عبیداللہ سندھی

وکیپیڈیا توں
Jump to navigation Jump to search
عبیداللہ سندھی

مولانا عبید اللہ سندھیاک سکھ خاندان توں اسلام وچ داخل ہوئے تے اسلام دی بڑی خدمت کیتی۔

نام[لکھو]

انہاں دا پیدائشی نام بوٹا سنگھ سی۔ اسلام قبول کرن دے بعد اپنا نام عبید اللہ رکھیا۔

جم[لکھو]

عبید اللہ سندھی 28 مارچ 1876ء بمطابق 12 محرم الحرام 1289ھ نوں ضلع سیالکوٹ دے اک پنڈ چیلانوالی دے اک سکھ خاندان وچ پیدا ہوئے۔

قبول اسلام[لکھو]

مولانا عبید اللہ سندھی پہلے سکھ مذہب سے تعلق رکھدے سن ۔حافظ الملت محمد صدیق قادری بھرچونڈی شریف دی خدمت وچ حاضر ہوئے تاں نگاہ کیمیاء اثر نے انہاں دے قلب دی ماہیت تبدیل کر دتی مشرف بہ اسلام ہوئے پیر کامل نے توجہ کیتی تاں خرقہ صفا پہن کے بھرچونڈی شریف دے ہو کے رہ گئے[1] عبید اللہ سندھی خود لکھدے نیں۔

ؔؔمیں سولہ برس سال دا سی اردو وچ میٹرک دے درجے تک تعلیم پا چکا سی کہ میں مسلمان ہوئیا تے مینوں کلمہ توحید حضرت حافظ محمد صدیق بھر چونڈی والوں نے پڑھایا میں اپنے آپ نوں حضرت صاحب دی جماعت دا اک فقیر سمجھتا ہاں‘‘[2] ’’اللہ تعالی کی رحمت سے جس طرح ابتدائی عمر میں اسلام کی سمجھ آسان ہو گئی اسی طرح کی خاص رحمت کا اثر یہ بھی ہے کہ سندھ میں حضرت حافظ محمد صدیق صاحب (بھرچونڈی والے) کی خدمت میں پہنچ گیا جو اپنے وقت کے جنید اور بایزید تھے چند ماہ ان کی صحبت میں رہا اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اسلامی معاشرت میرے لئے اس طرح بیعت ثانیہ بن گئی جس طرح ایک پیدائشی مسلمان کی ہوتی ہے ایک روز آپ نےمیرے سامنے لوگوں کو مخاطب فرمایا اور کہا کہ عبید اللہ نے ہم کو اپنا ماں باپ بنایا ہے ۔ اس کلمہ کی تاثیر خاص طور پر میرے دل میں محفوظ ہے میں انہیں اپنا دینی باپ سمجھتا ہوں اس لئے سندھ کو اپنا مستقل وطن بنایا یا بن گیا میں نے قادری راشدی طریقہ میں حضرت سے بیعت کر لی تھی اس کا نتیجہ یہ محسوس ہوا کہ بڑے سے بڑے سے بہت کم مرعوب ہوتا ہوں‘‘[3] 1884ء میں آپ نے اپنے ایک ہم جماعت سے عالم دین مولانا عبیداللہ پائلی کی کتاب “تحفۃ الہند“ لے کر پڑھی۔ اس کے بعد شاہ اسماعیل شہید (انہیں شہید کے نام سے یاد کیا جاتا ہے) کی کتاب “تقویۃ الایمان“ پڑھی اور یوں اسلام سے رغبت پیدا ہوگئی۔ 15 برس کی عمر میں 19 اگست 1887ء کو مشرف بہ اسلام ہوئے۔حوالےدی لوڑ؟

سندھی نسبت[لکھو]

مسلمان ہو کر بھرچونڈی شریف سکھر پہنچے جہاں حافظ الملت حافظ محمد صدیق سےملےجو انکے قبولِ اسلام کے جذبے سے بہت متاثر ہوےٴ اور انھوں نےاس نو مسلم کو اپنا روحانی فرزند بنا لیا حافظ الملت کی تربیت کا اثر یہ ہوا کہ اسلامی معاشرت انکی طبیعت ثانیہ بن گئی ان کو اپنے استاد کے ساتھ حد درجہ محبت تھی جس وجہ سے انھوں نے اپنے نام کے ساتھ سندھی لکھنا شروع کردیا[4]

تعلیم[لکھو]

اردو مڈل تک کی تعلیم آپ نے جام پور ضلع ڈیرہ غازی خان میں حاصل کی۔ پھر قبول اسلام کے بعد 1888ء میں دیوبند گئے اور وہاں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور تفسیر و حدیث، فقہ و منطق و فلسفہ کی تکمیل کی۔

اہم کارنامے[لکھو]

  • 1901ء میں گوٹھ پیر جھنڈو میں دالارشاد قائم کیا اور سات برس تک تبلیغ اسلام میں منہمک رہے۔
  • 1909ء میں اسیر مالٹا محمود الحسن کے حکم کی تعمیل میں دارالعلوم دیوبند گئے اور وہاں طلباء کی تنظیم “جمیعت الانصار“ کے سلسلے میں اہم خدمات انجام دیں۔
  • 1912ء میں دلی نظارۃ المعارف کے نام سے ایک مدرسہ جاری کیا جس نے اسلامی تعلیمات کی اشاعت میں بڑا کام کیا ہے۔
  • ترکی میں 1924ء میں اپنی ذمہ داری پر تحریک ولی اللہ کے تیسرے دور کا آغاز کیا۔ اس موقع پر آپ نے آزادئ ہند کا منشور استنبول سے شائع کیا۔
  • ترکی سے حجاز پہنچے اور 1939ء تک مکہ معظمہ میں رہے۔ اسی عرصہ میں انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق اور دینی مسئل کو تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ عوام تک پہنچایا۔
  • آپ نے تحریک ریشمی رومال میں سرگرم حصہ لیا۔
  • افغانستان کی آزادی کی سکیم آپ ہی نے مرتب فرمائی تھی، 25 سال تک جلاوطن رہے۔
  • افغانستان میں آل انڈیا کانگریس کی ایک باضابطہ شاخ قائم کی۔
  • ساری زندگی قائد حریت کی حیثیت سے اسلامی اور سیاسی خدمات انجام دیتے رہے۔

وفات[لکھو]

12 اگست 1944ء نوں آپ نے دین پور وچ رحلت فرمائی۔

حوالے[لکھو]

  1. عباد الرحمن ، سید مغفور القادری صفحہ 11، حافظ الملت اکیڈمی بھرچونڈی شریف سندھ
  2. خطبات مولانا عبید اللہ سندھی مرتبہ محمد سرورصفحہ 146 سندھ ساگر اکیڈمی لاہور
  3. کابل میں سات سال ،مولانا عبید اللہ سندھی صفحہ 96،سندھ ساگر اکیڈمی لاہور
  4. http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=44155