Jump to content

شیخ طوسی

آزاد انسائیکلوپیڈیا، وکیپیڈیا توں
شیخ طوسی
ناممحمد بن حسن بن علی بن حسن
کنیتابوجعفر
لقبشیخ طوسی یا شیخ الطائفہ
تاریخ ولادترمضان ۳۸۵ق.
شہرخراسان
محل تحصیلخراسان
وفات/شہادتشب دوشنبہ ۲۲ محرم ۴۶۰ه‍.ق.
مدفننجف اشرف
اساتیدشیخ مفید، ابن غضائری، ابن حاشر بزاز، ابن ابی جنید، ابن الصلت، سید مرتضی
شاگردابوالصلاح حلبی، شہرآشوب سروی مازندرانی، ابوالفتح کراجکی
تالیفاترجال طوسی، استبصار، تہذیب الاحکام، الامالی، التبیان، الخلاف فی الاحکام، العدۃ فی اصول، الغیبۃ، الفہرست، المبسوط فی فقہ الامامیہ، مصباح المتہجد

محمد بن حسن بن علی بن حسن جو شیخ طوسی یا شیخ الطائفہ کے نام سے معروف، مایہ ناز شیعہ فقہاء اور محدثین میں سے ایک ہیں۔ آپ کتب اربعہ میں سے دو کتابوں، التہذیب الاحکام اور الاستبصار کے مؤلف ہیں۔23 سال کی عمر میں خراسان سے عراق آئے اور شیخ مفید اور سید مرتضی جیسے اساتید سے کسب فیض کیا۔ اپنے زمانے کے عباسی خلیفہ نے بغداد میں علم کلام کی تدریس کی ذمہ داری آپ کے سپرد کی۔ جب شاپور لائبریری آگ لگنے کی وجہ سے جل گئی تو آپ ناچار نجف چلے گئے اور وہاں حوزہ علمیہ نجف کی بنیاد رکھی۔ شیخ طوسی، سید مرتضی کی وفات کے بعد شیعیان جہاں کے مرجعیت کے مقام پر فائز ہوئے۔

ان کے فقہی نظریات اور تحریریں جیسے نہایہ، الخلاف اور مبسوط شیعہ فقہاء کی توجہ کا مرکز ہیں۔التبیان آپ کی اہم ترین تفسیری کتاب ہے۔ شیخ طوسی دوسرے اسلامی علوم جیسے رجال، کلام اور اصول فقہ وغیرہ میں بھی صاحب‌ نظر تھے اور ان علوم میں بھی ان کی کتابیں کافی شہرت کی حامل ہیں۔ انہوں نے شیعوں کے طریقہ اجتہاد میں ایک تحول ایجاد کیا اور اس کے مباحث کو وسعت دی اور اہل سنت کے اجتہاد کے مقابلے میں اسے الگ تشخص اور استقلال عطا کیا۔ ان کے نامور شاگردوں میں ابوالصلاح حلبی کا نام نمایاں ہے۔

زندگی‌ نامہ

[سودھو]

شیخ طوسی رمضان سنہ ۳۸۵ ہجری قمری، شیخ صدوق کی وفات کے 4 سال بعد ایران کے شہر خراسان میں متولد ہوئے۔[۱] آپ کی کنیت ابو جعفر ہے اور کبھی کبھار آپ کو شیخ کلینی اور شیخ صدوق کے مقابلے میں چونکہ ان کی کنیت بھی ابو جعفر ہیں آپ کو ابوجعفر ثالث کہا جاتا ہے۔

شیخ طوسی سنہ ۴۰۸ ہجری قمری کو 23 سال کی عمر میں عراق تشریف لے گئے اور 5 سال تک شیخ مفید کی شاگردی میں رہے۔ آپ شیخ مفید کے علاوہ ۳ سال [[حسین بن عبداللہ غضائری]] و نیز ابن حاشر بزاز، ابن ابی جید اور ابن الصلت کے شاگرد بھی رہے ہیں۔ آپ نے سید مرتضی کو بھی درک کیا ہے۔ [۲]

عباسی خلیفہ القائم بامر اللہ نے بغداد میں علم کلام کی تدریس آپ کے سپرد کی۔ آپ کی شاگردی میں تقریبا 300 علماء شامل تھے آپ اسی منصب پر فائز رہے یہاں تک کہ سلجوقی ترکیوں نے بغداد فتح کیا اور سنہ ۴۴۷ میں طغرل بغداد میں آئے اور اس نے شاپور لائبریری کو جلا ڈالا۔

سنہ ۴۴۸ کو اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان تصادم ہوا۔ ابن جوزی کہتے ہیں انہی حوادث کے دوران شیخ طوسی بغداد سے چلے گئے اور سنہ ۴۴۹ میں آپ کا گھر مسمار کیا گیا۔ اس کے بعد آپ نجف اشرف چلے گئے اور حوزہ علمیہ نجف کی بنیاد رکھی اگرچہ کہا جاتا ہے کہ یہ حوزہ ان سے قبل بھی موجود تھا۔[۳]

شیخ طوسی نے اپنی عمر کے آخری ۱۲ سال نجف اشرف میں ہی گزاریں ہیں۔[۴]

آپ کا خاندان

[سودھو]

شیخ طوسی کا حسن کے نام سے ایک بیٹا تھا اپنے والد گرامی کی رحلت کے بعد نجف میں ہی زندگی بسر کی یہاں تک کہ شیعہ مرجعیت تک پہنچے۔ شیخ کا اپنے بیٹے حسن سے ایک پوتا بنام محمد تھا جنکی کنیت ابوالحسن تھا اپنے زمانے کے شیعہ مراجع میں سے تھے اور سنہ ۵۴۰ ق کو نجف اشرف میں اس دنیا سے رحلت کر گئے۔[۵]

علمی کارنامے

[سودھو]

علمی مقام

[سودھو]

شیخ طوسی شیعہ فقہاء میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے یہاں تک کہ انہیں شیخ الطائفہ یعنی فقہاء کا استاد کہا جاتا تھا۔ انہوں نے علم فقہ اور اصول میں مطلق اجتہاد کی بنیاد رکھی۔ علم فقہ میں جب بھی لفظ "شیخ" استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مراد شیخ طوسی ہوا کرتا ہے۔ آپ کتب اربعہ میں سے دو مایہ ناز کتاب استبصار اور تہذیب الاحکام کے مؤلف ہیں۔[۶]

شیخ طوسی کے بعد کسی میں ان کے نظریات سے مخالفت کرنے کی جرأت نہیں تھی یہاں تک کہ ابن ادریس (متوفی ۵۹۷ ق.) نے ان کے نظریات پر تنقید شروع کی۔ آپ کی کتاب نہایہ شیعہ مدارس میں پڑھائی جانے والی درسی کتابوں میں شامل تھی۔ جب محقق حلی (متوفی ۶۷۶ق.) نے کتاب شرایع الاسلام لکھی تو طلاب علوم دینی اس کتاب کو شیخ طوسی کی کتابوں سے پہلے پڑھتے تھے۔ شیخ طوسی نے علم فقہ کے تمام ابواب میں کتابیں تألیف کی ہیں اور ہر شعبے میں انکی کتابیں متأخرین کیلئے مرجع علمی ہوا کرتی تھی کیونکہ ان سے پہلے موجود بہت سارے منابع کرخ میں شاپور لائبریری کی آگ لگنے کے وقت جل کر راکھ ہو گئی تھیں۔ [۷]

آپ کے اساتید

[سودھو]

شیخ طوسی کے اساتید بہت زیادہ ہیں۔ میرزا حسین نوری نے مستدرک وسائل الشیعہ میں [۸]، ۳۷ نفر کو ان کے اساتید کے عنوان سے ذکر کیا ہے لیکن شیخ طوسی اکثرا جن اساتید سے روایات نقل کرتے ہیں ان کی تعداد 5 ہے:[۹]

  1. شیخ ابوعبداللہ احمد بن عبدالواحد بن احمد بزاز، معروف بہ ابن حاشر و ابن عبدون متوفای ۴۲۳ہ‍.ق.
  2. شیخ احمد بن محمد بن موسی، معروف بہ ابن صلت اہوازی متوفای ۴۰۸ہ‍.ق.
  3. شیخ حسین بن عبیداللہ بن غضائری، متوفای ۴۱۱ ہ‍.ق.
  4. شیخ ابوالحسین علی بن احمد بن محمد بن ابی جید، متوفای پس از ۴۰۸ ہ‍.ق.
  5. ابوعبداللہ محمد بن محمد بن نعمان مشہور بہ شیخ مفید، متوفای ۴۱۳ہ‍.ق.

آپ کے شاگرد

[سودھو]

اہل تشیع اور اہل سنت کے 300 سے زیادہ مجتہدین نے شیخ طوسی کی شاگردی اختیار کی ہیں۔ جن میں سے بعض کے نام یوں ہیں:[۱۰]

  1. آدم بن یونس بن ابی مہاجر نسیفی
  2. ابوبکر احمد بن حسین بن احمد خزاعی نیشابوری
  3. ابوطالب اسحاق بن محمد بن حسن بن حسین بن محمد بن علی بن حسین بن بابویہ قمی.
  4. ابوابراہیم اسماعیل برادر اسحاق مذکور.
  5. ابوالخیر برکۃ بن محمد بن برکۃ اسدی
  6. ابوالصلاح تقی بن نجم الدین حلبی
  7. ابوابراہیم جعفر بن علی بن جعفر حسینی
  8. شمس الاسلام حسن بن حسین بن بابویہ قمی، معروف بہ حسکا
  9. ابومحمد حسن بن عبدالعزیز بن حسن جبہانی
  10. ابوعلی حسن بن شیخ الطائفۃ محمد بن حسن طوسی
  11. موفق الدین حسین بن فتح واعظ جرجانی
  12. محیی الدین ابوعبداللہ حسین بن مظفر بن علی بن حسین حمدانی
  13. ابوالصمصام و ابوالوضاح ذوالفقار بن محمد بن معبد حسینی مروزی
  14. زین بن علی بن حسین حسینی
  15. زین بن داعی حسینی
  16. سعد الدین بن براج
  17. ابوالحسن سلیمان بن حسن بن سلمان صہرشتی
  18. شہرآشوب سروی مازندرانی، جد شیخ محمد بن علی مؤلف معالم العلماء و المناقب
  19. صاعد بن ربیعۃ بن ابی غانم
  20. عبدالجبار بن عبداللہ بن علی المقرئ رازی معروف بہ مفید
  21. ابوعبداللہ عبدالرحمن بن احمد حسینی خزاعی نیشابوری معروف بہ مفید
  22. موفق الدین ابوالقاسم عبیداللہ بن حسن بن حسین بن بابویہ
  23. علی بن عبدالصمد تمیمی سبزواری
  24. غازی بن احمد بن ابی منصور سامانی
  25. کردی بن عکبر بن کردی فارسی
  26. جمال الدین محمد بن ابی القاسم طبری آملی
  27. ابوعبداللہ محمد بن احمد بن شہریار خازن غروی
  28. محمد بن حسن فتال نیشابوری، صاحب روضۃ الواعظین
  29. ابوالصلت محمد بن عبدالقادر بن محمد
  30. ابوالفتح محمد بن علی کراجکی
  31. ابوجعفر محمد بن علی بن حسن حلبی
  32. ابوعبداللہ محمد بن ہبۃ اللہ الطرابلسی
  33. سید مرتضی ابوالحسن مطہر بن ابی القاسم علی بن ابی الفضل محمد حسینی دیباجی
  34. منتہی بن ابی زید بن کیابکی حسینی جرجانی
  35. منصور بن حسین آبی
  36. ابوابراہیم ناصر بن رضا بن محمد بن عبداللہ علوی حسینی

علمی آثار

[سودھو]

تفصیلی مضمون:شیخ طوسی کے آثار

شیخ طوسی مختلف علوم جیسے فقہ، کلام ،تفسیر اور رجال وغیرہ میں بے شمار علمی آثار کے مالک ہیں۔ ان کے بعض علمی آثار محو ہو چکے ہیں۔ آقا بزرگ تہرانی نے شیخ طوسی کے علمی آثار کی فہرست کو کتاب نہایہ کے مقدمے میں ذکر کیا ہے۔[۱۱]

وفات

[سودھو]

[[ملف:مسجد شیخ طوسی 1.jpg|تصغیر|مسجد شیخ طوسی نجف اشرف]] شیخ طوسی نے اپنی عمر کے آخری ۱۲ سال نجف میں زندگی گزاری اور سوموار کی رات ۲۲ محرم سنہ۴۶۰ہجری قمری کو وفات پائے۔ ان کے شاگرد حسن بن مہدی سلیقی، حسن بن عبدالواحد عین زربیاور ابوالحسن لولوی نے انہیں غسل دیا اور انکے گھر میں ہی انہیں سپرد خاک کیا گیا۔[۱۲]

آپ کی وصیت کے مطابق آپ کا گھر ابھی بھی دینی علوم کیلئے درسگاہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور اب یہ مسجد میں تبدیل ہو گیا ہے۔مسجد شیخ طوسی (جسے جامع الشیخ الطوسی بھی کہا جاتا ہے) آجکل نجف اشرف کی مشہور ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ اب تک کئی بار توسیع و تعمیر کی گئی ہے۔[۱۳]

حوالے

[سودھو]
  1. آقابزرگ، طبقات اعلام الشیعۃ، ص۱۶۱.
  2. آقابزرگ، طبقات اعلام الشیعۃ، ص۱۶۱.
  3. آقابزرگ، طبقات اعلام الشیعۃ، صص۱۶۲- ۱۶۱.
  4. دوانی، سیری در زندگی شیخ طوسی، در هزاره شیخ طوسی، ص۲۰.
  5. الامین، اعیان الشیعۃ، ج۹، ۱۶۰.
  6. آقابزرگ، طبقات اعلام الشیعۃ، ص۱۶۲.
  7. آقابزرگ، طبقات اعلام الشیعۃ، ص۱۶۲.
  8. ج ۳، ص۵۰۹
  9. شیخ طوسی، نہایہ، مقدمہ آقابزرگ، صص۳۲-۳۱.
  10. شیخ طوسی، نہایہ، مقدمہ آقابزرگ، صص۳۶-۳۹.
  11. شیخ طوسی، نہایہ، مقدمہ آقابزرگ، صص۱۷-۳۱.
  12. آقابزرگ، طبقات اعلام الشیعۃ، ص۱۶۲.
  13. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، ص۱۵۰

مآخذ

[سودھو]
  • الامین، السیدمحسن، اعیان الشیعۃ، حققہ واخرجہ: حسن الامین، ج۹، بیروت: ۱۴۰۶ق-۱۹۸۶م.
  • الطہرانی، آقابزرگ، طبقات اعلام الشیعۃ، ج۲، قم، اسماعیلیان، بی‌تا.
  • الطوسی، النہایۃ فی مجرد الفقہ و الفتاوی، بیروت، دار الاندلس، قم، قدس، بی‌تا.
  • گرجی، ابوالقاسم، تاریخ فقہ و فقہا، تہران، سمت، ۱۳۸۵ش.
  • علوی، سیداحمد (گردآوری)، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، قم، معروف، ۱۳۸۹.