شروع کیا گیا[37]۔ ان جلوسوں کو نکالا تو صحابہ کے نام پر جاتا لیکن ان میں کربلا کے واقعے پر گفتگو اور نعرے بازی ہوا کرتی جس میں یزید اور دیگر بنی امیہ وکالت کی جاتی۔ عاشورا کے دن یہ سب کرنے سے شیعوں میں اشتعال پھیل گیا۔ انگریزحکومت نے فرقہ وارانہ فساد کے خطرے کے پیش نظر اس فتنے پر پابندی لگا دی۔ لکھنؤ کونشانہ بنانے کا مقصد یہ تھا کہ یہ شہر اس وقت ہندوستان میں شیعوں کا ثقافتی مرکز تھا۔ لکھنؤ میں اس اشتعال کے بعد فرقہ وارانہ لٹریچر چھپنے لگا، جو لکھنؤ تک محدود نہ رہا بلکہ وادئ سندھ میں بھی آیا۔

1920ء میں دیوبندی عالم  مرزا حیرت دہلوی نے "کتاب شہادت" کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جس میں حضرات علی و حسنین کی شان میں گستاخی اور ملوکیت بنی امیہ کی وکالت کی گئی تھی[38] ۔ لکھنؤ شہر میں تو انگریز حکومت کے حسن انتظام  نے قتل و غارت تک نوبت نہیں آنے دی، لیکن پنجاب اور پختون خواہ کے بعض علاقوں میں محرم کے جلوسوں پر حملے ہوئے۔

1929 ء میں افغانستان کے بادشاہ امان الله خان کے خلاف بغاوت ہوئی جس کے نتیجے میں حبیب الله کلکانی ، جو اپنے لقب "بچہ سقہ" سے مشہور تھا، نے کابل پر اپنی حکومت قائم کر لی۔افغانستان میں اس عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پختون دیوبندی قبائل نے منظم ہو کر وادی کرم پر حملہ اور قتل عام کیا۔ بچہ سقہ کی حکومت نو ماہ بعد ظاہر شاہ کے والد نادر شاہ کے حملے کے نتیجے میں ختم ہو گئی۔

1931ء میں دیوبندی عالم مولانا عبد الشکور لکھنؤی نے لکھنؤ میں ایک دیوبندی مدرسہ قائم کیا اور  دوبارہ مدح "صحابہ" کے   سلسلے  کا آغاز کر دیا۔ اس اشتعال انگیزی کا نتیجہ اس وقت سامنے آیا جب 1938 ء میں اس جلوس کے   رد عمل کے طور پر لکھنؤ کے شیعہ حضرات نے  بنی امیہ  پر تبرے کے جلوس نکالنے شروع کر دیے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کی آزادی کے تاریخی لمحات قریب آ چکے تھے اور یہاں مسلمان آپس میں لڑپڑے تھے۔  اکتوبر 1939 ءکومولانا ابو الکلام آزاد ؒکلکتہ سے لکھنؤ تشریف لائے اور سات دن تک مختلف شیعہ سنی رہنماوں سے ملاقاتیں کیں۔ اس کوشش  کا نتیجہ یہ ہوا کہ شیعہ  علماء نے تبرے کے جلوس نکالنا بند کر دیے[39] ۔ البتہ مولانا عبد الشکور لکھنؤی  پھر بھی صحابہ کے نام پر فتنہ انگیزی سے باز نہیں آ ئے اور نتیجتا حکومت کو اس سلسلے پر پابندی لگانا پڑی۔ مولانا عبد الشکور تو  1942ءمیں سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو  گئے [40]، البتہ ان کے شاگرد فتنہ پھیلاتے رہے ۔

تحریک پاکستان اور فرقہ وارانہ منصوبے[لکھو]

جنگ عظیم دوم کی وجہ سے کمزور ہونے والے انگریزوں کے ہندوستان سے جانے اور مسلم لیگ کی تحریک کے نتیجے میں ہندوستان کے شمال مغرب میں ایک مسلمان ریاست کے ممکنہ قیام کی آہٹ پا کر علما ئے دیوبند میں سے کچھ نے اس وجہ سے قیام پاکستان کی مخالفت کی کہ اس تحریک کو چلانے والے محمد علی جناح ؒاور اخراجات برداشت کرنے والے راجہ صاحب محمود آباد شیعہ تھے[19] [21] [41] [42] [43] [44] ۔ چنانچہ مولانا عطا اللہ بخاری نے جہاں مولانا آزاد ؒکے سیاسی موقف کو نقل کیا وہاں گاہے بگاہے اپنی مخالفت کی اصلی وجہ بھی بیان کی۔ مولانا صاحب کے الفاظ میں ، "محمد علی، غضنفر علی اور دوسرے علی نام والے لوگ نیا ملک اس لیے نہیں بنا رہے کہ اس کو ہمارے حوالے کر دیں"۔

البتہ کچھ دیگر دیوبندی علماء نے قیام پاکستان کو ناگزیر سمجھتے ہوئے وادئ سندھ کی طرف ہجرت شروع کی اور دوبارہ سے سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی یک ثقافتی ریاست کے قیام کی کوششیں شروع کر دیں۔ 26 اگست 1941ء کو لاہور میں جماعت اسلامی کا قیام عمل میں آیا [45] ۔ مولانا مودودیؒ اگرچہ روایتی فرقہ پرست عالم نہیں تھے مگر اپنی جماعت اسلامی کے پیغام کو قبول نہ کرنے والوں کو نام نہاد مسلمان سمجھتے تھے۔ اس طرح جماعت اسلامی بھی ایک قسم کا فرقہ بن گئی۔ البتہ جماعت اسلامی محدود تعداد مگر منظم ارکان کا حامل فرقہ ہے، جس کو انگریزی زبان میں کلٹ[46] کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ 1944ء میں لاہور کے نواحی قصبے امرتسر میں تنظیم اہل سنت کے نام سے ایک شیعہ مخالف دیوبندی جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا۔

قائد اعظم ؒکے معروف سیاسی وار ، " راست اقدام "، کے بعد قیام پاکستان کو یقینی پا کر 26اکتوبر 1946ءکو مولانا شبیر احمد عثمانی نے جمعیت علمائے اسلام قائم کی جو مسلم لیگ کے متوازی سیاسی جماعت تھی۔ یوں ایک سرد جنگ شروع ہو گئی کیونکہ دیوبندی علماء قائد اعظم ؒکے جدید نظریات پر مبنی تصورپاکستان کو غلط سمجھتے تھے[47]۔جب قائد اعظمؒ نے 11 اگست 1947ء کی تقریر میں ریاست کی نظر میں سب شہریوں کوبلا تفریق مذہب مساوی قرار دیا تو 1 ستمبر 1947ء کو مولانا شبیر احمد عثمانی نے اخبارات میں ایک بیان جاری کیا جس کا ایک ایک لفظ قائد اعظم ؒکی اس تقریر کی مخالفت پر مبنی تھا[48]۔پاکستان کے قیام سے پہلے ہی دیوبندی علماء نے شیعوں کی نماز جنازہ پڑھنے کو حرام قرار دے رکھا تھا اور مولانا شبیر احمد عثمانی بھی شیعوں کے لیے یہی سوچ رکھتے تھے[40]۔ لہٰذا قائد اعظم ؒکی پہلی نماز جنازہ گورنر ہاؤس میں ان کے اپنے مسلک کے مطابق پڑھی گئی[41] مگر جب عوام میں نماز جنازہ پڑھانے کی باری آئ تو حکومت نے مولانا شبیر احمد عثمانی سے پڑھوائی [43]۔ جب ان سے کسی شاگردنے سوال کیا کہ آپ نے قائد اعظمؒ کی نماز جنازہ کیوں پڑھائی تو انہوں نے فرقہ وارانہ تعصب سے توبہ کرنے کی بجائے ایک خواب سنا کر سوال کو ٹال دیا[49]۔ دوسری طرف تکفیری علماء مولانا نور الحسن بخاری، مولانا دوست محمد قریشی، مولانا عبد الستارتونسوی دیوبندی وغیرہ نے پاکستان بھر میں شیعہ مخالف جلسے کیے اور لوگوں کو فسادات کے لیے اکسایا [50] ۔ لہٰذا قیام پاکستان سے بعد ہی شیعوں پر حملے شروع ہو گئے۔

1948 ء میں روزنامہ "احسان" نے اپنے اداریے میں شیعوں کے عقائد اور ثقافت پر تنقید کی اور ان کو تلقین کی کہ انگریز دور کو بھول کر نئے ملک میں "مسلمانوں "کی طرح رہنا سیکھیں۔ اس اخبار کو سرکاری اداروں میں بھی منگوایا جاتا تھا، چنانچہ اس اداریے کے خلاف شیعوں نے ملک گیر احتجاج کیا جس کے نتیجے میں حکومت نے نفرت پھیلانے کے جرم میں اخبار پر تین ہزار روپیہ جرمانہ عائد کیا۔ 1949ء میں چوٹی زیریں اور 1950ء میں نارووال میں عزاداری پر حملے ہوئے۔ 1951ء میں پنجاب اسمبلی کے الیکشن میں شیعہ امیدواروں کے خلاف فرقہ وارانہ بنیادوں پر مہم چلائی گئی اور انھیں کافر قرار دیا گیا[39]۔ ستم ظریفی یہ کہ 24جنوری 1951ء میں کراچی میں دیوبندی علماء نے پاکستان میں اسلام کے نفاذ کے لیے 22 نکات ترتیب دیے [51] اور اس جلسے میں عوام کو دھوکہ دینے کیلئے شیعہ علماء کو بھی شامل کیا گیا ، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی بتا رہے تھے۔ 1953 ء میں قادیانیوں کے خلاف چلنے والی مہم میں بھی شیعہ علماء شامل کئے گئے۔ دو سالوں کے لیے دیوبندی علماء کی توجہ ختم نبوت کے معاملے پر مرکوز رہنے کی وجہ سے شیعوں پر کوئی حملہ نہ ہوا۔ شیعہ مخالف حملوں کا دوبارہ آغاز 1955ء میں ہوا جب پنجاب میں پچیس مقامات پر عزاداری کے جلوسوں اور امام بارگاہوں پر حملے کیے گئے جن میں سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے۔ اسی سال کراچی میں ایک مولانا صاحب نے افواہ اڑائ کہ شیعہ ہر سال ایک سنی بچہ ذبح کر کے نیاز پکاتے ہیں، اس افواہ کے زیر اثر کراچی میں ایک بلتی امامبارگاہ پر حملہ ہوا اور بارہ افراد شدید زخمی ہو گئے[39]۔


پاکستان کے ابتدائی سالوں میں شیعہ کشی[لکھو]

پاکستان میں شیعہ کشی کی پہلی واردات1950 ء  میں وادی کرم پر دیوبندی قبائل کے حملے کی صورت میں ہوئی، جو 1948 ء  میں  جہاد کشمیر کے نام پر اسلحہ اور مال غنیمت سمیٹ کر طاقتور ہو گئے تھے۔ 1956 ء  میں وادی کرم دوبارہ حملوں کا نشانہ بنی۔  1957ء میں  ملتان کے ضلع مظفر گڑھ کے گاؤں سیت پور میں  محرم کے جلوس پر حملہ کر کے تین عزاداروں کو قتل کر دیا گیا۔ حکومت کی طرف سے عدالتی کمیشن  قائم کیا گیا اور اس واردات میں ملوث پانچ دہشت گردوں کو سزائے موت دی گئی۔ اسی سال احمد پور شرقی میں عزاداری کے جلوس پر پتھراؤ کے نتیجے میں ایک شخص جان بحق اور تین شدید زخمی ہوئے۔ جون 1958ء میں بھکر میں  ایک شیعہ خطیب آغا محسن ؒکو  قتل کر دیا گیا۔ قاتل نے اعترافی بیان میں  کہا کہ مولانا نور الحسن بخاری کی تقریر  نے اس کو اس جرم پر اکسایا تھا جس میں شیعوں کو قتل کرنے  والے کو غازی علم دین شہید سے نسبت دی گئی تھی اور جنت کی بشارت دی گئی تھی[39]۔ مولانا نور الحسن بخاری کو حکومت یا عوام کی طرف سے کوئی سزا نہ ملی، جس سے تکفیری علماء کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ جوں جوں پاکستان میں نفاذ  اسلام کی تحریک زور پکڑتی گئی، معاشرے کو دیوبندی قسم کے مذہبی سانچے میں ڈھالنے کے عمل میں اضافہ ہوتا گیا۔ عجیب بات یہ تھی کہ شیعہ علماء  کوبھی نفاذ اسلام کی  تحریکوں میں شامل کیا جاتا رہا تاکہ عوام کو دھوکہ دیا جا سکے۔ البتہ یہ تحریکیں  انہی تضادات کی وجہ سے عوام کواپنی طرف متوجہ  کرنے  میں ناکام رہیں اور آج تک ناکام ہیں۔

پاکستان کی ابتدائی تاریخ میں 1963ء کا سال سب سے زیادہ خونریز ثابت ہوا۔ اسی سال جنرل ایوب نے علماء کے احتجاج کے دباؤ میں آ کر پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا۔ 3 جون 1963ء کو بھاٹی دروازہ لاہور میں عزاداری کے جلوس پر پتھروں اور چاقوؤں سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں دو عزادار قتل اور سو کے قریب زخمی ہوئے [52] ۔ نارووال، چنیوٹ اور کوئٹہ میں بھی عزاداروں پر حملے ہوئے ۔ اس سال دہشت گردی کی بدترین واردات سندھ کے ضلعے خیر پور کے گاؤں ٹھیری میں پیش آئ جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 120 عزاداروں کو کلہاڑیوں اور تلواروں کی مدد سے ذبح کیا گیا [53][54] ۔ متعدد زخمیوں نے خود کو مردہ ظاہر کر کے جان بچائی۔ یہ لوگ ایک چھوٹے سے امام بارگاہ میں یوم عاشور کی مناسبت سے ماتم اور گریہ و زاری کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جھنگ، کراچی، لاہور، چکوال، ڈیرہ غازی خان، ملتان، شیخوپورہ، پاراچنار اور گلگت میں عزاداروں پر حملے ہوئے۔

بات صرف قتل و غارت تک محدود  نہیں تھی، فرقہ وارانہ لٹریچر کا تنور بھی دہک رہا تھا جس میں اکثر شیعوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا۔ مرزا حیرت دہلوی  اور  عبد الشکور لکھنؤی  کی کتابیں کم تھیں کہ  محمود احمد عباسی [55] اور ابو یزید بٹ[56] کی کتابوں نے اشتعال انگیزی کے سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔  بعد میں علامہ احسان الہی ظہیر نے جلتی پر مزید تیل چھڑکا[57] ان لوگوں کی گندی زبان کا رد عمل  قیام پاکستان کے تقریباً تیس سال بعد  اس صورت میں آیا جب پنجاب کے ایک دیہاتی شیعہ مولوی غلام حسین نجفی نے  مخصوص صحابہ کے بارے میں بھی ایسی ہی زبان استعمال کی[58][59]۔

قیام پاکستان سے ہی یہ تاثر عام تھا کہ دیوبندی علماء قادیانیوں کے بعد شیعوں کے خلاف مہم چلائیں گے۔1965ء سے 1977ءتک کے سالوں میں شیعہ کشی کی مہم دیوبندی علماء کے پیپلز پارٹی کے سوشلزم کی مخالفت، بنگلہ دیش کی تحریک خود ارادیت کو کچلنے کیلئے البدر اور الشمس نام کی دہشتگرد تنظیمیں بنانے، اور بعد میں ختم نبوت کی تحریک جیسے مسائل میں الجھ جانے کی وجہ سے ماند پڑ گئی۔ 1974ء میں جب قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ زیر بحث آیا تو مرزا ناصر صاحب کی طرف سے شیعہ عقائد پر بھی سوال اٹھایا گیا۔ شیعہ ایم این اے سید عبّاس حسین گردیزی نے اپنے مکتب فکر کے علماء سے رابطہ کر کے 2 ستمبر 1974ء کو دس صفحات پر مشتمل وضاحتی بیان داخل کرایا [60] ۔

جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے، شیعہ کشی اور دیوبندی اسلام کے نفاذ کی کوششوں میں راست تناسب ہے۔ چنانچہ جب جولائی 1977ء میں جماعت اسلامی کی فکر سے متاثر جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا تو اگلے محرم، فروری 1978ء میں لاہور میں 8 جبکہ کراچی میں 14 شیعہ قتل ہوئے [61] ۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ نہ صرف 1971ء کے انتخابات میں شیعہ علماء نے جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام کا ساتھ دیا تھا بلکہ پی این اے کی تحریک میں بھی اپنا وزن نفاذ اسلام کا دم بھرنے والی جماعتوں کے پلڑے میں ڈالا تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت میں سرکاری سکولوں میں شیعہ بچوں کے لیے منظور کی جانے والی شیعہ دینیات کے مضمون پر پابندی لگا دی۔

افغانستان میں عدم استحکام[لکھو]

افغانستان نے 1973 ء میں پشتونستان کے نام پر پاکستان کے پختونون کو استعمال کر کے ملک توڑنے کی سازش بنائی جس کے جواب میں پاکستان نے افغان حکومت کے مخالف اخوان کو مدد دینا شروع کی تھی۔ اس طرح احمد شاہ مسعود اور دیگر افغان مجاہدین کے ساتھ پاکستانی حکومت کے تعلقات 1974 ء میں ہی استوار ہو گئے۔ پاکستان کے پختونوں نے انگریزوں کے دور میں ہی وادئ سندھ کو سنگلاخ افغانستان پر ترجیح دی تھی اور پنجاب ،سندھ اور بلوچستان کے ساتھ اپنے معاشی اور تاریخی تعلق کی وجہ سے ہی قیام پاکستان کے بعد ہونے والے ریفرنڈم میں پاکستان سے الحاق کیا تھا۔پاکستان کے پختون عوام نے افغانستان کے دھوکے میں آنے سے انکار کر دیا ۔جمعہ خان نے اپنی کتاب "فریب ناتمام" میں ان سب واقعات اور افغانستان کی پسماندگی کی تفصیل لکھی ہے۔

پاکستان میں دیوبندی دہشت گردی کے واقعات میں شدت اس وقت آئ جب27 اپریل 1978ء کو افغانستان میں انقلاب ثور آیا[62] اور اس سے اگلے سال افغانستان کی کمیونسٹ حکومت نے روس کو مداخلت کی دعوت دی۔ اس اقدام کے نتیجے میں افغانستان غیر مستحکم ہو گیا۔ جب کوئی ریاست ٹوٹتی ہے تو وہ ڈاکووں اور دہشت گردوں کے لیے جنت بن جاتی ہے۔ افغانستان میں کمیونزم کا راستہ روکنے کیلئے امریکا کی دولت اور سرپرستی میں پاکستان نے افغان مجاہدین کو ٹریننگ، اسلحہ اور پناہ فراہم کرنا شروع کی۔ پختون قبائل میں پہلے ہی امیر عبد الرحمن خان کے زمانے سے شیعہ اور بریلوی مخالف جذبات پائے جاتے تھے۔ اگلے سال فروری 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب آیا جس نے شیعہ مسلک کو اسلام کے انقلابی چہرے کے طور پر متعارف کرایا۔ اس انقلاب نے بہت سے دیوبندی علماء کو حسد اور احساس کمتری میں مبتلا کر دیا ۔

پاکستان میں شیعہ ثقافت کو ختم کرنے کی خواہش رکھنے والی تنظیم اہل سنت اب سپاہ صحابہ کی شکل میں زیادہ متحرک ہو گئی۔ گزشتہ سو سال میں اردو زبان میں لکھا گیا نفرت انگیز لٹریچر کافی مقدار میں پھیل چکا تھا۔ تحریر و تقریر کے ذریعے شیعہ مسلک کو کافر قرار دینے کی مہم اب جہاد افغانستان کے ضمن میں ملنے والے فنڈز کی بدولت زیادہ تیز ہو گئی اور اس کے ساتھ ساتھ شیعہ کشی بھی بڑھنے لگی۔ پاکستان کے کونے کونے میں دیوبندی مدارس کھلنے لگے۔ ایک اندازے کے مطابق آج کل ان مدارس میں طلبہ کی تعداد پندرہ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی زمانے میں پاکستان کے در و دیوار پر کافر کافر شیعہ کافر کے نعرے درج ہو گئے۔

    ضیاء کے زمانے میں کوئٹہ، پاراچنار اور گلگت  میں شیعوں پر بڑے    حملے ہوئے۔       1981 ء  میں کرم ایجنسی کے سارے  دیوبندی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر  پاراچنار کے راستے پر موجود قصبہ "صده "میں شیعہ آبادی پر ہلہ بول دیا  اور فلسطین  پر  اسرائیلی قبضے کی طرز پر   شیعوں کو مکمل طور پر بے دخل کر دیا جو آج تک آباد نہیں ہو سکے۔ کیونکہ اس وقت تک انگریز وں کے زمانے  میں تشکیل دی گئی  کرم ملیشیا وادی کرم میں موجودتھی  لہذا جنگ صده تک ہی محدود رہی اور ایجنسی کے دیگر علاقوں تک پھیلنے  نہ دی گئی۔5 جولائی 1985ء کو کوئٹہ میں سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے اپنے دو پولیس والے سہولت کاروں کے ہمراہ  پولیس کی وردیاں پہن کر  شیعوں کے احتجاجی جلوس پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 25 شیعہ قتل ہو ئے۔ البتہ چونکہ یہ دو بدو مقابلے کی کوشش تھی، لہذا  11 دہشتگرد جوابی کاروائی میں ہلاک ہو گئے۔       پولیس کے ریکارڈ کے مطابق  ہلاک شدگان میں سے دو کی شناخت پولیس اہلکاروں کے طور پر ہوئی ، باقی 9 جعلی وردیاں پہن کر آ ئے تھے ۔   24 جولائی 1987 ء کوپاراچنار میں شیعہ آبادیوں پر  افغان مجاہدین کا حملہ شیعوں کی بھرپور تیاری کی وجہ سے ناکام ہو گیا۔    اسی کی دہائی میں پاکستان بھر میں  پانچ  سو کے لگ بھگ شیعہ قتل ہوئے، جن میں سے 400کے قریب لوگ  1988ءمیں گلگت کی  غیر مسلح شیعہ آبادیوں پر حملے کے نتیجے میں قتل ہوئے [63]۔

ضیاء دور میں ہی بریلوی مسلک کی مساجد پر قبضوں کی مہم کا آغاز ہوا۔اسی دور میں سرکاری ملازمتیں متعصب افراد کے سپرد کی گئیں۔ نصاب تعلیم میں شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ اور قاضی نور الله شوستری ؒکے بجا ئے شیخ احمد سرہندی اور سید احمد بریلوی کی سوچ شامل کی گئی۔سکولوں میں اسلامیات کے تکفیری اساتذہ بچوں کا ذہن خراب کرنے لگے، اس ذہن سازی نےآگے چل کر طالبان کو مدارس کے علاوہ سرکاری تعلیمی اداروں سے بھی افراد قوت فراہم کی۔

ضیاء دور میں بھٹو دور کے منظور کیے گئے ختم نبوت کے قانون کو مزید شرح اور شدت کے ساتھ آئین کا حصہ بنا دیا گیا۔ اسی طرح توہین مذہب کے قانون میں وقت کے ساتھ ساتھ شدت آتی گئی جس کے نتیجے میں پاکستانی حکومت پر عالمی اداروں کا دباؤ بڑھنے لگا۔ اس دباؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیعوں کو کافر قرار دینے کا قانون منظور نہ ہو سکا۔ نہ صرف یہ بلکہ شیعہ ملکی آبادی کا پندرہ فیصد ہیں اور ان کے خلاف ایسا قانون منظور کرنا معاشرے میں خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسا قانون منظور نہ ہو سکنے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے اکثر اہل سنت شیعوں کو مسلمان بھائی سمجھتے ہیں۔

یہ سب آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا تھا، اگر روس کے افغانستان سے نکلنے کے بعد تمام تنظیموں کو غیر مسلح کیا جاتا۔ لیکن شومئی قسمت، جس وقت روس افغانستان سے نکلا اسی وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے تنگ عوام نے احتجاجی مظاہروں کا آغاز کر دیا۔ پاکستان کی انتظامیہ نے افغان جہاد کے بچے ہوئے جہادیوں کو کشمیر میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن ان جہادیوں نے کشمیر جا کر مقامی آبادی کوبدعتی سمجھا، مزارات پر حملے کیے اور بریلوی اور شیعہ کشمیریوں کے گھروں میں لوٹ مار کی۔ بعد ازاں کشمیر جہاد وہاں کی مقامی آبادی کے جہادیوں سے خوفزدہ ہو جانے کی وجہ سے ناکام ہو گیا۔

نوے کی دہائی میں سپاہ صحابہ نے شیعوں پر کئی خونریز حملے کیے [64] ۔ ادھر افغانستان میں روس کے جانے کے بعد مجاہدین کے گروہ اقتدار کی خاطر آپس میں لڑتے رہے یہاں تک کہ پاکستانی حمایت یافتہ تحریک طالبان افغانستان نے مجاہدین کے باقی گروہوں کو ملک کے شمالی علاقوں تک محدود کر دیا۔ امیر عبد الرحمن خان کے بعد افغان طالبان کی حکومت میں دیوبندی علماء کو شیعہ ہزارہ کے قتل عام کا موقعہ ملا ، چنانچہ بامیان اور مزار شریف میں بچوں کو بھی نہ بخشا گیا۔

افغان طالبان نے پاکستان میں دیوبندی انقلاب لانے کی غرض سے دیوبندی تنظیموں کے کارکنان کو فراخدلی سے پناہ اور ٹریننگ فراہم کی۔ پاکستان میں شیعہ قتل کر کے یہ لوگ افغانستان بھاگ جاتے۔ ملک کے کئی نامور ڈاکٹر، انجنیئر اور قانون دان محض شیعہ ہونے کی وجہ سے قتل کر دیے گئے۔ انکی عورتیں بیوہ، والدین بے سہارا اور بچے یتیم ہو گئے۔ افغانستان اور کشمیر میں نام نہاد جہاد کی بدولت تکفیری عفریت کے ہاتھوں میں پتھروں اور چاقوؤں کی جگہ دستی بم اور کلاشنکوف آ گئے تھے۔ اسی کی دہائی میں مولانا نور الحسن بخاری کی وفات کے بعد شیعہ کشی کی سرپرستی کا بیڑا اٹھانے والے مولانا حق نواز جھنگوی اور ان کے پیشرو مولانا ایثار القاسمی کو جھنگ میں سیاسی خطرہ بننے کے باعث شیخ اقبال ایم این اے نے قتل کرا دیا، جو خود بعد میں سپاہ صحابہ کی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنے[65] ۔

1993ء میں لاہور میں سپاہ محمد کے نام سے ایک شیعہ دہشت گرد تنظیم کا قیام ہوا جس نے سپاہ صحابہ کے حملوں کے جواب میں دیوبندی حضرات پر حملے کرنا شروع کیے۔ چنانچہ اگر کسی شیعہ مسجد پر حملہ ہوتا تو کچھ ہی دنوں میں کسی دیوبندی مسجد میں بے گناہ لوگ قتل کیے جاتے۔ حکومت نے صورت حال خطرناک ہوتے دیکھ کر دونوں تنظیموں کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہا تو مولانا ضیاء الرحمن فاروقی نے سپاہ صحابہ کے عسکری حصے کو لشکر جھنگوی کا نام دے کر لا تعلقی کا اعلان کر دیا، اگرچہ لشکر جھنگوی کے کارکنوں کی گرفتاری کی صورت میں سپاہ صحابہ ہی قانونی اور دیگر امداد مہیا کرتی۔ لشکر جھنگوی کے بانی مولانا ضیاء الرحمن فاروقی جنوری 1997 میں  سپاہ محمد کی طرف سے کئے گئےایک بم دھماکے میں جاں بحق ہو گئے [66] ۔  لاہور پولیس نے آپریشن کر کے سپاہ محمد کا خاتمہ کر دیا[39]،  اسی عرصے میں سپاہ صحابہ کے متعدد دہشتگرد پولیس مقابلوں میں ہلاک ہو ئے مگر  سپاہ صحابہ کے خلاف کبھی کوئی فیصلہ کن  آپریشن نہیں ہو سکا۔  

نوے کی دہائی میں ہی کراچی میں سپاہ صحابہ اور جماعت اسلامی کی طرف سے بریلوی مساجد پر قبضے کے خلاف سنی تحریک کے نام سے ایک اور مزاحمتی گروہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ چنانچہ تکفیری علماء نے اب بریلویوں پر قاتلانہ حملے کرنے کا آغاز کر دیا۔ بریلویوں پر پہلا نمایاں حملہ 2001ء میں ہوا جب سنی تحریک کے بانی جناب سلیم قادریؒ کو کراچی میں قتل کر دیا گیا [67] ۔ اسی دوران سپاہ صحابہ کی طرف سے دیگر مذاھب کے ماننے والوں پر بھی حملے شروع ہو ئے ۔ مثال کے طور پر اکتوبر 2001 میں سپاہ صحابہ کے چھ کارکنان نے بہاولپور میں سینٹ ڈومینک چرچ میں فائرنگ کر کے اٹھارہ نہتے اور بے گناہ مسیحیوں کو قتل کر دیا۔

مفتی نظام الدین شامزئی کا فتویٰ[لکھو]

نوے کی دہائی کے آخر میں افغان طالبان نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کا فیصلہ کیا جسکی تنظیم نے 1998ء میں مشرقی افریقہ میں دو امریکی سفارت خانوں پر بم سے حملے کئے تھے اور ایک امریکی بحری جہاز کو ڈبونے کی کوشش کی تھی۔اسامہ بن لادن دراصل اپنے ملک سعودی عرب میں امریکی افواج کی موجودگی کے خلاف تھا مگر اپنے ملک میں عوام کو ساتھ ملا کر سیاسی تحریک چلانے کے بجا ئے اس قسم کی د ہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث ہو گیا تھا۔ 11 ستمبر 2001 ء کو القاعدہ نے کچھ مسافر بردار طیارے اغوا کر کے امریکا کے شہر نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی میں عمارتوں سے ٹکرا دئیے۔تین ہزار بے گناہ افراد قتل کر دئیے گئے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں خارجی عناصر نے جشن منایا۔اسامہ بن لادن کی طرف سے بے گناہ شہریوں کا دن دیہاڑے قتل ایسا جرم تھا جس کے جواب کیلئے امریکی حکومت کو اپنے عوام کی ہر ممکن حمایت حاصل ہو چکی تھی۔ امریکی حکومت پر عوام کی طرف سے مقتولین کیلئے انصاف یقینی بنانے کا دباؤ پڑنے لگا تھا۔امریکا نے افغان طالبان سے اسامہ کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا۔افغان طالبان کے انکار کے بعد امریکا نے افغانستان پر حملے کا فیصلہ کیا۔

7 اکتوبر 2001ءکو امریکا نے افغان طالبان پر حملہ کر دیا۔ پاکستان کی حکومت نے پرائی جنگ اپنے سر لینے کے بجا ئے امریکا کو راستہ دینے کا فیصلہ کیا۔ کراچی میں رہائش پذیر دیوبندی مفتی نظام الدین شامزئی نے ملک گیر بغاوت پر اکساتے ہوئے فتویٰ جاری کیا [68] ۔ مفتی شامزئی سوات سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے فتوے کو قبائلی علاقہ جات میں بہت پذیرائی ملی۔ پنجاب اور سندھ میں دیوبندی مدارس کے پاس اتنا اسلحہ نہیں تھا کہ وہ پولیس اور فوج سے لڑ سکتے، لہٰذا ان علاقوں پر اس فتوے کا فوری اثر نہ ہو سکا۔ افغان طالبان چند دنوں میں امریکا کے ہاتھوں شکست کھا گئے اور بہت سے طالبان اور القاعدہ کے جنگجو برقعے پہن کر پاکستانی علاقوں میں آ گئے۔

امریکا نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ یا تو القاعدہ کے ان فراری ارکان کو خود گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کرے یا امریکی مداخلت کا انتظار کرے۔ 2004ء میں پاکستانی فوج نے قبائلی علاقہ جات میں ان فراری طالبان کی گرفتاری کے لیے آپریشن شروع کیا تو پاکستان بھر کے دیوبندی علماء کی طرف سے فتاویٰ اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ادھر سن 2002ء کے الیکشن میں خیبر پختون خواہ کی صوبائی حکومت اور کراچی کی شہری حکومت متحدہ مجلس عمل کے ہاتھ میں آ گئی تھی۔ ان حکومتوں نے سرکاری نوکریاں متعصب افراد کو دیں جو دہشت گردی کی کاروائیوں میں طالبان کے سہولت کار بنے۔ ہمیشہ کی طرح متحدہ مجلس عمل میں شیعہ علماء بھی شریک تھے۔ بظاہر جنگ صفین کے بعد مل بیٹھنے والے حکمین کی طرح کے اتحاد کی ایک فضا سی بن گئی۔ دیوبندی اسلام کے نفاذ کی ہر لہر کی طرح یہ لہر بھی شیعہ عوام کے لیے ظلم کی سیاہ رات ثابت ہوئی۔

مفتی شامزئی کے فتوے کی وجہ سے پاکستان بھر سے دہشت گرد اب قبائلی علاقوں میں جمع ہو کر تحریک طالبان پاکستان کے نام سے ایک ظالمانہ تکفیری ریاست قائم کر چکے تھے۔ ان طالبان نے پاکستانی فوج اور عوام پر پے در پے حملے شروع کر دیے۔ اس دوران میں پاکستان میں شیعوں اور بریلویوں پر حملوں کی خونریزی میں نیا اضافہ خودکش حملوں کی شکل میں دیکھنے میں آیا۔ 11اپریل 2006ء کو نشتر پارک میں دھماکا کر کے سنی تحریک کے قائدین سمیت 47 لوگ شہید کر دیے گئے۔ 12جون 2009ء کو لاہور میں مفتی سرفراز نعیمی ؒکو خودکش بمبار کی مدد سے شہید کر دیا گیا۔ 2 جولائی 2010ء کو لاہور میں داتا دربار پر حملہ کر کے پچاس افراد کو قتل اور دو سو کو شدید زخمی کر دیا گیا۔ 2007 ء میں پاراچنار پر طالبان کا حملہ مقامی آبادی کی بھرپور تیاری کی وجہ سے ناکام ہوا جس کے بعد پانچ سال کیلئے پاراچنار تک اشیائے خورد و نوش اور ادویات کی ترسیل کے راستے بند رہے اور اس وقت بحال ہوئے جب وزیرستان اور سوات میں آپریشن کے نتیجے میں طالبان کو شکست ہو گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق سن 2000ء سے 2018ء تک تقریباً تین ہزار شیعہ قتل ہوئے جبکہ ہزاروں زخمی اور معذور ہو کر زندہ لاش بن چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ کوئٹہ[69] اور ڈیرہ اسماعیل خان[70] کے شیعہ ہیں۔ متاثرین کو مدد کے بجائے علماء اور تنظیموں کی طرف سے مالی ، جذباتی اور جنسی استحصال کی کوششوں کا سامنا ہے[70]۔

حکومت نے پاکستانی طالبان کو رام کرنے کی غرض سے متعدد امن معاہدے کیے مگر وہ سب طالبان کو مزید مضبوط کرنے پر منتج ہوئے[71]۔ طالبان مفتی شامزئی صاحب کے فتوے کی برکت سے روز بروز طاقتور ہوتے جا رہے تھے۔ طالبان اب کمزور طبقات سے آگے بڑھ کر پورے ملک کو خوفزدہ کر کے سرنڈر کروانا چاہتے تھے۔ طالبان کے خیال میں اب زندگی کے تمام شعبہ جات کو اپنے نظریات کے مطابق ڈھالنے کا وقت آن پہنچا تھا۔ پاکستانی کی سیاسی قیادت، میلے اور کھیل کے میدان، تعلیمی ادارے، پولیو مہم اور صحت عامہ کے دیگر منصوبے، صوفیا کے مزارات، بری فوج، فضائیہ اور بحریہ، عدلیہ و پولیس، غرض قومی زندگی کا ہر شعبہ دہشت گردی کے نشانے پر آ گیا۔ میڈیا پر جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام ان حملوں کی اصلی وجہ، یعنی مفتی شامزئی صاحب کے فتوے، کو چھپایا کرتے۔

2007 ء کے بعد سے اب تک  سوات  اور وزیرستان میں متعدد آپریشن ہو چکے ہیں جن میں پاک فوج کے ہزاروں جوانوں اور افسروں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ مفتی شامزئی کے فتوے کے بعد پنجاب اور سندھ میں تکفیری مدارس نے مسلح ہونے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ کئی مرتبہ تبلیغی جماعت کے سامان میں چھپایا گیا بارود پھٹ چکا ہے[72][73] جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ قبائلی علاقہ جات سے پنجاب اور سندھ کے قصبوں میں  بارود اور اسلحے کی منتقلی کا عمل کس تیزی سے جاری ہے ؟  عراق اور شام میں شکست کے بعد داعش کی نظریں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر ہیں۔کسی بحران کی صورت میں شیعوں کو ہر شہر میں  دو بدو جنگ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
انگریزوں کے جانے کے بعد مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا نور الحسن  بخاری  اور جماعت اسلامی  کی طرف سے شروع کیے گئے فسطائی سلسلے کو تاریخ کے علم کی روشنی میں نہ سمجھنے اور انتظامیہ کے  غیر ذمہ دارانہ کردار نے معاشرے کو  دلدل میں پہنچا دیا ہے۔گزشتہ دوسو سال میں  عزاداری  کے جلوس ایک کامیاب مزاحمت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔  شیعوں نے پسپا ہونے کے بجائے  زندہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے ۔غیر مسلح اور عدم تشدد پر مبنی اس مزاحمت نے تکفیریت کو پہلے محاذ پر ہی ناکام کر دیا ہے۔ سیداحمدبریلوی اورشاہ اسماعیل دہلوی سے لے کر نور الحسن بخاری اور اورنگزیب فاروقی تک کئی تکفیری علماء کی کوششوں کے باوجود شیعہ  اور بریلوی عوام نے دہشت زدہ ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ مسلمانان ہندنےمسلم لیگ کی قیادت میں  ایک فلاحی ریاست کے قیام کاجوخواب دیکھاتھاوہ  جناح مخالف ملاؤں کی جہالت کی نظر ہو چکا ہے۔ پاکستان کے ساتھ ترقی کا آغاز کرنے والے جنوبی کوریا جیسے ممالک کی مصنوعات عالمی منڈیوں میں اپنامقام پیدا کر چکی ہیں جبکہ پاکستان بے روزگاری ، جہالت اور بیماریوں  کے بھنور میں پھنس چکا ہے۔


حواشی[لکھو]

  1. خلیفہ بن خیاط عصفری، تاریخ خلیفہ بن خیاط ص139 سن 36 ہجری کے واقعات کا آخر۔
  2. بلاذری ،فتوح البلدان، ج3 صص،531،530 فتوح السند کے ذیل میں دیکھیں۔ ذہبی ،تاریخ الاسلام بشار ج2 ص331۔ عاملی،اعیان الشیعہ، ج4 صص374/375
  3. عبداللہ شاہ غازی
  4. تاريخ ابن خلدون ۔ ابن خلدون ۔ ج 3 ۔ صص 198، 199۔
  5. ذہبی ۔ تاريخ الإسلام ۔ ج 9 ص 352 ۔ أبو الفرج الأصفہانی، مقاتل الطالبيين ص 207 ۔ 208
  6. طبری ،تاريخ الطبری ۔ ج 6 ۔ ص 291
  7. Daftary, "The Ismailis: their history and doctrines", pp. 125, 180.
  8. Rizvi, "A Socio۔Intellectual History of the Isna Ashari Shias in India", Vol. I, pp. 178–80, 212.
  9. نور اللہ شوشتری
  10. مجدد الف ثانی
  11. Rizvi, ""A Socio۔Intellectual History of the Isna Ashari Shias in India"", Vol. I, pp. 377–83.
  12. Rizvi, "A Socio۔Intellectual History of the Isna Ashari Shias in India", Vol. II, pp. 39–41.
  13. نزھہ اثنا عشریہ،  : https://archive.org/details/nuzha۔isna۔asharia۔jild۔1
  1. عبقات الانوارhttp://www.alabaqat.com/download/
  2. تزک بابری۔ اردو ترجمہ صفحہ 23
  3. Rizvi, "Shah Abd al۔Aziz", pp. 478–9.
  4. Rizvi, ""A Socio۔Intellectual History of the Isna Ashari Shias in India"", Vol. II, pp. 89، 305–7.
  5. https://en.wikipedia.org/wiki/Dildar_Ali_Naseerabadi
  6. Cole, Roots of North Indian Shi’ism, p. 271.
  7. Abul Hassan Isphani, "Quaid۔e۔Azam Jinnah, as I Knew Him "، Forward Publications Trust Karachi (1967)۔
  8. کتاب "محمد بن قاسم سے محمد علی جناح تک" صفحہ 501، نفیس اکیڈمی، کراچی۔
  9. مسلک دیوبند کے اکابر میں سے مفتی کفایت ﷲ دہلوی صاحب کے مطابق قائد شیعہ تھے۔ حوالہ: کتاب " کفایت المفتی"، جلد نہم، کتاب السیاسیات، فتاویٰ نمبر: ٥٣٩، ٥٣٨، ٥٥٤، ٥٥٥.
  10. ڈاکٹر مبارک علی، "المیہ تاریخ، حصہ اول، باب 11جہاد تحریک" تاریخ پبلیکیشنز لاہور 2012
  11. http://darussalam.com/kitab۔at۔tawhid.html
  12. https://books.google.dk/books/about/The_Book_of_the_Unity_of_God.html?id=MaJ8AQAAQBAJ&redir_esc=y
  13. بطور مثال ملاحظہ ہو نہج البلاغہ کا خطبہ نمبر 150: "وہ ایک ہے لیکن نہ ویسا کہ جو شمار میں آئے۔ وہ پیدا کرنے والا ہے لیکن نہ اس معنی سے کہ اسے حرکت کرنا اور تعب اٹھانا پڑے۔ وہ سننے والا ہے لیکن نہ کسی عضو کے ذریعہ سے اور دیکھنے والا ہے لیکن نہ اس طرح کہ آنکھیں پھیلائے۔ وہ حاضر ہے لیکن نہ اس طرح کہ چھوا جاسکے وہ جدا ہے نہ اس طرح کہ بیچ میں فاصلہ کی دوری ہو۔ وہ ظاہر بظاہر ہے مگر آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔ وہ ذاتا پوشیدہ ہے نہ لطافت جسمانی کی بنا پر۔ وہ سب چیزوں سے اس لیے علاحدہ ہے کہ وہ ان پر چھایا ہوا ہے اور ان پر اقتدار رکھتا ہے۔ اور تمام چیزیں اس لیے اس سے جدا ہیں کہ وہ اس کے سامنے جھکی ہوئی اور اس کی طرف پلٹنے والی ہیں۔ جس نے (ذات کے علاوہ) اس کے لیے صفات تجویز کیے اسنے اس کی حد بندی کر دی اور جس نے اسے محدود خیال کیا۔ وہ اسے شمار میں آنے والی چیزوں کی قطار میں لے آیا۔ اور جس نے اسے شمار کے قابل سمجھ لیا اس نے اس کی قدامت ہی سے انکار کر دیا۔ اور جس نے یہ کہا کہ وہ کیسا ہے وہ اس کے لیے (الگ سے ) صفتیں ڈھونڈھنے لگا۔ اور جس نے یہ کہا کہ وہ کہاں ہے اس نے اسے کسی جگہ میں محدود سمجھ لیا"۔
  14. https://www.al۔islam.org/urdu/khutbaat/
  1. مرزا حیرت دہلوی ،"حیات طیبہ"‘ مطبوعہ مکتبتہ الاسلام‘ ص 260

شاہ اسماعیل دہلوی کے الفاظ میں:

"انگریزوں سے جہاد کرنا کسی طرح واجب نہیں ایک تو ان کی رعیت ہیں دوسرے ہمارے مذہبی ارکان کے ادا کرنے میں وہ ذرا بھی دست اندازی نہیں کرتے۔ ہمیں ان کی حکومت میں ہر طرح کی آزادی ہے بلکہ ان پر کوئی حملہ آور ہو تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس سے لڑیں اور اپنی گورنمنٹ پر آنچ نہ آنے دیں"۔

  1. مولانا جعفر تھانیسری، حیات سید احمد شہید‘ ص 293
  2. مقالات سرسید حصہ نہم 145۔146
  3. سوانح قاسمی، جلد اول، صفحہ 132
  4. سوانح قاسمی، جلد دوم، صفحہ 129
  5. https://www.youtube.com/watch?v=A3hyqOcwctk
  6. فتاوٰی رشیدیہ ص 435مصنف :رشید احمد گنگوہی دیوبندی
  7. روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 233 اور 423 تا 428
  8. روحانی خزائن جلد 19، صفحہ 193
  9. مولانا محمد اللہ قاسمی، "دارالعلوم دیوبند اور ردِّشیعیت"، ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 12 ‏، جلد: 97 ‏، صفر 1435 ہجری مطابق دسمبر 2013ء
  10. Afghanistan: Who are the Hazaras? | Taliban | Al Jazeera
  11. Shereen Ilahi (2007) Sectarian Violence and the British Raj: The Muharram Riots of Lucknow، India Review, 6:3, 184۔208, DOI: 10.1080/14736480701493088
  12. مرزا حیرت دہلوی، "کتاب شہادت"، کرزن پریس دہلی، (1920)۔
  13. Andreas Rieck, "The Shias of Pakistan: An Assertive and Beleaguered Minority"، Oxford University Press, (2015)۔
  14. مفتی ابو الخیر عارف محمود ، "امام اہل سنت مولانا عبد الشکور لکھنوی کے مختصر حالات زندگی"، جامعہ فاروقیہ، کراچی
  15. آپ کا پہلا جنازہ گورنر ہاؤس میں شیعہ طریقے پر ہوا، آپ کی جائیداد بھی محترمہ فاطمہ جناح کو شیعہ طریقے پر منتقل کی گئی، تفصیل اس کتاب میں:
  16. Khalid Ahmed, "Sectarian War: Pakistan's Sunni۔Shia Violence and its links to the Middle East", Oxford University Press, 2011.
  1. https://en.wikipedia.org/wiki/Mohammad_Amir_Ahmad_Khan
  2. "فتاویٰ مفتی محمود" میں شیعہ حضرات کا جنازہ نہ پڑھنے کے فتووں ذیل میں قائد اعظم کے شیعہ ہونے کی وجہ سے مولانا شبیر احمد عثمانی کی طرف سے ان کا جنازہ پڑھنے کو غلطی قرار دیا گیا ہے۔ مفتی محمود ستر کی دہائی میں جمیعت علماءئے اسلام کے قائد اور مولانا فضل الرحمن کے والد تھے۔
  3. مسلک دیوبند کے اکابر میں سے مفتی کفایت ﷲ دہلوی صاحب کے مطابق قائد شیعہ ہونے کی وجہ سے حقیقی مسلمان نہیں ہیں۔ حوالہ: کتاب " کفایت المفتی"، جلد نہم، کتاب السیاسیات، فتاویٰ نمبر: ٥٣٩، ٥٣٨، ٥٥٤، ٥٥٥.
  4. https://jamaat.org/en/
  5. جماعت اسلامی اگرچہ شیعہ کشی سے دور ہونے کا دعوا کرتی ہے مگر جس جماعت نے بنگال میں ساڑھیاں پہننے کے جرم میں سنی خواتین کو نام نہاد مسلمان کہہ کر مارا ہو اس نے کارکنان شیعوں پر ظلم کرنے سے کیسے چوک سکتے ہیں۔ لہٰذا لاہور میں ڈاکٹر محمد علی نقوی اور اردو کے معروف شاعر سید محسن نقوی کا قاتل اکرم لاہوری پنجاب یونیورسٹی کے لاء کالج میں اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم رہ چکا تھا۔ سن 2001 میں ایرانی سفارت کار کے قاتل اور لشکر جھنگوی کے کارکن حق نواز کو لواحقین سے معافی دلوانے کیلئے جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ نے کوشش کی جس کو لواحقین نے مسترد کر دیا۔ بلوچستان کے سردار میر نادر عزیز کرد نے اپنی سوانح حیات میں قاضی حسین احمد کا ایک واقعہ ذکر کیا ہے، ان کے مطابق وہ روس کے خلاف جنگ کے زمانے میں افغان مجاہدین کے ایک جلسے میں قاضی حسین احمد کو شیعہ مخالف تقریر کرتے دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔
  1. https://en.wikipedia.org/wiki/Cult
  2. عبیدالرحمن، ’یاد ہے سب ذرا ذرا ‘، صفحہ 49، طبع کراچی
  3. "قائد اعظم ؒلکھنؤ تشریف لے گئے تو کسی نے اعتراض کیا کہ علماء ایک مغرب زدہ آزاد خیال شخص کے پیچھے کیوں چل رہے ہیں؟ مولانا شبیر احمد عثمانی نے حکمت(یا مکاری؟) سے جواب دیا ’ چند سال پہلے میں حج کے لیے بمبئی سے روانہ ہوا۔ جہازایک ہندو کمپنی کا تھا، جہاز کا کپتان انگریز تھا اور جہاز کا دیگر عملہ ہندو، یہودی اور عیسائی افراد پر مشتمل تھا۔ میں نے سوچا کہ اس مقدس سفر کے یہ وسائل ہیں؟ جب عرب کا ساحل قریب آیا ایک چھوٹی سی کشتی میں سوار ایک عرب جہاز کی طرف آیا۔ اس (عرب) نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس کو اپنی رہنمائی میں سمندری پہاڑیوں، اتھلی آبی گذرگاہوں سے بچاتے ہوئے ساحل پر لنگر انداز کر دیا۔ بالکل ہم یہی کر رہے ہیں۔ ابھی تحریک جاری ہے، جدوجہد کا دور ہے، اس وقت جس قیادت کی ضرورت ہے وہ قائد اعظم ؒمیں موجود ہے۔ منزل تک پہنچانے کے لیے ان سے بہتر کوئی متبادل قیادت نہیں۔ منزل کے قریب ہم اپنا "فرض "ادا کریں گے"۔
  1. مولانا شبیر احمد عثمانی، 1 ستمبر 1947ء

"میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ قائد اعظم ؒکی یہ فتح مبین (قیام پاکستان) مسلمانوں کے ضبط و نظم کی مرہون احسان ہے۔ مسلمانوں کی افتاد طبع مذہبی واقع ہوئی ہے اور دو قوموں کے نظریے کی بنیاد بھی مذہب ہے۔ اگر علماءئے دین اس میں نہ آتے اور تحریک کو مذہبی رنگ نہ دیتے تو قائد اعظم ؒیا کوئی اور لیڈر خواہ وہ کیسی قابلیت و تدبر کا مالک ہی کیوں نہ ہوتا یا سیاسی جماعت مسلم لیگ مسلمانوں کے خون میں حدت پیدا نہیں کر سکتی تھی۔ تاہم علمائے دین اور مسلمان لیڈروں کی مشترکہ جہد و سعی سے مسلمان خواب غفلت سے بیدار ہوئے اور ایک نصب العین پر متفق ہو گئے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی تمام مساعی پاکستان کے دستور اساسی کی ترتیب پر صرف کریں اور اسلام کے عالمگیر اور فطری اصولوں کو سامنے رکھیں کیونکہ موجودہ مرض کا یہی ایک علاج ہے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو مغربی جمہوریت اپنی تمام برائیوں کے ساتھ چھا جائے گی اور اسلام کی بین الاقوامیت کی جگہ تباہ کن قوم پرستی چھا جائے گی"

  1. قائد اعظم ؒکی نماز جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی تھی۔ ایک روایت کے مطابق ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں پڑھائی ۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”قائد اعظم ؒکا جب انتقال ہوا تو میں نے رات رسول اکرم ﷺ کی زیارت کی۔ رسول ؐقائد اعظم ؒکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں کہ یہ میرا مجاہد ہے"۔
  2. مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ | مولانا زاہد الراشدی: http://zahidrashdi.org/1614
  3. https://juipak.org.pk/22۔%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C۔%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%AA/
  4. http://sharaabtoon.blogspot.dk/2013/06/the۔most۔unfortunate۔incident۔theri.html
  5. http://www.shaheedfoundation.org/tragic.asp?Id=13
  6. https://www.youtube.com/watch?v=6zuh6wNQj_g
  7. محمود احمد عباسی، "تحقیق مزید بسلسلہ خلافت معاویہ و یزید"، الرحمن پبلشنگ ٹرسٹ، کراچی
  8. ابو یزید محمد دین بٹ، "خلافت رشید ابن رشید امیر المومنین سیدنا یزید"، طبع لاہور
  9. احسان الہی ظہیر، "الشیعہ و اہل بیت"
  10. غلام حسین نجفی، "قول سدید در جواب وکلا یزید"
  11. https://books.shiatiger.com/2016/03/Qol۔e۔Sadeed.html
  1. غلام حسین نجفی، "کیا ناصبی مسلمان ہیں"
  2. https://books.shiatiger.com/2016/03/Kya۔Nasbi۔Musalmaan۔Hain.html
  1. http://www.mediafire.com/file/ndk2eyjmayajft9/%5BUrdu%5DShia_Stance_on_Qadiani_Issue_in_National_Assembly.pdf
  2. http://www.thefridaytimes.com/tft/shiaphobia/
  3. https://en.wikipedia.org/wiki/Saur_Revolution
  4. In May 1988, low۔intensity political rivalry and sectarian tension ignited into full۔scale carnage as thousands of armed tribesmen from outside Gilgit district invaded Gilgit along the Karakoram Highway. Nobody stopped them. They destroyed crops and houses, lynched and burnt people to death in the villages around Gilgit town. The number of dead and injured was in the hundreds. But numbers alone tell nothing of the savagery of the invading hordes and the chilling impact it has left on these peaceful valleys
  5. https://www.outlookindia.com/website/story/the۔aq۔khan۔proliferation۔highway۔iii/261824
  1. http://www.satp.org/satporgtp/countries/pakistan/database/sect۔killing.htm
  2. Hassan Abbas, "Pakistan's Drift Into Extremism: Allah, the Army, and America's War on Terror"، Routledge, (2015)۔
  3. CNN – Blast kills at least 26 outside Pakistani courtroom – Jan. 18, 1997
  4. محمد سلیم قادری
کراچی میں رہائش پذیر دیوبندی مفتی نظام الدین شامزئی  صاحب نے داعشی طرز کی بغاوت پر اکساتے ہوئے  یہ فتویٰ جاری کیا:۔

تمام مسلمانوں پر جہاد فرض ہو گیا ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں صرف افغانستان کے آس پاس کے مسلمان امارتِ اسلامی افغانستان کا دفاع نہیں کرسکتے ہیں اور یہودیوں اورامریکہ کا اصل ہدف امارتِ اسلامی افغانستان کو ختم کرنا ہے دارالاسلام کی حفاظت اس صورت میں تمام مسلمانوں کا شرعی فریضہ ہے۔
جو مسلمان چاہے اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو اور کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے سے وابستہ ہو وہ اگر اس صلیبی جنگ میں افغانستان کےمسلمانوں یا امارتِ اسلامی افغانستان کی اسلامی حکو مت کے خلاف استعمال ہوگا وہ مسلمان نہیں رہے گا۔
الله تعالی کے احکام کے خلاف کوئی بھی مسلمان حکمران اگر حکم دیں اور اپنے ماتحت لوگوں کو اسلامی حکومت ختم کرنے کیلئے استعمال کرنا چاہے ،تو ماتحت لوگوں کیلئے اس طرح کے غیر شرعی احکام مانناجائز نہیں ہے، بلکہ ان احکام کی خلاف ورزی ضروری ہوگی ۔
اسلامی ممالک کے جتنے حکمران اس صلیبی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں اور اپنی زمین ،وسائل اور معلومات ان کو فراہم کررہے ہیں، وہ مسلمانوں پر حکمرانی کے حق سے محروم ہو چکے ہیں، تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ ان حکمرانوں کو اقتدار سے محروم کر دیں، چاہےاسکے لئے جو بھی طریقہ استعمال کیاجائے ۔
افغانستان کے مسلمان مجاہدین کے ساتھ جانی ومالی اور ہر قسم کی ممکن مدد مسلمانوں پر فرض ہے، لہذا جو مسلمان وہاں جا کر ان کےشانہ بشانہ لڑ سکتے ہیں وہ وہاں جا کر شرکت کر لیں اور جو مسلمان مالی تعاون کرسکتے ہیں وہ مالی تعاون فرمائیں الله تعالی مصیبت کی اس گھڑی میں مسلمانوں کاحامی و ناصر ہو۔
اس فتویٰ کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کرکے دوسرے مسلمانوں تک پہنچائیں

فقط و سلام

مفتی نظام الدین شامزئی

  1. 'Hell on Earth': Inside Quetta's Hazara community – BBC News
  2. حیدر جاوید سید کے سلسلہ مضامین "دیرہ پھلاں دا سہرا" سے کچھ اقتباسات پیش ہیں:

"ڈیرہ میں سرائیکی بولنے والی شیعہ آبادی کا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس سے پچھلے دو عشروں کے دوران ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کا شکار ہوئے مقتول کا جنازہ نہ اُٹھا ہو۔ اس شہر نے وہ بھیانک دن بھی دیکھے جب ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے مقتول کے ورثا میت لینے ہسپتال میں جمع ہوئے تو خود کش بمبار ان کے درمیان پھٹ گیا یا کسی مقتول کے جنازہ پر خود کش حملہ ہوگیا ۔ایک بار تو یہ المیہ بھی ہوا کہ ایک طرف سے دو خود کش بمباروں نے جنازے پر حملہ کیا دوسری طرف سے فرنٹئیر کانسٹیبلری نے فائرنگ کردی اس دو طرفہ اقدام سے درجنوں لوگ موت کا رزق بن گئے۔ ڈیرہ کے بعض گھر تو ایسے بھی ہیں جہاں سے دو یا اس سے زیادہ اُن افراد کے جنازے اُٹھے جو دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ کوٹلہ سیدان اور کوٹلی امام حسینؑ کے قبرستانوں کے علاوہ بھی چند مقامات پر دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کے ساتھ متعدد خواتین کی قبریں بنی ہوئی ہیں۔ گنج شہیداں کہلانے والے قبرستانوں کے ان گوشوں میں قبروں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ پرافسوس کہ ملکی میڈیا کا ایک ادارہ بھی ایسا نہیں کہ جس نے اس مظلوم و بے اماں شہر کے حق میں آواز بلند کی ہو یا کوئی ایک آدھ ایسا پروگرام جس سے باقی ماندہ ملک کے لوگ ڈیرہ اسماعیل خان کے لوگوں کی مظلومیت سے آگاہ ہوسکتے"۔

"بعض شہداء کی گھروں کی خواتین کو امداد کے نام پر عقد ثانی اور معیادی شادی کے پیغامات بھیجنے والوں میں ایسے ایسے شرفا اور قبا فروشوں (تحریک جعفریہ)کے نام آتے ہیں کہ عقیدت کا طوق گلے میں ڈالے بوزنے صفائیاں پیش کرتے نہیں تھکتے"۔

"بیرون ملک سے ایک شخصیت نے حسن کے والد سید اصغر شاہ المعروف گلو شاہ کے لئے ڈھائی لاکھ روپے بھجوائے۔ یہ رقم مجلس وحدت مسلمین کے ایک صوبائی رہنما کے پاس تھی ۔اس نے پہلے اصغر شاہ کو 35ہزار روپے دیئے پھر دوتین ماہ پانچ ہزار روپے ،لیکن جب اصل صورتحال واضع ہوئی تو اصغرشاہ نے احتجاج کیا۔ پہلے یہ ارشاد فرمایا ’’ شاہ جی آپ کی رقم امانت ہے اکھٹی اس لئے نہیں دیتاکہ خرچ نہ ہو جائے۔‘‘پھر جب انہوں نے شور مچایا تو چند لوگوں کی مداخلت پر ڈیڑھ لاکھ روپے ادا کرتے ہوئے کہا کہ باقی کی رقم سے انہوں نے مستحق لوگوں کی مدد کردی ہے "۔

  1. مکمل سلسلہ مضامین کے مطالعہ کیلئے اس لنک پر جائیں:

دیرہ پھلاں دا سہرا

  1. جان آر شمٹ، "گرِہ کھلتی ہے: جہاد کے دور کا پاکستان" ترجمہ: اعزاز باقر
  2. http://mashalbooks.org/product/the۔unraveling۔pakistan۔in۔the۔age۔of۔jihad/

دھماکے کے بعد امیر صاحب نے میڈیا کو بتایا کہ گیس کا سلنڈر پھٹا ہے۔بعد میں جب زخمی ہسپتال گئے تو ان کے جسم میں بم کے ٹکڑے ملے۔نیز مرنے والوں کی تعداد بھی امیر صاحب کے جھوٹ کی چغلی کھا رہی تھی۔ امیر صاحب کی اسی بات کو لے کر پولیس نے بھی میڈیا کو یہی بتایا تھا کہ سلنڈر پھٹا ہے۔

  1. Blast at Swat Tableeghi Markaz kills 22 – The Express Tribune January 11, 2013

یہ بہت عجیب واقعہ ہے کیوں کہ اس دھماکے کے بعد جب پولیس مرکز میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہے تومرکز کی انتظامیہ اسکو کچھ گھنٹے کیلئے داخل نہیں ہونے دیتی۔بعد کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ وہ دھماکہ کسی تبلیغی کے سامان میں موجود بارود کے حادثاتی طور پر پھٹنے کی وجہ سے ہوا تھا۔ کمرے میں سردی کی وجہ سے جب کسی لا علم تبلیغی نے ہیٹر جلایا تو پاس پڑے سامان میں موجود بارود چل گیا۔تفتیشی اداروں کو آلات کی مدد سے تبلیغی مرکز کی لیٹرین میں بارود بہا دینے کے شواہد بھی ملے۔بارود چھپانے کا کام اس وقت کے دوران کیا گیا جب دھماکے کے بعد پولیس کو مرکز میں داخلے سے روک دیا گیا تھا۔کئی گھنٹوں کی تاخیر کے باوجود تفتیشی اداروں کو اس مرکز سے بارود کے تین کنستر ملے۔ کیا اس بات میں کوئی شک ہے کہ یہ بارود کسی بازار یا کسی دوسرے فرقے کی مساجد یا سرکاری دفاتر پر حملے کیلئے لے جایا جا رہا تھا؟

  1. Blast at Peshawar Tablighi centre kills ten, injures more than 60 – Pakistan – DAWN.COM January 16, 2014.


ہور ویکھو[لکھو]

حوالے[لکھو]

  1. ۱.۰ ۱.۱ طبرى، محمد بن جرير، تاريخ الامم و الملوك، بيروت، دار القاموس الحديث، (بى تا) ج 2، ص 217/
  2. ۲.۰ ۲.۱ ابن اثير الكامل فى التاریخ، بيروت، دار صادر، 1399ھ، ج 2، ص 63/
  3. ابن ابى الحديد المعتزلی، شرح نہج البلاغہ، تحقيق: محمد ابوالفضل ابراہيم، چاپ اول، قاہرہ، دار احیاء الكتب العربیہ، 1378 ه.ق، ج 13،ص 211/
  4. ابن ابى الحديد المعتزلی، شرح نہج البلاغہ، تحقيق: محمد ابوالفضل ابراہيم، چاپ اول، قاہرہ، دار احیاء الكتب العربیہ، 1378 ه.ق، ج 13،ص 211/
  5. ترمذی، الجامع الصحیح، 6 : 79، ابواب المناقب، رقم : 3713
  6. احمد بن حنبل، فضائل الصحابۃ 2 : 569، رقم : 959
  7. ۷.۰ ۷.۱ سید مصطفی قزوینی، تحقیق ہایی درباره شیعہ، صفحه 4.
  8. http://www.iqna.ir/fa/news/3479575/%D8%B4%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D9%86-%DA%86%D9%86%D8%AF-%D8%AF%D8%B1%D8%B5%D8%AF-%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86-%D8%AC%D9%87%D8%A7%D9%86-%D8%B1%D8%A7-%D8%AA%D8%B4%DA%A9%DB%8C%D9%84-%D9%85%DB%8C%E2%80%8C%D8%AF%D9%87%D9%86%D8%AF
  9. الفراہیدی'الخلیل بن احمد' ترتیب کتاب العین'انتشارات اسوہ'تھران، ج٢،ص٩٦٠
  10. فیروزہ آبادی'قاموس اللغة'طبع سنگی ص ٣٣٢۔
  11. الحسینی الواسطی الزبیدی الحنفی،ابو فیض السید مرتضیٰ،تاج العروس ،ج١١ص٢٥٧
  12. ماخوذ از شیعہ شناسی ( استاد رضوانی)
  13. آیت اللہ جعفر سبحانیl
  14. مسعودی علی بن حسین ، مروج الذھب ، موسسہ ا لاعلمی ،للمطبوعات، بیروت،١٤١١ھ ج٣ ص ٥٦
  15. مسعودی علی بن حسین ، مروج الذہب ، موسسہ لاعلمی ،للمطبوعات، بیروت، ١٤١١ ھ، ج٣ ، ص٨١۔٩٩
  16. مسعودی ،مروج الذھب ، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ھ ج٣ ص ٨٥۔٨٦
  17. مقتل الحسین ، منشورات المفید ، قم ، ج ٢ ص ٢٠٢
  18. ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ،منشورات الشریف الرضی ، قم، ١٤١٤ھ ج ٢ ص ٢٦٧
  19. ٨٠ھ میں با وجود اس کے کہ حجاج ، عبد الرحمن بن اشعث سے خوش نہیں تھا مگر سیستان اور زابلستان کا حاکم بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ رتبیل کو کہ جس نے سیستان پر حملہ کیا تھا اسے باہر بھگا دے ، عبد الرحمن جب وہاںپہونچا تو حملہ آوروں کو ٹھکانے لگادیا شہر میں امن و امان قائم کیا اس کے بعد بھی چونکہ حجاج نے مطالبہ تھاکہ دشمن کا تعاقب کرے جسے عبد الرحمن اور اس کے فوجیوں نے حجاج کی چال سمجھا لہٰذا وہ دشمن سے لڑنے کے بجائے حجاج پر ہی حملہ کرنے کے لئے عراق روانہ ہو گیا خوزستان کے علاقہ میں حجاج اور عبد الرحمن میں جنگ ہوئی، پہلے تو حجاج کے سپاہیوں کو شکست ہوئی عبد الرحمن نے اپنے کو عراق پہنچا دیا اور کوفہ پر قابض ہو گیا بصرہ کے بہت سے لوگوں نے بھی اس کی مدد کی، حجاج نے عبد الملک سے مدد طلب کی، شام سے لشکر اس کی مدد کے لئے روانہ ہوا لشکر کے پہنچنے پر حجاج نے دوبارہ حملہ کیا یہ شدید جنگ( دیر الجماجم )کے نام سے مشہور ہے، بصرہ اور کوفہ کے لوگ یہاں تک کہ قاریان و حافظان قرآن جو حجاج کے دشمن تھے عبد الرحمن کی نصرت کی، عبد الرحمن کے پاس اتنی بڑی فوج تھی کہ خود عبد الملک کو خوف ہونے لگا اس نے لوگوں سے کہا : اگر لوگحجاج کو معزول کرنا چاہتے ہیں تو میں حاضر ہوں لیکن عراق والوں نے اس کی سازش قبول نہ کی اور عبد الملک کو ہی معزول کر دیا، بڑی شدید جنگ ہوئی عبد الملک نے عبد الرحمن کے کچھ فوجیوں کو فریب دیا اورشب خون مار ا، ابن اشعث کی فوج میں بھگدڑ مچ گئی اور وہ فرار ہونے پر مجبور ہوئے اور رتبیل کے پاس پناہ حاصل کی، بعد میں رتبیل نے حجاج کے فریب اور لالچ میں آکر اسے قتل کر دیا اور سر کو حجاج کے پاس بھیجا ( مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذھب ، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات، بیروت ، ١٤١٤ھ ق ، ج ٣ ص ١٤٨۔١٤٩، و شہیدی ، دکتر سید جعفر ، تاریخ اسلام تا پایان امویان ، مرکز نشر دانشگاہ تہران ، طبع ششم ، ١٣٦٥ھ ش، ص ١٨٥۔١٨٦
  20. مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذہب ، ص ١٨٧
  21. شیخ طوسی ، اختیار معرفة الرجال ، معروف بہ رجال کشی، موسسہ آل البیت ، لاحیاء التراث، قم ١٤٠٤ھ ج١ ص ٣٣٥
  22. شیخ طوسی ،اختیار معرفة الرجال ، موسسہ آل البیت ، الاحیاء التراث ، قم ، ١٤٠٤ھ ج١ ص ٣٢٥
  23. ابن ہیثم البحرانی ، حیثم بن علی ، النجاة فی القیامة فی تحقیق امر الامامة،مجمع الفکر الاسلامی ، قم طبع اول ، ص١٧٢۔١٧٤
  24. شہرستانی ،کتاب ملل ونحل ،منشورات الشریف الرضی قم،١٣٦٤ھ ش، ج١،ص١٥٠
  25. (تاریخ یعقوبی ج۳ ص۸۶ ، مروج الذھب ج ۳ ص۲۶۸)
  26. (کتاب اغانی ابی الفرج)
  27. تاریخ یعقوبی ج / ۳ ص / ۷۹ ، تاریخ ابو الفداء ج / ۱ ص / ۲۰۸
  28. تاریخ ابو الفداء ج / ۲ ص / ۶
  29. تاریخ یعقوبی ج/ ۳ ص/ ۱۹۸ ، تاریخ ابو الفداء ج / ۲ ص / ۳۳
  30. کتاب بحار الانوار ج / ۱۲ ۔ حالات امام جعفر صادق علیہ السلام
  31. مختلف التواریخ
  32. تاریخ ابی الفداء اور دوسری تاریخی کتابیں
  33. کتب تواریخ کی طرف رجوع کریں
  34. الحضارة الاسلامیہ ج / ۱ ص / ۹۷
  35. مروج الذہب ج / ۴ ص / ۳۷۳ ، الملل و النحل ج / ۱ ص / ۲۵۴
  36. تاریخ کامل ، تاریخ روضة الصفا اور تاریخ حبیب السیر کی طرف رجوع کریں
  37. تاریخ کامل اور تاریخ ابی الفداء ج / ۳
  38. تاریخ حبیب السیر
  39. تاریخ حبیب السیر اور تاریخ ابی الفداء وغیرہ
  40. روضات الجنات اور ریاض العلماء ( نقل از ریحانة الادب ج/ ۲ ص / ۳۶۵
  41. روضات الجنات ، کتاب المجالس اور وفیات الاعیان

باہرلےجوڑ[لکھو]